جوا آوڈیچ کے ساتھ گفتگو

حسینی اور آودیچ خاندان، خرم شہر اور سربرنیتسا

صربیا کی فوجیں مردوں کو لوگوں سے جدا کرتی اور قتل کر ڈالتی تھیں۔ تیسرے دن ہم بسوں کی طرف چل پڑے جو مسافروں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے پر مامور تھیں۔ میرے بھائی کی عمر ۱۲ سال تھی اور خوش قسمتی سے ہم اس کو بچا لانے میں کامیاب ہوگئے تھے

پائلٹ ناصر ژیان کی یادوں کے ساتھ

ابتدائی شناخت سے لیکر آپریشن کی کمانڈ تک

جب ہم کمانڈنگ اسٹاف کی ٹریننگ حاصل کر رہے تھے، ہمیشہ ایک فرضی دشمن ہماری پڑھائی کا حصہ ہوتا تھا اور اُس وقت عراق کو فرضی دشمن سمجھا جاتا تھا۔ اس وجہ سے کہا گیا تھا سب سے پہلے کرمانشاہ میں ایوی ایشن کا گروپ مستقر ہو اور اُسے تمام وسائل دیئے جائیں

"رفیق مثل رسول" نامی کتاب کی مؤلفہ شہلا پناہی کے ساتھ بات چیت

واقعات کا لکھنا یعنی تسبیح کے دانوں کو پرونا

مؤلفہ شہلا پناہی واقعات لکھنے والوں میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے مواصلات کے شعبہ میں اپنی پڑھائی مکمل کی اور وہ شہدائے مدافع حرم کے واقعات کو جمع کرکے لکھتی ہیں۔ اس سلسلے میں اُن کی کارکردگی اس بات کا بہانہ بنی کہ ایران کی زبانی تاریخ اُن سے "رفیق مثل رسول" نامی کتاب اور اسی طرح اُن کے لکھے جانے والے آثار میں تحقیق اور انٹرویو کے طریقہ کار کے بارے میں بات چیت کرنے کیلئے اُن کے ساتھ بیٹھے۔

بہشت زہرا (س) میں موجود ایک یادگار تصویر کی کہانی

دھماکے کے بعد کا لمحہ

یہ اس تصویر کے بارے میں ہونے والے معجزات میں سے ایک ہے؛ اُس نے مٹی کے نیچے سے کیمرے کو ڈھونڈ لیا، اُس نے مٹی سے اٹے رومال سے اُس کے لنز کو صاف کیا اور تصویریں کھینچنا شروع کردیا۔

اقلیمہ جاہدی سے ہونے والی گفتگو

محاذ پر جہادی سرگرمیاں

میں خواتین کو جمع کرتی اور ہم ایک بڑے سے گھر میں کام کرتے تھے۔ ہم سپاہیوں کیلئے کپڑے سیتے تھے، مربا اور آچار بناتے تھے۔ زخمیوں کے خون لگے کپڑے جو محاذ سے ٹرک پر آتے تھے، اُنہیں دھوتے تھے

دفاع مقدس کے دوران فداکار خاتون زہرا الماسیان کی باتیں

خرم شہر اور آبادان میں امدادی سرگرمیاں

زہرا الماسیان کی جوانی کے ابتدائی سال، انقلاب اسلامی کی کامیابی اور عراق کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کے آغاز کےہمراہ تھے۔ وہ ایران پر عراقی بعثی پارٹی کے حملے کے ابتدائی دنوں میں ہی آبادان میں مختلف فیلڈز میں کام کرنا شروع کردیتی ہیں

دفاع مقدس کے دوران امدادی کارکن نجمہ جمارانی سے گفتگو

فدائیان اسلام اور آبادان کا محاصرا ہونے والے دنوں کے واقعات

ہم لوگ اکتوبر ۱۹۸۱ء تک اُن کے ساتھ رہے۔ جب ہم آخری مرتبہ تہران کیلئے واپس آ رہے تھے تو ہمارے فوجی آبادان محاصرے کو توڑنے کیلئے مقدمات فراہم کر رہے تھے

"کمانڈروں کی بیویوں کی زبانی تاریخ" کی پہلی مقدماتی کتاب مؤلفین کی نگاہ میں

واقعات اور جنگ کی اجتماعی تاریخ کو اکٹھا کرنا

جب جنگ ہوتی ہے تو اُس کے اثرات معاشرے کے تمام طبقات پر پڑتے ہیں۔ اس دوران جو زیادہ سختیوں کو تحمل کرتے ہیں وہ جنگ کے اعلیٰ افسران اور اُن کے گھر والے ہوتے ہیں۔ عراق کی ایران کے خلاف آٹھ سالہ جنگ بھی اس قانون اور قاعدے سے مستثنیٰ نہیں۔ ایسی جوان لڑکیاں جن کی ابھی نئی نئی شادی ہوئی تھی، انہیں دن رات اپنے شوہروں کے ایک ٹیلی فون کے انتظار میں رہنا پڑتا اور وہ زندگی اور اپنے فرزندوں کی تربیت کے بوجھ کو تن تنہا اپنے کاندھوں پر اٹھاتیں۔ ان کے شوہروں کو بھی جنگ کے دوران زیادہ مصروفیت کی وجہ سے اتنا وقت نہیں ملتا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کی خیریت دریافت کرلیں۔

جنگی اسناد کے نہ تھکنے والے سردار کی یاد میں

"احمد سوداگر" کی زندگی اُن کی زوجہ کی زبانی

وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو تم لوگ شہداء کی تشییع جنازہ میں شرکت نہ کرو اور اُنہیں تنہائی میں دفنایا جائے۔ وہ تقریباً چھ گھنٹوں تک امام خمینی (رہ) کے حرم میں بیٹھے رہے۔ جب وہ آئے، بالکل الگ ہی حالت تھی۔جیسے انہیں کسی چیز کا احساس ہوگیا تھا۔

سردار محمود کمن سے بات چیت

میرے کمانڈر کی یادیں

سردار محمود کمن نے کئی سالوں تک لیفٹیننٹ کرنل علی صیاد شیرازی کے ساتھ محاذوں پر ذمہ داری انجام دی/ ہمارے گھر کے نزدیک ایک بچہ بھاگ رہا تھا، میں نے کہا: کیا ہوا ہے؟ اُس نے کہا: صیاد کو مار دیا۔ میرا دل جل اٹھا/
1
...
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں