زبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – دسواں حصہ
انٹرویو کی جگہ
انٹرویو لینے کا عمل ایک مناسب جگہ پر انجام پانا چاہئیے کیونکہ یہ ایک ایسی ثقافتی سرگرمی کا عنوان رکھتا ہے جو علمی، ہنری اور تاریخی پہلوؤں پر مشتمل ہوتا ہے۔زبانی تاریخ کا انٹرویو اور اس کی ضروریات – نواں حصہ
انٹرویو کی جگہ پر پہنچنے کا طریقہ کار
انٹرویو لینے والے کا ایک فرض یہ ہے کہ اپنے روانہ ہونے کا وقت (ٹریفک کو مدّنظر رکھتے ہوئے) اس طرح سے تنظیم کرے کہ انٹرویو کے معینہ وقت سے کچھ دیر پہلے مقررہ مقام پر پہنچ جائے۔میں نہیں جاوں گا، آپ لوگ بھی واپس جائیں اور اپنے اپنے کاموں کو دوبارہ انجام دینا شروع کردیں
خادم انقلاب
یہ وہ ایام تھے جن میں شہید ڈاکٹر چمران کے خلاف بہت زیادہ تبلیغات کی جاری تھیں اور حکومت مخالف گروہوں کے ہاتھوں اخبارات میں شہید ڈاکٹر کے خلاف بہت زیادہ مقالے اور مضامین لکھے جارہے تھے، حتیٰ یہ کہ بعض اخبارات میں شہید ڈاکٹر چمران کی تصویر اس طرح سے شایع کی جاتی تھی کہ شہید چمران کی عینک کے شیشوں پر جنگی توپ،ٹینک اور آگ کا عکس دکھایا جا رہاتھا، شہید ڈاکٹر چمراان ان ساری تبلیغات کے جواب میں یہ کہا کرتے تھے کہ"ان مخالفین کا جواب تو میں خود دے دوں گا، ابھی مصلحت نہیں ہے کہ ہم ایک دوسرے سے الجھ پڑیں"زبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – آٹھواں حصہ
ضرورت کی اشیاء اور وسائل
زبانی تاریخ کا انٹرویو لینے کیلئے کچھ ایسی اشیاء اور وسائل کی ضرورت ہوتی ہے کہ انٹرویو لینے والے کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ انٹرویو کی جگہ کیلئے روانہ ہونے سے پہلے انہیں مہیا کرے۔زبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – ساتواں حصہ
دورانیے کا تعین اور انٹرویو سے پہلے کئے جانے والے اقدامات
زبانی تاریخ کے انٹرویو کیلئے ضروری ہے کہ ابتدائی ہماہنگیوں کے علاوہ مناسب دورانیہ میں بھی انجام پائے کیونکہ اگر ہم نے یہ مان لیا ہے کہ انٹرویو، زبانی تاریخ کا منظم ترین حصہ ہے تو انٹرویو کا دورانیہ اور اس کے انجام پانے کا طریقہ نہایت اہمیت کا حامل ہوگازبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – چھٹا حصہ
انٹرویو سے پہلے معلومات کی اہمیت
زبانی تاریخ کے انٹرویو سے وابستہ ضرورتوں میں سے ایک، انٹرویو کے موضوع اور اُس کے مسائل کے بارے میں اچھی خاصی معلومات اور آگاہی رکھنا ہےزبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – پانچواں حصہ
ہدف معین کرنا
زبانی تاریخ میں انٹرویو تحقیق کا ایک ایسا طریقہ کار ہے جس میں دوسری کسی بھی تحقیق کی طرح اہداف معین ہونے چاہئیے۔ ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئیے کہ تاریخ نگاری میں کسی ہدف کے بغیر لوگوں کی یاد داشتوں کے ریکارڈ کو زبانی تاریخ نہیں سمجھا جاسکتا۔زبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – چوتھا حصہ
راوی کی پہچان اور اُس کا انتخاب
زبانی تاریخ میں تاریخ کی تدوین کے مراحل میں مشارکت طلب کرنے کا امکان ہے تاکہ ایک بامقصد انٹرویو میں سیاسی، ثقافتی اور معاشرتی واقعات کی مختلف معلومات ثبت اور شائع ہوں۔ اس موضوع کی اُس لحاظ سے اہمیت ہے کہ تاریخی واقعات کے بیان کرنے میں زیادہ لوگوں کی رائے اور باتیں وصول ہوں گیزبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – تیسرا حصہ
موضوع کا انتخاب
زبانی تاریخ میں انٹرویو لینے کے مراحل میں سے ایک اہم ترین مرحلہ موضوع کا انتخاب ہے۔ زبانی تاریخ کے انٹرویو یا تو موضوع کے گرد گھومتے ہیں یا فرد کے گرد۔ فطری سی بات ہے کہ موضوع انتخاب کرنے کیلئے بہت زیادہ دقت سے کام لینا چاہئیے۔زبانی تاریخ کے محقق کو انتقادی نگاہ رکھنی چاہئیے
واقعات کی منظر کشی کے بارے میں مختلف نظریات
تاریخ کی معتبر چیزوں کے بارے میں مطالعہ ایک خاص اہمیت کا حامل ہے، جس کی طرف زبانی تاریخ تدوین کرنے والے کی خاص توجہ ہونی چاہئیے۔ کیونکہ زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ واقعہ نقل کرنے والے کے ذہن میں جزئیات کے آگے پیچھے ہونے یا واقعے کی دوبارہ یاد آوری میں غلطی کا احتمال ہوتا ہے۔...
7
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
جیل میں کتاب، شہید سید اسد اللہ لاجوردی کی زبانی
کچھ ایسی کتابیں جو درمیانی درجہ کی تھیں، جیسے انجینئر بازرگان کی کتب، ان کے مطالعے کا طریقہ کار یہ تھا کہ اگر کبھی کوئی ایسی کتاب پڑھنی ہوتی تو وہ پہلے سے طے کر دیتے کہ فلاں صفحے سے فلاں صفحے تک پڑھنا ہے۔"1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
