اسلامی انقلاب کی کامیابی کے ایام

زینب دہقان حسام پور
ترجمہ: سیدہ رومیلہ حیدر

2017-02-12


بہمن ۱۳۵۷ )فروری ۱۹۷۹(ایرانیوں کے لئے ایک سرنوشت ساز مہینہ قرار پایا۔ پہلوی حکومت سے سالہا سال مقابلہ کرنے اور اس راہ میں سختیاں اور مصبتیں جھیلنے والے افراد کی نجات کے دن نزدیک آچکے تھے۔

شاہ کے ایران سے فرار نے امام خمینی رح کے ایران واپس آنے کی نوید عوام کو سنا دی تھی۔ ہر چند بختیار کی حکومت اور اسکے ہم پیالہ اور ہم نوالہ افراد نے اس کام میں تاخیر کے لئے اپنے تمام تر حربے استعمال کر لئے تھے۔ وہ لوگ امام خمینی رح کے ایران واپس آنے کو دراصل شاہ کی حکومت کے خاتمے سے تعبیر کر رہے تھے۔ بنا بر ایں بختیار کی حکومت نے اس کا سدباب کرنے کے لئے ہر طرح کا حربہ استعمال کیا۔ جب امام رح نے وطن واپسی کی حتمی تاریخ کا اعلان کیا تو پہلوی حکومت کے آخری وزیر اعظم شاہ پور بختیار نے اپنی آخری کوشش کرتے ہوئے ایئرپورٹ کو بند کرنے کا حکم صادر کیا۔ اس کے اس حکم نے انقلابی عوام کے غم و غصے میں مزید اضافہ کردیا۔

یونیورسٹیوں اور حکومتی اداروں نے مختلف بیانات جاری کر کے اس حکومتی اقدام پر شدید تنقید کی۔ اسی طرح حوزہ علمیہ تہران کے تقریبا چالیس علمائے کرام اور اساتید محترم نے تہران یونی ورسٹی کی مسجد میں احتجاج کیا اور پھر انکی تعداد آئندہ آنے والے دنوں میں بڑھ کر پانچ سو افراد سے بھی تجاوز کرگئی۔

سات بہمن کو عوام نے تہران کے مشہور و معروف آزادی اسکوائر میں مظاہرے کئے۔ عوام نے آزادی اسکوائر پر احتجاج کرنے کے بعد تہران یونیورسٹی کا رخ کیا اور راستے میں سیکیورٹی اہلکاروں کی مداخلت اور بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد شہید ہوگئے۔ تہران کے اسپتالوں نے سات بہمن کے شہدا کی تعداد دس سے زیادہ بتائی ہے۔ عینی شاہدوں کے مطابق اس دن شہید ہونے والوں میں اکثریت کی عمریں ۲۲ سال سے کم تھیں۔

آٹھ بہمن کو بھی تہران کے مختلف علاقوں میں مظاہرے کئے گئے کہ جنہیں تہران یونیورسٹی یا مہر آباد ایئرپورٹ پر اختتام پذیر ہونا تھا۔ اس دن جب عوام تہران یونیورسٹی کے نزدیک دھرنے میں بیٹھے ہوئے علمائے کرام کے حق میں اور ایئرپورٹ کو سیل کئے جانے کے خاف احتجاج میں مصروف تھے بعض مشتعل افراد نے فوج کی بس پر حملہ کردیا۔ عوام حملہ کرنے والوں کو سیکیورٹی اہلکاروں کا ساتھی سمجھ رہی تھی جبکہ فوج یہ سمجھ رہی تھی کہ عوام نے حملہ کیا ہے۔ ایسی صورتحال میں ۲۴ اسفند نامی اسکوائر جسے اب انقلاب اسکوائر کہا جاتا ہے کے نزدیک واقع سیکیورٹی فورسز کی عمارت کی بالائی منزل سے عوام پر فائرنگ شروع کر دی گئی۔ جھڑپیں شروع ہوگئیں اور تہران یونیورسٹی کے سامنے موجود مظاہرین بھی اب اس عمارت کے سامنے پہنچ چکے تھے۔ عوام نے سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ کے دفاع میں پتھرائو اور فوجی گاڑیوں کو آگ لگانا شروع کر دی۔ جھڑپیں ایک بجے دن سے رات آٹھ بجے تک جاری رہیں۔ ان جھڑپوں میں مارے جانے والوں کی تعداد عوامی حلقوں نے پچاس سے زیادہ بتائی جبکہ سرکاری سطح پر ۲۷ ۔ اسی طرح اسپتالوں میں لائے جانے والے شہیدوں کی جنازوں کے بارے میں رپورٹ دی گئی کہ ان کی اکثریت کو سر اور سینے میں گولیاں ماری گئیں اور فائرنگ کا تنہا ہدف نہتے عوام کی جانیں لینا تھا۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں نے بھی آٹھ بہمن کو تہران کا ایک سیاہ ترین دن قرار دیا۔

تہران کے ساتھ ساتھ ایران کے دوسرے شہروں میں بھی مظاہرے شروع ہوگئے، بعض شہروں میں جھڑپوں اور پرتشدد مظاہروں میں انقلابی افراد کی شہادت کی خبریں بھی موصول ہوئیں۔ گرگان میں سات بہمن کو ہونے والے مظاہرے میں چار افراد شہید ہوئے۔ سرکاری سطح پر چار بہمن سے نو بہمن تک ہونے والے مظاہروں میں پورے ایران میں ۵۵ افراد کے مارے جانے کی خبر دی گئی۔

بختیار حکومت کی تمام تر سازشوں اور منصوبوں، رکاوٹوں اور تشدد کے باجود عوام اور امام خمینی رح کی استقامت کے نتیجے میں بالآخر مہر آباد ایئرپورٹ کو امام خمینی رح کے وطن واپس لوٹ کر آنے کے لئے کھول دیا گیا۔ امام خمینی رح ۱۲ بہمن کو ایک بے نظیر عوامی استقبال میں اپنی سالہا سال کی جلا وطنی کے بعد ایران واپس لوٹ آئے۔ اس دن پورا ایران خوشی و مسرت میں ڈوبا ہوا تھا۔ لیکن اس دن کرمان، تربت جام اور سمنان میں چار افراد کی شہادت کی خبر موصول ہوئی۔

۱۹ بہمن تک ملک کے کونے کونے میں ہونے والے مظاہرے پر امن رہے، حکومت اور فوج نے اس دفعہ کوشش کی کہ انقلابیوں اور امام خمینی رح کے ساتھ مصلحت پسندانہ انداز اپنائیں تاکہ وہ اپنی حکومت کو بچا سکیں۔ لیکن پھر بھی بعض شہروں میں سیکیورٹی اہلکاروں نے عوام پر حملے کئے مثلا زاہدان میں ۱۷ بہمن کو عارضی انقلابی حکومت کے حق میں ہونے والے مظاہرے میں ڈنڈا بردار تولے نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں ۶۲ افراد شہید اور زخمی ہوگئے۔ لیکن پھر بھی پورے ملک میں عوام کے مختلف طبقوں، سیاسی گروہوں اور اہم عسکری اور سیاسی شخصیات نے امام اور انقلاب کی حمایت کا اعلان کردیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلوی حکومت کا آخری آسرا فوج تھی کہ جس پر بختیار حکومت نے تکیہ کیا ہوا تھا۔ اگرچہ بعض افراد فوجی بغاوت کا اندیشہ ظاہر کر رہے تھے لیکن امام خمینی رح نے اپنی تقریروں میں فوج کو ملت کا حصہ قرار دیا اور فوجی جوانوں کو یہ باور کروایا کہ انکا ہدف فوج کو غیر ملکی طاقتوں کے چنگل سے آزاد کروانا ہے۔

فوج کے اعلیٰ حکام کی جانب سے پوری کوشش کی گئی کہ فوج میں دو رائے قائم نہ ہو لیکن پھر بھی ۱۹ بہمن کو فضائیہ کے ایک دستے نے رفاہ اسکول میں امام خمینی سے ملاقات کی اور انہیں سلیوٹ پیش کیا اور فوجی ترانے پڑھ کر امام اور انقلابیوں کی حمایت کا اعلان کیا۔ ان فوجی جوانوں کے اس اقدام نے فوج کے اعلیٰ حکام پر شدید نفسیاتی دباو ڈالا کیونکہ یہ اقدام ان کے احکامات کے برخلاف تھا۔ فوج کے اس وقت کے سربراہ نے بوکھلا کر امام خمینی رح سے فضائیہ کے جوانوں کی ملاقات کی تصویر کو جعلی قرار دیا اور حالانکہ وہ جاتنا تھا کہ یہ تصویریں اصلی ہیں اور اس حقیقت سے انکار کرنا نا ممکن ہے۔ البتہ اس سے پہلے بھی ملک کے مختلف شہروں میں فضائیہ کے مراکز میں پائلٹوں اور دیگر جوانوں نے مظاہرے اور احتجاج ریکارڈ کروائے تھے اور ایئر فورس کے اعلیٰ حکام نے فضائیہ میں موجود بعض انقلابی جوانوں کو گرفتار جبکہ بعض دیگر کو زیر نظر رکھا ہوا تھا۔

تہران کے مشرقی محلوں کے مکینوں نے ۲۰ بہمن کو ایک بار پھر فائرنگ کی آوازیں سنیں۔ یہ فائرنگ دوشان تپہ نامی گیریژن میں ہوئی تھی۔ گیریژن میں امام خمینی رح کی ایران میں داخل ہونے کی ویڈیو چلائی جا رہی تھی اور انقلابی جوان امام رح کی وطن واپس کی فلم دیکھ کر صلوات بھیج رہے تھے۔ شاہی گارڈز کہ جو گیریژن میں موجود تھے انہیں یہ عمل نہایت گراں گذرا اور ابانی تکرار کے بعد جھڑپ شروع ہوگئی جس میں فائرنگ بھی کی گئی۔ فائرنگ کی آواز سنتے ہی آس پاس کے رہائشی سڑکوں پر نکل آئے اور تقریبا دس بجے رات کو گیریژن کے سامنے عوام کا جم غفیر موجود تھا کہ جو اللہ اکبر اور فضاءیہ کے انقلابی جوانوں کی حمایت میں نعرے لگا رہا تھا۔

انقلابیوں نے اس ڈر سے کہ کہیں شاہی گارڈز دوبارہ انقلابی جوانوں پر فائرنگ نہ کردیں، امام خمینی رح کے دفتر سے اپنی ذمہ داری کا تعین کرنے کی درخواست کی اور آپ رح نے تاکید کی کہ عوام وہاں سے منتشر نہ ہوں۔ بنا بر ایں عوام نے فضائیہ کے ہوسٹل کے سامنے مظاہرے کئے اور نعرے لگائے اور اپنے آُپ کو اس سرد موسم میں گرم رکھنے کے لئے پرانے ٹائرز جلائے۔ تقریبا ساڑھے تین بجے رات کو دور سے آتے ہوئے حکومتی اہلکاروں نے فوجی گاڑیوں سے ہوائی فائرنگ کی اور نزدیک آتے ہی عوام پر حملہ کر دیا۔ عوام آس پاس کی گلیوں میں گھس گئےلیکن سیکیورٹی اہلکاروں نے ۱۵۲ افراد کو گرفتار کرلیا اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔

۲۱ بہمن کو فضائیہ کے جوانوں نے اپنا اسلحہ عوام کے حوالے کر دیا اور تہران میں سڑکوں پر جنگ کا آغاز ہوگیا۔ عوام اب مسلح ہو کر تہران کے مشرقی محلوں، فرح آباد روڈ اور ژالہ اور تہران نو کے علاقوں میں حکومت کے حامی فورسز سے لڑ رہے تھے۔

۲۱ بہمن کو عوام کی استقامت اور مورچہ بندی کے سامنے شاہی گارڈز مجبور ہو گئے اور انہوں نے عقب نشینی شروع کر دی۔ اب دوشان تپہ گیریژن اور اس کے آس پاس کے علاقے فضائیہ کے اہلکاروں کے قبضے میں آگئے۔

ایران کے معروف اخبار اطلاعات نے مشرقی تہران میں ۲۱ بہمن کو ہونے والی جھڑپوں میں ۶۳ افراد کی شہادت کی خبر دی جنہیں بوعلی اور جرجانی نامی اسپتالوں میں لایا گیا تھا اور پہلوی حکومت کی فوج کے زرائع نے بھی اسکی تصدیق کی تھی۔

اس کے بعد مسلح عوام نے تھانوں پر حملے کئے۔ شام ساڑھے چار بجے تک تہران نو کے تھانے پر عوام کا قبضہ ہو چکا تھا اور اسکے بعد تہران کے مختلف تھانوں نے یا خود کو انقلابیوں کے حوالے کردیا تھا یا اگر انہوں نے مزاحمت بھی کی تو جھڑپوں کے بعد انقلابیوں کے قبضے میں آچکے تھے۔

انقلابیوں کو جن مقامات میں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ان میں سے ایک عشرت آباد کا گیریژن تھا، عشرت آباد گیریژن کی بہت زیادہ حفاظت کی جارہی تھی کیونکہ یہ شہر میں واحد چھائونی تھی۔ پہلے تو انقلابیوں کا ایک دھڑا اس سلسلے میں شک و تردید میں مبتلا ہوگیا کہ اس گیریژن پر قبضہ ہو بھی پائے گا یا نہیں لیکن پھر عوامی استقامت اور پانچ گھنٹے کی مسلسل فائرنگ کے بعد عشرت آباد کا گیریژن بھی انقلابیوں کے قبضے میں آگیا۔

فوجی اسلحہ ساز فیکٹریاں بھی انقلابیوں کے قبضے میں آچکی تھیں، ٹینکوں پر انقلابی جوان چڑھ گئے تھے اور اخباروں نے شہ سرخیاں لگائی تھیں کہ جوان اور بوڑھے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ جنگ لڑ رہے ہیں۔

درحقیقت تہران کے اکثر محلوں اور سڑکوں پر اب عوامی مورچے بن چکے تھے اور امام خمینی رح کی جانب سے حکومت کے خاتمے کے اعلان کے بعد اب انقلابیوں کی کوشش بھی یہی تھی کہ رہی سہی حکومت کو بھی خاتمہ کر دیا جائے۔ تھانے، پولیس اسٹیشنز، ساواک کے مراکز، جیلیں تو عوام کے قبضے میں آہی چکی تھیں اب وہ حکومتی عمارتوں کا رخ کر رہے تھے، پارلیمنٹ، وزیراعظم ہائوس، وزارتخانے اور اسی طرح کی دوسری عمارتیں بھی انقلابیوں کے قبضے میں آچکی تھیں۔  دوسرے شہروں میں بھی اہم عمارتیں عوام کے قبضے میں آچکی تھیں۔

فوج کے اعلیٰ افسروں نے جب یہ دیکھا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے اور فوجی جوان بھی اب انقلابیوں سے جا ملے ہیں تو انہوں نے اعلان کیا کہ فوج اس معاملے میں نیوٹرل ہے اور فوجی جوان سلطنت آباد اور لویزان گیریزن میں جمع ہوجائیں۔ اس طرح ٹی وی اسٹیشن اور ریڈیو اسٹیشن سمیت متعدد اہم عمارتیں انقلابیوں کے قبضے میں آگئیں اور ۲۲ بہمن کو شام چھ بجے ریڈیو سے ایران کے اسلامی انقلاب کی آواز سنائی دی۔

 


22bahman.ir
 
صارفین کی تعداد: 134


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔