تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تینتیسویں قسط

لیفٹیننٹ "کنعان" میرے ساتھ کام کرنے کے دوران جنگ کے جاری رہنے کے حوالے سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتا تھا اور عراقی حکومت پر تنقید کرتا تھا، لیکن فوجی آپریشنز میں وہ سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ کام کرتا تھا

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – بتیسویں قسط

"ابوفوزی" نے کچھ فوجیوں کے ساتھ مل کر لاش کو گاؤں کے قریب دفنا دیا اور اس کی قبر پر ایک نشانی لگا دی۔ واپس لوٹتے وقت غم اور دکھ کے آثار فوجیوں کے چہروں پر بخوبی دیکھے جاسکتے تھے۔ اس سے پتہ چل رہا تھا کہ عراقیوں اور ایرانیوں کی دشمنی معمولی اور ناپائیدار ہے اور آج بھی دونوں فریقوں کے دل اسلام اور انسانیت کے لیے دھڑکتے ہیں

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، چودہواں حصہ

خانہ فرہنگ کا راستہ گم ہوچکا تھا

رکشے والے نے کرایہ بڑھانے کے لئے کہا کہ اسے راستہ معلوم نہیں میں نے اسے سمجھایا کہ بھائی تم چلنا شروع کرو میں گلیاں ، سڑکیں دیکھ کر خود راستہ پہچان لوں گی اور ہم خانہ فرہنگ پہنچ جائیں گے۔ کچھ دور سفر کرنے پر مجھے احساس ہوا راستہ طویل ہوگیا ہے اور خانہ فرہنگ کے آس پاس کی گلیوں کا کوئی نام و نشان نہیں ہے

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تیسویں قسط

یونٹ کے افراد نے پیرامیڈک وارنٹ آفیسر "محمد سلیم" کی قیادت میں ہمارا استقبال کیا۔ موبائل یونٹ، 3 خندقوں پر مشتمل تھا۔ پہلی خندق چھوٹی اور مضبوط تھی جس میں دوائیاں رکھی جاتی تھیں، دوسری خندق اس کے برابر میں تھی جو پیرامیڈکس کے کام کرنے کی جگہ تھی، اور تیسری خندق دوسری خندقوں سے 40 میٹر کے فاصلے پر تھی جو ایمبولینس ڈرائیورز کے آرام کی جگہ تھی۔

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – اُنتیسویں قسط

ایمبولینس رکی اور ہم پانی کے کنویں کے پاس اترے۔ ہم نے ڈول کو پانی سے نکالا اور ہاتھ منہ دھویا۔ ڈرائیور نے ریڈی ایٹر میں بھی تھوڑا پانی ڈالا۔ چند لمحوں کے لئے ہم اس گاؤں میں چہل قدمی کرنے میں مشغول ہو گئے۔ میں نے اپنے پاس موجود چھوٹے کیمرے سے کچھ یادگار تصویریں کھینچیں۔ اس کے بعد میں نے مزار کا رخ کیا۔

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، تیرہواں حصہ

شب و روز کی اس گریہ زاری سے میری آنکھیں سوج گئیں تھیں اور ہر وقت لال رہتی تھیں۔ دوسرے لوگ بھی میری حالت دیکھ دیکھ کر کڑھتے رہتے ۔ مہمان خانہ ہمیں سونپ دیا گیا تھا تاکہ مہدی کی بہتر دیکھ بھال ہو سکے

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – اٹھائیسویں قسط

محاذ پر زندگی بہت تھکا دینے والی اور بورنگ تھی۔  مجھے لگ رہا تھا جیسے میری گھڑی کی سوئیاں آہستہ آہستہ چل رہی ہیں۔ ان دنوں میری روزمرہ کی سرگرمیاں اپنی خندق، آرام کی خندق، افسروں کے ساتھ کھانا کھانے اور دوسری خندقوں میں آنے جانے تک محدود تھیں۔  عام طور پر میں اپنے فارغ اوقات دوسروں سے گفتگو کرنے، مطالعہ کرنے اور ریڈیو پروگرامز سننے میں گزارتا تھا۔  میرے دو خوش مزاج، کرد زبان پڑوسی تھے۔ ان میں سے ایک آپریشن آفیسر، میجر جنرل "نوری" کا ڈرائیور...

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – چھبیسویں قسط

اس منحوس رات میں ایک پیرامیڈکس نے مجھے دو پین کلر انجکشن لگائے۔ اگلے دن صبح میں نڈھال بستر پر لیٹا ہوا تھا۔ ڈاکٹر "یعقوب" یونٹ کمانڈر کے پاس گئے اور اسے میری حالت سے آگاہ کیا۔ انھون نے مشورہ دیا کہ مجھے علاج اور آرام کے لئے ہسپتال بھیجا جائے۔ لیکن اس نے منع کردیا اور کہا: "اسے یہیں رہنے دو اور اس کا علاج ہونا چاہیے۔ آخرکار وہ ایک ڈاکٹر ہے!"

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، بارہواں حصہ

ہندوستان دہلی میں گذارے ہوئے آٹھ سال

فہیمہ میری گود میں تھی اور مہدی کھڑکی سے باہر تک رہا تھا۔ دہلی کے ہوائی اڈے سے خانہ فرہنگ تک میں نے ایک لفظ بھی نہ کہا۔ گرم لو میرے چہرے کو جھلسا رہی تھی۔ فہیمہ کے بال پسینہ میں بھیگے اس کے سر سے چپکے پڑے تھے۔ اس شہر کی ہر چیز مہدی کے لئے ایک سوال تھی۔ اس ٹرافک سے جو ایک گائے کے سڑک عبور کرنے کے انتظار میں رکی ہوئی تھی سے لے کرلوگوں کی وضع قطع اور لباس تک ہر چیز۔ میں سر گاڑی کی سیٹ سے لگائے تھی سفید گلابی پھول جگہ جگہ تھےجو مجھے علی کی امی کے شمع دانوں کی یاد دلا...

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح؛ گیارہواں حصہ

اس وقت تک میں کبھی ایران سے باہر نہ گئی تھی۔ کوئی اور زبان مجھے آتی نہ تھی

عید الفطر کے اگلے دن، فہیمہ سادات کی ولادت ہوئی۔ علی کی امی کے بقول بہت اچھی صابرہ بچی ہے سارا ماہ رمضان المبارک صبر کیا کہ ہم روزہ رکھ لیں
1
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تینتیسویں قسط

لیفٹیننٹ "کنعان" میرے ساتھ کام کرنے کے دوران جنگ کے جاری رہنے کے حوالے سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتا تھا اور عراقی حکومت پر تنقید کرتا تھا، لیکن فوجی آپریشنز میں وہ سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ کام کرتا تھا

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔