۲۱ جولائی ۱۹۶۳ء کو گرگان میں ہونے والی تقریر

ماہ صفر کی ۲۹ تاریخ [۲۱ جولائی ۱۹۶۳ء]کا دن آگیا۔ اس حالت میں کہ مسجد گلشن کے تمام ہال اور اُس کے اطراف کے صحن اطراف کے گاؤں اور دیہاتوں سے آئی ہوئی عوام سے بھرے ہوئے تھے، میں منبر پر گیا اور میں نے مجلس کے آخری مقرر کے عنوان سے، اپنی باتوں کا آغاز کیا

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – پانچویں قسط

عراق کی بعثی حکومت نے سن ۱۹۸۰ء میں عراقی ہزاروں گھرانوں کو اس بہانے سے کہ اُن کی اصلیت ایرانی ہے اور وہ عراق میں ہونے والی متعدد تخریب کاریوں میں ملوث ہیں، ایران جلا وطن کردیا

تہران کے ڈاکٹروں کی جانب سے قزوین کے زخمیوں کی امداد

قزوین کے فوجی گورنر ، بریگیڈیئر جنرل معتمدی نے لوگوں پر جبر و تشدد اور اُن میں خوف و ہراس پھیلانے کیلئے جنوری ۱۹۷۹ء میں اس شہر میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا اور خون کی ندیاں بہا دیں

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

علی کے ساتھ میری شناسائی اور ہماری ذمہ داریاں انقلاب کے ایام میں

اس کی مسکراہٹ کھانے سے اٹھتے دھویں کے پیچھے کھو گئی تھی اس نے فنگر چپس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے ڈرانے کے لئے چمچہ اٹھا لیااس نے گرم گرم چپس اپنی انگلیوں میں دبایا اور مسکراتے ہوئے باہر کی راہ لی میں نے اس کا پیچھا کرنا چاہا مگر نہ کرسکی

یادوں بھری رات کا۳۰۴ واں پروگرام – پہلا حصہ

اسیری سے تلخ ایام کی کہانی

میں ایسے لوگوں میں سے تھا جو اپنے ملک کا دفاع کرنے گیا تھا، لیکن میں کچھ عرصے بعد اس بات کی طرف متوجہ ہوا کہ میں ایک ایسے عنصر میں تبدیل ہوچکا ہو ں کہ ملک کے خلاف کام کر رہا ہوں

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – چوتھی قسط

حکومت صدام نے امام خمینی اور انقلاب اسلامی کے چاہنے والے مسلمان انقلابیوں کو منظر سے ہٹانے کیلئے، مذہبی افراد اور علماء کرام کو وسیع پیمانے پر پھانسی دینا، گرفتار کرنا اور نظر بند کرنا شروع کردیا کہ عراق کے بہترین اور مخلص ترین افراد اس حملے کی زد میں آئے

مطبوعات کا مطالعہ کرنا اور اُن کی خبریں امام خمینی تک پہنچانا

امام خمینی نے بھی میرا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: آپ میری طرف سے مطبوعات کا مطالعہ کرنے اور مجھے اُس سے آگاہ کرنے کے انچارج ہیں اور آپ کو مطبوعات خریدنے کے پیسے مجھ سے لینے پڑیں گے

یادوں بھری رات کا۳۰۳ واں پروگرام

جلال شرفی کے واقعات کے بارے میں

میری اگر آج اُن سے ملاقات ہو تو میں تہران کے بہترین ریسٹورنت یا حتی انھیں اپنے گھر آنے کی دعوت دوں گا اور اُن کی بہترین پذیرائی کروں گا۔ میں اُن کی چہرے کو چوم لوں گا۔ چونکہ وہ لوگ بھی انسان ہیں، خاص شرائط اور ماحول میں اپنے بیوی بچوں کے اخراجات اٹھانے کیلئے کام کر رہے ہیں

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تیسری قسط

میں ان لوگوں کے جہل اور لا علمی کو ثابت کرنے کیلئے ایک مضحکہ خیز واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہوں جو میں نے ٹیلی ویژن پر دیکھا۔ صدام نے ایک بند کو معنی کے لحاظ سے برعکس پڑھا۔ اس دفعہ بھی حاضرین نے ایک آواز میں کہا: " جی جناب، ہم متفق ہیں! " البتہ صدام کو ہوش آگیا اور اس نے اپنی غلطی کی اصلاح کرلی۔

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

لکھاری کا تبصرہ

میں نے کتاب رسول مولتان پڑھی جو میری اور شہید سید محمد علی رحیمی کی اس  زندگی کا خلاصہ ہے جب ہم ایک ساتھ ہوتے تھے، اس کے بعد ہم ، میں علی اور بچوں میں بدل گئے پھر پلک جھپکنے میں ، میں اور بچے رہ گئے اور علی ہم سے جدا ہوگئے۔ ان کی جگہ ہمارے درمیان ایسے خالی ہوئی کہ پھر کسی بھی وقت پر نہ ہوسکی۔ میں نے اس کتاب کے صفحات کے درمیان علی کو دوبارہ اپنے پاس پایا۔ وہ اپنی اسی مہربان طبیعت کے ساتھ ہمارے ساتھ تھے  مہدی اور محمد ان کے ساتھ کھیل رہے تھے اور فہیمہ ان کے

زندان میں بھی جدوجہد جاری رہی

مجھے اچانک پتہ چلا کہ میں نے نہ چاہتے ہوئے اس آیت کے معنی پر عمل کیا ہے: "یا اَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا مَنْ یَرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دینِهِ فَسَوْفَ یَأْتِی الله بِقَوْمٍ یُحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّونَهُ اَذِلَّهٍ عَلَی الْمُؤْمِنینَ اَعِزَّهٍ عَلَی الْکافِرینَ یُجاهِدونَ فی سَبیِلِ‌الله وَ لایَخافُونَ لَوْمهَ لائمٍ ذلِکَ فَضْلُ‌الله یُؤْتیهِ مَنْ یَشاءُ وَالله واسعٌ عَلیمٌ" [سورہ مائدہ، آیت ۵۴]

وابستگی کی شدت

اُس نے مجھے جھاڑ پلائی، میں نے بھی اُسے جواب دیئے لیکن جیسا کہ جناب ہاشمی طال غنچہ ای نے سفارش کردی تھی، مجھے آزاد کردیا گیا۔ یہاں سے مجھے پہلوی حکومت کی امریکا سے شدت کی وابستگی کا پتہ چلا
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – پانچویں قسط

عراق کی بعثی حکومت نے سن ۱۹۸۰ء میں عراقی ہزاروں گھرانوں کو اس بہانے سے کہ اُن کی اصلیت ایرانی ہے اور وہ عراق میں ہونے والی متعدد تخریب کاریوں میں ملوث ہیں، ایران جلا وطن کردیا

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔