پیرس کا سفر اور امام خمینی رح سے ملاقات

اگر مجھے پکڑ لیا جاتا اور تلاشی لی جاتی تو یہ ساری چیزیں انکے ہاتھ لگ جاتیں، اور شاید اس کا ایک ایک ورق ایک ایک کے لئے مجھے الگ الگ سزا دی جاتی، میں نے بریف کیس ہاتھ میں لیا اور نکل پڑا، خدا نے میری مدد کی، اچانک ایک شخص جو مجھے پہلے سے جانتا تھا آگے بڑھا اور مجھے سے حال احوال پوچھنے لگا

یگانه شیوا سجادی کی یادیں

اسپتال کی چھت سے نرسوں کا ڈاکٹروں کا نعرہ تکبیر

ایک رات گارڈز متوجہ ہوگئے اور انہوں نے اسپتال کی جانب فائرنگ کردی۔ ہم لیٹ گئے تاکہ وہ ہمیں نہ دیکھ سکیں اور لیٹے لیٹے ہی ہم نے نعرہ تکبیر لگانا شروع کردیا۔

نجف میں امام خمینی رح کا دیدار

جب ہم معظم لہ کے گھر میں داخل ہوئے تو میں اپنا آپ بھول گئی تھی اور ایک عجیب و غریب سا شوق میرے اندر پیدا ہوگیا تھا۔ جب یہ طے پایا کہ میں تنہا امام خمینی رح کے کمرے میں جاوں گی تو میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ بالآخر اس نور مجسم کے مدمقابل بیٹھ گئی۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کہاں سے گفتگو شروع کروں۔

خاطرات کی تین سو بتیسویں رات ۔۱

ہر ایرانی فوجی افسر کے خاطرات ایک مستقل کتاب میں تبدیل ہوسکتے ہیں

کچھ منٹ بعد ہوش میں آئے تو دوبارہ اپنی ذمہ داری انجام دینا کا خیال آیا لیکن وہ زخموں سے چور چور تھے انکی توانائی ختم ہورہی تھی۔ آخر کار انہوں نے وائرلیس پر اپنا آخری جملہ کہا:"میری والدہ اور امام خمینی کو کہہ دیں شیاکوہ لرز گیا لیکن انشائی کے پیروں میں لرزش نہیں آئی"

سید قلبی حسین رضوی کی یادیں

خرمشہر کی فتح کے بعد عوام کی خوشی

مجھے یاد ہے کہ جب میں نے وہ پوسٹر چپکایا ، تو پورا کمرہ اس پوسٹر سے بھر گیا تھا۔ ایک چھ میٹر کے قالین جتنا پوسٹر تیار تھا۔ اس پوسٹر کو زمین پر بچھا کر میں نے لکھنا شروع کیا۔

ہینڈ بِل بانٹنے کے جرم میں گرفتاری

مجھے ہینڈ بِل بانٹنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا اور مجھ سے باز پرس ہوئی۔ ان میں سے ایک ہینڈ بِل امام خمینی رح کا وہ مشہور فتوی تھا جس میں انہوں نے سہم امام سے سیستان بلوچستان کے عوام کے لئے کوئلہ خرید کر مستحقین میں تقسیم کرنے کا حکم دیا تھا۔ ہینڈ بلز کو فوجی ساز و سامان میں چھپا کر انہیں ایمونیشن ڈپارٹمنٹ کے افراد کے درمیان تقسیم کرتا تھا۔ بالآخر ایک دن حساس ادارے کے اہلکاروں کا خبر ہوگئی اور میں اسوقت کارخانے میں پکڑا گیا جب میری جیب میں ایک ہینڈ بل

امام خمینی رح کے تعارف کے لئے اشعار سے استفادہ

ہم نے خود مشاہدہ کیا ہے کہ راتوں کو منعقد ہونے والے جلسوں میں آیت اللہ نجابت اور انکے احباب ایسے اعلانیہ کی ہاتھ سے کاپیاں بنایا کرتے تھے جن کو چھاپنے کے لئے نہیں دیا جاسکتا تھا

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، سترہواں حصہ

تمہارا یہ رزمیہ جوش و جذبہ۔۔۔ واقعاً خوش رہو

میں جانتی تھی کہ یہ ہندوستانی چینلز زیادہ تر عراقی فوج کی خبریں دے رہے ہین اور یہ تصاویر اور خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں، رات تک ان کی فکروں میں گم رہتی اور ایرانی شہداء کے خاک و خون آلود چہرے میری آنکھوں کے سامنے گھومتے رہتے۔ علی کے آتے ہی میں اس پر برس پڑتی

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، سولہواں حصہ

مریم یہ چوہے ہیں

ابھی اس کے منہ سے چوہے کا لفظ پوری طرح ادا بھی نہ ہوا تھا کہ ایک موٹا تازہ چوہا سونے کے کمرے سے ٹہلتا ہوا بیٹھک میں در آیا اور ادھر ادھر سیر کرنا شروع کردی۔ ہماری چیخیں نکل گئیں اوار جس کو جس طرف جگہ ملی بھاگ کھڑی ہوئی۔ چوہا بے چارا ہماری ادھم چوکڑی سے سہم گیا اور دوبارہ گدے کے نیچے جاکر چھپ گیا۔

مصر کے سفیر سے ملاقات

عید فطر کی وجہ سے سفارتخانہ بند تھا لہذا ہم سفیر کے گھر گئے۔ چونکہ وہ مجھے پہلے سے جانتے تھے اس لئے گھر کے اندر بلا لیا اور ہم نے وہ امانت انکے حوالے کردی

مشہد کے معروف افراد کو امام خمینی رھ کا خط کیسے بھیجا جاتا تھا

حالات اتنے کشیدہ تھے کہ بھائی بھائی پر اعتماد نہیں کرسکتا تھا۔ لہذا یہ ایک خطرناک کام تھا۔ لیکن میں نے فیصلہ کیا کہ کچھ نہ کچھ کرنا ہے اس لئے اپنے ایک انقلابی طالبعلم دوست عبدالقائم کو ساتھ لیا اور فیصلہ کیا کہ امام کے اس بیانئے کی کاپیاں بنوائی جائیں

مسلم آزاد جماعت کی تشکیل کے اسباب

جب میں سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہوگیا اور میرے غیر ملکی سفر شروع ہوگئے تو ساواک کو کوئی اور چارہ نظر نہیں آیا اور مجھے پیشکش کی کہ میں اپانا کام جاری رکھوں لیکن ساواک کو اپنے کاموں کی رپورٹ دیتا رہوں ۔ انہوں نے اس پیشکش کو قبول کرنے کے لئے مجھے تین دن کی مہلت دی لیکن میں کوٹ پین کر عراق فرار کرگیا
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، سترہواں حصہ

تمہارا یہ رزمیہ جوش و جذبہ۔۔۔ واقعاً خوش رہو
میں جانتی تھی کہ یہ ہندوستانی چینلز زیادہ تر عراقی فوج کی خبریں دے رہے ہین اور یہ تصاویر اور خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں، رات تک ان کی فکروں میں گم رہتی اور ایرانی شہداء کے خاک و خون آلود چہرے میری آنکھوں کے سامنے گھومتے رہتے۔ علی کے آتے ہی میں اس پر برس پڑتی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔