تنہائی والے سال – نواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

میری باری آئی۔ نگہبان نے میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچا ، میں اُس کے ساتھ گیا۔ کچھ راہداریوں سے گزر کر ہم ایک کمرے میں داخل ہوئے اور نگہبان نے دروازے کو بند کردیا۔

تنہائی والے سال – آٹھواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

میں حق بات کر رہا ہوں، ابھی ہمارے علاوہ اور کوئی یہاں نہیں ہے جو میں حکومت کی حمایت کسی غرض کی خاطر کر رہا ہوں۔ تم لوگ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہو جبکہ تمہارا ملک فحاشی سے بھرا ہوا ہے

تنہائی والے سال – ساتواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

اُس نے گھنٹی بجائی، نگہبان اندر آیااور مجھے اپنے ساتھ باہر لے گیا۔ اس دفعہ ہم چند برآمدوں سے گزر کر ایک کمرے میں داخل ہوئے۔ اُس نے آنکھوں سے پٹی کو ہٹایا۔ اُسی تفتیشی عمارت کے آس پاس کوئی نئی جگہ تھی۔ کمرے کے اندر، نگہبان نے میرے ہاتھ میں ہتھکڑی لگائی اور پوچھا: تمہیں کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟

تنہائی کے سال – چھٹا حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

مجھے بہت تعجب ہوا۔ مجھے اب پتہ چلا تھا کہ دشمن نے کس طرح ذلیلانہ طریقے سے ایک بڑی سازش کا جال بچھایا ہے تاکہ انقلاب کی سانسوں کو روک دے

تنہائی کے سال – پانچواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

ہم لوگ گاڑی میں سوار ہوئے۔ تقریباً پانچ منٹ تک اِدھر اُدھر مڑنے کے بعد گاڑی ایک گلی کے کونے پہ جاکر ٹھہری۔ میں آنکھوں پر بندھی پٹی کے ایک کنارے سے بہت مشکل سے دیکھ پا رہا تھا۔ ہم دفاتر کی ایک عمارت میں داخل ہوئے۔

تنہائی کے سال – چوتھا حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

اُسی راستے اور اُسی لوہے کی سیڑھیوں سے گزر کر، جو میرے لئے بہت دشوار تھیں ، ہم اوپر آئے۔ آنکھوں پر اور ہاتھوں پر پٹیاں بندھ جانے کے بعد ہم ایک اسٹیشن گاڑی میں سوار ہوئے، جس میں حفاظت کیلئے دو نگہبان اور ایک ڈرائیور تھا، ہم نے بغداد کی طرف چلنا شروع کیا

تنہائی کے سال – تیسرا حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

میں سب سے پہلے ہدف پر پہنچا۔ میں نے دیکھا کہ بالکل ایئرپورٹ کے اوپر دو مگ طیارے نگہبانی دے رہے ہیں اور فضائی چکر لگانے میں مصروف ہیں۔ میں نے ایک دم اپنے ہدف پر اور اُن کے پیچھے اپنے بمبوں کو گرایا

تنہائی کے سال – دوسرا حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

مجھے حکم ملا کہ فوراً شہر جاؤں اور غیر عامل دفاع کے منصوبے، حملہ کی صورتحال اور دیگر حکمت عملیوں کے بارے میں فوج، سپاہ پاسداران اور صوبائی عہدیداروں کے ساتھ ضروری اقدامات کیلئے ہماہنگی کروں اور طے کیا جائے کہ ہر حکمت عملی کے بارے میں حکومتی عہدیداروں اور لوگوں کی طرف سے کیا کام انجام پائے

تنہائی کے سال – پہلا حصّہ

ہم اس ہفتہ سے "تنہائی کے سال: رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین کی دس سالہ قید کے واقعات" کا مطالعہ کریں گے۔ ان واقعات کو رضا بندہ خدا نے تالیف کیا ہے۔آرٹ گیلری کے ادبی دفتر اور ثقافتی مرکز نے "تنہائی کے سال" نامی کتاب کو سن ۱۹۹۶ء میں پہلی بار اس مجموعہ کی طرف سے ۳۶۲ ویں تیار کردہ کتاب اور اس مجموعہ میں رہائی پانے والوں کی یادوں پر مشتمل اٹھاونویں کتاب کے عنوان سے شائع کیا۔

"مہرنجون" دفاع مقدس میں

تمام دلاور ایک گاؤں سے

"مہرنجون" ایک گاؤں کے نوجوانوں کا ایران پر عراق کی جانب سے تھونپی گئی جنگ کے محاذوں پر شرکت کیلئے جوش و ولولہ کی داستان ہے۔ وہ گاؤں کے اسکول کی دریوں سے اُٹھ کر فوجی ٹریننگ کیلئے جاتے ہیں اور پھر جنگی کاروائیوں میں شرکت کرتے ہیں۔ جن میں سے کچھ لوگ گاؤں واپس آجاتے ہیں اور کچھ درجہ شہادت پر فائز ہوجاتے ہیں۔ اس کتاب میں، نوجوانوں نے محاذ پر جو کوششیں کی اور جو تجربات کسب کئے ہیں، اُنہیں کتاب لکھنے والے کے ذریعے سامنے لا یا گیا ہے ، جو خود انہی نوجوانوں میں سے ایک تھے ۔
1
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔