ایران کی عصری تاریخ، ڈاکٹر نعمت اللہ فاضلی کی زبانی

جب ہم ثقافتی تاریخ کو جدید ایران کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ بنیادی طور پر ایران معاصر کے بارے میں ہم ایک طرح کا تجزیہ اور تحلیل کرتے ہیں

سیف اللہ عباسی مقدم سے سہراب سپہری کے متعلق گفتگو

سہراب سپہری اور مہمانسرائے شربتی

شواہد و قرائن کی بنیاد ہر یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ سہراب اپنازیادہ تر وقت مہمانسرا میں ہی گذارتا تھا بلکہ کچھ سال جو اس نے کاشان میں گذارے، اسی مہمانسرا میں گذارے ہیں، اس مہمانسرا کے ایک سابقہ ملازم نے سہراب کو دیکھا ہے اور اس کے پاس اس کی بنائی ہوئی ایک پینٹنگ بھی ہے

مسعود تہرانی سے گفتگو

شہید رجائی اپنے شاگرد کی زبانی

اب تک شہید رجائی کے بارے میں سیاسی مطالب ہی بیان ہوئے ہیں لیکن ان کے اس زمانے کے واقعات کہ جب وہ استاد تھے، بہت کم لوگوں نے سنے ہونگے۔ اسی وجہ سے ہم ایک ریٹائرڈ ٹیچر اور ان کے شاگرد جناب مسعود تہرانی کے پاس پہنچے، تاکہ شہید رجائی کی تدریس کی روش اور ان کے کلاس روم میں اپنے شاگردوں سے برتاو کو جانا جائے۔ہم آپکو اس گفتگو کی مطالعے کی دعوت دیتے ہیں۔

عباس منظرپور سے گفتگو

کتاب در کوچہ و خیابان کی پانچویں جلد چھپنے کے لئے تیار ہے

در کوچہ و خیابان نامی کتاب کہ جو کئی بار چھپ چکی ہے اور پڑھنے والوں کے درمیان مقبول ہوئی،یہ کتاب ان آثار میں سے ہے کہ جومردم شناسی اور تہران کی سماجی تاریخ کو سمجھنے میں سودمند ہے

نصف صدی کی تاریخ ایک ثقافتی انقلاب لا سکتی ہے

یاد داشتوں کے مسائل میں ہمارا موجودہ مسئلہ یہ ہے ہم مستقبل سے ماضی میں چلے جاتے ہیں جبکہ ہم ماضی کی تاریخ کو حال میں بیان کر رہے ہوتے ہیں اور اس کا ایک نقصان یہ ہے آپکو حال سے ماضی میں اُ ٹھا کر پھینک دیا جاتا ہے اور آپ کے اندر ایک مایوسی کی کیفیت پیدا ہو جا تی ہے اور حسرت کو تقویت ملتی ہے۔

شہید علی سوری اپنے دوستوں کی زبانی

شہید علی سوری ملایر کے ایک مضافاتی گاؤں پیرغیب میں ۲۹ دسمبر ۱۹۵۹ کو پیدا ہوئے ان کے والد ۶۱۔ ۱۹۶۰ ء میں امام خمینی کے مقلدین میں سے تھے علی نے پانچ سال کی عمرمیں مرحوم سید ابوطالب میر معنی کے پاس قرآن کریم شروع کیا انھوں نے تعلیم کے لئے رات کے وقت کا انتخاب کیا کیونکہ دن میں کسب معاش کیا کرتے تھے۔

حجت‌‌الاسلام سعید فخرزاده، کے ساتھ ایک نشست

ہمارے معاشرے میں تاریخ سے صحیح طور فائدہ حاصل نہیں کیا جاتا اسے صرف چٹخارے کے طور پر اور عبرت حاصل کرنے کے لئے پڑھا جاتا ہے ،جبکہ تاریخ کا اصل کام انسانی علوم کے میدان میں تحقیقات کی راہ ہموار کرنا ہے Humanitiesعلوم انسانی کا ایک بہت بڑا حصہ معاشرے کی رفتار و کردار پر مشتمل ہے

حجتالاسلام سعید فخرزاده،کہ جو تاریخ شفاہی یا زبانی تاریخ کے شعبے کے سرپرست ہیں کتاب و انقلاب اسلامی کے سلسلے میں ایک نشست میں انھوں نے کہا صحیح تاریخی مطالب تک پہنچنے کے لئے تکرار بہت ضروری ہے کیوں کہ جھوٹ کا امکان ہے البتہ تاریخ میں اصلیت تک تو نہیں پہنچا جاسکتا لیکن اس اصل کی شبیہ تک پہنچ سکتے ہیں۔

جناب بلوری کی سن ۱۹۷۸ء کے نامہ نگاروں کے بارے میں باتیں

محمد بلوری ایک مایہ ناز صحافی ہیں انھوں نے اپنی سن ۱۹۷۸ء کی اشاعتی کارکردگی اور صحافت کے میدان میں جو مختلف واقعات پیش آئے ان کے بارےمیں گفتگو کی جیسے حسین علی کا قتل ، اور گوزن جیسی فلم کہ جو ایک حقیقی حادثہ تھا اور۔۔۔۔۔۔۔ بتا یا ۔

بهبودی ۔

انقلاب کے بارے میں کمزور و ضعیف کتابوں کو نقد کے زریعے بند کیا جانا چاہیے۔

ہدایت اللہ بہبودی ،ایک انقلابی اسلامی تاریخ نگار ہیں ،ایک نشست میں کہ جو کتاب و انقلاب اسلامی کے عنوان سے تھی خبر رساں ایجنسی ابنا کے ٹاک روم میں انھوں نے کہا ،اگر اسلامی انقلاب کے وسیع موضوع پر متوازی کام ہو تو کو ئی مشکل نہیں ہے بلکہ ایک طرح کا حسن سامنے آئے گالیکن ضعیف کتابوں کی جولانی کو نقد کے ذریعے سے روکنا ہوگا ہر چند نقد کی اجازت نہیں مگر کوشش کرنا چاہیے کہ اس کی جانب قدم اُٹھے ۔
...
12
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – پانچویں قسط

عراق کی بعثی حکومت نے سن ۱۹۸۰ء میں عراقی ہزاروں گھرانوں کو اس بہانے سے کہ اُن کی اصلیت ایرانی ہے اور وہ عراق میں ہونے والی متعدد تخریب کاریوں میں ملوث ہیں، ایران جلا وطن کردیا

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔