"بتول قیومی" سے گفتگو

"خرم شہر" کی آزادی کی مٹھائی کے پیسوں سے ہم نے آپریشن تھیٹر کے کپڑوں کا انتظام کیا

میں نے اتنی بوتلیں جمع کی تھیں کہ میں "بوتل والی خاتون" مشہور ہو گئی تھی۔ ایک دن میں بوتلیں جمع کرنے گئی ہوئی تھی، "کوکاکولا" روڈ جو ہمارے گھر سے بہت دور تھا، سے ایک خاتون آئی، جب اس نے دیکھا کہ ہمارا صحن گندا ہے اور برتن باغیچے کے پاس رکھے ہوئے ہیں تو اس نے برتن دھو دیے اور میرے بچوں سے کہا: " اپنی امی سے کہنا کہ میں رضائے الہی کے لیے تمہاری مدد کرنے آئی تھی

ریڈیو کی وہ داستان جو آبادان کی استقامت کی آواز بنا

صابری نے اس کتاب میں دفاع مقدس کے ابتدائی سالوں میں اپنے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ پیش آنے واقعات کو قلم بند کیا ہے۔ اس کام کے لیے انھوں نے اور عبداللہ نعیم زادہ نے ۱۰۰ سے زائد انٹرویو کیے ہیں

دوران جنگ کے ایک ڈاکٹر کی کہانی

ان شہریوں کا مداوا جنہوں نے ہمارا محاصرہ کیا تھا

میں اور ایک اراک سے تعلق رکھنے والا پاسدار ایمبولینس کی طرف دوڑے جیسے ہی ہم اس کے اسٹریچر کو ایمبولینس سے نیچے اتارنے لگے اچانک ہم پر شدید فائرنگ شروع ہوگئی۔ تب ہمیں احساس ہوا کہ وہاں موجود دیگر افراد آگے کیوں نہیں بڑھے

شاہی کارندوں کے نیزے امام خمینی رح کے پوسٹرز کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے

میں نے جو لکھا ہے اپنے دلی اعتقادات کی روشنی میں لکھا ہے۔ آج بھی کوشش کرتا ہوں کہ اپنے اشعار میں ہی موجود رہوں۔ جس شخص نے زندگی کے اتنے اہم واقعے کو دیکھا ہو وہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کسی مجاہد نے محاذ جنگ کو دیکھا ہو۔

امیر ثامری کی یادوں کے ساتھ – دوسرا حصہ

خرم شہر میں جدوجہد کے ایام

ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کے خبر نگار امیر ثامری کے ساتھ گفتگو کرنے بیٹھے ہیں تاکہ وہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے ابتدائی سالوں اور عراق کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کے ابتدائی ایام کے بارے میں بتائیں۔ اس انٹرویو کے پہلے حصے میں، انھوں نے خرم شہر کے ابوذر گروپ کا تعارف کروایا۔ اب آپ اُن کے انٹرویو کا دوسرا حصہ ملاحظہ فرمائیں۔

امیر ثامری کی یادوں کے ساتھ – پہلا حصہ

خرم شہر کے ابوذر گروپ کا شہر اور بارڈر پر کردار

متوجہ ہوگیا تھا اُن کی افواج اصلاً معمولی افواج نہیں ہیں، بلکہ بہترین فوج ہے ۔ جبکہ ہماری چیک پوسٹوں پر اس طرح کے سپاہی نہیں تھے۔ آہستہ آہستہ دیکھا کہ عراقیوں نے مورچے بنا لئے ہیں اور جنگی ساز و سامان لے آئے ہیں

ڈاکٹر سید رضا مرتضویان سے بات چیت

آپریشن کے بعد کے ایام

خدمت انجام دینے والے افراد کہ جن کا کام صفائی کرنا تھا، وہ بھی مشینوں کی طرح کام کرتے تھے۔ زخمی آتے۔ اُن کے بیڈ کے نیچے خون بھر جاتا۔ ہم جب تک اُن کی پٹی کرتے اور انہیں ایمبولنس میں رکھتے، ہم دیکھتے کہ وہ جگہ صاف ہوچکی ہے

وہ انٹرویوز جو آج کی باتیں کرتے ہیں

کتاب "جنگ سے دفاع مقدس تک" کے بارے میں مینو خانی سے گفتگو

زبانی تاریخ کی بدولت ماضی قریب سے آشنائی

"جنگ سے لیکر دفاع مقدس تک؛ متن اور حاشیے" نامی کتاب بیس انٹرویوز پر مشتمل ہے۔ ان انٹرویوز میں جنگ کے اجتماعی اثرات اور پھر آرٹسٹ حضرات کے آثار میں اس جنگ کی جو تصویر پیش کی گئی ہے، پر بات کی گئی ہے اور ان انٹرویوز کو کتاب کی شکل دینے کا سہرا ڈاکٹر مینو خانی کے سر ہے جسے نومبر ۲۰۱۹ میں ناشر "ہمای ہنر" نے چھاپا ہے، کتاب کے صفحات کی تعداد ۲۲۱ ہے۔  اور یہ بیس انٹرویوز جن بیس افراد سے لئے گئے ہیں ان کے اسامی درج ذیل ہیں: حبیب احمدزاده، عمادالدین افروغ،...

ایرج شیری کی یادوں کے ہمراہ

آبادان سے خرم شہر کی طرف جانے والے امدادی کارکنان ۔۔۔۔

وہ تمام خواتین جو ٹریننگ حاصل کرتی تھیں انہیں جنگی علاقوں کے ہسپتالوں،خاص طور سے کردستان بھیجا جاتا تھا۔ حتی ہم سپاہ اور فوج کو بھی امدادی کارکنان دیتے تھے

سید رضا صفوی سے گفتگو

دو سائن بورڈز کی کہانی

آپ جس گفتگو کا مطالعہ کرنے جا رہے ہیں وہ انجمن خطاطی ایران کے رکن اور اس شعبے میں سب سے اعلیٰ رتبہ پر فائز اور اسی طرح سونے سے کام کرنے اور پینٹنگ وغیرہ کے استاد جناب سید رضا صفوی ہیں
1
...
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - اڑتیسویں قسط

قیدی زمین پر سوتے تھے اور ان کے نیچے کمبل نظر آ رہے تھے جن کا رنگ گندگی کی وجہ سے کمرے کے فرش کی طرح کالا ہو گیا تھا۔ جیسے ہی جیلر نے ہمارے لیے دروازہ کھولا تو پیشاب کی مکروہ بدبو نے ہمیں پریشان کردیا

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔