زبانی تاریخ کی تالیف کے بارے میں
سوالوں کے ساتھ یا بغیر سوالوں کے، یہ نکات ضروری ہیں
یاد داشتوں کی تالیف اور متن کی حتمی ترتیب،بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے اور زبانی تاریخ کے محقق کو چاہئیے اس کام کی ظرافت پر توجہ رکھے اور اُسے ذمہ داری کے ساتھ انجام دے۔ موضوع کو واضح کرنے کیلئے مندرجہ ذیل نکات ذکر کئے جا رہے ہیںتصویر اور زبانی تاریخ میں نسبت
اگر نئے زمانے میں تصویر کھینچنے کے مختلف وسائل اور معاشرتی رابطوں میں آلات کے پھیلاؤ کی مدد سے، تصویر نے لوگوں کی زندگی اور عام ہونے میں ایک اہم کردار پیدا کرلیا ہے، تو فطری سی بات ہے کہ تاریخ نگاری میں اس سے غفلت نہیں برتی جاسکتی۔منظم انٹرویو اور غیر منظم انٹرویو
نئے طرز کا پہلا نیوز انٹرویو اپریل سن ۱۸۳۶ء میں نیوریارک کے ہیرالڈ اخبار میں چھپا۔انٹرویو لینے والا اُس زمانے کا ایک بہت ہی برجستہ اور نمایاں صحافی اور جس کا انٹرویو لیا گیا تھا وہ ایسا شخص تھا جس نے ایک مقتول کے بدن کو کشف کیا تھازبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – تیئیسواں حصہ
راوی سے بحث و مباحثہ
بنیادی طور پر انٹرویو لینے والے کی ایک ذمہ داری، راوی کے ذہن کو کریدنا اور راوی کو قدیمی واقعات، اُس کے ذہن میں پوشیدہ باتیں اور گذشتہ مشاہدوں کو یاد دلانے میں مدد کرنا ہے، لیکن اس کام کو حکم چلاکر اور خود کو بڑھا ثابت کرکے نہیں ہونا چاہیےزبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – چوبیسواں حصہ
حافظہ کو اُبھارنا
ایک اور مشکل جس کا انٹرویو لینے والوں کو سامنا ہوتا ہے، وقت گزرنے اور مختلف موضوعات کی وجہ سے راوی کے حافٖظہ کا ضعیف ہونا ہےزبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – پچیسواں حصہ
انٹرویو کا اختتام
انٹرویو لینے والے کی ذمہ داری ہے کہ نشست کے آخر میں، ٹیلی فون اور رابطہ قائم کرنے والے دوسرے ذرائع جیسے ایمیل اور ایڈریس راوی کو دے تاکہ اُس کے لئے انٹرویو لینے والے اور متعلقہ ادارے سے رابطہ قائم کرنا ممکن ہوزبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – بائیسواں حصہ
انٹرویو کا دورانیہ
انٹرویو کے وقت کا دورانیہ، اُن امور میں سے ہے کہ انٹرویو کرنے والے کو اُس پر توجہ رکھنی چاہئیے اور وہ انٹرویو منظم اور ترتیب دینے کے بارے میں ضروری اقدامات انجام دے۔ اس بارے میں مندرجہ ذیل نکات کی رعایت کرنا ضروری ہے:انقلاب کی پہچان اور وضاحت
روحانیت نے صفوی دور حکومت اور اس کے بعد ایران کے سیاسی اور معاشرتی قالب میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے اور عوامی تحریکوں کو ابھارنے یا حرکت میں لانے میں اپنی مثال آپ ہے۔ روحانیت کا یہی کردار انقلاب اسلامی کی تشکیل، پیشرفت اور کامیابی کا باعث بنا اور پہلے سے زیادہ نکھر کر سامنے آیا اور پھر دنیا نے روحانیت کی معنوی اور سیاسی بالا دستی کا مشاہدہ کیا۔زبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – اکیسواں حصہ
نئے سوالات
ہم یہ بات بیان کرچکے ہیں کہ انٹرویو سے پہلے اصلی موضوع سے متعلق سوالات کی ایک فہرست تیار کرلیں اور اُسے انٹرویو کیلئے اپنے ساتھ لے جائیں۔ واضح سی بات ہے کہ سوالات کا دائرہ صرف اس فہرست تک محدود نہیں رہے گا، انٹرویو لینے والا گفتگو کے دوران، نئے سوالات اور جدید نکات سے روبرو ہوگا تو اُسے چاہیے مطالب کی تکمیل اور اُن کی مزید وضاحت کیلئے اُن سوالات کو اٹھانے کیلئے اقدام کرے۔ ان سوالات کا تعلق زیادہ تر راوی کی گفتگو سے متعلق ہوتا ہے اور یہ اُس کی گفتگو میں دقت کرنے سے مل جاتے ہیں۔ اسی طرح محقق نئے سوالات پوچھ کر اور کہے جانے والی باتوں کے واضح ہونے کیلئے ایسے نکات بیان کرکے، اپنی توجہ اور دلچسپی کو راوی پر ظاہر کرسکتا ہے اور اس طرح وہ راوی کے مزید مطالب بیان کرنے کے انگیزہ کو ابھار سکتا ہے۔سازشوں کی ناکامی پر ۵ جون کے قیام کو ناکام قیام کے طور پر پیش کرنے کا منصوبہ
روحانیت کی مخالفت اور مزاحمت نے شاہ او اس کے حواریوں کو صوبائی تنظیموں کے بل اور سفید انقلاب کے چھ نکاتی ایجنڈے کے حوالے سے یہ بتا دیا تھا کہ اس بار مقابلہ سخت ہے اور مد مقابل کوئی عام لوگ نہیں بلکہ طاقتور اور خاص مذہبی افراد ہیں4
...
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
شاہ بے دینی کو رواج دینا چاہتا ہے
اب عاشورہ کی شام ہے... جب میں کبھی عاشورہ کے واقعات پر غور کرتا ہوں، تو میرے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ اگر بنی امیہ اور یزید بن معاویہ کا نظام صرف حسین (ع) سے جنگ کر رہا تھا، تو وہ وحشیانہ اور غیر انسانی رویہ کیا تھا جو انہوں نے عاشورہ کے دن بے سہارا خواتین اور معصوم بچوں کے ساتھ کیا؟"1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
