یونیورسٹی کی ایک ساتھی کی شہیدہ زہرا حداد عادل کے بارے میں باتیں

جب بھی میں اپنے طالب علمی کے دنوں کے بارے میں سوچتی ہوں، بسیج کا دفتر، جہاد یونیورسٹی کا دفتر، نماز خانہ، کالج کا صحن اور یہاں تک کہ شریعتی پارک میں ہماری سیر، ایک ایک کر کے یاد آتی ہیں۔ وہ دن جب ہم ساتھ باتیں کرتے تھے، دل کی باتیں سناتے تھے اور ہنستے تھے۔ ان دنوں میں کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ میں کسی ایسے شخص کے ساتھ بیٹھی ہوں جو ایک دن شہید ہو جائے گا۔

کتاب "عرشہ" پر ایک تنقیدی نظر

یہ کہنا ضروری ہے کہ کتاب کی مجموعی ساخت مناسب ہے۔ ابواب کی تقسیم متن کے مطابق اور اچھی ہے۔ کتاب کی ظاہری خصوصیات مثلاً: خطاطی (calligraphy)، حروف کی ترتیب (typesetting)، صفحہ آرائش، تصاویر، اور سرورق (cover design) بہترین ہیں، اور کتاب کا سائز اس کے مواد کے مطابق ہے، نیز چھپائی اور جلد سازی (binding) کی کوالٹی بھی بہت اچھی ہے۔

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 69

ساواک کے سابقہ دفتر میں، سپاہ پاسداران کے قیام کے بعد، ڈیموکریٹک پارٹی کے کارکنان شہر میں بہت کم ہی مسلح ہو کر باہر نکلتے تھے، لیکن حسب سابق وہ شہر اور دیہاتوں کے کچھ مقامات پر اپنی ثقافتی اور سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔

جیل میں کتاب، شہید سید اسد اللہ لاجوردی کی زبانی

کچھ ایسی کتابیں جو درمیانی درجہ کی تھیں، جیسے انجینئر بازرگان کی کتب، ان کے مطالعے کا طریقہ کار یہ تھا کہ اگر کبھی کوئی ایسی کتاب پڑھنی ہوتی تو وہ پہلے سے طے کر دیتے کہ فلاں صفحے سے فلاں صفحے تک پڑھنا ہے۔

علی بن ابی طالب (ع) ڈویژن کی 'کربلا بٹالین' کے کمانڈر علی اصغر خانی کے واقعات

(شہید مہدی زین الدین کے بارے میں)

سیجی جوان بہادری سے لڑ رہے تھے اور مظلومیت کے ساتھ گولیاں اور زخم کھا رہے تھے۔ شہیدوں اور زخمیوں کی تعداد بڑھ رہی تھی۔ ہم پر شدید دباؤ تھا، لیکن نہ مدد آئی اور نہ اسلحہ۔

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 68

29 مئی 1979 کو پاوہ، جوانرود اور روانسر سے دو سو افراد پر مشتمل، جمعیت طرفدان حکومت قرآن کا ایک گروپ، انقلاب کے سربراہ سے ملاقات کے لیے قم روانہ ہوا۔

(شعبان کے مہینے میں اٹھنے والی تحریک) علی تحیری کی زبانی

انتفاضہ شعبانیہ

میں نے عراقی وزارتِ اطلاعات کے اہلکاروں کی نظروں سے بچ کر جب عام لوگوں سے گفتگو کی، تو مجھ پر یہ حقیقت واضح ہوئی کہ وہ صدام حکومت کے ظلم و ستم سے شدید تنگ آ چکے ہیں۔ بغداد، کاظمین، نجف، کوفہ اور سامرا کے گلی کوچوں میں جب لوگوں کو معلوم ہوتا کہ ہم ایرانی صحافی ہیں، تو وہ گرمجوشی سے ہمارا خیرمقدم کرتے اور اہلکاروں کی نظریں بچا کر صدام کے اقدامات اور موجودہ صورتحال پر اپنی گہری ناراضگی کا اظہار کرتے

ایک فوجی مشق کی یادداشت؛ علی تحیری کی زبانی

شاہ فوراً میری طرف پلٹا۔ وہ غصے سے لال چہرے کے ساتھ قریب آیا اور اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھ کر پوچھا: "کیا ہوا؟ کیا کوئی چیز تمہیں پریشان کر رہی ہے؟" میں نے کہا: "قربان! یہ آپ کو غلط رپورٹ دے رہے ہیں۔ ہم 28 ویں رجمنٹ کے اصطبل میں ٹھہرے ہوئے ہیں اور ہمیں جو راشن دیا جا رہا ہے وہ عام سپاہیوں کا ہے، ہمیں افسران کے راشن سے محروم رکھا گیا ہے۔"

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 67

جیسے ہی شیخ صاحب نے ہمارے دفتر میں قدم رکھا، ان کی نظر اس نعرے پر پڑی تو انہوں نے غصے سے کہا: ’’کس نے کہا خدا ایک ہے؟ کس نے کہا کہ رہنما اور وطن ایک ہے؟‘‘ میں نے بہت آرام سے کہا: ’’ماموستا یعنی ایک سے زیادہ خدا، وطن اور رہنما ہیں؟!‘‘

شاہ بے دینی کو رواج دینا چاہتا ہے

اب عاشورہ کی شام ہے... جب میں کبھی عاشورہ کے واقعات پر غور کرتا ہوں، تو میرے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ اگر بنی امیہ اور یزید بن معاویہ کا نظام صرف حسین (ع) سے جنگ کر رہا تھا، تو وہ وحشیانہ اور غیر انسانی رویہ کیا تھا جو انہوں نے عاشورہ کے دن بے سہارا خواتین اور معصوم بچوں کے ساتھ کیا؟

محترمہ عفت مرعشی کی یادوں سے اقتباس

دردِ فراق

ملاقات ختم ہونے کے بعد، آقا شریفی نے شہربانی کے قریب چوراہے پر جا کر وہ ٹیکسی ڈھونڈ لی اور سوار ہو گئے۔ انہوں نے پتہ دیا اور کیسٹ ڈھونڈنے لگے تو ڈرائیور بھانپ گیا اور بولا: "جس چیز کو تم ڈھونڈ رہے ہو، انشاء اللہ وہیں پہنچ جائے گی جہاں پہنچنی چاہیے۔" پتا چلا کہ ٹیکسی ڈرائیور بھی تحریکی ساتھیوں میں سے تھا۔

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 66

مفتی زادہ اور موسوی صاحب نے ہلال احمر کی پہاڑی[1] پر رات گزاری۔ اگلی رات ہم تقریباً تیس گاڑیاں لے کر جوانرود تک ان کے ساتھ ساتھ گئے۔ جوانرود میں داخل ہونے سے پہلے، سررود[2] گاؤں میں ایک بوڑھی خاتون جنہوں نے اپنی زندگی میں کبھی اتنی گاڑیاں اور اتنے لوگ نہیں دیکھے تھے، گاڑیوں کے قافلے کے قریب پہنچیں اور انہوں نے حیرت سے ہمارے ایک دوست سے پوچھا: ’’کیا ہوا ہے؟‘‘
 

یونیورسٹی کی ایک ساتھی کی شہیدہ زہرا حداد عادل کے بارے میں باتیں

جب بھی میں اپنے طالب علمی کے دنوں کے بارے میں سوچتی ہوں، بسیج کا دفتر، جہاد یونیورسٹی کا دفتر، نماز خانہ، کالج کا صحن اور یہاں تک کہ شریعتی پارک میں ہماری سیر، ایک ایک کر کے یاد آتی ہیں۔ وہ دن جب ہم ساتھ باتیں کرتے تھے، دل کی باتیں سناتے تھے اور ہنستے تھے۔ ان دنوں میں کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ میں کسی ایسے شخص کے ساتھ بیٹھی ہوں جو ایک دن شہید ہو جائے گا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔