یادوں بھری رات کا ۳۱۶واں پروگرام (پہلا حصہ)

تکفیری دہشت گردوں کی اسارت میں پیش آنے والے چند واقعات

یادوں بھری رات کے ۳۱۶ویں پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں تکفیری دہشت گردوں کے ہاتھوں اسیر ہونے والے " مصطفی بیدقی" اور دفاع مقدس کے مجاہد " جناب سردار علی ولی زادہ" نے شرکت کی اور اپنی مجاہدانہ زندگی میں پیش آنے والے واقعات کو بیان کیا۔ اس پروگرام کو ۲۷ اگست ۲۰۲۰ء کو آپارات ویب سائٹ کی جانب سے نشر کیا گیا۔ اس پروگرام کی میزبانی کے فرائض جناب داود صالِحی انجام دے رہے تھے۔

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات :تینتالیسویں قسط

میں نے کہا: " گھبراؤ نہیں! میں نان کمیشنڈ ڈاکٹر ہوں نہ کہ انٹیلی جنس افسر۔ میری صلاح یہ ہے کہ تم محاذ کی صورتحال کے متعلق کسی سے گفتگو نہ کرو، احتیاط کرو ورنہ تمہارا وہ انجام ہوگا جو بعثی خوب جانتے ہیں!"

کبری احمدی کے زمانہ جنگ کے واقعات

زمانہ جنگ میں بسیجی خواتین کے واقعات

کبری احمدی جو کئی سالوں سے ثقافتی اور اجتماعی کاموں میں مصروف ہیں، اُن کی جوانی کی شروعات انقلاب اسلامی کی کامیابی اور صدامی افواج کی ایران پر مسلط کردہ جنگ سے ہوئی تھی۔

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - بیالیسویں قسط

عام طور پر ہر انسان گھر، گاڑی اور خوشحال زندگی کا خواہشمند ہوتا ہے۔ عراق میں حکومت نے فوجی افسران کو کم ترین قیمت پر قسطوں کی صورت میں اسٹائلش گاڑیاں بیچنے کا فیصلہ کیا۔ یہ بات سچ ہے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے حکومت نے فوجیوں سے یہ وعدے کیے تھے اور 1981ء کی دوسری ششماہی میں آہستہ آہستہ حکومت نے اپنے وعدے پورےکردیے۔ فرنٹ لائنز پر تعینات فوجیوں سے لے کر مستقل گیریژن کے لوگوں تک سارے فوجیوں کو یہ عنایات نصیب ہوئیں۔

یادوں بھری رات کا ۳۱۵ واں پروگرام۔ دوسرا حصہ

انقلاب اسلامی ۸ سالہ جنگ کا فاتح

۲۳ جولائی ۲۰۲۰ء کی شب یادوں بھری رات کے ۳۱۵ ویں پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس کو آپارات ویب سائٹ پر نشر کیا گیا۔ اس پروگرام میں " سید احمد قشمی" اور " ڈاکٹر حمید رضا قنبری" مہمان تھے جنہوں نے دفاع مقدس کے دوران پیش آنے والے واقعات کو ناظرین کے لیے پیش کیا اور اس پروگرام میں میزبانی کے فرائض " داؤد صالحی" انجام دے رہے تھے۔

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - اکتالیسویں قسط۔

سب ہنسنے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ عراقی حکومت کے پاس جو کچھ تھا وہ اس نے جنگ میں لگا دیا، یہاں تک کہ متروک اسلحہ اور ساز و سامان بھی۔

یادوں بھری رات کا ۳۱۴ واں پروگرام (پہلا حصہ)

شہید چمران کی کچھ یادیں

۲۵ جون ۲۰۲۰ء کو یادوں بھری رات کے تین ۳۱۴ ویں پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں شہید مصطفی چمران کے حلقہ احباب میں سے تین دوستوں کو دعوت دی گئی جس میں انہوں نے شہید کے واقعات کو بیان کیا۔

فوجی عدالت میں مقدمہ کی پیروی

فیصلہ کا دن معین ہوگیا۔ میں نے اپنی فائل کو دوبارہ مطالعہ کرنے کے لیے اور اپنی صفائی پیش کرنے کے لئے میرے پاس لانے درخواست کی۔ عدالت کی طرف سے میرے لئے ایک وکیل تعیین کیا تھا ، لیکن مجھے معلوم تھا کہ یہ صرف خانہ پوری کے لئے ہے اور عدالت کے فیصلہ پر اس کا کوئی خاص اثر نہیں ہوگا۔ میں نے اپنی صفائی پیش کرنے کے لئے 30 صفحات کی تحریر تیار کی تھی۔

وہ واقعی میں ایک ممتاز کمانڈر تھے!

آپ سب کو شہادت ملنی چاہیے، لیکن ابھی بہت جلدی ہے اور ابھی ملک کو آپ لوگوں کی بہت ضرورت ہے۔ سسٹم کو آپ کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد میں نے کہا جس دن مجھے "صیاد" کی شہادت کی خبر دی گئی تو میں نے کہا وہ شہادت کے لائق تھا، اس کا حق تھا

کبھی نہیں سوچا تھا اسیری ۱۰ سال طولانی ہوجائی گی

یادوں بھری رات کا ۳۱۵ واں پروگرام

ہمیں بے جرم اسیر کیا گیا تھا۔ ہمارے ہاتھوں کو پشت سے باندھا گیا اور ہماری آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر قید کردیا گیا۔ ہم جس راستے سے گزرتے تھے ہمیں مجوسی کہہ کر متعارف کروایا جاتا اور لوگ ہمارا تماشا دیکھا کرتے

ایک خاتون زائر کے مطابق

اربعین کی پیادہ روی کے انتظامات میں خواتین کا کردار سادہ لیکن پاکیزہ مکانات

شور و غل مچا ہوا تھا۔ پیادہ روی کی سڑکوں پر لوگوں کا ہجوم تھا۔ ہمارے ساتھ ساتھ وہاں تقریباً ہر قوم و ملت کے لوگ آئے ہوئے تھے ہندوستانی پاکستانی سے لے کر لبنانی، ایرانی، عراقی، آذربائیجانی، ترک، کینیڈین وغیرہ وغیرہ، جتنا ہم آگے بڑھتے جا رہے تھے رش اتنا زیادہ ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔

شہید چمران کی کچھ یادیں

یادوں بھری رات کا ۳۱۴ واں پروگرام (پہلا حصہ)

۲۵ جون ۲۰۲۰ء کو یادوں بھری رات کے تین ۳۱۴ ویں پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں شہید مصطفی چمران کے حلقہ احباب میں سے تین دوستوں کو دعوت دی گئی جس میں انہوں نے شہید کے واقعات کو بیان کیا۔
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات :تینتالیسویں قسط

میں نے کہا: " گھبراؤ نہیں! میں نان کمیشنڈ ڈاکٹر ہوں نہ کہ انٹیلی جنس افسر۔ میری صلاح یہ ہے کہ تم محاذ کی صورتحال کے متعلق کسی سے گفتگو نہ کرو، احتیاط کرو ورنہ تمہارا وہ انجام ہوگا جو بعثی خوب جانتے ہیں!"

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔