تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – چودہویں قسط

میں ہیڈ کوارٹر کی اکیلی خندق میں داخل ہوا جو دو حصوں میں تقسیم ہوتی تھی ایک کلینک اور دوسرا بریگیڈ کے سیکریٹری کا آفس۔ باقی لوگ ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے نیچے مضبوط اڈوں میں زندگی گزار رہے تھے۔

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تیرہویں قسط

اس فوجی کے جانے کے بعد، میرے دوست نے سامان کو کنگھالنا شروع کیا۔ میں اسے دیکھ رہا تھا۔ سامان میں ایک فوجی نقشہ تھا جس پر پہلے سے طے شده اہداف معین کیے گئے تھے

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – بارہویں قسط

بالآخر مشکل کا حل مل ہی گیا اور میں نے اُسے خون کی دو ڈرپس لگادیں۔ ایک گھنٹے بعد اُسے ہوش آگیا اور اُس نے فارسی میں کچھ کہا جو میری سمجھ میں نہیں آیا

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ایک آدمی دروازے پر ہے آپ سے کوئی کام ہے

میری آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں سارا دن پڑے سوتے رہنے کا من تھا مگر گھر میں داخل ہوتے ہی بھائی کچھ اس طرح دہاڑا کہ نیند رخصت ہوگئی۔

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – گیارہویں قسط

جنگ شروع ہونے کے دو ہفتے بعد، صدام کی حکومت کو یقین ہوگیا کہ فوج اس سے زیادہ کچھ کرنے کی قدرت نہیں رکھتی؛ اور یہ کہ وقت کی گردش اُن کے فائدے میں نہیں ہے

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – دسویں قسط

حالانکہ وہ لوگ بہت بھوکے تھے لیکن پھر بھی وہ کھانے کیلئے اُن کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر تیار نہیں تھے۔ ہم

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – نویں قسط

میں اُس حال میں کہ موٹر سائیکل سوار رہنما کے پیچھے حرکت کر رہا تھا اور ایسے راستے سے گزر رہا تھا جو سرحدی پٹی کے ساتھ بنا ہوا تھا، یہ بات میرے لئے قابل یقین نہیں تھی کہ میں نے اسلامی جمہوری ایران کی سرزمین پر قدم رکھا ہے

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ابھی اس کو چھوڑو جو کچھ گھر میں ہے وہ تم پر بہت سجتا ہے

اس کپڑے کی کوالٹی میری لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی مجھے تو بس اس بات کا اشتیاق تھا کہ میں ایک ایسی نئی چادر کی مالک ہوجاوں گی جو بالکل میرے ناپ کی ہے۔

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

دعا کیجئے کہ یہ ہوائی جہاز صحیح و سالم اتر جائے

میری آواز بیٹھ گئی تھی ، جتنا بھی گرم پانی پئوں سود مند نہ تھا۔میرا ہمیشہ کا دستور یہی تھا کہ ہر احتجاج میں اس طرح نعرے لگایا کرتی تھی کہ میرے علاوہ کوئی اور احتجاج میں شریک ہی نہیں ہے

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – آٹھویں قسط

میں غمگین دل اور افسردہ روح کے ساتھ ان تمام واقعات کا جائزہ لے رہا تھا اور میرے ذہن میں مسلسل وہ بات آرہی تھے جسے میرے دوست نے چند مہینے قبل بہمن ہسپتال میں بتائی تھی۔ دو ہفتہ بعد، ہم چھاؤنی کے کیمپ میں جمع ہوئے اور ہمیں ٹریننگ دینے والے افسر نے حکم دیا کہ ہم فوراً عراقی فوج کے یونٹوں میں تقسیم ہوجائیں ایسا اس حال میں تھا کہ ہم نے اپنی ٹریننگ کا عرصہ مکمل نہیں کیا تھا۔
1
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – چودہویں قسط

میں ہیڈ کوارٹر کی اکیلی خندق میں داخل ہوا جو دو حصوں میں تقسیم ہوتی تھی ایک کلینک اور دوسرا بریگیڈ کے سیکریٹری کا آفس۔ باقی لوگ ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے نیچے مضبوط اڈوں میں زندگی گزار رہے تھے۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔