تنہائی والے سال – ستائیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

جب ہم نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ ہمارے پاس جو قرآن ہے وہ ترجمہ والا نہیں ہے، آپ اُس کا فارسی میں ترجمہ کردیں، انھوں نے اس بات کو بہت دلچسپی سے قبول کرلیا اور کہا: " اس سے بڑی کیا خدمت ہوگی؟"

تنہائی والے سال – اٹھائیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

چونکہ وہ لوگ خود کو فوجی سمجھتے ہیں اس لیے ہماری باتوں پر کان نہیں دھرتے۔ اُن میں سے ایک، چھوٹا سا مسئلہ پیش آنے کی صورت میں خودکشی کا اقدام کرلیتا ہے اور اس وقت بھی اس کا ارادہ ہے کہ وہ اکیلے ہڑتال کرے تاکہ اُسے کیمپ لے جایا جائے

تنہائی والے سال – چھبیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

یہ اسیرہونے کے بعد پہلی رات تھی جب میں نے رات کے وقت آسمان کو اتنی اچھی طرح دیکھا! اُس آزاد فضا میں، نیلگوں آسمان کے نیچے، بہت ہی دلنشین اور یاد رہ جانے والا منظر تھا۔ زیادہ تر افراد صبح تک نہیں سوئے اور اپنی زندگی کے حسین واقعات، قسمت اور مستقبل کے بارے میں سوچتے رہے

تنہائی والے سال – پچیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

اسیری ہمارے لئے ایک الٰہی امتحان تھا اور ہم ہمیشہ اپنی گفتگو میں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خداوند متعال سے التجا کرتے تھے کہ ہم اس الٰہی امتحان سے سربلند ہوکر نکلیں۔

تنہائی والے سال – چوبیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

اس مدت میں ہم نے ریڈیو پر جو افسوسناک ترین خبر سنی، وہ جمہوری اسلامی ایران کی پارلیمنٹ میں دھماکہ اور شہید بہشتی اور امام و انقلاب کے ۷۲ بہترین ساتھیوں کی شہادت خبر تھی۔ سب کی حالت عجیب ہوگئی تھی اور بری طرح رو رہے تھے۔ ہم نے خداوند متعال کی بارگاہ میں – بندھے ہاتھوں اور ٹوٹے دلوں – سے دعا مانگی کہ امام اور انقلاب کو سازشوں سے محفوظ رکھے۔

تنہائی والے سال – تیئیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

نگہبانوں میں سے ایک آدمی کے علاوہ باقی سب ہمیشہ چکر لگاتے رہتے تھے اور وہ اپنا کھانا احاطے میں موجود گول میز پر کھاتے تھے اور کھانے کے بعد عام طور سے شراب لاتے تھے اور بلند آواز میں قہقہے لگاتے تھے۔ اُن کی آنکھوں سے قساوت اور بے رحمی بری طرح ٹپک رہی ہوتی تھی۔

کتاب " دادی امی کا باغ" میں کردی خاتون کے واقعات

خان زاد کے واقعات کے ساتھ ساتھ، اس کتاب میں روانسرا کے لوگوں کی ثقافت ، آداب رسوم ، لوگوں کی ایمانی کیفیت اور اس علاقے کے جغرافیہ کو سمجھانے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔ میں چاہتی تھی کہ اس کتاب میں اور زیادہ تصاویر اور اسناد شامل ہوں مگر نہیں

خاطرات جاوید میں کاوہ کے ساتھ ہم جنگ ہونے کا بیان

نوجوان جاوید ان کوششوں میں مصروف ہوگیا کہ روز بروز اپنی ذمہ داریوں میں اضافہ کرے اور نہ صرف شہر کے لوگوں کے ہمراہ اس جنگ میں حصہ دار بنے تاکہ انقلاب اسلامی ثمر آور ہو، بلکہ انقلاب کمیٹی مشہد کی رکنیت بھی حاصل کرے تاکہ اس شہر کے لوگوں کی کی محنتوں کے ثمرہ کی حفاظت کرے۔

تنہائی والے سال – بائیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

اسکندری، علی رضائی اور میں نے پہلے سے ہماہنگی کی ہوئی تھی کہ ہر کسی کے ساتھ چچا (ریڈیو) کا ایک سامان ہو – اور خود چچا - میرے ساتھ تھے۔ ہم ایک سیل میں داخل ہوئے۔ ہم نے کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے سب سے پہلے پورے کمرے کا جائزہ لیا تاکہ چچا نوروز کو چھپانے کیلئے کوئی مناسب جگہ ڈھونڈیں

تنہائی والے سال – اکیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

اس حالت میں کہ اُس نے میری آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی تھی، ہم اُس کے ساتھ راہداری سے گزرے اور لفٹ کے ذریعے نچلے طبقے میں گئے۔ راہداری طے کرنے کے بعد ہم ایک کمرے میں داخل ہوئے اور اُس نے مجھے ایک کونے میں کھڑا کردیا۔
3
...
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، پہلا حصہ

قارئین سے گفتگو
میں ایک ایسی خاتون کے سامنے بیٹھی تھی جس کی جوانی کا بیشتر حصہ غریب الوطنی میں گذرا تھا اور سفر کا اختتام، ہمسفر زندگی کی زندگی کے خاتمہ کے ساتھ ہوا تھا۔ اور وہ پچھلے ۱۸ سال سے تن تنہا ماں اور باپ بن کر بچوں کی کفالت کے فرض سے عہدہ برآں ہو رہی تھیں ۔ ایک ایسی خاتون کہ جس کی تمام تر زندگی اب اس کے بچے تھے۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔