دفاع مقدس کے دوران فداکار خاتون زہرا الماسیان کی باتیں

خرم شہر اور آبادان میں امدادی سرگرمیاں

زہرا الماسیان کی جوانی کے ابتدائی سال، انقلاب اسلامی کی کامیابی اور عراق کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کے آغاز کےہمراہ تھے۔ وہ ایران پر عراقی بعثی پارٹی کے حملے کے ابتدائی دنوں میں ہی آبادان میں مختلف فیلڈز میں کام کرنا شروع کردیتی ہیں

دفاع مقدس کے دوران امدادی کارکن نجمہ جمارانی سے گفتگو

فدائیان اسلام اور آبادان کا محاصرا ہونے والے دنوں کے واقعات

ہم لوگ اکتوبر ۱۹۸۱ء تک اُن کے ساتھ رہے۔ جب ہم آخری مرتبہ تہران کیلئے واپس آ رہے تھے تو ہمارے فوجی آبادان محاصرے کو توڑنے کیلئے مقدمات فراہم کر رہے تھے

"کمانڈروں کی بیویوں کی زبانی تاریخ" کی پہلی مقدماتی کتاب مؤلفین کی نگاہ میں

واقعات اور جنگ کی اجتماعی تاریخ کو اکٹھا کرنا

جب جنگ ہوتی ہے تو اُس کے اثرات معاشرے کے تمام طبقات پر پڑتے ہیں۔ اس دوران جو زیادہ سختیوں کو تحمل کرتے ہیں وہ جنگ کے اعلیٰ افسران اور اُن کے گھر والے ہوتے ہیں۔ عراق کی ایران کے خلاف آٹھ سالہ جنگ بھی اس قانون اور قاعدے سے مستثنیٰ نہیں۔ ایسی جوان لڑکیاں جن کی ابھی نئی نئی شادی ہوئی تھی، انہیں دن رات اپنے شوہروں کے ایک ٹیلی فون کے انتظار میں رہنا پڑتا اور وہ زندگی اور اپنے فرزندوں کی تربیت کے بوجھ کو تن تنہا اپنے کاندھوں پر اٹھاتیں۔ ان کے شوہروں کو بھی جنگ کے دوران زیادہ مصروفیت کی وجہ سے اتنا وقت نہیں ملتا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کی خیریت دریافت کرلیں۔

جنگی اسناد کے نہ تھکنے والے سردار کی یاد میں

"احمد سوداگر" کی زندگی اُن کی زوجہ کی زبانی

وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو تم لوگ شہداء کی تشییع جنازہ میں شرکت نہ کرو اور اُنہیں تنہائی میں دفنایا جائے۔ وہ تقریباً چھ گھنٹوں تک امام خمینی (رہ) کے حرم میں بیٹھے رہے۔ جب وہ آئے، بالکل الگ ہی حالت تھی۔جیسے انہیں کسی چیز کا احساس ہوگیا تھا۔

سردار محمود کمن سے بات چیت

میرے کمانڈر کی یادیں

سردار محمود کمن نے کئی سالوں تک لیفٹیننٹ کرنل علی صیاد شیرازی کے ساتھ محاذوں پر ذمہ داری انجام دی/ ہمارے گھر کے نزدیک ایک بچہ بھاگ رہا تھا، میں نے کہا: کیا ہوا ہے؟ اُس نے کہا: صیاد کو مار دیا۔ میرا دل جل اٹھا/

سن 1974ء سے مربوط آیت اللہ غلام علی نعیم آبادی کے واقعات

زندان میں میری کوٹھڑی ایسی تھی!

آیت اللہ غلام علی نعیم آبادی سن 1944 ء میں دامغان کے نعیم آباد علاقے میں پیدا ہوئے۔ وہ پہلوی حکومت کے دوران شہنشاہی حکومت کی مخالفت کے جرم میں کئی بار گرفتار ہوئے اور بالآخر مشترکہ کمیٹی کے جیل میں آٹھ مہینے اور زندان قصر میں 30 مہینے قید اور کوڑوں کا مزہ چکھا

"دلدادہ" نامی کتاب کے بارے میں زہرا سبزہ علی سے گفتگو

یادوں کا قلمبند کرنا، معاشرتی تاثیر کیلئے

شہید علی رضا ماہینی کی ایک چھوٹی سی تصویر دیکھنا زہرا سبزہ علی (شاہ بابائی) کیلئے ایک چنگاری ثابت ہوا کہ وہ اس بوشہری شہید جو غیر منظم جنگوں کے گروپ کمانڈر تھے، کی یادوں کو جمع کریں

بڑے پیمانے پر کئے جانے والے پہلے آپریشن کے بارے میں بریگیڈ کمانڈر علی صدیق زادہ کی یادوں کے ساتھ

تیسرا حربہ اور وقت پر اصلی غفلت

25 دسمبر 1981ء کو یونٹوں نے اپنی آمادگی کا اعلان کیا۔ 25 دسمبر کی شام کو آپریشن کا پلان بریگیڈ کے یونٹوں تک پہنچا جنہوں نے پلان کو شروع کرنا تھا۔ یعنی پلان، شروع ہونے کیلئے حکم میں تبدیل ہوگیا۔ ڈویژن کی کمانڈ کی طرف سے مہر بستہ لفافے بریگیڈ کیلئے بھیجے گئے۔ بریگیڈ کے کمانڈرز بہت مطمئن تھے، کیونکہ یونٹوں کو اچھی طرح تیار کیا ہوا تھا۔

محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے

طاہرہ طاہری کے ساتھ گفتگو

رضا کار ادارے جہاد سازندگی کے واقعات، امدادی کام اور سنندج کے اسکول

طاہرہ طاہری انقلاب اسلامی کی کامیابی کے اوائل سے ہی سرگرم خواتین میں سے ایک ہیں۔ وہ رضا کارانہ طور پر اس ادارے میں بھرتی ہوئیں اور اسلامی جمہوری ایران کے خلاف صدامی فوج کی مسلط کردہ جنگ شروع ہونے کے بعد، رضاکار ادارے جہاد سازندگی کی طرف سے ہلال احمر ٹرین کے ساتھ کئی مرتبہ زخمیوں کی مدد کرنے ملک کے جنوبی علاقے میں گئیں
1
...
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔