زبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – پہلا حصہ

زبانی تاریخ، ثقافتی تبادلے کا دوسرا نام

یادوں کی جمع آوری ایک اہم کاوش ہے اگر یہ کام فعال اور بامقصد انٹرویوز کے ذریعے انجام پائے تو اسے "زبانی تاریخ" کہا جاتا ہے۔
آیت اللہ فیض گیلانی کی یادیں

مدرسہ فیضیہ پر حملہ اور امام خمینی (رہ) کی دوسری مرتبہ گرفتاری

آیت اللہ فیض گیلانی انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد انقلاب اسلامی کی عدالت میں مصروف کار رہے اور ۶ سال کے عرصے تک انتظامی عدالت کی سربراہی کے عہدے پر فائز رہے۔ یہ گفتگو ۴ مئی سن ۱۹۹۳ ءکو انجام پائی
حجت الاسلام مہدوی خراسانی سے بات چیت

۵ جون سے ۱۱ فروری تک

آیت اللہ حکیم کیلئے ایصال ثواب کی مجلس میں، آیت اللہ مروارید زیب منبر ہوئے اور اُس مجلس میں انھوں نے بہت جوشیلی تقریر کی جو اُن کے خلخال جلا وطن ہونے کا سبب بنی۔ اسی اثناء میں حوزہ علمیہ قم کے اساتید نے بھی ایک بیان جاری کیا اور اُسے منبر سے پڑھا گیا کہ آیت اللہ مکارم نے اُس بیان کے بارے میں کہا ہوا تھا کہ امام کی عظمت کے بارے میں جو بھی لکھیں میں اُس پر بغیر پڑھے دستخط کردوں گا۔ وہ منبر بھی بہت مؤثر رہا۔

وہ پر جو مجھے خدا نے عطا کئے

سیدہ زہرا سجادی کی زندگی اور جدوجہد کی داستان
سن ۱۹۸۹ء؛ حضرت امام خمینی (رہ) کی رحلت کے ۲۵ دن بعد۔ سن ۱۹۸۹ء میں ہمیں دو بھاری صدموں کو جھیلنا پڑا، پہلا حضرت امام خمینی (رہ) کی رحلت اور اُس کے ۲۵ دن بعد ایکسیڈنٹ کا واقعہ اور میرے شوہر کی شہادت۔ یہ بھی بتادوں کہ میرے شوہر اس پہلے گروہ کا حصہ تھا جنہوں نے آکر مقام معظم رہبری سے بیعت کی۔
"مہناز فتاحی" کتاب "پناہگاہ بی پناہ" اور اُس کی تحریری کیفیت کے بارے میں کہتی ہیں

میں خود ہی اسناد تلاش کرنے پر مجبور تھی

میں یادداشت لکھنے کی عادی ہوں۔ میں بچپن سے اپنی یادداشتیں لکھتی ہوں، میں نے جنگ کے زمانے کی یادیں بھی لکھی ہیں، لیکن محال ہے کہ میں نے کوئی کتاب لکھی ہو اور اُس کیلئے تحقیق انجام نہ دی ہوں۔
عباس جہانگیری اور دفاع مقدس کی یادیں ۔ دوسرا اور آخری حصہ

سیکنڈری اسکول کے شہداء کی شب

ایرانی زبانی تاریخ کی سائٹ کے خبر نگار کی انجینئر عباس جہانگیری کی گفتگو کے پہلے حصے میں بات یہاں تک پہنچی تھی کہ انھوں نے بتایا تھا کہ وہ دفاع مقدس کے محاذوں پر کس طرح گئے اور اسلام آباد میں ہونے والے ایک جہادی کیمپ سے لیکر و الفجر ۲ آپریشن کے بعد حاج عمران کی بلندیوں تک پہنچے۔ البتہ اس پوری داستان میں، راوی کے ساتھ ہونے والے مفید ہائی اسکول کے طالب علموں کا بھی ان یادوں میں نمایاں کردار رہا ہے۔ دوسرا اور آخری حصہ جس میں جناب جہانگیری کی گذشتہ یادیں ہیں پیش خدمت ہے، مطالعہ کیجئے۔
عباس جہانگیری اور دفاع مقدس کی یادیں ۔ پہلا حصہ

جہادی کیمپ سے لیکر حاج عمران کی بلندیوں تک

جب میں نے رابطے کیلئے فون کیا تو میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اتنی جلدی اُن سے ملاقات ہوجائے گی۔ لیکن جب میں نے اپنے کام کے بارے میں بتایا تو  بہت ہی جلدی مجھے ملنے کا وقت دیدیا۔ موسم خزاں کی ایک شام میں اُن کے دفتر گیا۔ ہم نے تقریباً ۴ بجے اپنی گفتگو کا آغاز کیا  اور جب میں اُن کے پاس سے اٹھا تو  رات کے آٹھ بج چکے تھے۔ میں وقت گزرنے کی طرف بالکل متوجہ ہی نہیں تھا۔ ہم نے صرف مغرب کی نماز کیلئے وقفہ کیا تھا۔ ایرانی زبانی تاریخ کی سائٹ کے خبرنگار کی...
دفاع مقدس کے سپاہی اوریونیورسٹی میں علمی انجمن کے رکن، بہزاد آسایی کی یادوں کے ہمراہ – آخری حصہ

مفید اسکول کے ساتھی

میں شناخت کیلئے تقریباً ہر رات قورہ تور نہر اور آہنگران پہاڑ کے کنارے جاتا تھا۔ میں دن کے وقت علاقے پر نظر ڈالنے جاتا اور راتوں کو بھی میں تقریباً سترہ سے بیس ہزار قدم چلتا۔ میں ٹیلوں، نہروں، کھیتوں اور مائنز کے دو تین میدانوں سے گزر کر عراقیوں تک پہنچتا۔ میں ہر رات مختلف جگہوں پر جاکر ایک ایک جگہ کو چیک کرتا کہ فوجیں کہاں سے گزر سکتی ہی۔ ہم وہاں پر موجود فوج کے ساتھ رات کا کھانا کھاتے اور پھر چل پڑتے اور صبح کے نزدیک واپس آجاتے۔ اس درمیان ہمارے ساتھ مختلف واقعات پیش آتے
دفاع مقدس کے سپاہی اوریونیورسٹی میں علمی انجمن کے رکن، بہزاد آسایی کی یادوں کے ہمراہ –

ہویزہ میرے لئے ایک تعلیمی مرکز اور بدلنے کا مقام تھا

پہلا حصہ
ہم ہویزہ کی طرف بڑھے تو دیکھا وہاں آگ لگی ہوئی ہے۔ ہم نے اُن کی موٹرسائیکل ڈھونڈ لی لیکن ہم نے جتنی بھی آوازیں لگائیں خود انھیں نہیں ڈھونڈ سکے۔ ہمیں صبح پتہ چلا کہ انھوں نے مائنز کے میدان کو آگ لگائی لیکن جب وہ دوسری طرف جانا چاہ رہے تھے تو ایک ٹی ایکس ۵۰ مائن پھٹ گئی تھی اور پھر آگ اُن تک پہنچ گئی تھی۔ وہ شہید ہوچکے تھے۔
"محمود فرہنگ" سے باتیں

دفاع مقدس کے تھیٹر کی زبانی تاریخ سے اقتباسات

محمود فرہنگ ہمیشہ سے پر اُمید ہیں کہ فنکاروں کی ترقی سے ایک دن اس دفاع کے عظیم مردوں کی شہرت دنیا کے کونے کونے تک پہنچ جائے گی۔ ایران کی زبانی تاریخ کی سائٹ کے محمود فرہنگ سے ہونے والے انٹرویو میں ایسے پروگرام، واقعات اور شخصیات کی باتیں ہوئیں جو دفاع مقدس کے تھیڑ کی زبانی تاریخ شروع کرنے والا شمار ہوتے ہیں۔
1
...
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔