شہید علی سوری اپنے دوستوں کی زبانی

میں یہ نہیں کرسکتا کہ آج چھٹی لے لوں تاکہ شہید نہ ہوں، جب ایک آفسر آگے ہے تو آگےہے کیونکہ شہادت آگے ہے یہ بات میں نے اپنے سپاہیوں کو کہہ دی ہے تمہیں بھی بتا رہا ہوں کو ئی پریشانی کی بات نہیں، رونا نہیں، اگر رونا تو صرف امام حسین علیہ السلام کے لئے رونا

کتاب شرح اسم کے مصنف جناب ہدایت اللہ بہبودی سے گفتگو

اس کتاب کی تالیف میں بہت ساری اسناد سامنے تھیں۔ میری کوشش تھی جو کچھ اس شخصیت کے بارے میں مشہور ہے اس کو حاصل کر وں، دو طرح کی اسناد اس مسلئے میں موجود تھیں ایک اسناد کاغذی اور دوسری سند شفاہی تھی

سید فرید قاسمی سے گفتگو

زبانی تاریخ، نظریہ پردازی کا مقدمہ ہے

تاریخ کو اگر ہم علم نہ کہیں توکم از کم یہ ضرور ہے کہ یہ ایک فلیڈ ہے کہ جو مختلف مضامین کے ضمن میں ہے ۔ زبانی تاریخ تحلیلی تحقیق اور جستجو کی جانب ایک قدم ہے کہ جو دیگر منابع کے ساتھ ملکر معنٰی دیتی ہے اور کبھی یہ بذات خود ایک منبع اور مرجع ہے

کمانڈر گل علی بابائی سے گفتگو

دفاع مقدس کی یادیں ہمارے لئے زندگی گذرانے کا نمونہ بن سکتی ہیں /آٹھ سال کی جنگ عوامی جنگ تھی ۔

جنگ کی یادگاروں کو لکھنے کے بارے میں گل علی بابایی کہتے ہیں " مقدس دفاع کے ایام معاشرے کی اصلاح اور اجتماع کے مخربات سے لڑنے اور زندگی کے طور طریقے کی نشاندہی کے لئے اور اجتماعی و اقتصادی زندگی کے لئے ضروری ہے یہ زندگی کے سنوارنے میں ایک نمونہ ہو سکتے ہیں۔

محمد سپانلو سے گفتگو

میرے لئے شعر یادوں اور تاریخ کو کشف کرنے کا نام ہے

کہا جاتا ہے کہ شعر ایک وسیع کلمہ ہے، میں نے پچاس سال پہلے جوانی کے عالم میں اپنی جوانی کی یادوں کو لکھا۔ میں نے لکھا کہ میری نظرمیں شعر ایک منبسط یعنی پھیلا ہوا کلمہ ہے

ایران کی عصری تاریخ، ڈاکٹر نعمت اللہ فاضلی کی زبانی

جب ہم ثقافتی تاریخ کو جدید ایران کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ بنیادی طور پر ایران معاصر کے بارے میں ہم ایک طرح کا تجزیہ اور تحلیل کرتے ہیں

سیف اللہ عباسی مقدم سے سہراب سپہری کے متعلق گفتگو

سہراب سپہری اور مہمانسرائے شربتی

شواہد و قرائن کی بنیاد ہر یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ سہراب اپنازیادہ تر وقت مہمانسرا میں ہی گذارتا تھا بلکہ کچھ سال جو اس نے کاشان میں گذارے، اسی مہمانسرا میں گذارے ہیں، اس مہمانسرا کے ایک سابقہ ملازم نے سہراب کو دیکھا ہے اور اس کے پاس اس کی بنائی ہوئی ایک پینٹنگ بھی ہے

مسعود تہرانی سے گفتگو

شہید رجائی اپنے شاگرد کی زبانی

اب تک شہید رجائی کے بارے میں سیاسی مطالب ہی بیان ہوئے ہیں لیکن ان کے اس زمانے کے واقعات کہ جب وہ استاد تھے، بہت کم لوگوں نے سنے ہونگے۔ اسی وجہ سے ہم ایک ریٹائرڈ ٹیچر اور ان کے شاگرد جناب مسعود تہرانی کے پاس پہنچے، تاکہ شہید رجائی کی تدریس کی روش اور ان کے کلاس روم میں اپنے شاگردوں سے برتاو کو جانا جائے۔ہم آپکو اس گفتگو کی مطالعے کی دعوت دیتے ہیں۔

عباس منظرپور سے گفتگو

کتاب در کوچہ و خیابان کی پانچویں جلد چھپنے کے لئے تیار ہے

در کوچہ و خیابان نامی کتاب کہ جو کئی بار چھپ چکی ہے اور پڑھنے والوں کے درمیان مقبول ہوئی،یہ کتاب ان آثار میں سے ہے کہ جومردم شناسی اور تہران کی سماجی تاریخ کو سمجھنے میں سودمند ہے

نصف صدی کی تاریخ ایک ثقافتی انقلاب لا سکتی ہے

یاد داشتوں کے مسائل میں ہمارا موجودہ مسئلہ یہ ہے ہم مستقبل سے ماضی میں چلے جاتے ہیں جبکہ ہم ماضی کی تاریخ کو حال میں بیان کر رہے ہوتے ہیں اور اس کا ایک نقصان یہ ہے آپکو حال سے ماضی میں اُ ٹھا کر پھینک دیا جاتا ہے اور آپ کے اندر ایک مایوسی کی کیفیت پیدا ہو جا تی ہے اور حسرت کو تقویت ملتی ہے۔
...
12
 

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

میں تیسری بار پوچھ رہا ہوں کہ کیا دلہن مجھے نکاح کے لئے اپنا وکیل مقرر کرتی ہیں؟؟؟
بالآخر میں نے وہ ہاں کہہ دی جس کے سب خلاف تھے۔ اور یوں صلوات اور شور کی صدا گونجی ۔ دلہا کو سیج پر بلایا گیا تاکہ شادی کی انگوٹھی پہنانے کی رسم ادا کی جائے اور تصویریں اتار لی جائیں۔ میں شرم سے پانی پانی ہوئی جاتی تھی۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔