تنہائی والے سال – اُنیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

شروع میں جو باتیں ہم ریڈیو سے سنتے تھے وہ مختلف طرح کی ہوتی تھیں۔ ریڈیو حتی بی بی سی اور دوسرے چینل بھی پکڑلیتا۔ لیکن ایک ہفتے بعد نیا قانون تشکیل پانے کے ساتھ، ریڈیو کا ریسیور صرف ایران کی فریکوینسی کو پکڑتا تھا۔

کتاب "کس نے میرا لباس پہنا" میں زبانی تاریخ کی روش سے استفادہ

کاتب نے کتاب کے مقدمے میں قارئین سے یہ گزارش کی ہے کہ محسن فلاح کی قید، قید ہونے کی جگہ، وقت اور کیفیت اور نیز اس کے اُس شہید سے شبہات، کہ جسے محسن فلاح سمجھ کر دفنایا گیا تھا (لیکن حقیقت میں گمنام تھا) اور اس کا مفصل ذکر کتاب میں موجود ہے، سے آگاہی ہونے کے بعد اپنے اردگرد کسی ایسے خاندان کو تلاش کریں جو اپنے عزیز جوان کا منتظر ہو اورورثا کے مل جانے پر کاتب کو اطلاع دیں۔

تنہائی والے سال – سترہواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

کچھ اور ساتھی بھی ایسے تھے جو عہد پورا کرنے والے اور اسلامی حکومت کے طرفدار تھے جو مذہبی پروگرام ، اُسی چھوٹے سے قرآن کے ساتھ جلسہ قرآن اور نماز جماعت کیلئے بہت زیادہ کوششیں کرتے تھے۔

سن ۱۹۵۷ سے لیکر سن ۱۹۶۷ تک کے دستاویزات کے بارے میں

وہ دستاویزات جن کی تحقیق زبانی تاریخ کیلئے اہمیت کی حامل ہے

ایک وہ وقت بھی تھا جب پیغام رسانی کی واحد شکل کتاب ہی ہوا کرتی تھی۔ اور پھر رفتہ رفتہ اخبارات چھپنے لگے اور ساتھ ساتھ ریڈیو اور ٹیلی ویژن بھی منظر عام پر آگئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کتاب کے چھپنے کی تعداد اور موضوعات کے تنوع میں نمایاں کمی آگئی اور وہ سب کچھ جو کتاب کے اختیار میں تھا میڈیا کے دیگر نئے مصادیق کے ہاتھوں میں چلا گیا

تنہائی والے سال – سولہواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

مجھے آپ لوگوں سے زیادہ اذیت اور شکنجوں میں رکھا گیا ہے! چونکہ بعثی مجھ سے کہا کرتے: "تم تو عرب ہو، ہم سے کیوں جنگ کرتے ہو" اور وہ مسلسل مجھے سے اپنے ساتھ تعاون کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں

تنہائی والے سال – پندرھواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

ہم لوگوں کے درمیان کچھ کرنل تھے؛ ایک بحری افواج کے ڈاکٹر، کچھ پولیس کے آفیسرز او ر اسی طرح ایشیا کے نمبر ون ویٹ لفٹر جناب "علی والی" جو رضاکارارانہ طور پر محاذ پر آئے تھے۔ درجے والے کچھ پرانے لوگ بھی تھے جو افسر بن گئے تھے اور وہ تجربہ اور ڈیوٹی میں سینئر تھے۔ اُن میں سے ایک جو ساحلوں کی سیکیورٹی کے ادارے میں کام کرتے تھے، وہ باقی سب سے بڑے تھے اور اُن کا قد بلند تھا اور وہ دیکھنے میں لاغر نظر آتے تھے ، وہ علاقے سے گزرتے ہوئے پکڑے گئے اور قیدی بن گئے تھے

"چالیس ہزار بیٹوں" کے بارے میں ڈاکومنٹری

ہلال احمر کی زبانی تاریخ کی طرف ایک قدم

عراقی جیلوں میں قید ایرانی قیدیوں کی مظلومیت بھری داستان پر ایک ڈاکومنٹری فلم بنائی گئی اور اس فلم کو نام دیا گیا: "چالیس ہزار بیٹے" اس فلم کی نمائش ۲۳ مئی ۲۰۱۸ کو ڈائریکٹر نور اللہ نصرتی کی موجودتی میں ایران کے سرکاری ارکائیو سنتر کے ڈاکٹر پرہام ہال میں کی گئی۔

تنہائی والے سال – چودھواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

دن ایک ایک کرکے گزر رہے تھے اور ہمارے پاس ایران کے حالات اور مسلط کردہ جنگ کی دقیق معلومات نہیں تھی۔ احمدی جسے تھوڑی بہت عربی آتی تھی، وہ کبھی کبھار نگہبان سے بات کرتا۔ وہ بتاتے کہ جنگ ابھی جاری ہے اور دونوں ملکوں کے وفود کا آنا جانا لگا ہوا ہے۔ محاذ اور اسیروں کے بارے میں خبریں، وہاں پر موجود ایک شیعہ نگہبان سے دریافت کرلیتے تھے

تنہائی والے سال – بارہواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

کئی دفعہ تکرار کرنے کے بعد، میں مجبوراً اپنے دائیں ہاتھ والے ہمسایہ کی طرف آیا اور اُس کے ساتھ بھی بالکل یہی عمل انجام دیا۔ یہ والا پڑوسی، یا تو جواب نہیں دیتا یا صرف دو چوٹیں لگا دیتا

تنہائی والے سال – گیارہواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

ہم دونوں کیلئے بہت ہی قیمتی معاملہ تھا۔ مجھے اطمینان ہوگیا کہ میں نے جو آوازیں سنی تھیں وہ ایرانی خواتین کی آوازیں ہیں۔ صدام اور اُس کے نوکروں سے کوئی چیز بعید نہیں تھی۔ جس کو پکڑ سکتے تھے، پکڑ لیتے تھے
1
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں