یادوں بھری رات کا ۲۹۲ واں پروگرام

ڈاکٹر چمران اور لال رومالوں کے واقعات کا بیان

ایران کی زبانی تاریخ کی سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۲ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۸ جون ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس تقریب میں عبد اللہ نوری پور، مریم کاظم زادہ اور مہدی زمردیان نے عراق کی ایران پر مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ کے دوران اپنے اپنے واقعات کو بیان کیا۔

"نظریہ تاریخی شفاہی" نامی کتاب کی اشاعت

کتاب "زبانی تاریخ کی تھیوری" لین آبرامز نے تحریر کی ، جس کا ترجمہ علی فتح علی آشتیانی نے کیا۔ اور پھر ۲۰۱۸ میں ادارہ ادبیات برائے انقلاب اسلامی اورانتشارات سورہ مہر نے اس کی نوک پلک سنوار کر بازار کی زینب قرار دیا۔

یادوں بھری رات کا ۲۹۱ واں پروگرام

دو آپریشنز کی یادیں

دفاع مقدس کے سلسلے میں یادوں بھری رات کا 2۹۱ واں پروگرام، ثقافتی تحقیق، مطالعات اور پائیدار ادب کے مرکز اور ادبی و مزاحمتی فن کے مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام،۲۴ مئی ۲۰۱8ء کو آرٹ گیلری کے سورہ آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ اگلا پروگرام ۲۸ جون کو ہوگا۔

یادوں بھری رات کا ۲۹۰ واں پروگرام

یادیں استقامت کی

دفاع مقدس کے سلسلے میں یادوں بھری رات کا 2۹۰ واں پروگرام، ثقافتی تحقیق، مطالعات اور پائیدار ادب کے مرکز اور ادبی و مزاحمتی فن کے مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام،۲۶ اپریل ۲۰۱8ء کو آرٹ گیلری کے سورہ آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ اگلا پروگرام ۲۴ مئی کو ہوگا۔

۲۸۷ ویں یادوں بھری رات میں راویوں کے ساتھ

اسارت اور مفید اسکول کے شہداء کا ذکر

پروگرام کے آغاز میں، شہید علی خوش لفظ کی رہبر معظم انقلاب سے ملاقات پر مشتمل ایک چھوٹی سے ویڈیو دکھائی گئی اُس کے بعد اکبر عینی جو پروگرام میں میزبانی کے فرائض انجام دے رہے تھے، انھوں نے اس شہید کے بارے میں ایک چھوٹا ساواقعہ بیان کیا

یادوں بھری رات کا 289 واں پروگرام

اسکول اور محاذ کے تین ساتھی

خاردار تاروں کا پہلا سلسلہ کٹ گیا اور ستون تھوڑا سا آگے کی طرف بڑھا۔ دوسرے سلسلے کو بھی اسی طریقے سے کاٹ دیا گیا اور ستون پھر ایک قدم آگے بڑھا۔ تیسرا سلسلہ کٹا اور ستون پھر آگے بڑھا۔ ابھی سید جلال کی قینچی نے خاردار تاروں کے چوتھے سلسلے کو کاٹا نہیں تھا کہ اچانک اسٹین گنوں سے اُبلتی گولیوں نے ستون کا قلمع قمع کردیا۔

"پزشک پرواز" نامی کتاب کی تقریب رونمائی

میں نے ایسی خوبصورتی کسی بھی تحریر میں نہیں دیکھی

خدا گواہ ہے کہ میں جانتا ہوں امریکا نہ جانے سے میرے ہاتھ سے بہت سی چیزیں نکل گئیں اور مجھے پتہ ہے کہ اگر میں چلا جاتا، بہت مختلف طرح کی خدمات انجام دے سکتا تھا، لیکن میں نے جنگ میں ایسی چیزیں دیکھی ہیں کہ تلخیوں کے باوجود اُس میں بہت سے حسین لمحات بھی پائے جاتے ہیں کہ کوئی بھی کتاب، ناول یا داستان مجھے وہ حسین لمحات نہیں دے سکتے

جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں

حجت الاسلام فخر زادہ کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے پروگرام کا انعقاد

زبانی تاریخ؛ واقعات بیان کرنے سے لیکر تاریخ لکھنے تک

حجت الاسلام سعید فخر زادہ کے 33 سالوں تک انقلاب اسلامی اور دفاع مقدس کے واقعات لکھنے کو سراہتے ہوئے خراج تحسین پیش کرنے کے لئے "سعی سعید" نامی پروگرام، اتوار کی شام، 4 فروری 2018ء کو تسنیم نیوز ایجنسی کی طرف سے تہران کے فسلطین چوک پر واقع مسجد امام صادق (ع) کے کوثر ہال میں منعقد ہوا

باتیں جو ڈاکٹر محمد علی ابو ترابی کی یاد میں بیان ہوئیں

ہم ایمرجنسی سروسز کو فرنٹ لائن تک لے گئے

ڈاکٹر، زخمیوں اور لوگوں کی پناہگاہ تھے۔ جب انقلاب کامیاب ہوا، انھوں نے ہم سب کوجمع کیا اور کہا: آگے بڑھو اور لوگوں کو سکھاؤ کہ مشکل وقت میں کس طرح اپنا خیال رکھنا چاہیے
1
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں