۵ جون کے قیام میں آیت اللہ آیت اللّٰھی کی جدوجہد کا جائزہ

آیت اللہ سید عبد العلی آیت اللھی اور امام خمینی (رہ) مختلف مسائل کے بارے میں ایک دوسرے سے رابطے میں تھے۔ ایسی تحریریں موجود ہیں جو اُن دونوں کے مستقبل رابطے کو بیان کرتی ہیں

شہید "مہدی عراقی" ۵ جون کے قیام کا سربراہ

حاج مہدی عراقی، ۱۵ سالہ نوجوان جو ملک کے سیاسی معاملات میں شہید نواب صفوی ، کے ساتھیوں میں سے تھے اور اُنہیں شہید سید مجتبیٰ نواب صفوی کی راہ اور طریقہ کار اتنا پسند تھا کہ اُنھوں نے سن ۱۹۵۱ء میں اُن کی گرفتاری کے بعد زندان قصر کے چند دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ احتجاج کیا کہ یہ احتجاج اُن کی گرفتاری اور ۷ مہینے تک جیل میں رہنے کا سبب بنا۔
نیا سال، نیا اخلاق، نئے کام

انقلاب کے بعد نئے سال کے آغاز پر امام خمینی رح کا پہلا پیغام

میں اس نئے سال کے آغاز پر قوم کی چند نکات کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں اور کچھ نکات حکومت اور حکومتی اداروں کیلئے۔ آپ کو خیال نہیں کرنا چاہیے کہ کام ختم اور ہم کامیاب ہوگئے؛ یہ خیال سستی کا باعث بنے گا۔
"مہناز فتاحی" کتاب "پناہگاہ بی پناہ" اور اُس کی تحریری کیفیت کے بارے میں کہتی ہیں

میں خود ہی اسناد تلاش کرنے پر مجبور تھی

میں یادداشت لکھنے کی عادی ہوں۔ میں بچپن سے اپنی یادداشتیں لکھتی ہوں، میں نے جنگ کے زمانے کی یادیں بھی لکھی ہیں، لیکن محال ہے کہ میں نے کوئی کتاب لکھی ہو اور اُس کیلئے تحقیق انجام نہ دی ہوں۔

بابا مجھے اسلحہ چاہئے

آہنی جالیوں کے پیچھے سے اپنے گھر والوں سے ملاقات کر رہا تھا۔ میری اہلیہ اور بچے جالی کی دوسری طرف تھے اور ہمارا درمیانی فاصلہ تقریبا دو میٹر کا تھا۔ بچے اپنی میٹھی میٹھی زبان میں میرا دل لوٹ رہے تھے۔ اور میں انہیں اپنی آغوش میں لینے کے لئے بے تاب تھا۔ بچوں نے اپنے معصوم لہجے میں مجھ سے سوال کیا کہ بابا گھر کب آئین گے اور میں نے بھی تتلا کر ان سے اگلے ہفتے گھر واپس آنے کا وعدہ کر لیا۔

امام خمینی رح کا قم المقدسہ میں گیارہ ماہ پر مشتمل قیام

بانی انقلاب اسلامی ایران واپس آنے کے ۲۸ دنوں بعد قم کے لئے روانہ ہوگئے۔ قم کے عوام نے امام خمینی کا شاندار استقبال کیا۔ تقریبا ایک میلین افراد امام کے قم میں داخلے کے راستے پر انکا استقبال کرنے کے لئے موجود تھے۔ امام خمینی رح نے جس طرح اسلامی انقلاب کی رہنمائی اور اسے کامیاب بنانے میں اہم اور مرکزی کردار ادا کیا انکے سفر قم سے متعلق مختلف حکایتیں اور تجزئیات و تحلیلیں موجود ہیں۔
فوجی کمانڈرز کی مستند روایت کے مطابق

حاج احمد متوسلیان کی سربراہی کی یادگار باتیں

حاج احمد، ایک ۳۰ سالہ جوان تھے۔ ابھری ہوئی ہڈیوں اور چوڑے جبڑے کے ساتھ۔ گھنٹی داڑھی اور ایسی ناک کہ صاف ظاہر تھا کہ وہ باکسنگ کے مکوں سے ٹوٹ کر دوبارہ جڑی گئی ہے

اس معتبر چہرے کی یاد جو عام لوگوں، یونیورسٹیوں اور قائد انقلاب کے درمیان رابطے کاذریعہ تھا

آیت ا... مرتضیٰ مطہری ۲ فروری سن ۱۹۲۰ءکو مشہد سے ۷۵ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک فریمان نامی علاقے میں پیدا ہوئے۔ وہ بارہ سلا کی عمر میں مشہد چلے گئے تاکہ حوزہ علمیہ مشہد میں دینی علوم کی ابتدائی تعلیم حاصل کرسکیں اور پھر سن ۱۹۳۷ء میں وہاں سے حوزہ علمیہ قم چلے گئے تاکہ اپنی تعلیم کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں۔
۲۷۶ ویں یادوں بھری رات کا انعقاد

انقلاب، دفاع مقدس، شام کے واقعات اور تین راوی

ثقافتی تحقیق، مطالعات اور پائیدار ادب کے مرکز اور ادبی اور مزاحمتی فن کے مرکز کی کوششوں سے یادوں بھری رات کے سلسلہ کا ۲۷۶ واں پروگرام، جمعرات کی شام ۲۶ جنوری سن ۲۰۱۷ء کو آرٹ گیلری کے سورہ ہال میں منعقد ہوا
عباس جہانگیری اور دفاع مقدس کی یادیں ۔ دوسرا اور آخری حصہ

سیکنڈری اسکول کے شہداء کی شب

ایرانی زبانی تاریخ کی سائٹ کے خبر نگار کی انجینئر عباس جہانگیری کی گفتگو کے پہلے حصے میں بات یہاں تک پہنچی تھی کہ انھوں نے بتایا تھا کہ وہ دفاع مقدس کے محاذوں پر کس طرح گئے اور اسلام آباد میں ہونے والے ایک جہادی کیمپ سے لیکر و الفجر ۲ آپریشن کے بعد حاج عمران کی بلندیوں تک پہنچے۔ البتہ اس پوری داستان میں، راوی کے ساتھ ہونے والے مفید ہائی اسکول کے طالب علموں کا بھی ان یادوں میں نمایاں کردار رہا ہے۔ دوسرا اور آخری حصہ جس میں جناب جہانگیری کی گذشتہ یادیں ہیں پیش خدمت ہے، مطالعہ کیجئے۔
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔