ساواکی جمہوریت

مذکورہ آرٹیکل میں زعیم اور عظیم رہنما حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خمینی کی توہین اور بے ادبی ہونا یقیناً کسی بھی صورت قابل برداشت نہیں تھا لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس چنگاری کے پیچھے بارود کی ایک کان تھی، جسے اس چنگاری نے ایک دفعہ میں جلا کر رکھ دیا تھا

امام (خمینیؒ) کے قائم مقام

لفافے پر لکھی اس عبارت پر جیسے ہی میری نظر پڑی مجھے ایک عجیب سا احساس ہوا اور امام سے محبت اور مستقبل کیلئے وابستہ امیدوں کی وجہ سے "میرے مرنے کے بعد" کی تعبیر سے مجھے دکھ ہوا
زبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – گیارہواں حصہ

انٹرویو سے پہلے وضاحتیں

راوی کو پتہ ہونا چاہئیے کہ کس طرح سے سوال کئے جائیں گے اور جوابات کس طرح دینے ہیں؟ اُس سے چاہنا چاہئیے کہ وہ ایسے مطالب بیان کرے جس کو ہر سطح کا آدمی سمجھ سکے

کمبل والی ماں بیٹی

آقائے بہاری درحقیقت ہمارے اور آیت اللہ سعیدی کے درمیان رابطے کا ذریعہ تھےاور امام خمینی ؒ اور آیت اللہ سعیدی کی تقریروں کی کیسٹیں اور پمفلٹ، آیت اللہ سعیدی سے لیکر میری والدہ تک پہنچاتے تاکہ ہم اس کی کاپیاں کروا کر اپنے مورد اعتماد لوگوں کو دیں

چھپنے کی جگہ

دروازے پہ کھڑے شخص نے دروازے کو زور زور سے پیٹنا شروع کردیا۔ اب دروازہ کھولنے میں تأخیر کرنا ٹھیک نہیں تھا اور مجھے دروازہ کھول دینا چاہئیے تھا۔ میں نے اپنے چہرے کو دروازے کے نزدیک کرکے پوچھا: کون ہے؟ دروازے کے پیچھے سے ایک سخت اور بھاری آواز میں کسی نے کہا: "دروازہ کھولیں، حکومتی کارندے ہیں
دفاع مقدس کے دوران امدادی کارکن اور فوجی ٹریننگ کی استاد مریم جدلی سے بات چیت۔ آخری حصہ

مغربی محاذ سے جزیرہ خارک تک

اس گفتگو کے پہلے حصے میں ہم مریم جدلی کی جوانی کے ابتدائی سالوں سے آگاہ ہوئے جو انقلاب اسلامی کی کامیابی اور صدامی فوج کی ایران پر مسلط کردہ جنگ شروع ہونے کے ساتھ گزرے ۔ انھوں نے بتایا کہ سرپل ذھاب، ابوذر چھاؤنی کے ہسپتال اور ہلال احمر کی ٹرین میں  جو ایک چلتا پھرتا ہسپتال تھی، جنگ کے کیا کیا  مناظر اُن کی یادوں کا حصہ بنے ۔ اب آپ ایران کی زبانی تاریخ کی ویب سائٹ کے خبر نگارکی مریم جدلی سے گفتگو کے دوسرے حصے کو ملاحظہ کریں۔   آپ کا محاذ پر آنا جانا

ملاقات کا وعدہ

آدھی رات کا وقت تھا جب استاد  کی زوجہ ان کے قدموں کی آواز سے جاگ گئیں۔ انہوں نے دیکھا، استاد کمرے میں ٹہل رہے ہیں، بہت جما جما کے قدم رکھ رہے ہیں اور مسلسل  تکبیر کہے جا رہے ہیں۔ انہوں نے پوچھا: "جناب! کچھ ہوا ہے کیا؟" استاد نے کہا: "میں نے خواب دیکھا ہے۔" اور پھر اپنا خواب بیان کرنے لگے: "میں نے ابھی خواب میں دیکھا، میں اور آقائے خمینی خانہ کعبہ میں طواف کرنے میں مشغول تھے کہ میں اچانک متوجہ ہوا رسول اکرم (ص) تیزی سے میری جانب بڑھ رہے ہیں۔
خارج از تہران قیام کا پھیلاؤ

آیت اللہ سید محمد سعیدی

ہم تھوڑا سا ہی چلے تھے کہ میرے والد نے کہا: محمد! میں ایک صلوات پڑھتا ہوں تم اپنی سائیکل کی موٹر اسٹارٹ کرنے کیلئے ایک دو پیڈل مارو، انشاء اللہ اسٹارٹ ہوجائے گی۔ میں نے سائیکل اسٹینڈ پہ کھڑی کی, والد نے صلوات پڑھی، میں نے پیڈل مارنا شروع کئے اچانک سائیکل کی موٹر اسٹارٹ ہوگئی!۔
سات مختلف صوبوں سے کچھ کتابیں

مختلف افراد، یادوں کی فریم میں

اس دفعہ آپ سے جن کتابوں کا تعارف ہوگا، وہ یہ ہیں: "سرخ لباس؛ شہید احمد اُمّی کی روزمرہ کی یادیں"، "میرے فریم میں موجود افراد نہیں مرتے؛ سعید جان بزرگی کے بارے میں ایک کتاب"۔ "روشن دان انتظار کر رہے ہیں؛ شہید ابراہیم بشکردی زادہ کی یادوں پر مشتمل مجموعہ"، " ملاقات کی آرزو؛ ایثار کرنے والی خاتون ام البنین منصور خانی کا زندگی نامہ"، "آتش اور آویشن سے؛ شہر راز کے شہدا، یادوں کے فریم میں"، "شام ساڑھ چھ بجے؛ دشمن کی قید سے رہائی پانے والے ونگ کمانڈر پائلٹ یوسف سمندریان کی یادیں"، "پوشیدہ محبت؛ دشمن کی قید سے رہائی پانے والے محمد تقی زادہ کی تحریر کی اساس پر"، "آخری گھونٹ؛ شہید ید اللہ ندرلو کا زندگی نامہ"، "کوراوغلی کے مختلف گروہ؛ بسیجی حاج علی تنہا کی زندگی کی ایک داستان"۔
زبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – دسواں حصہ

انٹرویو کی جگہ

انٹرویو لینے کا عمل ایک مناسب جگہ پر انجام پانا چاہئیے کیونکہ یہ ایک ایسی ثقافتی سرگرمی کا عنوان رکھتا ہے جو علمی، ہنری اور تاریخی پہلوؤں پر مشتمل ہوتا ہے۔
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔