سعید حجازی کی یادوں کے ساتھ

آپریشن والے علاقوں کی عجیب راتیں

حمید صالِحی، علی بلورچی، مجید مرادی، سید حسین کریمیان اورمنصور کاظمی اسی بس کے اندر تھے۔ میں اُن سے گلے ملا اور نیچے اتر گیا۔ میں واپس آگیا؛ یہ لوگ آپریشن پر چلے گئے اور میں یہیں رہ گیا۔ اُس آپریشن میں میرے پانچ بہترین دوست شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ وہ ۱۵سالہ لڑکا جو علی بلورچی کے ساتھ، صبح تک خدا سے راز و نیاز کر رہا تھا وہ بھی شہید ہوگیاہے۔

اٹھارہ سال بعد اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن شائع کیا گیا

وہ محرمانہ باتیں جن کا "بمو" میں اضافہ ہوا

"بمو" نامی کتاب کے مطالب قصر شیریں اور دشت ذھاب نامی علاقوں سے مربوط ہیں جو ایران کے قدیمی علاقے ہیں اور ان کی تاریخ بین النہرین سے وابستہ ہے۔ ہم نے کتاب کے اس ڈیزائن سے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ آٹھ سالہ جنگ کا سلسلہ ایران کی قدیمی جنگوں کی طرف پلٹتا ہے

ایک ایسا انٹرویو جو دس سال بعد منظر عام پر آیا

جنگی اشعار سے متعلق ہونے والے اجلاس میں "بہروز اثباتی"کے واقعات

فارسی ادبیات کا مسئلہ ہمیشہ سے ہجو اور طنز کے مابین مشکل سے دوچار رہا ہے۔ طنزیہ شعر یعنی حقائق کو ایسی زبان میں بیان کرنا کہ خود دوسروں کو سوچنے پر مجبور کردے، طنزیہ شاعری کوئی لطیفہ بازی نہیں۔ نہیں معلوم ہم لوگ ہمیشہ سے طنز کو جوکس سے شباہت دیکر کیوں پیش کرتے ہیں۔

علی قمری کی یادوں کے ساتھ

جنگ کا پہلا دن

جب امام خمینی ؒ نے فرمایا کہ کردستان کو آزاد کرائیں۔ ۱۶ ستمبر ۱۹۷۹ء کو کردستان بھیجے جانے والے سب سے پہلے یونٹوں میں، میں بھی شامل تھا۔ اہم ترین حادثہ جو میری کردستان میں ڈیوٹی کے اختتام پر رونما ہوا، تہران واپس آتے وقت کوملہ پارٹی کے فوجیوں کا ہم پر حملہ کرنا تھا۔

علی فدائی کی یادوں کے ساتھ

صرف خربوزہ بچا ہے!

عراقی فوجی جن سرنگوں میں مستقر تھے وہ مستطیل شکل کی تھیں۔ ہماری تعداد کم تھی۔ ہم اس فکر میں تھے کہ اسلحہ ڈھونڈ کر سرنگ کے ابتدائی حصے پر جاکر اُن کا محاصرہ کرلیں کہ عراق نے کاٹیوشا میزائل مارے، لیکن اُس کے اپنے ہی فوجی مارے گئے!

جوا آوڈیچ کے ساتھ گفتگو

حسینی اور آودیچ خاندان، خرم شہر اور سربرنیتسا

صربیا کی فوجیں مردوں کو لوگوں سے جدا کرتی اور قتل کر ڈالتی تھیں۔ تیسرے دن ہم بسوں کی طرف چل پڑے جو مسافروں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے پر مامور تھیں۔ میرے بھائی کی عمر ۱۲ سال تھی اور خوش قسمتی سے ہم اس کو بچا لانے میں کامیاب ہوگئے تھے

پائلٹ ناصر ژیان کی یادوں کے ساتھ

ابتدائی شناخت سے لیکر آپریشن کی کمانڈ تک

جب ہم کمانڈنگ اسٹاف کی ٹریننگ حاصل کر رہے تھے، ہمیشہ ایک فرضی دشمن ہماری پڑھائی کا حصہ ہوتا تھا اور اُس وقت عراق کو فرضی دشمن سمجھا جاتا تھا۔ اس وجہ سے کہا گیا تھا سب سے پہلے کرمانشاہ میں ایوی ایشن کا گروپ مستقر ہو اور اُسے تمام وسائل دیئے جائیں

"رفیق مثل رسول" نامی کتاب کی مؤلفہ شہلا پناہی کے ساتھ بات چیت

واقعات کا لکھنا یعنی تسبیح کے دانوں کو پرونا

مؤلفہ شہلا پناہی واقعات لکھنے والوں میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے مواصلات کے شعبہ میں اپنی پڑھائی مکمل کی اور وہ شہدائے مدافع حرم کے واقعات کو جمع کرکے لکھتی ہیں۔ اس سلسلے میں اُن کی کارکردگی اس بات کا بہانہ بنی کہ ایران کی زبانی تاریخ اُن سے "رفیق مثل رسول" نامی کتاب اور اسی طرح اُن کے لکھے جانے والے آثار میں تحقیق اور انٹرویو کے طریقہ کار کے بارے میں بات چیت کرنے کیلئے اُن کے ساتھ بیٹھے۔

بہشت زہرا (س) میں موجود ایک یادگار تصویر کی کہانی

دھماکے کے بعد کا لمحہ

یہ اس تصویر کے بارے میں ہونے والے معجزات میں سے ایک ہے؛ اُس نے مٹی کے نیچے سے کیمرے کو ڈھونڈ لیا، اُس نے مٹی سے اٹے رومال سے اُس کے لنز کو صاف کیا اور تصویریں کھینچنا شروع کردیا۔

اقلیمہ جاہدی سے ہونے والی گفتگو

محاذ پر جہادی سرگرمیاں

میں خواتین کو جمع کرتی اور ہم ایک بڑے سے گھر میں کام کرتے تھے۔ ہم سپاہیوں کیلئے کپڑے سیتے تھے، مربا اور آچار بناتے تھے۔ زخمیوں کے خون لگے کپڑے جو محاذ سے ٹرک پر آتے تھے، اُنہیں دھوتے تھے
1
...
 

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔