سوانح عمری نہ صرف فرد کو پہچاننے اور انفرادی و سماجی پہلوؤں میں شخصیت کی تشکیل و نشوونما کے عمل سے آشنائی کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے، بلکہ مخاطب کو افکار و جذبات اور اعمال کی ایسی تہوں سے بھی آشنا کر سکتی ہے جن پر کم توجہ دی گئی ہے۔ بنیادی طور پر سوانح عمریوں کے ذریعے بہت سے رویوں کی علت اور کیفیت کو سمجھا جا سکتا ہے۔
دفاع مقدس کے مجاہد علی فدایی، شبِ خاطرہ کی 289ویں پروگرام کے مہمان تھے۔ انہوں نے محاذ جنگ پر عوام کے تحائف کے بارے میں واقعات بیان کئے، جس میں ایک بچے کا اپنے شہید باپ کے نام لکھا ہوا نوٹ اور ایک مزاحیہ واقعہ شامل ہے۔
وہ دن بہت سخت اور تلخ تھے۔ لیکن ان دنوں میں میرے لیے سب سے تلخ چیز، کچھ ذمہ داروں کی عدم توجہ تھی۔ یہ ان تمام شہداء کی لاشوں کو دیکھنے، دوائی کی کمی، اسلحے کی کمی اور مدد کی کمی سے زیادہ تلخ تھا اور اب بھی میرے ذہن میں ہے اور ہر گھنٹے اور ہر دن، میری روح اور نفسیات کو کھرچتا ہے۔
جاروب کشی، صفہ، نقارہ زنی، خطبہ خوانی، لباس کی تبدیلی اور آدابِ تشرف جیسی رسمیں، نیز خدمت کی ثقافت اور ادب، مناسکی ڈھانچے کے علاوہ علامتی، تربیتی اور معنوی عناصر بھی رکھتی ہیں اور صدیوں سے نسبتاً مستقل، مگر زندہ اور متحرک انداز میں ادا کی جاتی رہی ہیں۔
محترم داوود مولایی نے اپنے بھائی کی شہادت، والدہ کے فاطمی صبر اور محاذ پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ یادگار لمحات کے واقعات بیان کیے، اور بتایا کہ کس طرح ماؤں کے ایثار اور امام حسین علیہ السلام کے لئے ذکر مصائب نے اس نسل کو دنیا کے حمایت یافتہ دشمن کے مقابلے میں کھڑا کیا۔
میں اپنے پاس ایک چھوٹا ریڈیو رکھتا تھا جس کے ذریعے میں ملکی خبروں پر نظر رکھتا تھا۔ امام خمینی نے فلسطین کی تحریک کی حمایت اور قدس پر غاصب حکومت کے خلاف جدوجہد کے لیے ماہ رمضان کے آخری جمعے کا نام ’’یوم القدس‘‘ رکھا تھا اور ایران اور پوری دنیا کے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اس دن نماز جمعہ میں اکٹھا ہو کر اور ریلی نکال کر، صہیونی غاصبوں کے خلاف فلسطین کی مظلوم عوام کا ساتھ دیں۔
بہشت زہرا (س) میں اُن کے والد کے گرد گھیرا تھا، وہ پرسکون اور مطمئن تھے، بالکل خود آقا مرتضی کی طرح، جب غسل خانے کے شیشے کے پیچھے سے اُنہیں اُس کٹی ہوئی ٹانگ کے ساتھ دیکھا۔ ایک عورت آئی تھی جس کی آنکھیں رونے سے سرخ تھیں، لگتا تھا کسی شہید کی ماں ہے، کہنے لگی: «برسوں سے اس آواز پر روئی چلی آئی ہوں لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ آپ کے صاحب زادے ہیں۔ وہ ہم سب کا بیٹا ہے، خوش نصیب ہیں آپ لوگ۔»
ہم نے اسی جملے کو "امام کا حکم" سمجھا اور ان کی خدمت سے رخصت ہوئے۔ جب ہم تہران واپس آئے تو 22 اپریل 1979 کو ایک بیانیہ لکھا۔ جس کا متن لکھنے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی تھی اور اخبارات کو دیا جو اگلے روز شائع ہوا۔ یہ بیانیہ بطورِ خاص سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے وجود کا پہلا اعلان تھا۔
میں نے مشہد کو اس حال میں ترک کیا کہ میرا دل بابالجواد کے قریب، حرم اور مسجد ملاحیدر کے قریب پر سکون اجتماعات کے درمیان ہی رہ گیا۔ وہاں جہاں حماسی نعروں کی آواز اتنی بلند ہے کہ اس کی گونج حرم تک اور ہمارے شہید رہبر کی شہادت کے ماتم کے اصل مالک تک پہنچتی ہے۔
لفظ "کاک" کا مطلب "بھائی" ہے اور "خاک" سے مراد شہدا کی خاک ہے۔ کتاب کا پہلا باب راوی کے بچپن اور نوجوانی کی یادوں پر مبنی ہے جو ان کے آبائی شہر 'بابلسر' میں گزری۔ وہ ۱۹۶۷ میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے اور اپنے والدین کی دوسری اولاد تھے
یادداشتیں، خواہ کمانڈروں کی ہوں یا عام مجاہدین کی، بکھری ہوئی شکل میں شائع ہوئی ہیں اور ابھی تک ان میں سے اکثر عوام کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔ ڈیجیٹل آرکائیو اور جامع ڈیٹا بیس کا قیام ضروری ہے۔
اس دن میں مدرسۂ قرآن کے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا۔ ریلی کے آغاز میں ہی میں نے سب لوگوں کی اللہ اکبر کی آواز سنی۔ ہم نے ایک طالب علم کو اجتماع کی جگہ بھیجا۔ اس طالب علم نے آکر مدرسۂ قرآن کے اراکین کو ریلی کی خبر اور اس کے مقصد سے آگاہ کیا۔
سوانح عمری نہ صرف فرد کو پہچاننے اور انفرادی و سماجی پہلوؤں میں شخصیت کی تشکیل و نشوونما کے عمل سے آشنائی کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے، بلکہ مخاطب کو افکار و جذبات اور اعمال کی ایسی تہوں سے بھی آشنا کر سکتی ہے جن پر کم توجہ دی گئی ہے۔ بنیادی طور پر سوانح عمریوں کے ذریعے بہت سے رویوں کی علت اور کیفیت کو سمجھا جا سکتا ہے۔
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔