محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے

طاہرہ طاہری کے ساتھ گفتگو

رضا کار ادارے جہاد سازندگی کے واقعات، امدادی کام اور سنندج کے اسکول

طاہرہ طاہری انقلاب اسلامی کی کامیابی کے اوائل سے ہی سرگرم خواتین میں سے ایک ہیں۔ وہ رضا کارانہ طور پر اس ادارے میں بھرتی ہوئیں اور اسلامی جمہوری ایران کے خلاف صدامی فوج کی مسلط کردہ جنگ شروع ہونے کے بعد، رضاکار ادارے جہاد سازندگی کی طرف سے ہلال احمر ٹرین کے ساتھ کئی مرتبہ زخمیوں کی مدد کرنے ملک کے جنوبی علاقے میں گئیں

سورج مغرب سے طلوع ہوا

تہران کے آسمان پر کافی بڑا موڑ کاٹنے کے بعد جہاز نے لینڈ کیا۔ پہلے صحافی حضرات اور پھر امام کے ساتھی جہاز سے اُترے۔ حضرت امام کے شاگرد بھی استقبال کے لئے آئے ہوئے تھے اور ایئرپورٹ کے ہال میں جمع تھے ۔ میں بھی جب وہاں پہنچا تو کیا سنا کہ سب کے سب یہ ترانہ پڑھ رہے ہیں: اے خمینی امام ! اے خمینی امام!

" کتاب کی زبانی تاریخ" مطبوعات فرہنگ معاصر کے انچارج کی زبانی

دو زبانوں میں فرہنگ لغات کی پیداوار اور طباعت کے واقعات

ہمارا دل چاہتا تھا ہمارے پاس ہر زبان میں فرہنگ لغات کا مکمل نسخہ موجود ہو۔ ہمارا ہدف یہ تھا کہ اس نسخے کو مکمل کریں اور ہم چاہتے تھے کہ ہمارے مجموعے میں ایک فارسی لغات کی بھی فرہنگ ہو

گزشتہ دہائیوں میں شہر اراک میں ہونے والی قرآنی نشست کے بارے میں

ایک مکمل روایتی طریقہ کار

محمد رحیم بیرقی مرکزی صوبے کے ایک سرگرم قرآنی شخصیت ہیں جنہوں نے چند سالوں سے تہران میں سکونت اختیار کی ہوئی ہے۔ ار اک میں ہونے والی قرآن کریم کی سرکاری اور جدید نشستیں ہوں یا روایتی نشستیں، یہ شخصیت ہر جگہ فعال نظر آئی اور یہ یونیورسٹی میں قرآن کے استاد ہیں۔ ہم نے اُن کے ساتھ شہر اراک میں ہونے والی قرآنی نشست اور خاص طور سے مرحوم استاد محمد حسن نہرمیانی کے بارے میں بات چیت کی۔...

جنگی زخمیوں کے بارے میں اشرف بہارلو کی یادیں

آبادان میں زندگی اور طالقانی ہسپتال میں امدادی سرگرمی

آبادان میں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے والی خواتین نے اس شہر کے ہسپتالوں میں زخمیوں کی خدمت کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ یہ لوگ اپنے گھر والوں سے دور اور بغیر کسی مالی لالچ کے سپاہیوں کی مدد کیلئے ایسے شہر میں ٹھہری ہوئی تھیں جس کا دشمن نے محاصرہ کیا ہوا تھا، تاکہ اپنے زخمی بھائیوں کی دیکھ بھال کے ذریعے ان کا علاج معالجہ کریں۔ اشرف بہارلو صدامی فوج کی جمہوری اسلامی ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران اُنہی جوان لیڈی امدادی کارکنوں میں سے ایک ہیں ۔ انھوں نے ایرانی اورل ہسٹری سائٹ سے آبادن اور طالقانی ہسپتال سے مربوط اپنی یادوں کے بارے میں گفتگو کی ۔

گزشتہ دہائیوں میں شہر اراک میں ہونے والی قرآنی نشست کے بارے میں

ایک مکمل روایتی طریقہ کار

استاد نہرمیانی ایک حقیقی مؤمن کی حیثیت سے بہت ہی قناعت پسند انسان تھے اور اُن کی زیادہ اخراجات والی زندگی نہیں تھی۔ اُن کا گھر بھی اُسی پرانی طرز کا ٹوٹا پھوٹا سا تھا۔ انھوں نے قرآن کی قرائت اور نشستوں کی بابت کبھی بھی پیسوں کا مطالبہ نہیں کیا

نشستیں تعمیراتی ہوتی تھیں

۱۹۶۰ ء کے عشرے سے متعلق آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی کےجیل کے واقعات

انقلاب کے بعد جب شیراز شہر میں لوگوں نے ساواک کے دفتر پر قبضہ کیا تو انھوں نے تمام فائلیں سڑکوں پر پھینک دیں۔ کسی ایک کو میری فائل ملی تو اس نے مجھے بھجوادی۔ جناب حسینیان نے بھی ریکارڈ سنٹر سے، میرے اس زمانے کے مدارک اور ریکارڈ والے لفافے مجھے بھجوائے

دوران جنگ اور جنگ کے بعد، حمل و نقل کی پروازیں

اصغر نمازیان کی یادوں کے ساتھ گزرے لمحات کا سفر

لچسپ بات ہے کہ میں جنوری ۱۹۷۹ء میں امریکا میں پائلٹ بنا اور جنوری ۲۰۰۱ء میں اسلامی جمہوری ایران کی فضائی آرمی سے ریٹائر ہوا۔ مجھے سن ۱۹۸۸ء میں آیت اللہ خامنہ ای کی خدمت میں پہنچنے کا شرف نصیب ہوا۔

محمد رضا ناجیان اصل کی زبانی سن ۱۹۶۱ء سے سن ۱۹۸۱ء تک کے واقعات کا بیان

مجاہد اور پبلشر بن جانے والے کلاس فیلوز

ایرانی زبانی تاریخ کی ویب سائیٹ کی رپورٹ کے مطابق، "کتاب کی زبانی تاریخ" کی نشستوں کے دوسرے سلسلے کی گیارہویں نشست منگل کی صبح مورخہ ۱۱ جولائی ۲۰۱۷ء کو پروگرام کے میزبان اور ماہر نصر اللہ حدادی کی کوششوں اور مطبوعات کے انچارج محمد رضا ناجیان اصل کی موجودگی میں خانہ کتاب فاؤنڈیشن کے اہل قلم سرا میں منعقد ہوئی
1
...
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔