یہ کہا جا سکتا ہے کہ خواتین اور مردوں کی تحریری یادداشتوں کا موازنہ نہ صرف جنگ کے بیانیے میں صنفی فرق کو پہچاننے کی ایک کوشش ہے، بلکہ ایرانی قوم کے اجتماعی حافظے کی تعمیرِ نو کی جانب ایک قدم ہے؛ وہ حافظہ جس میں مرد اور عورت دونوں ایک ہی سچائی کے راوی ہیں: معاصر تاریخ کے مشکل ترین دور میں ایرانی انسان کے ایمان، ایثار اور استقامت کی سچائی
کتاب کا مرکزی موضوع ملارد کی خواتین کی جنگی سرگرمیاں ہیں۔ یہ خواتین اپنا زیادہ تر وقت کھانے پینے کی اشیاء، خاص طور پر روٹیاں تیار کرنے میں گزارتی تھیں۔
رسول زادہ کاشان کے ان ممتاز مجاہدین میں سے تھے جنہوں نے انقلاب کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ جنابِ نواب صفوی سے شناسائی کے بعد انہوں نے کاشان میں "فدائیانِ اسلام" کی شاخ قائم کی۔
14 جولائی 1979 کو مریوان کے سپاہ(بیس) پر اسلامی جمہوریہ کے مخالفین نے قبضہ کرلیا تھا اور اس دوران مریوان کے 24 پاسداران، شہید اور قریب 40 پاسداران زخمی ہوئے تھے۔ ہم جانتے تھے کہ ان کا اگلا حملہ، پاوہ شہر پر ہوگا۔
شاید ان خواتین میں سے ہر ایک کی یادیں اتنی طویل نہ ہوں کہ ان پر علیحدہ کتاب لکھی جائے، لیکن ان مختصر یادوں کا مجموعہ قارئین کو جنگ میں خواتین کے کلیدی کردار کو سمجھنے میں بہت مدد دیتا ہے۔
راوی (مصنف) اس سے قبل اپنی ایک اور کتاب "انقلاب اور ڈپلومیسی" میں اپنے خاندانی پس منظر، پیدائش، تعلیم اور 1985 میں وزارتِ خارجہ میں اپنی خدمات کے اختتام تک کی یادیں بیان کر چکے ہیں۔ کتاب "جنگ اور حکومت" انہی یادداشتوں کا تسلسل ہے
کچھ مومن اور انقلابی نوجوان تماشائیوں کے روپ میں امجدیہ اسٹیڈیم کے اندر پہنچ گئے۔ ہم بھی پولی ٹیکنک یونیورسٹی کے کچھ مذہبی طلبہ کے ساتھ وہاں گئے اور اسٹینڈز پر بیٹھ گئے۔ مقابلہ شروع ہوا اور اللہ کی مدد سے ایرانی ٹیم نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے صیہونی حکومت کی ٹیم کو دو-ایک سے شکست دے دی۔
بیزاد شیخی نے یہ انٹرویوز ۲۰۱۳ میں ریکارڈ کیے تھے، لیکن یہ سلسلہ دسمبر ۲۰۱۴ میں حاج حمید کی شہادت کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔ ان گفتگوؤں میں راوی نے زیادہ تر اپنے بچپن، نوجوانی، تعلیم، زندگی کے حالات، شادی، انقلاب اور مسلط شدہ جنگ کے ابتدائی سالوں کا ذکر کیا ہے۔
کاظم عاملو ۱۹۶۵ میں سمنان میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۸۳ میں بطور بسیج اہلکار انہیں 'بانہ' کے محاذ پر تعینات کیا گیا۔ واپسی کے بعد وہ دوسری بار ایک فوجی کے طور پر کردستان گئے اور 'شہدا اسپیشل بریگیڈ' میں اپنی فوجی خدمات انجام دیں
جون 1979 میں، میں اپنی زوجہ اور اپنے دو بچوں مسلم اور مکرم اور اپنی والدہ کے ساتھ، اپنے سسر کی عمارت کے ایک کمرے میں سکونت پذیر ہوگیا تھا، جو سپاہ کی عمارت سے اگلی گلی میں واقع تھی اور جس کی جنوبی اور مغربی جانب کوئی رہائشی عمارت نہیں تھی۔
جب بھی میں اپنے طالب علمی کے دنوں کے بارے میں سوچتی ہوں، بسیج کا دفتر، جہاد یونیورسٹی کا دفتر، نماز خانہ، کالج کا صحن اور یہاں تک کہ شریعتی پارک میں ہماری سیر، ایک ایک کر کے یاد آتی ہیں۔ وہ دن جب ہم ساتھ باتیں کرتے تھے، دل کی باتیں سناتے تھے اور ہنستے تھے۔ ان دنوں میں کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ میں کسی ایسے شخص کے ساتھ بیٹھی ہوں جو ایک دن شہید ہو جائے گا۔
یہ کہنا ضروری ہے کہ کتاب کی مجموعی ساخت مناسب ہے۔ ابواب کی تقسیم متن کے مطابق اور اچھی ہے۔ کتاب کی ظاہری خصوصیات مثلاً: خطاطی (calligraphy)، حروف کی ترتیب (typesetting)، صفحہ آرائش، تصاویر، اور سرورق (cover design) بہترین ہیں، اور کتاب کا سائز اس کے مواد کے مطابق ہے، نیز چھپائی اور جلد سازی (binding) کی کوالٹی بھی بہت اچھی ہے۔
کچھ مومن اور انقلابی نوجوان تماشائیوں کے روپ میں امجدیہ اسٹیڈیم کے اندر پہنچ گئے۔ ہم بھی پولی ٹیکنک یونیورسٹی کے کچھ مذہبی طلبہ کے ساتھ وہاں گئے اور اسٹینڈز پر بیٹھ گئے۔ مقابلہ شروع ہوا اور اللہ کی مدد سے ایرانی ٹیم نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے صیہونی حکومت کی ٹیم کو دو-ایک سے شکست دے دی۔
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔