دفاع مقدس کے دوران امدادی کارکن اور فوجی ٹریننگ کی استاد مریم جدلی سے بات چیت۔ آخری حصہ

مغربی محاذ سے جزیرہ خارک تک

اس گفتگو کے پہلے حصے میں ہم مریم جدلی کی جوانی کے ابتدائی سالوں سے آگاہ ہوئے جو انقلاب اسلامی کی کامیابی اور صدامی فوج کی ایران پر مسلط کردہ جنگ شروع ہونے کے ساتھ گزرے ۔ انھوں نے بتایا کہ سرپل ذھاب، ابوذر چھاؤنی کے ہسپتال اور ہلال احمر کی ٹرین میں  جو ایک چلتا پھرتا ہسپتال تھی، جنگ کے کیا کیا  مناظر اُن کی یادوں کا حصہ بنے ۔ اب آپ ایران کی زبانی تاریخ کی ویب سائٹ کے خبر نگارکی مریم جدلی سے گفتگو کے دوسرے حصے کو ملاحظہ کریں۔   آپ کا محاذ پر آنا جانا...
دفاع مقدس کے دوران امدادی کارکن اور فوجی ٹریننگ کی استاد مریم جدلی سے بات چیت۔ پہلا حصہ

ابوذر ہسپتال اور ہلال احمر ٹرین کی یادیں

مریم جدلی جنہوں نے کمیونیکیشن کے شعبے میں تعلیم حاصل کی اور کئی سالوں سے ثقافتی کاموں میں مشغول ہیں، اُن کی جوانی کے ابتدائی ایام کا زمانہ اور انقلاب اسلامی کی کامیابی اور عراق کی ایران پر مسلط کردہ جنگ شروع ہونے کا زمانہ ایک ہی ہے
"شہید حسین علی فخری کی یادیں" نامی کتاب کے مؤلف عباس رئیسی بیگدلی کے ساتھ گفتگو

ایسا انٹرویو لینے والا جس کے پاس سوال نہ ہو، اس جنگجو کی مانند ہے جس کے پاس اسلحہ نہ ہو

عباس رئیسی بیگدلی، دفاع مقدس کے ایک مجاہد ہیں جو چند سالوں سے دفاع مقدس کی یادوں کے حوالے سے تألیف میں مشغول ہیں۔ "عمو حسین" نامی کتاب جو شہید حسین علی فخری کی یادوں پر مشتمل ہے، ان کی پہلی تالیف ہے جو سن ۲۰۱۶ء میں شائع ہوئی۔
عباس کیانی کی یادوں کے ساتھ جو جنگی علاقے میں "توپخانے کے انچارج" تھے

صدامی فوج کی میراژ طیارے کے شکار کا دن

ہم نہر اروند کے جوش مارتے کنارے سے تقریباً ۲۵۰ میٹر کے فاصلے پر تھے۔ ہم نے نہر کے اطراف موجود نخلستان میں چھپ کر پوزیشنیں سنبھال لی تھیں۔ ہم نخلستان کے شروع میں تھے اور گولے برسانے والا ایک اور یونٹ ہم سے تھوڑا پیچھے، نخلستان میں مستقر ہوا۔ پہلی گولے برسانے والی ٹیم بھی خسرو آباد کی طرف مستقر ہوچکی تھی
"روزھای بی آینہ" کی مؤلفہ، گلستان جعفریان سے بات چیت

میں نے تمام چیزیں راوی پر چھوڑ دیں تھیں

کتاب "روزھای بی آینہ" میں منیژہ لشکری کی یادیں ہیں کہ جن کے شوہر حسین لشکری نے اپنی عمر کے اٹھارہ سال صدامی فوجی کی قید میں گزار ے، اس کتاب کو گلستان جعفری نے تحریر کیا، جو حال ہی میں دفاع مقدس کی کتابوں میں شامل ہوئی ہے۔
علی میرزا خانی کی یادداشتیں

ایسا شہید جو ۱۵ دن بعد جنگی محاذ پر واپس آگیا!

انصار بٹالین کے اراکین کی سالانہ نشست میں مجھے دفاع مقدس میں موجود اس بٹالین کے سپاہیوں سے  گفتگو کرنے کا ایک اچھا موقع فراہم ہوا۔ میں جس سے بھی کوئی واقعہ سنانے کا کہتا وہ کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے اپنی جان چھڑالیتا۔ لیکن جب وہ آیا تو  سب نے مسکراتے ہوئے اُس کا استقبال کیا۔ اُس کے اپنے دوستوں سے بات چیت کرنے کے انداز سے پتہ چل رہا تھا کہ وہ انصار بٹالین کے پرجوش سپاہیوں میں سے تھا۔ اُس کے ایک دوست نے اُس کا ہاتھ تھاما اور اُسے میرے طرف لے آیا۔ اُس نے کہا:...
وہ لمحات جو روح انگیز حیاتی کی یادوں کا حصہ بن گئے

ماہ شہر کے واحد ہسپتال میں جنگ کے ابتدائی ایام

روح انگیز حیاتی نے رضاکار افراد کی ضرورت کا اعلان سنتے ہی، خود کو اپنے شہر کے واحد ہسپتال تک پہنچایا اور وہاں امدادی سرگرمیاں انجام دیں۔ جو لوگ آٹھ سالہ دفاع مقدس کے دوران صوبہ خوزستان کے ایک چھوٹے سے اور ساحلی شہر میں رہائش پذیر رہے وہ جانتے ہیں کہ ماہ شہر نے فوجیوں کی امداد میں، خاص طور سے زخمیوں کی بحالی اور اُن کے ابتدائی علاج میں اہم کردار اد کیا ہے۔
زبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – پہلا حصہ

زبانی تاریخ، ثقافتی تبادلے کا دوسرا نام

یادوں کی جمع آوری ایک اہم کاوش ہے اگر یہ کام فعال اور بامقصد انٹرویوز کے ذریعے انجام پائے تو اسے "زبانی تاریخ" کہا جاتا ہے۔
آیت اللہ فیض گیلانی کی یادیں

مدرسہ فیضیہ پر حملہ اور امام خمینی (رہ) کی دوسری مرتبہ گرفتاری

آیت اللہ فیض گیلانی انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد انقلاب اسلامی کی عدالت میں مصروف کار رہے اور ۶ سال کے عرصے تک انتظامی عدالت کی سربراہی کے عہدے پر فائز رہے۔ یہ گفتگو ۴ مئی سن ۱۹۹۳ ءکو انجام پائی
حجت الاسلام مہدوی خراسانی سے بات چیت

۵ جون سے ۱۱ فروری تک

آیت اللہ حکیم کیلئے ایصال ثواب کی مجلس میں، آیت اللہ مروارید زیب منبر ہوئے اور اُس مجلس میں انھوں نے بہت جوشیلی تقریر کی جو اُن کے خلخال جلا وطن ہونے کا سبب بنی۔ اسی اثناء میں حوزہ علمیہ قم کے اساتید نے بھی ایک بیان جاری کیا اور اُسے منبر سے پڑھا گیا کہ آیت اللہ مکارم نے اُس بیان کے بارے میں کہا ہوا تھا کہ امام کی عظمت کے بارے میں جو بھی لکھیں میں اُس پر بغیر پڑھے دستخط کردوں گا۔ وہ منبر بھی بہت مؤثر رہا۔
1
...
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔