کتاب " دادی امی کا باغ" میں کردی خاتون کے واقعات

خان زاد کے واقعات کے ساتھ ساتھ، اس کتاب میں روانسرا کے لوگوں کی ثقافت ، آداب رسوم ، لوگوں کی ایمانی کیفیت اور اس علاقے کے جغرافیہ کو سمجھانے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔ میں چاہتی تھی کہ اس کتاب میں اور زیادہ تصاویر اور اسناد شامل ہوں مگر نہیں

خاطرات جاوید میں کاوہ کے ساتھ ہم جنگ ہونے کا بیان

نوجوان جاوید ان کوششوں میں مصروف ہوگیا کہ روز بروز اپنی ذمہ داریوں میں اضافہ کرے اور نہ صرف شہر کے لوگوں کے ہمراہ اس جنگ میں حصہ دار بنے تاکہ انقلاب اسلامی ثمر آور ہو، بلکہ انقلاب کمیٹی مشہد کی رکنیت بھی حاصل کرے تاکہ اس شہر کے لوگوں کی کی محنتوں کے ثمرہ کی حفاظت کرے۔

تنہائی والے سال – بائیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

اسکندری، علی رضائی اور میں نے پہلے سے ہماہنگی کی ہوئی تھی کہ ہر کسی کے ساتھ چچا (ریڈیو) کا ایک سامان ہو – اور خود چچا - میرے ساتھ تھے۔ ہم ایک سیل میں داخل ہوئے۔ ہم نے کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے سب سے پہلے پورے کمرے کا جائزہ لیا تاکہ چچا نوروز کو چھپانے کیلئے کوئی مناسب جگہ ڈھونڈیں

تنہائی والے سال – اکیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

اس حالت میں کہ اُس نے میری آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی تھی، ہم اُس کے ساتھ راہداری سے گزرے اور لفٹ کے ذریعے نچلے طبقے میں گئے۔ راہداری طے کرنے کے بعد ہم ایک کمرے میں داخل ہوئے اور اُس نے مجھے ایک کونے میں کھڑا کردیا۔

تنہائی والے سال – بیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

مئی ۱۹۸۲ کے آخری دنوں میں، ایک رات جب ہم داستان سننے میں مصروف تھے، داستان لکھنے والے نے اچانک ،گھٹی ہوئی آواز میں زور لگاتے ہوئے کہا: دوستوں، خرم شہر آزاد ہوگیا!

تنہائی والے سال – اُنیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

شروع میں جو باتیں ہم ریڈیو سے سنتے تھے وہ مختلف طرح کی ہوتی تھیں۔ ریڈیو حتی بی بی سی اور دوسرے چینل بھی پکڑلیتا۔ لیکن ایک ہفتے بعد نیا قانون تشکیل پانے کے ساتھ، ریڈیو کا ریسیور صرف ایران کی فریکوینسی کو پکڑتا تھا۔

کتاب "کس نے میرا لباس پہنا" میں زبانی تاریخ کی روش سے استفادہ

کاتب نے کتاب کے مقدمے میں قارئین سے یہ گزارش کی ہے کہ محسن فلاح کی قید، قید ہونے کی جگہ، وقت اور کیفیت اور نیز اس کے اُس شہید سے شبہات، کہ جسے محسن فلاح سمجھ کر دفنایا گیا تھا (لیکن حقیقت میں گمنام تھا) اور اس کا مفصل ذکر کتاب میں موجود ہے، سے آگاہی ہونے کے بعد اپنے اردگرد کسی ایسے خاندان کو تلاش کریں جو اپنے عزیز جوان کا منتظر ہو اورورثا کے مل جانے پر کاتب کو اطلاع دیں۔

تنہائی والے سال – سترہواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

کچھ اور ساتھی بھی ایسے تھے جو عہد پورا کرنے والے اور اسلامی حکومت کے طرفدار تھے جو مذہبی پروگرام ، اُسی چھوٹے سے قرآن کے ساتھ جلسہ قرآن اور نماز جماعت کیلئے بہت زیادہ کوششیں کرتے تھے۔

سن ۱۹۵۷ سے لیکر سن ۱۹۶۷ تک کے دستاویزات کے بارے میں

وہ دستاویزات جن کی تحقیق زبانی تاریخ کیلئے اہمیت کی حامل ہے

ایک وہ وقت بھی تھا جب پیغام رسانی کی واحد شکل کتاب ہی ہوا کرتی تھی۔ اور پھر رفتہ رفتہ اخبارات چھپنے لگے اور ساتھ ساتھ ریڈیو اور ٹیلی ویژن بھی منظر عام پر آگئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کتاب کے چھپنے کی تعداد اور موضوعات کے تنوع میں نمایاں کمی آگئی اور وہ سب کچھ جو کتاب کے اختیار میں تھا میڈیا کے دیگر نئے مصادیق کے ہاتھوں میں چلا گیا

تنہائی والے سال – سولہواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

مجھے آپ لوگوں سے زیادہ اذیت اور شکنجوں میں رکھا گیا ہے! چونکہ بعثی مجھ سے کہا کرتے: "تم تو عرب ہو، ہم سے کیوں جنگ کرتے ہو" اور وہ مسلسل مجھے سے اپنے ساتھ تعاون کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں
1
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں