امیر ثامری کی یادوں کے ساتھ – دوسرا حصہ

خرم شہر میں جدوجہد کے ایام

ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کے خبر نگار امیر ثامری کے ساتھ گفتگو کرنے بیٹھے ہیں تاکہ وہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے ابتدائی سالوں اور عراق کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کے ابتدائی ایام کے بارے میں بتائیں۔ اس انٹرویو کے پہلے حصے میں، انھوں نے خرم شہر کے ابوذر گروپ کا تعارف کروایا۔ اب آپ اُن کے انٹرویو کا دوسرا حصہ ملاحظہ فرمائیں۔

امیر ثامری کی یادوں کے ساتھ – پہلا حصہ

خرم شہر کے ابوذر گروپ کا شہر اور بارڈر پر کردار

متوجہ ہوگیا تھا اُن کی افواج اصلاً معمولی افواج نہیں ہیں، بلکہ بہترین فوج ہے ۔ جبکہ ہماری چیک پوسٹوں پر اس طرح کے سپاہی نہیں تھے۔ آہستہ آہستہ دیکھا کہ عراقیوں نے مورچے بنا لئے ہیں اور جنگی ساز و سامان لے آئے ہیں

ڈاکٹر سید رضا مرتضویان سے بات چیت

آپریشن کے بعد کے ایام

خدمت انجام دینے والے افراد کہ جن کا کام صفائی کرنا تھا، وہ بھی مشینوں کی طرح کام کرتے تھے۔ زخمی آتے۔ اُن کے بیڈ کے نیچے خون بھر جاتا۔ ہم جب تک اُن کی پٹی کرتے اور انہیں ایمبولنس میں رکھتے، ہم دیکھتے کہ وہ جگہ صاف ہوچکی ہے

وہ انٹرویوز جو آج کی باتیں کرتے ہیں

کتاب "جنگ سے دفاع مقدس تک" کے بارے میں مینو خانی سے گفتگو

زبانی تاریخ کی بدولت ماضی قریب سے آشنائی

"جنگ سے لیکر دفاع مقدس تک؛ متن اور حاشیے" نامی کتاب بیس انٹرویوز پر مشتمل ہے۔ ان انٹرویوز میں جنگ کے اجتماعی اثرات اور پھر آرٹسٹ حضرات کے آثار میں اس جنگ کی جو تصویر پیش کی گئی ہے، پر بات کی گئی ہے اور ان انٹرویوز کو کتاب کی شکل دینے کا سہرا ڈاکٹر مینو خانی کے سر ہے جسے نومبر ۲۰۱۹ میں ناشر "ہمای ہنر" نے چھاپا ہے، کتاب کے صفحات کی تعداد ۲۲۱ ہے۔  اور یہ بیس انٹرویوز جن بیس افراد سے لئے گئے ہیں ان کے اسامی درج ذیل ہیں: حبیب احمدزاده، عمادالدین افروغ،...

ایرج شیری کی یادوں کے ہمراہ

آبادان سے خرم شہر کی طرف جانے والے امدادی کارکنان ۔۔۔۔

وہ تمام خواتین جو ٹریننگ حاصل کرتی تھیں انہیں جنگی علاقوں کے ہسپتالوں،خاص طور سے کردستان بھیجا جاتا تھا۔ حتی ہم سپاہ اور فوج کو بھی امدادی کارکنان دیتے تھے

سید رضا صفوی سے گفتگو

دو سائن بورڈز کی کہانی

آپ جس گفتگو کا مطالعہ کرنے جا رہے ہیں وہ انجمن خطاطی ایران کے رکن اور اس شعبے میں سب سے اعلیٰ رتبہ پر فائز اور اسی طرح سونے سے کام کرنے اور پینٹنگ وغیرہ کے استاد جناب سید رضا صفوی ہیں

سعید حجازی کی یادوں کے ساتھ

آپریشن والے علاقوں کی عجیب راتیں

حمید صالِحی، علی بلورچی، مجید مرادی، سید حسین کریمیان اورمنصور کاظمی اسی بس کے اندر تھے۔ میں اُن سے گلے ملا اور نیچے اتر گیا۔ میں واپس آگیا؛ یہ لوگ آپریشن پر چلے گئے اور میں یہیں رہ گیا۔ اُس آپریشن میں میرے پانچ بہترین دوست شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ وہ ۱۵سالہ لڑکا جو علی بلورچی کے ساتھ، صبح تک خدا سے راز و نیاز کر رہا تھا وہ بھی شہید ہوگیاہے۔

اٹھارہ سال بعد اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن شائع کیا گیا

وہ محرمانہ باتیں جن کا "بمو" میں اضافہ ہوا

"بمو" نامی کتاب کے مطالب قصر شیریں اور دشت ذھاب نامی علاقوں سے مربوط ہیں جو ایران کے قدیمی علاقے ہیں اور ان کی تاریخ بین النہرین سے وابستہ ہے۔ ہم نے کتاب کے اس ڈیزائن سے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ آٹھ سالہ جنگ کا سلسلہ ایران کی قدیمی جنگوں کی طرف پلٹتا ہے

ایک ایسا انٹرویو جو دس سال بعد منظر عام پر آیا

جنگی اشعار سے متعلق ہونے والے اجلاس میں "بہروز اثباتی"کے واقعات

فارسی ادبیات کا مسئلہ ہمیشہ سے ہجو اور طنز کے مابین مشکل سے دوچار رہا ہے۔ طنزیہ شعر یعنی حقائق کو ایسی زبان میں بیان کرنا کہ خود دوسروں کو سوچنے پر مجبور کردے، طنزیہ شاعری کوئی لطیفہ بازی نہیں۔ نہیں معلوم ہم لوگ ہمیشہ سے طنز کو جوکس سے شباہت دیکر کیوں پیش کرتے ہیں۔

علی قمری کی یادوں کے ساتھ

جنگ کا پہلا دن

جب امام خمینی ؒ نے فرمایا کہ کردستان کو آزاد کرائیں۔ ۱۶ ستمبر ۱۹۷۹ء کو کردستان بھیجے جانے والے سب سے پہلے یونٹوں میں، میں بھی شامل تھا۔ اہم ترین حادثہ جو میری کردستان میں ڈیوٹی کے اختتام پر رونما ہوا، تہران واپس آتے وقت کوملہ پارٹی کے فوجیوں کا ہم پر حملہ کرنا تھا۔
1
...
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – بیسویں قسط

مجھے یاد ہے اس دن ہمارے دو ہیلی کاپٹرز مشن پر روانہ ہوئے لیکن واپسی کے راستے میں ان دو بڑے M-22 ہیلی کاپٹرز میں سے ایک گر کر تباہ ہوگیا اور اس کا پائلٹ بھی جاں بحق ہوگیا۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔