امام خمینی (رہ) کی گرفتاری کے بعد علماء اور مذہبی افراد کی انقلابی تحریک

پہلوی حکومت، امام خمینی (رہ) کی عوامی تحریک کو ناکامی سے دوچار نہ کرسکی۔ امام خمینی (رہ) اور دوسرے علماء ، واعظین کی گرفتاری سے جدوجہد جاری رکھنے کا ایک نیا موقع فراہم ہوگیا۔

نوروز ۱۹۶۱ء؛ آیت اللہ العظمیٰ بروجردی سے جدائی

آیت اللہ العظمیٰ سید حسین طباطبائی بروجردی سن ۱۲۹۲ ہجری قمری میں ماہِ صفر کے آخری دن بروجرد میں پیدا ہوئے۔ وہ سات سال کی عمر میں مدرسہ میں داخل ہوئے اور بروجرد کے نوربخش مدرسہ میں اپنی تعلیم کو جاری رکھا۔ سن ۱۳۱۰ ہجری قمری میں وہ اصفہان ہجرت کرگئے۔ انھوں نے وہاں کے مدرسے میں وہاں کے اساتید سے استفادہ کیا  اور چار سال بعد بروجرد واپس چلے گئے۔ ۲۷ سال کی عمر میں وہ راہی نجف ہوئے اور اُس زمانے میں حوزہ علمیہ نجف کے بزرگ اساتید کے ذریعے اپنے علم میں اضافہ
آیت اللہ فیض گیلانی کی یادیں

مدرسہ فیضیہ پر حملہ اور امام خمینی (رہ) کی دوسری مرتبہ گرفتاری

آیت اللہ فیض گیلانی انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد انقلاب اسلامی کی عدالت میں مصروف کار رہے اور ۶ سال کے عرصے تک انتظامی عدالت کی سربراہی کے عہدے پر فائز رہے۔ یہ گفتگو ۴ مئی سن ۱۹۹۳ ءکو انجام پائی
امام خمینی رح

میں اپنے قلبی احساسات کا اظہار نہیں کرسکتا۔ میرے دل پر دباؤ ہے ...

امام خمینی (رہ) کو پہلوی حکومت کے خلاف شدید لہجے میں تقریر کرنے کے سبب قم سے رات کے وقت گرفتار کرکے تہران منتقل کردیا گیا۔ امام خمینی نے ایک عرصہ حبس اور گھر کی قید تحمل کر کے ، ۷ اپریل ۱۹۶۴ء والے دن آزادی کے بعد، قم واپس جاکر کر اُس وقت کی حکومت کے خلاف اپنی مخالفتوں اور اعتراضات کا از سر نو آغاز کیا۔
حجت الاسلام مہدوی خراسانی سے بات چیت

۵ جون سے ۱۱ فروری تک

آیت اللہ حکیم کیلئے ایصال ثواب کی مجلس میں، آیت اللہ مروارید زیب منبر ہوئے اور اُس مجلس میں انھوں نے بہت جوشیلی تقریر کی جو اُن کے خلخال جلا وطن ہونے کا سبب بنی۔ اسی اثناء میں حوزہ علمیہ قم کے اساتید نے بھی ایک بیان جاری کیا اور اُسے منبر سے پڑھا گیا کہ آیت اللہ مکارم نے اُس بیان کے بارے میں کہا ہوا تھا کہ امام کی عظمت کے بارے میں جو بھی لکھیں میں اُس پر بغیر پڑھے دستخط کردوں گا۔ وہ منبر بھی بہت مؤثر رہا۔

آیت ا ... کمالوند کی زندگی کے آخری ایام کی سرگرمیوں پر ایک نظر

آیت ا... کمالوند نے محمد رضا پہلوی سے ملاقات میں نصیحتیں کیں اور اسے اپنے مرضی سے قانون، اسلامی نظریات اور عوام مخالف فیصلوں کے سنگین نتائج سے خبردار کیا؛ جنہیں شاہ نے قبول نہیں کیا۔

وہ پر جو مجھے خدا نے عطا کئے

سیدہ زہرا سجادی کی زندگی اور جدوجہد کی داستان
سن ۱۹۸۹ء؛ حضرت امام خمینی (رہ) کی رحلت کے ۲۵ دن بعد۔ سن ۱۹۸۹ء میں ہمیں دو بھاری صدموں کو جھیلنا پڑا، پہلا حضرت امام خمینی (رہ) کی رحلت اور اُس کے ۲۵ دن بعد ایکسیڈنٹ کا واقعہ اور میرے شوہر کی شہادت۔ یہ بھی بتادوں کہ میرے شوہر اس پہلے گروہ کا حصہ تھا جنہوں نے آکر مقام معظم رہبری سے بیعت کی۔

۵ جون کے قیام میں آیت اللہ آیت اللّٰھی کی جدوجہد کا جائزہ

آیت اللہ سید عبد العلی آیت اللھی اور امام خمینی (رہ) مختلف مسائل کے بارے میں ایک دوسرے سے رابطے میں تھے۔ ایسی تحریریں موجود ہیں جو اُن دونوں کے مستقبل رابطے کو بیان کرتی ہیں

شہید "مہدی عراقی" ۵ جون کے قیام کا سربراہ

حاج مہدی عراقی، ۱۵ سالہ نوجوان جو ملک کے سیاسی معاملات میں شہید نواب صفوی ، کے ساتھیوں میں سے تھے اور اُنہیں شہید سید مجتبیٰ نواب صفوی کی راہ اور طریقہ کار اتنا پسند تھا کہ اُنھوں نے سن ۱۹۵۱ء میں اُن کی گرفتاری کے بعد زندان قصر کے چند دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ احتجاج کیا کہ یہ احتجاج اُن کی گرفتاری اور ۷ مہینے تک جیل میں رہنے کا سبب بنا۔
نیا سال، نیا اخلاق، نئے کام

انقلاب کے بعد نئے سال کے آغاز پر امام خمینی رح کا پہلا پیغام

میں اس نئے سال کے آغاز پر قوم کی چند نکات کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں اور کچھ نکات حکومت اور حکومتی اداروں کیلئے۔ آپ کو خیال نہیں کرنا چاہیے کہ کام ختم اور ہم کامیاب ہوگئے؛ یہ خیال سستی کا باعث بنے گا۔
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔