زبانی تاریخ کا انٹرویو اور اس کی ضروریات – نواں حصہ

انٹرویو کی جگہ پر پہنچنے کا طریقہ کار

انٹرویو لینے والے کا ایک فرض یہ ہے کہ اپنے روانہ ہونے کا وقت (ٹریفک کو مدّنظر رکھتے ہوئے) اس طرح سے تنظیم کرے کہ انٹرویو کے معینہ وقت سے کچھ دیر پہلے مقررہ مقام پر پہنچ جائے۔
دفاع مقدس کے دوران امدادی کارکن اور فوجی ٹریننگ کی استاد مریم جدلی سے بات چیت۔ پہلا حصہ

ابوذر ہسپتال اور ہلال احمر ٹرین کی یادیں

مریم جدلی جنہوں نے کمیونیکیشن کے شعبے میں تعلیم حاصل کی اور کئی سالوں سے ثقافتی کاموں میں مشغول ہیں، اُن کی جوانی کے ابتدائی ایام کا زمانہ اور انقلاب اسلامی کی کامیابی اور عراق کی ایران پر مسلط کردہ جنگ شروع ہونے کا زمانہ ایک ہی ہے
"شہید حسین علی فخری کی یادیں" نامی کتاب کے مؤلف عباس رئیسی بیگدلی کے ساتھ گفتگو

ایسا انٹرویو لینے والا جس کے پاس سوال نہ ہو، اس جنگجو کی مانند ہے جس کے پاس اسلحہ نہ ہو

عباس رئیسی بیگدلی، دفاع مقدس کے ایک مجاہد ہیں جو چند سالوں سے دفاع مقدس کی یادوں کے حوالے سے تألیف میں مشغول ہیں۔ "عمو حسین" نامی کتاب جو شہید حسین علی فخری کی یادوں پر مشتمل ہے، ان کی پہلی تالیف ہے جو سن ۲۰۱۶ء میں شائع ہوئی۔
میں نہیں جاوں گا، آپ لوگ بھی واپس جائیں اور اپنے اپنے کاموں کو دوبارہ انجام دینا شروع کردیں

خادم انقلاب

یہ وہ ایام تھے جن میں شہید ڈاکٹر چمران کے خلاف بہت زیادہ تبلیغات کی جاری تھیں اور حکومت مخالف گروہوں کے ہاتھوں اخبارات میں شہید ڈاکٹر کے خلاف بہت زیادہ مقالے اور مضامین لکھے جارہے تھے، حتیٰ یہ کہ بعض اخبارات میں شہید ڈاکٹر چمران کی تصویر اس طرح سے شایع کی جاتی تھی کہ شہید چمران کی عینک کے شیشوں پر جنگی توپ،ٹینک اور آگ کا عکس دکھایا جا رہاتھا، شہید ڈاکٹر چمراان ان ساری تبلیغات کے جواب میں یہ کہا کرتے تھے کہ"ان مخالفین کا جواب تو میں خود دے دوں گا، ابھی مصلحت نہیں ہے کہ ہم ایک دوسرے سے الجھ پڑیں"
عباس کیانی کی یادوں کے ساتھ جو جنگی علاقے میں "توپخانے کے انچارج" تھے

صدامی فوج کی میراژ طیارے کے شکار کا دن

ہم نہر اروند کے جوش مارتے کنارے سے تقریباً ۲۵۰ میٹر کے فاصلے پر تھے۔ ہم نے نہر کے اطراف موجود نخلستان میں چھپ کر پوزیشنیں سنبھال لی تھیں۔ ہم نخلستان کے شروع میں تھے اور گولے برسانے والا ایک اور یونٹ ہم سے تھوڑا پیچھے، نخلستان میں مستقر ہوا۔ پہلی گولے برسانے والی ٹیم بھی خسرو آباد کی طرف مستقر ہوچکی تھی
زبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – آٹھواں حصہ

ضرورت کی اشیاء اور وسائل

زبانی تاریخ کا انٹرویو لینے کیلئے کچھ ایسی اشیاء اور وسائل کی ضرورت ہوتی ہے کہ انٹرویو لینے والے کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ انٹرویو کی جگہ کیلئے روانہ ہونے سے پہلے انہیں مہیا کرے۔
زبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – ساتواں حصہ

دورانیے کا تعین اور انٹرویو سے پہلے کئے جانے والے اقدامات

زبانی تاریخ کے انٹرویو کیلئے ضروری ہے کہ ابتدائی ہماہنگیوں کے علاوہ مناسب دورانیہ میں بھی انجام پائے کیونکہ اگر ہم نے یہ مان لیا ہے کہ انٹرویو، زبانی تاریخ کا منظم ترین حصہ ہے تو انٹرویو کا دورانیہ اور اس کے انجام پانے کا طریقہ نہایت اہمیت کا حامل ہوگا
زبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – چھٹا حصہ

انٹرویو سے پہلے معلومات کی اہمیت

زبانی تاریخ کے انٹرویو سے وابستہ ضرورتوں میں سے ایک، انٹرویو کے موضوع اور اُس کے مسائل کے بارے میں اچھی خاصی معلومات اور آگاہی رکھنا ہے
زبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – پانچواں حصہ

ہدف معین کرنا

زبانی تاریخ میں انٹرویو تحقیق کا ایک ایسا طریقہ کار ہے جس میں دوسری کسی بھی تحقیق کی طرح اہداف معین ہونے چاہئیے۔ ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئیے کہ تاریخ نگاری میں کسی ہدف کے بغیر لوگوں کی یاد داشتوں کے ریکارڈ کو زبانی تاریخ نہیں سمجھا جاسکتا۔
زبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – چوتھا حصہ

راوی کی پہچان اور اُس کا انتخاب

زبانی تاریخ میں تاریخ کی تدوین کے مراحل میں مشارکت طلب کرنے کا امکان ہے تاکہ ایک بامقصد انٹرویو میں سیاسی، ثقافتی اور معاشرتی واقعات کی مختلف معلومات ثبت اور شائع ہوں۔ اس موضوع کی اُس لحاظ سے اہمیت ہے کہ تاریخی واقعات کے بیان کرنے میں زیادہ لوگوں کی رائے اور باتیں وصول ہوں گی
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔