تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات :تینتالیسویں قسط

میں نے کہا: " گھبراؤ نہیں! میں نان کمیشنڈ ڈاکٹر ہوں نہ کہ انٹیلی جنس افسر۔ میری صلاح یہ ہے کہ تم محاذ کی صورتحال کے متعلق کسی سے گفتگو نہ کرو، احتیاط کرو ورنہ تمہارا وہ انجام ہوگا جو بعثی خوب جانتے ہیں!"

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - بیالیسویں قسط

عام طور پر ہر انسان گھر، گاڑی اور خوشحال زندگی کا خواہشمند ہوتا ہے۔ عراق میں حکومت نے فوجی افسران کو کم ترین قیمت پر قسطوں کی صورت میں اسٹائلش گاڑیاں بیچنے کا فیصلہ کیا۔ یہ بات سچ ہے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے حکومت نے فوجیوں سے یہ وعدے کیے تھے اور 1981ء کی دوسری ششماہی میں آہستہ آہستہ حکومت نے اپنے وعدے پورےکردیے۔ فرنٹ لائنز پر تعینات فوجیوں سے لے کر مستقل گیریژن کے لوگوں تک سارے فوجیوں کو یہ عنایات نصیب ہوئیں۔

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - اکتالیسویں قسط۔

سب ہنسنے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ عراقی حکومت کے پاس جو کچھ تھا وہ اس نے جنگ میں لگا دیا، یہاں تک کہ متروک اسلحہ اور ساز و سامان بھی۔

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - چالیسویں قسط

شام 5 بجے پانچویں ڈویژن کے کمانڈر، بریگیڈیئر "صلاح قاضی" اس علاقے میں آئے اور انہوں نے حالات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے حالات کا جائزہ لینے کے بعد فوراً پیچھے ہٹنے کا حکم دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر اس طرح کا فیصلہ نہ لیا جاتا تو ہم سب کا کام تمام ہو جاتا۔

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - انتالیسویں قسط

ایک صبح ایک سپاہی نے جو اپنا سامان کندھے پر اٹھائے ہوئے تھا اپنا تعارف ایک پرائیویٹ سپاہی "ضیاء" کے نام سے کرایا۔ میں نے اس سے پوچھا: "تمہیں کس عنوان سے یہاں منتقل کیا گیا ہے؟"

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - اڑتیسویں قسط

قیدی زمین پر سوتے تھے اور ان کے نیچے کمبل نظر آ رہے تھے جن کا رنگ گندگی کی وجہ سے کمرے کے فرش کی طرح کالا ہو گیا تھا۔ جیسے ہی جیلر نے ہمارے لیے دروازہ کھولا تو پیشاب کی مکروہ بدبو نے ہمیں پریشان کردیا

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – ۳۷ ویں قسط

بظاہر وہ افسر اہواز آرمرڈ ڈویژن کا حصہ تھا۔ بیسویں بریگیڈ جو ایک ایرانی فوجی کو گرفتار کرنے کی تمنا کر رہی تھی اچانک اپنے چنگل میں ایک میجر کو دیکھ رہی تھی۔ اسی لیے گشتی یونٹ کے کمانڈر اور اس کے ساتھی سپاہیوں کی حوصلہ افزائی کی گئی

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - چھتیسویں قسط

ہماری پوزیشنز کے سامنے ایک بڑا گاؤں واقع تھا جس کا نام "کوہہ" تھا اور اس گاؤں کے چاروں طرف ایک گھنا جنگل تھا۔ ریجمنٹ کے لوگ متعدد جنگی-گشتی آپریشنز پر بھیجے جاتے تھے لیکن ان میں سے کوئی بھی "کوہہ" گاؤں تک نہیں پہنچتا تھا

موسم گرما کے واقعات

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - پینتیسویں قسط

سن 1981ء کا موسم گرما جیسے ہماری بریگیڈ کے ٹھکانے پر ایرانی فورسز کے آرام کرنے کا موسم تھا۔ جنگ کی اہم سرگرمیاں ایک دوسرے پر فائرنگ، جنگی-جاسوسی گشتی آپریشنز اور گھات لگانے کے عمل تک محدود تھیں۔ اس کے باوجود کہ ایرانی فورسز سست پڑ گئی تھیں اور تھکن محسوس کر رہی تھیں لیکن ہماری فورسز تمام دفاعی تدابیر اپنانے کے بعد مکمل طور پر الرٹ رہتی تھیں۔

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - چونتیسویں قسط

یہ بیوقوف ڈرپوک بھی یقین کر لیتا تھا۔ وہ اپنے بنکر کے کونے میں پناہ لے لیتا تھا اور پورے دن میں صرف واش روم جانے کے لیے چند مرتبہ باہر آتا تھا۔ اس طرح سے سپاہی اس سے انتقام لیتے تھے اور اس کی سرگرمیوں کو محدود کر دیتے تھے
1
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات :تینتالیسویں قسط

میں نے کہا: " گھبراؤ نہیں! میں نان کمیشنڈ ڈاکٹر ہوں نہ کہ انٹیلی جنس افسر۔ میری صلاح یہ ہے کہ تم محاذ کی صورتحال کے متعلق کسی سے گفتگو نہ کرو، احتیاط کرو ورنہ تمہارا وہ انجام ہوگا جو بعثی خوب جانتے ہیں!"

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔