دفاع مقدس میں محمد رضا رمضانیان کے واقعات

مورچوں کی تعمیرات سے لیکر انجینئرنگ ٹیکنیکل یونٹ کی کمانڈنگ تک

کتاب کا متن سوال جواب کی صورت میں ہے اور علی ہاشمی نے مبہم نکات کے حل اور سوالات کے جوابات کے لئے ذیلی حاشیے کا انتخاب کیا ہے۔ کتاب آغاز سے ہی بنا کسی اضافی بحث کے براہ راست محمد رمضانیان کی زندگی کو اُجاگر کرتی ہے

"پی ڈبلیو "نامی کتاب میں لکھے جانے والے حساس لمحات

اسکول کے زمانے سے ہی جامع مسجد لوشان میں بھی میری آمد و رفت اچھی خاصی ہوگئی۔ میں نماز اور قرآن پاک اسی مسجد میں جاکر پڑھا کرتا تھا اور پھر جلد ہی مسجد کے امام جماعت الحاج سلیمانی آشتیانی صاحب سے اچھی علیک سلیک ہوگئی۔ ان کے بارے میں سنا تھا کہ ان کو جلا وطن کرکے لوشان بھیجا گیا ہے

تنہائی والے سال – اکتیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

ہوا کھانے کے ابتدائی اوقات میں، دو افراد ہر طرف سے نگہبانوں کی دیکھ بھال کر رہے ہوتے تھے، ایسے میں داستانوں کو تقسیم کرنے والا انچارج بہت احتیاط سے کھڑکی میں موجود خالی جگہ سے اُسے دوسری عمارت کے اندر بھیج دیتا اور پھر اُسی عمارت کے اصلی دروازے کے پیچھے جاتا اور پوری احتیاط کے ساتھ، داستان حاصل کرنے والے سے اُس کی واپسی کے بارے میں وقت کو معین کرتا۔

تنہائی والے سال – تیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

عمارت "الف" میں منتقل ہونے کے بعد ہماری صورتحال بہتر ہوگئی تھی اور ہم کچھ حد تک راضی ہوگئے تھے؛ لیکن ابھی تک ہوا کی مشکل موجود تھی کہ یہ ہماری ہمیشہ کی مشکل تھی

تنہائی والے سال – اُنتیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

خط یا بہتر ہوگا یہ کہوں کہ ہم نے مصیبت بھرے خط کو پورے کیمپ میں ایک شخص سے دوسرے شخص تک پہنچایا اور سب نے پڑھا۔ اُن پر بہت ہی سختیاں اور مشکلات گزری تھیں۔ اُس نے زندان اور قیدیوں کا تعارف کروانے کے ساتھ لکھا تھا

تنہائی والے سال – ستائیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

جب ہم نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ ہمارے پاس جو قرآن ہے وہ ترجمہ والا نہیں ہے، آپ اُس کا فارسی میں ترجمہ کردیں، انھوں نے اس بات کو بہت دلچسپی سے قبول کرلیا اور کہا: " اس سے بڑی کیا خدمت ہوگی؟"

تنہائی والے سال – اٹھائیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

چونکہ وہ لوگ خود کو فوجی سمجھتے ہیں اس لیے ہماری باتوں پر کان نہیں دھرتے۔ اُن میں سے ایک، چھوٹا سا مسئلہ پیش آنے کی صورت میں خودکشی کا اقدام کرلیتا ہے اور اس وقت بھی اس کا ارادہ ہے کہ وہ اکیلے ہڑتال کرے تاکہ اُسے کیمپ لے جایا جائے

تنہائی والے سال – چھبیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

یہ اسیرہونے کے بعد پہلی رات تھی جب میں نے رات کے وقت آسمان کو اتنی اچھی طرح دیکھا! اُس آزاد فضا میں، نیلگوں آسمان کے نیچے، بہت ہی دلنشین اور یاد رہ جانے والا منظر تھا۔ زیادہ تر افراد صبح تک نہیں سوئے اور اپنی زندگی کے حسین واقعات، قسمت اور مستقبل کے بارے میں سوچتے رہے

تنہائی والے سال – پچیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

اسیری ہمارے لئے ایک الٰہی امتحان تھا اور ہم ہمیشہ اپنی گفتگو میں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خداوند متعال سے التجا کرتے تھے کہ ہم اس الٰہی امتحان سے سربلند ہوکر نکلیں۔

تنہائی والے سال – چوبیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

اس مدت میں ہم نے ریڈیو پر جو افسوسناک ترین خبر سنی، وہ جمہوری اسلامی ایران کی پارلیمنٹ میں دھماکہ اور شہید بہشتی اور امام و انقلاب کے ۷۲ بہترین ساتھیوں کی شہادت خبر تھی۔ سب کی حالت عجیب ہوگئی تھی اور بری طرح رو رہے تھے۔ ہم نے خداوند متعال کی بارگاہ میں – بندھے ہاتھوں اور ٹوٹے دلوں – سے دعا مانگی کہ امام اور انقلاب کو سازشوں سے محفوظ رکھے۔
1
...
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں