تنہائی والے سال – بارہواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

کئی دفعہ تکرار کرنے کے بعد، میں مجبوراً اپنے دائیں ہاتھ والے ہمسایہ کی طرف آیا اور اُس کے ساتھ بھی بالکل یہی عمل انجام دیا۔ یہ والا پڑوسی، یا تو جواب نہیں دیتا یا صرف دو چوٹیں لگا دیتا

تنہائی والے سال – گیارہواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

ہم دونوں کیلئے بہت ہی قیمتی معاملہ تھا۔ مجھے اطمینان ہوگیا کہ میں نے جو آوازیں سنی تھیں وہ ایرانی خواتین کی آوازیں ہیں۔ صدام اور اُس کے نوکروں سے کوئی چیز بعید نہیں تھی۔ جس کو پکڑ سکتے تھے، پکڑ لیتے تھے

"پزشک پرواز" نامی کتاب کی تقریب رونمائی

میں نے ایسی خوبصورتی کسی بھی تحریر میں نہیں دیکھی

خدا گواہ ہے کہ میں جانتا ہوں امریکا نہ جانے سے میرے ہاتھ سے بہت سی چیزیں نکل گئیں اور مجھے پتہ ہے کہ اگر میں چلا جاتا، بہت مختلف طرح کی خدمات انجام دے سکتا تھا، لیکن میں نے جنگ میں ایسی چیزیں دیکھی ہیں کہ تلخیوں کے باوجود اُس میں بہت سے حسین لمحات بھی پائے جاتے ہیں کہ کوئی بھی کتاب، ناول یا داستان مجھے وہ حسین لمحات نہیں دے سکتے

تین شہیدوں کی یاد میں کتابیں

فاو سے پرواز، یعقوب کی آنکھیں اور جنگ کی فرنٹ لائن

جیسے ہی گھر کے دروازے پہ لگی گھنٹی بجی، میں صحن کی طرف گیا , دروازہ کھولا۔ جیسے ہی دروازہ کھلا، میں ایک لحظہ کیلئے ساکت ہوگیا۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ حاج قاسم (سلیمانی) رضا کے چند دوستوں کے ساتھ ہم سے ملنے آئے ہیں۔ مجھے بہت خوشی ہوئی۔

تنہائی والے سال – دسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

تھوڑا عرصہ گزرنے کے بعد دریچہ کھلا اور ایک ناشپاتی اور ایک جلی ہوئی سگریٹ میرے ہاتھ میں تھما دی۔ یعنی مجھے سمجھ لینا چاہئیے تھا کہ ماچس بالکل ممنوع ہے۔

"دلدادہ" نامی کتاب کے بارے میں زہرا سبزہ علی سے گفتگو

یادوں کا قلمبند کرنا، معاشرتی تاثیر کیلئے

شہید علی رضا ماہینی کی ایک چھوٹی سی تصویر دیکھنا زہرا سبزہ علی (شاہ بابائی) کیلئے ایک چنگاری ثابت ہوا کہ وہ اس بوشہری شہید جو غیر منظم جنگوں کے گروپ کمانڈر تھے، کی یادوں کو جمع کریں

"مؤرخین اور میدان جنگ میں موجود راویان" کے مجموعہ کی چوتھی کتاب

پڑھائی بھی، محاذ بھی، نقل داستان بھی

اس 912 صفحات پر مشتمل کتاب کی چھ فصلیں ہیں اور ہر فصل اُس انٹرویو دینے والے سے مخصوص ہے جس نے اُس فصل کے موضوع کی مناسبت سے اپنے مشاہدات کو بیان کیا ہے

تنہائی والے سال – نواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

میری باری آئی۔ نگہبان نے میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچا ، میں اُس کے ساتھ گیا۔ کچھ راہداریوں سے گزر کر ہم ایک کمرے میں داخل ہوئے اور نگہبان نے دروازے کو بند کردیا۔

تنہائی والے سال – آٹھواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

میں حق بات کر رہا ہوں، ابھی ہمارے علاوہ اور کوئی یہاں نہیں ہے جو میں حکومت کی حمایت کسی غرض کی خاطر کر رہا ہوں۔ تم لوگ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہو جبکہ تمہارا ملک فحاشی سے بھرا ہوا ہے

تنہائی والے سال – ساتواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

اُس نے گھنٹی بجائی، نگہبان اندر آیااور مجھے اپنے ساتھ باہر لے گیا۔ اس دفعہ ہم چند برآمدوں سے گزر کر ایک کمرے میں داخل ہوئے۔ اُس نے آنکھوں سے پٹی کو ہٹایا۔ اُسی تفتیشی عمارت کے آس پاس کوئی نئی جگہ تھی۔ کمرے کے اندر، نگہبان نے میرے ہاتھ میں ہتھکڑی لگائی اور پوچھا: تمہیں کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟
1
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔