عباس دوزدوزانی کی یادوں کا ایک ٹکڑا
انقلابی حلقوں سے اسلامی حکومت کے فوجی بازو تک
ہم نے اسی جملے کو "امام کا حکم" سمجھا اور ان کی خدمت سے رخصت ہوئے۔ جب ہم تہران واپس آئے تو 22 اپریل 1979 کو ایک بیانیہ لکھا۔ جس کا متن لکھنے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی تھی اور اخبارات کو دیا جو اگلے روز شائع ہوا۔ یہ بیانیہ بطورِ خاص سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے وجود کا پہلا اعلان تھا۔جنگ کے بعد شہر مشہد ایک زائر کی نگاہ سے
میں نے مشہد کو اس حال میں ترک کیا کہ میرا دل بابالجواد کے قریب، حرم اور مسجد ملاحیدر کے قریب پر سکون اجتماعات کے درمیان ہی رہ گیا۔ وہاں جہاں حماسی نعروں کی آواز اتنی بلند ہے کہ اس کی گونج حرم تک اور ہمارے شہید رہبر کی شہادت کے ماتم کے اصل مالک تک پہنچتی ہے۔کاکِ خاک (خاک کا بھائی)
لفظ "کاک" کا مطلب "بھائی" ہے اور "خاک" سے مراد شہدا کی خاک ہے۔ کتاب کا پہلا باب راوی کے بچپن اور نوجوانی کی یادوں پر مبنی ہے جو ان کے آبائی شہر 'بابلسر' میں گزری۔ وہ ۱۹۶۷ میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے اور اپنے والدین کی دوسری اولاد تھےدفاع مقدس میں کمانڈروں اور عام مجاہدین کی روایات کا موازنہ
یادداشتیں، خواہ کمانڈروں کی ہوں یا عام مجاہدین کی، بکھری ہوئی شکل میں شائع ہوئی ہیں اور ابھی تک ان میں سے اکثر عوام کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔ ڈیجیٹل آرکائیو اور جامع ڈیٹا بیس کا قیام ضروری ہے۔پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 72
اس دن میں مدرسۂ قرآن کے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا۔ ریلی کے آغاز میں ہی میں نے سب لوگوں کی اللہ اکبر کی آواز سنی۔ ہم نے ایک طالب علم کو اجتماع کی جگہ بھیجا۔ اس طالب علم نے آکر مدرسۂ قرآن کے اراکین کو ریلی کی خبر اور اس کے مقصد سے آگاہ کیا۔شہر دامغان کے ۱۱ محرم بمطابق ۱۲ دسمبر ۱۹۷۸ کا واقعہ
ایک یادداشت، ایک خبر اور پانچ حکومتی رپورٹس کی روشنی میں
محرم الحرام کے مہینے کی آمد اور امام خمینی رح کے اس پیغام کے پھیلنے کے ساتھ کہ مجاہدین، واعظین اور خطیب اس مہینے سے پہلوی حکومت کا اصل چہرہ آشکار کرنے کے لیے استفادہ کریں، عوامی جدوجہد، راہپیمائیوں اور مظاہروں میں گزشتہ کی نسبت اضافہ، شدت اور شرکتکنندگان کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوادفاعِ مقدس میں خواتین اور مردوں کی تحریری یادداشتوں کا موازنہ
یہ کہا جا سکتا ہے کہ خواتین اور مردوں کی تحریری یادداشتوں کا موازنہ نہ صرف جنگ کے بیانیے میں صنفی فرق کو پہچاننے کی ایک کوشش ہے، بلکہ ایرانی قوم کے اجتماعی حافظے کی تعمیرِ نو کی جانب ایک قدم ہے؛ وہ حافظہ جس میں مرد اور عورت دونوں ایک ہی سچائی کے راوی ہیں: معاصر تاریخ کے مشکل ترین دور میں ایرانی انسان کے ایمان، ایثار اور استقامت کی سچائیہم بھی لڑے تھے (ما هم جنگیدیم)
کتاب کا مرکزی موضوع ملارد کی خواتین کی جنگی سرگرمیاں ہیں۔ یہ خواتین اپنا زیادہ تر وقت کھانے پینے کی اشیاء، خاص طور پر روٹیاں تیار کرنے میں گزارتی تھیں۔کتاب کا تعارف: خون بہتا رہا (خون میگذشت)
رسول زادہ کاشان کے ان ممتاز مجاہدین میں سے تھے جنہوں نے انقلاب کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ جنابِ نواب صفوی سے شناسائی کے بعد انہوں نے کاشان میں "فدائیانِ اسلام" کی شاخ قائم کی۔پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 71
14 جولائی 1979 کو مریوان کے سپاہ(بیس) پر اسلامی جمہوریہ کے مخالفین نے قبضہ کرلیا تھا اور اس دوران مریوان کے 24 پاسداران، شہید اور قریب 40 پاسداران زخمی ہوئے تھے۔ ہم جانتے تھے کہ ان کا اگلا حملہ، پاوہ شہر پر ہوگا۔جنوبی محاذ کی خواتین (زنان جبهہ جنوبی)
شاید ان خواتین میں سے ہر ایک کی یادیں اتنی طویل نہ ہوں کہ ان پر علیحدہ کتاب لکھی جائے، لیکن ان مختصر یادوں کا مجموعہ قارئین کو جنگ میں خواتین کے کلیدی کردار کو سمجھنے میں بہت مدد دیتا ہے۔جنگ اور حکومت
سید محمد صدر کی یادداشتوں کے تناظر میں
راوی (مصنف) اس سے قبل اپنی ایک اور کتاب "انقلاب اور ڈپلومیسی" میں اپنے خاندانی پس منظر، پیدائش، تعلیم اور 1985 میں وزارتِ خارجہ میں اپنی خدمات کے اختتام تک کی یادیں بیان کر چکے ہیں۔ کتاب "جنگ اور حکومت" انہی یادداشتوں کا تسلسل ہےسب سے زیادہ دیکھے جانے والے
عباس دوزدوزانی کی یادوں کا ایک ٹکڑا
انقلابی حلقوں سے اسلامی حکومت کے فوجی بازو تک
ہم نے اسی جملے کو "امام کا حکم" سمجھا اور ان کی خدمت سے رخصت ہوئے۔ جب ہم تہران واپس آئے تو 22 اپریل 1979 کو ایک بیانیہ لکھا۔ جس کا متن لکھنے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی تھی اور اخبارات کو دیا جو اگلے روز شائع ہوا۔ یہ بیانیہ بطورِ خاص سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے وجود کا پہلا اعلان تھا۔"1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔






