پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملاقادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 14

ہم دشہ گاؤں کے طلباء کی زندگی پھر بھی ایسی تھی کہ ہم پورے دن میں یا تو دوپہر یا پھر رات کا کھانا مکمل طور پر یعنی پورا کھاتے تھے اور جب کبھی دوپہر یا شام کا کھانا اچھا ملتا تو باقی وقتوں میں ہمیں صرفخالی روٹی پر گزارا کرنا پڑتا تھا اور باقی وقتوں میں صرف روٹی سے ہی بھوک مٹا لیتے ہیں تھے

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملاقادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 13

ابھی مجھے دشہ گاؤں میں آئے ہوئے ایک سال ہی ہوا تھا کہ مجھے خبر ملی کہ مجھے بھی اس تربیتی پروگرام میں حصہ لینا ہے۔ میں اس کو ضروری اور اہم نہیں سمجھتا تھا لہذا میں نے اس خبر پر کان نہ دھرے اور نہ ہی گیا کہ میرے پاس کچھ طلباء آئے اور کہنے لگے " تم نے نام لکھوایا ہے تو اب تم مجبور ہو کہ ان کلاسز اور مشقوں میں لازمی شرکت کرو" ۔

زبانی تاریخ سے آشنائی – 3

آپ بیتی اور غیر مکتوب تاریخ میں فرق

بدقسمتی سے، بہت سے لوگ جو کتاب کا نام ، آپ بیتی یا غیر مکتوب تاریخ رکھتے ہیں ،وہ ان دونوں کا فرق نہیں جانتے؛ اسی وجہ سے ہمیں نظر ایک ہی طرح کی کتابیں آتی ہیں، مگر ان میں سے کچھ آپ بیتیاں ہوتی ہیں اور کچھ غیر مکتوب تاریخ ۔

خواتین کے دو الگ رُخ

ایک دن جب اسکی طبیعت کافی خراب تھی اسے اسپتال منتقل کیا گیا اور السر کے علاج کے لئے اسکے پیٹ کا الٹراساؤنڈ کیا گیا۔ پتہ چلا کہ اسنے مختلف طرح کے کلپ، بال پن اور اسی طرح کی دوسری چیزیں خودکشی کرنے کی غرض سے کھا رکھی ہیں

ورکشاپ

زبانی تاریخ سے آشنائی – 2

یادداشتیں

راوی نے جو دیکھا، سنا، کہا یا انجام دیا، اسے یادداشت کہتے ہیں ۔ مثال کے طور پر، اگر راوی کہے: "میں نے کربلا ۵ کے آپریشن میں افراد کو قیدی بنایا" تو یہ یادداشت ہے، لیکن اگر وہ کہے:"والفجر آپریشن ۸ میں ہماری فوج نے کامیابی حاصل کی" تو یہ معلومات ہیں ۔

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملاقادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 12

طالب علمی کے دور کا آغاز اوراس کی مشکلات:

طالب علموں کو شروع کے چند سالوں میں "سوختہ" کہا جاتا تھا، شاید اسکا مطلب یہ تھا کہ اس طالب علمی کے شروع کے چند سالوں میں  طالب علم اتنی ریاضت کریں، سختیاں جھیلیں اپنے گھر اور گھر والوں سے دور، آسائشوں اور آرام کو چھوڑ کر اپنی ذات کی ایسی تربیت کریں کہ یہ خام اور ناپختہ نفس ان سختیوں اور آزمائشوں کی تپش میں پک کر پختہ، مضبوط، غیر متزلزل ،مستحکم انسان کی صورت میں سامنے آئے۔

ورکشاپ

زبانی تاریخ سے آشنائی 1

غیر مکتوب تاریخ [زبانی تاریخ]کی ویب سائٹ ارادہ رکھتی ہے کہ زبانی تاریخ کی چند ورکشاپس میں بیان کئے گئے علمی نکات کو تحریری شکل میں اپنے استعمال کنندگان کے اختیار میں قرار دے۔ موجودہ علمی مجموعہ انہی ورکشاپس میں سے ایک ورکشاپ کے مواد پر ترتیب دیا گیا ہے۔ جیسا کہ آپ ملاحظہ کریں گے، پیش کیے گئے بہت سے مطالب، پرانے یا غیر مستعمل نہیں ہیں، البتہ کوشش کی گئی ہے کہ مطالب کو منظم انداز میں پیش کیاجائے تاکہ ان سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکے

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملاقادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 11

محمد سلیم اچھے انسان تھے وہ حلیم میں کوئی ملاوٹ نہیں کرتے تھے نہ کہیں ڈنڈی مارتے تھے بس بعض دفعہ اچھے صاف گوشت کی جگہ سری پائے  دیگ میں ڈلواتے تھے تاکہ ان کو سستا پڑے اور زیادہ منافع حاصل ہو سکے مگر مجھے ان کا یہ کام پسند نہیں تھا اور جب وہ مجھ سے اسطرح پکواتے تھے تو میں دکان میں  آنے والے لوگوں سے سخت شرمندگی کا احساس کرتا تھا

تمہاری ماں کو تمہارے غم میں بٹھاؤں گا

اس نے افسر کی خوب بے عزتی کی۔ حکم دیا کہ میری ہتھکڑیاں کھول دیں اور ان چاروں کو کمرے سے باہر نکال دیا۔ افسر نے، جو سیلوٹ کی حالت میں اپنا دایاں ہاتھ کانوں تک اٹھائے ہوئے تھا، جج کی جانب سے آخری طنزیہ تبصرہ وصول کیا

ورکشاپ

زبانی تاریخ سے آشنائی

معلومات، غیر مکتوب تاریخ کی فالتو ترین چیز ہے۔ انٹرویو کی ایک مشکل  یہی ہے کہ راوی اپنی معلومات کا اظہار کرنا پسند کرتا ہے، جبکہ  یہ معلومات غیر مکتوب تاریخ کے کسی کام  کی نہیں ہوتیں ۔

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملاقادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 10

اچانک پریشانی کے عالم میں ایک دم میری آنکھ کھل جاتی ہے اور میں سمجھ جاتا ہوں کہ یہ ایک خواب تھا جو میں دیکھ رہا تھا مگر مجھے فوراً اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ کوئی معمولی یا بے تعبیر خواب نہیں تھا تھوڑا اوسان بحال ہوتے ہیں تو مجھے اطمینان ہو جاتا ہے کہ یہ خواب ایک اشارہ تھا کہ اس ہائی اسکول میں پڑھنے میں میں کامیاب نہیں ہو سکوں گا مگر مجھے نہیں معلوم تھا میری تقدیر میں کیا ہے آگے کیا ہونے والا ہے؟

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملاقادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 9

یہ ستمبر ۱۹۶۴ کی بات ہے میں نے چھٹی جماعت بھی پاس کرلی، اور نہایت خوشی اور مسرت کے ساتھ میں ہائی اسکول گیا جسکا نام پہلوی ہائی اسکول تھا۔ میں بلند قد و قامت کا لمبا چوڑا نوجوان تھا جسکی وجہ سے دوسرے شاگردوں کی نسبت بڑا دکھائی دیتا تھا یہی وجہ باعث بنی کہ آغا ملک شاہی نے جو ہائی اسکول کے پرنسپل تھے میرے قد و قامت اور دوسرے شاگردوں سے بڑا   ہونے کی وجہ سے میرا ایڈمیشن لینے سے انکار کر دیا۔
 

خواتین کے دو الگ رُخ

ایک دن جب اسکی طبیعت کافی خراب تھی اسے اسپتال منتقل کیا گیا اور السر کے علاج کے لئے اسکے پیٹ کا الٹراساؤنڈ کیا گیا۔ پتہ چلا کہ اسنے مختلف طرح کے کلپ، بال پن اور اسی طرح کی دوسری چیزیں خودکشی کرنے کی غرض سے کھا رکھی ہیں
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔