ایران کے بارے میں ہر خبر سننے کا شوق
جیسا کہ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے CIA کے مختلف اہل کار سفارتی ملازم کے عنوان سے تھے، جن کیلئے جعلی عناوین بنائے ہوئے تھے تاکہ ان کی حقیقی معلومات آشکار نہ ہو۔ یہ جعلی عناوین قوموں کو دھوکے میں رکھنے اور CIA کی کارستانیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے ہوتے ہیں۔ یہ دستاویزات تمام قوموں کیلئے ایک آگاہی ہیں۔زبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – تیرہواں حصہ
بہترین سوال
توجہ رکھنی چاہیے کہ کوئی بیہودہ سوال نہ کیا جائے اور ایک موضوع کے بارے میں کلی علم ہونا چاہیے کہ جس کے بارے میں سوال کئے جائیں۔ پس کلی معلومات کا ہونا سوال کا لازمہ ہے اور یہ معلومات جتنی زیادہ ہوں گی، سوال بھی بالکل اس کے مطابق ہوگا۔ساواکی جمہوریت
مذکورہ آرٹیکل میں زعیم اور عظیم رہنما حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خمینی کی توہین اور بے ادبی ہونا یقیناً کسی بھی صورت قابل برداشت نہیں تھا لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس چنگاری کے پیچھے بارود کی ایک کان تھی، جسے اس چنگاری نے ایک دفعہ میں جلا کر رکھ دیا تھاامام (خمینیؒ) کے قائم مقام
لفافے پر لکھی اس عبارت پر جیسے ہی میری نظر پڑی مجھے ایک عجیب سا احساس ہوا اور امام سے محبت اور مستقبل کیلئے وابستہ امیدوں کی وجہ سے "میرے مرنے کے بعد" کی تعبیر سے مجھے دکھ ہوازبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – گیارہواں حصہ
انٹرویو سے پہلے وضاحتیں
راوی کو پتہ ہونا چاہئیے کہ کس طرح سے سوال کئے جائیں گے اور جوابات کس طرح دینے ہیں؟ اُس سے چاہنا چاہئیے کہ وہ ایسے مطالب بیان کرے جس کو ہر سطح کا آدمی سمجھ سکےکمبل والی ماں بیٹی
آقائے بہاری درحقیقت ہمارے اور آیت اللہ سعیدی کے درمیان رابطے کا ذریعہ تھےاور امام خمینی ؒ اور آیت اللہ سعیدی کی تقریروں کی کیسٹیں اور پمفلٹ، آیت اللہ سعیدی سے لیکر میری والدہ تک پہنچاتے تاکہ ہم اس کی کاپیاں کروا کر اپنے مورد اعتماد لوگوں کو دیںچھپنے کی جگہ
دروازے پہ کھڑے شخص نے دروازے کو زور زور سے پیٹنا شروع کردیا۔ اب دروازہ کھولنے میں تأخیر کرنا ٹھیک نہیں تھا اور مجھے دروازہ کھول دینا چاہئیے تھا۔ میں نے اپنے چہرے کو دروازے کے نزدیک کرکے پوچھا: کون ہے؟ دروازے کے پیچھے سے ایک سخت اور بھاری آواز میں کسی نے کہا: "دروازہ کھولیں، حکومتی کارندے ہیںملاقات کا وعدہ
آدھی رات کا وقت تھا جب استاد کی زوجہ ان کے قدموں کی آواز سے جاگ گئیں۔ انہوں نے دیکھا، استاد کمرے میں ٹہل رہے ہیں، بہت جما جما کے قدم رکھ رہے ہیں اور مسلسل تکبیر کہے جا رہے ہیں۔ انہوں نے پوچھا: "جناب! کچھ ہوا ہے کیا؟" استاد نے کہا: "میں نے خواب دیکھا ہے۔" اور پھر اپنا خواب بیان کرنے لگے: "میں نے ابھی خواب میں دیکھا، میں اور آقائے خمینی خانہ کعبہ میں طواف کرنے میں مشغول تھے کہ میں اچانک متوجہ ہوا رسول اکرم (ص) تیزی سے میری جانب بڑھ رہے ہیں۔...خارج از تہران قیام کا پھیلاؤ
آیت اللہ سید محمد سعیدی
ہم تھوڑا سا ہی چلے تھے کہ میرے والد نے کہا: محمد! میں ایک صلوات پڑھتا ہوں تم اپنی سائیکل کی موٹر اسٹارٹ کرنے کیلئے ایک دو پیڈل مارو، انشاء اللہ اسٹارٹ ہوجائے گی۔ میں نے سائیکل اسٹینڈ پہ کھڑی کی, والد نے صلوات پڑھی، میں نے پیڈل مارنا شروع کئے اچانک سائیکل کی موٹر اسٹارٹ ہوگئی!۔سات مختلف صوبوں سے کچھ کتابیں
مختلف افراد، یادوں کی فریم میں
اس دفعہ آپ سے جن کتابوں کا تعارف ہوگا، وہ یہ ہیں: "سرخ لباس؛ شہید احمد اُمّی کی روزمرہ کی یادیں"، "میرے فریم میں موجود افراد نہیں مرتے؛ سعید جان بزرگی کے بارے میں ایک کتاب"۔ "روشن دان انتظار کر رہے ہیں؛ شہید ابراہیم بشکردی زادہ کی یادوں پر مشتمل مجموعہ"، " ملاقات کی آرزو؛ ایثار کرنے والی خاتون ام البنین منصور خانی کا زندگی نامہ"، "آتش اور آویشن سے؛ شہر راز کے شہدا، یادوں کے فریم میں"، "شام ساڑھ چھ بجے؛ دشمن کی قید سے رہائی پانے والے ونگ کمانڈر پائلٹ یوسف سمندریان کی یادیں"، "پوشیدہ محبت؛ دشمن کی قید سے رہائی پانے والے محمد تقی زادہ کی تحریر کی اساس پر"، "آخری گھونٹ؛ شہید ید اللہ ندرلو کا زندگی نامہ"، "کوراوغلی کے مختلف گروہ؛ بسیجی حاج علی تنہا کی زندگی کی ایک داستان"۔6
...
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
ایک فوجی مشق کی یادداشت؛ علی تحیری کی زبانی
شاہ فوراً میری طرف پلٹا۔ وہ غصے سے لال چہرے کے ساتھ قریب آیا اور اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھ کر پوچھا: "کیا ہوا؟ کیا کوئی چیز تمہیں پریشان کر رہی ہے؟" میں نے کہا: "قربان! یہ آپ کو غلط رپورٹ دے رہے ہیں۔ ہم 28 ویں رجمنٹ کے اصطبل میں ٹھہرے ہوئے ہیں اور ہمیں جو راشن دیا جا رہا ہے وہ عام سپاہیوں کا ہے، ہمیں افسران کے راشن سے محروم رکھا گیا ہے۔""1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
