تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – ساتویں قسط

تشہیراتی اداروں نے، انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد اس سلسلے میں تقسیم بندی کی جو تحریکیں اور جو آشوب گرانہ اقدامات ہوئے اُس کی خبریں اور رپورٹیں منتشر کیں۔ تشہیراتی ادارے اس بات کے پیش نظر کے ایران کو مختلف دھڑوں میں تقسیم کیا جائے " ایرانی قوم" کی جگہ "ایرانی قوموں" کی عبارت کو استعمال کرنے لگے

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – چھٹی قسط

اس حملے کی منصوبہ بندی میں برطرف ہونے والے شاہ کے حامی ایرانی افسروں کی شرکت تھی۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ لوگ کس حد تک ایران کے اسلامی انقلاب سے بغض رکھتے تھے

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – پانچویں قسط

عراق کی بعثی حکومت نے سن ۱۹۸۰ء میں عراقی ہزاروں گھرانوں کو اس بہانے سے کہ اُن کی اصلیت ایرانی ہے اور وہ عراق میں ہونے والی متعدد تخریب کاریوں میں ملوث ہیں، ایران جلا وطن کردیا

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

علی کے ساتھ میری شناسائی اور ہماری ذمہ داریاں انقلاب کے ایام میں

اس کی مسکراہٹ کھانے سے اٹھتے دھویں کے پیچھے کھو گئی تھی اس نے فنگر چپس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے ڈرانے کے لئے چمچہ اٹھا لیااس نے گرم گرم چپس اپنی انگلیوں میں دبایا اور مسکراتے ہوئے باہر کی راہ لی میں نے اس کا پیچھا کرنا چاہا مگر نہ کرسکی

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – چوتھی قسط

حکومت صدام نے امام خمینی اور انقلاب اسلامی کے چاہنے والے مسلمان انقلابیوں کو منظر سے ہٹانے کیلئے، مذہبی افراد اور علماء کرام کو وسیع پیمانے پر پھانسی دینا، گرفتار کرنا اور نظر بند کرنا شروع کردیا کہ عراق کے بہترین اور مخلص ترین افراد اس حملے کی زد میں آئے

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تیسری قسط

میں ان لوگوں کے جہل اور لا علمی کو ثابت کرنے کیلئے ایک مضحکہ خیز واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہوں جو میں نے ٹیلی ویژن پر دیکھا۔ صدام نے ایک بند کو معنی کے لحاظ سے برعکس پڑھا۔ اس دفعہ بھی حاضرین نے ایک آواز میں کہا: " جی جناب، ہم متفق ہیں! " البتہ صدام کو ہوش آگیا اور اس نے اپنی غلطی کی اصلاح کرلی۔

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

لکھاری کا تبصرہ

میں نے کتاب رسول مولتان پڑھی جو میری اور شہید سید محمد علی رحیمی کی اس  زندگی کا خلاصہ ہے جب ہم ایک ساتھ ہوتے تھے، اس کے بعد ہم ، میں علی اور بچوں میں بدل گئے پھر پلک جھپکنے میں ، میں اور بچے رہ گئے اور علی ہم سے جدا ہوگئے۔ ان کی جگہ ہمارے درمیان ایسے خالی ہوئی کہ پھر کسی بھی وقت پر نہ ہوسکی۔ میں نے اس کتاب کے صفحات کے درمیان علی کو دوبارہ اپنے پاس پایا۔ وہ اپنی اسی مہربان طبیعت کے ساتھ ہمارے ساتھ تھے  مہدی اور محمد ان کے ساتھ کھیل رہے تھے اور فہیمہ ان کے...

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – دوسری قسط

صدام عمومی افکار کو دھوکہ دینے کیلئے، دیہاتی لباس پہن کر، خیموں میں بیٹھ کر، فوجی بن کر، اور بالآخر قوم کا محبوب فرزند – حکومتی پرنٹ میڈیا کی تعبیر کے مطابق - بن کر منظر عام پر آیا۔

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، پہلا حصہ

قارئین سے گفتگو

میں ایک ایسی خاتون کے سامنے بیٹھی تھی جس کی جوانی کا بیشتر حصہ غریب الوطنی میں گذرا تھا اور سفر کا اختتام، ہمسفر زندگی کی زندگی کے خاتمہ کے ساتھ ہوا تھا۔ اور وہ پچھلے ۱۸ سال سے تن تنہا ماں اور باپ بن کر بچوں کی کفالت کے فرض سے عہدہ برآں ہو رہی تھیں ۔ ایک ایسی خاتون کہ جس کی تمام تر زندگی اب اس کے بچے تھے۔

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – پہلی قسط

میں خداوند متعال سے دعاگو ہوں کہ وہ میری توبہ قبول کرلے، مجھے پر اپنی رحمتوں اور عنایتوں کی بارش کرے اور مجھے صراط مستقیم پر خدمت کرنے کی توفیق عنایت کرے۔ اِنَّه سَمیعُ مُجیب ۔ڈاکٹر مجتبیٰ الحسینی۔ دسمبر ۱
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – ساتویں قسط

تشہیراتی اداروں نے، انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد اس سلسلے میں تقسیم بندی کی جو تحریکیں اور جو آشوب گرانہ اقدامات ہوئے اُس کی خبریں اور رپورٹیں منتشر کیں۔ تشہیراتی ادارے اس بات کے پیش نظر کے ایران کو مختلف دھڑوں میں تقسیم کیا جائے " ایرانی قوم" کی جگہ "ایرانی قوموں" کی عبارت کو استعمال کرنے لگے

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔