یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام (۳)

پہلوی اور بعثی سپاہیوں سے آمنا سامنا

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۱ فروری کو منعقد ہوگا۔

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

تنہائی والے سال – ۳۸واں حصّہ

ہم سرحد پر پہنچ گئے۔ سڑک کی دائیں طرف بہت سارے بڑے اور چھوٹے خیمے لگے ہوئے تھے کہ جن پر ہلال احمر والوں کا نشان دکھائی دے رہا تھا اور کچھ گروپس رفت و آمد کر رہے تھے

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

تنہائی والے سال – ۳۷واں حصّہ

ہم ایک ایک کرکے بس میں سوار ہوئے۔ بس چل پڑی اور ہم دس سال بعد، بغیر آنکھوں پر بندھی پٹی اور ہتھکڑی کے زندان کے احاطے سے باہر نکلے۔ ہم ۲۹ افراد، حرص و اشتیاق کے ساتھ باہر دیکھ رہے تھے

سعید حجازی کی یادوں کے ساتھ

آپریشن والے علاقوں کی عجیب راتیں

حمید صالِحی، علی بلورچی، مجید مرادی، سید حسین کریمیان اورمنصور کاظمی اسی بس کے اندر تھے۔ میں اُن سے گلے ملا اور نیچے اتر گیا۔ میں واپس آگیا؛ یہ لوگ آپریشن پر چلے گئے اور میں یہیں رہ گیا۔ اُس آپریشن میں میرے پانچ بہترین دوست شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ وہ ۱۵سالہ لڑکا جو علی بلورچی کے ساتھ، صبح تک خدا سے راز و نیاز کر رہا تھا وہ بھی شہید ہوگیاہے۔

یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۲)

سفر ہامون سے لیکر تکریت کیمپ تک

حاج حسین مہدی زادہ، دامغان کے رہنے والے تھے۔ میں نے وہاں کے مومنین سے اُن کے بارے میں پوچھا تو وہ لوگ مجھے اُن کے گھر کے دروازے تک لے گئے، لیکن وہ گھر پر نہیں تھے۔ مولانا صاحب سپاہ کے ساتھی جنگی علاقوں کی طرف گئے ہوئے تھے

اٹھارہ سال بعد اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن شائع کیا گیا

وہ محرمانہ باتیں جن کا "بمو" میں اضافہ ہوا

"بمو" نامی کتاب کے مطالب قصر شیریں اور دشت ذھاب نامی علاقوں سے مربوط ہیں جو ایران کے قدیمی علاقے ہیں اور ان کی تاریخ بین النہرین سے وابستہ ہے۔ ہم نے کتاب کے اس ڈیزائن سے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ آٹھ سالہ جنگ کا سلسلہ ایران کی قدیمی جنگوں کی طرف پلٹتا ہے

یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

تنہائی والے سال – ۳۶واں حصّہ

افراد راتوں کو زیادہ تر دعا، عبادت اور نماز میں گزارتے تھے اور وہاں کا ماحول بہت ہی معنوی تھا۔ ہمارا ایک بھائی جو سن ۱۹۸۵ میں اسیر ہوا تھا اور ہمارے ساتھ ملحق ہوگیا تھا، اُس نے مذاق میں کہا: یہاں کا ماحول کسی مدرسے کے ماحول کی طرح ہے

ایک ایسا انٹرویو جو دس سال بعد منظر عام پر آیا

جنگی اشعار سے متعلق ہونے والے اجلاس میں "بہروز اثباتی"کے واقعات

فارسی ادبیات کا مسئلہ ہمیشہ سے ہجو اور طنز کے مابین مشکل سے دوچار رہا ہے۔ طنزیہ شعر یعنی حقائق کو ایسی زبان میں بیان کرنا کہ خود دوسروں کو سوچنے پر مجبور کردے، طنزیہ شاعری کوئی لطیفہ بازی نہیں۔ نہیں معلوم ہم لوگ ہمیشہ سے طنز کو جوکس سے شباہت دیکر کیوں پیش کرتے ہیں۔

علی قمری کی یادوں کے ساتھ

جنگ کا پہلا دن

جب امام خمینی ؒ نے فرمایا کہ کردستان کو آزاد کرائیں۔ ۱۶ ستمبر ۱۹۷۹ء کو کردستان بھیجے جانے والے سب سے پہلے یونٹوں میں، میں بھی شامل تھا۔ اہم ترین حادثہ جو میری کردستان میں ڈیوٹی کے اختتام پر رونما ہوا، تہران واپس آتے وقت کوملہ پارٹی کے فوجیوں کا ہم پر حملہ کرنا تھا۔

سب اس بات کا انتظار کررہے تھے کہ دیکھتے ہیں آج کون منبر پر جاتا ہے

سخت ترین منبر ۔۔۔۔۔۔

میں نے ساواک کو پیغام بھجوایا کہ میں منبر پر جانے سے نہیں رک سکتا۔ میں مبر پر جائوں گا۔ ساواک کی جانب سے پیغام آیا کہ بہت احتیاط کرنا اگر زرا سی بھی غلطی کی یا امام خمینی رح کا نام بھی لیا تو مسجد اور اس میں موجود لوگوں کا برا حال کردیں گے۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
 

سب سے زیادہ دیکھے جانے والے

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔