ایک استاد کے عجیب واقعات

تحریر، پڑھنے والے سے کہتی ہے کہ تم ایک ایسے شخص کے واقعات پڑھ رہے ہو جو ایک استاد اور سپاہی بھی ہے جو اجتماعی تجربے کی ایک فیلڈ میں داخل ہوا ہے؛ ایک ایسی فیلڈ جس میں مختلف طرح کے کام ہیں اور اُس کے نہ ختم ہونے والے مشاہدے، خاص طور سے اگر راوی کی نگاہ تیز ہو

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

تنہائی والے سال – ۴۰واں حصّہ

میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں ایسے لوگوں کا پڑوسی ہوں۔ انشاء اللہ میں اپنی آخری سانس تک خداوند متعال کے لطف و کرم اور اپنے اسلامی ملک کے اچھے لوگوں کی محبت کا قدر دان رہ سکوں۔

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

تنہائی والے سال – ۳۹واں حصّہ

پوری دنیا میں صرف ایران ہی ہمارے لئے خوبصورت اور مہربان ترین جگہ تھی!اسی لمحے کچھ لوگ ریکارڈنگ کا سامان لیکر ہمارے ایک یزدی دوست کا انٹرویو لینے کیلئے کمرے کے اندر داخل ہوئے؛ شاید پہلے سے طے تھا کہ یہ لوگ ہمارے بہترین اور متقی دوست کے ساتھ اُن کے شہر اور گھر تک جائیں گے

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

تنہائی والے سال – ۳۸واں حصّہ

ہم سرحد پر پہنچ گئے۔ سڑک کی دائیں طرف بہت سارے بڑے اور چھوٹے خیمے لگے ہوئے تھے کہ جن پر ہلال احمر والوں کا نشان دکھائی دے رہا تھا اور کچھ گروپس رفت و آمد کر رہے تھے

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

تنہائی والے سال – ۳۷واں حصّہ

ہم ایک ایک کرکے بس میں سوار ہوئے۔ بس چل پڑی اور ہم دس سال بعد، بغیر آنکھوں پر بندھی پٹی اور ہتھکڑی کے زندان کے احاطے سے باہر نکلے۔ ہم ۲۹ افراد، حرص و اشتیاق کے ساتھ باہر دیکھ رہے تھے

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

تنہائی والے سال – ۳۶واں حصّہ

افراد راتوں کو زیادہ تر دعا، عبادت اور نماز میں گزارتے تھے اور وہاں کا ماحول بہت ہی معنوی تھا۔ ہمارا ایک بھائی جو سن ۱۹۸۵ میں اسیر ہوا تھا اور ہمارے ساتھ ملحق ہوگیا تھا، اُس نے مذاق میں کہا: یہاں کا ماحول کسی مدرسے کے ماحول کی طرح ہے

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

تنہائی والے سال – پینتیسواں حصّہ

حقیقت میں ہر کسی کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ وہ کم ہی بیمار پڑے تاکہ اُسے ڈاکٹر اور دوائی کی ضرورت ہی نہ پڑے اور اس ہدف کوحاصل کرنے کیلئے ایک مفید اور موثر کام ورزش تھا۔

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

تنہائی والے سال – چونتیسواں حصّہ

صلاح و مشورے اور تمام باتوں کا جائزہ لینے کے بعد ہم مان گئے، چونکہ ہمیں اُن تک مطالب پہنچانے کا ایک بہت اچھا بہانہ مل گیا تھا ۔ دوسری طرف سے ایک عمارت میں تین ریڈیو کا موجود ہونا بہت بڑا اور نا قابل جبران خطرہ شمار ہوتا تھا

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

تنہائی والے سال – تینتیسواں حصّہ

کمرہ نمبر ایک کے افراد نے، فوراً کمرے کے وسائل کو جمع اور منظم کرنا شروع کردیا، اور اُسے معمولی حالت میں واپس لے آئے اور ریڈیو کو ایک بیمار بھائی کے پیر کے نیچے– کہ جس کے پیر میں کوئی مسئلہ تھا اور وہ چلنے سے معذور تھا - چھپا دیا۔

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

تنہائی والے سال – بتیسواں حصّہ

دوسرے ساتھیوں نے بھی سیل بنانے کیلئے کوششیں انجام دیں؛ جیسے بابا جانی چونکہ وہ برقی آلات کی تعمیر اور بجلی کے کام سے آگاہی رکھتے تھے، موجود وسائل جیسے ٹیوب لائٹ کا اسٹارٹر ، تار اور کچھ تعداد میں دوسری چیزیں، جن سے کنورٹر بنانے کی کوشش کی گئی تاکہ اس سے استفادہ کرکے بجلی کے ۲۲۰ واٹ کو کم کرکے ریڈیو کیلئے استعمال کیا جائے؛
3
...
 
11 ویں امیر المومنین ڈویژن کے شہید کمانڈر کی یاداشت

ہیلٹی - 10

ہمیں اس کا احساس اس وقت ہوا جب عراقی "رسام"  گولی ہم پر تقریبا  چھ بجے پیچھے سے چلائی گئی۔  یعنی ہم مکمل محاصرے میں تھے

جیل میں حصول علم

اسی اثنا میں ایک اور قیدی جو چوری کے جرم میں گرفتار تھا اس نے اپنی گردن کے پاس سے سوئی نکالی جو شاید ہمیشہ ہی اس کے پاس رہتی تھی اور میری ہتھکڑیاں کھول دیں اور میں نے امتحان دینا شروع کردیا۔ جب وہ سپاہی چابی لے کر واپس لوٹا تب تک میں آدھا امتحان دے چکی تھی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔