ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

میں تیسری بار پوچھ رہا ہوں کہ کیا دلہن مجھے نکاح کے لئے اپنا وکیل مقرر کرتی ہیں؟؟؟

بالآخر میں نے وہ ہاں کہہ دی جس کے سب خلاف تھے۔ اور یوں صلوات اور شور کی صدا گونجی ۔ دلہا کو سیج پر بلایا گیا تاکہ شادی کی انگوٹھی پہنانے کی رسم ادا کی جائے اور تصویریں اتار لی جائیں۔ میں شرم سے پانی پانی ہوئی جاتی تھی۔

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ایک آدمی دروازے پر ہے آپ سے کوئی کام ہے

معصومہ آگے گئی میں اس کے پیچھے میرے دل میں ہول اٹھ رہے تھےایک لمحہ کو بڑے بھائی کا غصیلہ چہرہ میری آنکھوں کے سامنے آگیا اور ایک کڑواہٹ سی میرے وجود میں اتر گئی، لیکن کوئی چارہ نہ تھا علی سے مجھے ہر حال میں ملنا تھا

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – سترہویں قسط

فوجی ڈاکٹرز امدادی مرکز سے باری باری بیسویں بریگیڈ کے "پ"بیس جارہے تھے تاکہ طبی امداد میں ان کا بھی کچھ حصہ ہو۔ وه رضاکارانہ طور پر نہیں جا رہے تھے۔

حسن کمالیان کے نشیب و فراز سے بھرپور واقعات کی داستان

"آقای کاف میم"

"آقای کاف میم" حسن کمالیان کے اُس زمانے میں نشیب و فراز سے بھرپور واقعات  کی داستان پر مبنی کتاب ہے جب وه مسلط کرده جنگ کے دوران فوٹوگرافر اور دستاویزی فلم ساز کی حیثیت سے موجود تھے۔  اس کتاب کی تحقیق اور تألیف کی ذمہ داری "رضا پاکسیما" کو دی گئی تھی اور اسے "اداره مطالعات محاذ ثقافتی اسلامی انقلاب"، "راه یار" پبلی کیشنز نے جنوری ۲۰۲۰ء  میں شائع کیا ہے۔ "اداره مطالعات محاذ ثقافتی اسلامی انقلاب" کے "زبانی تاریخ یونٹ"

حمید حسام سے اُن کی زندگی اور اُن کی تالیفات کے بارے میں انٹرویو

"در جستجوی مہتاب: حمید حسام کی زندگی اور تالیف" ایسی کتاب کا نام ہے جو حسین قرائی کے انٹرویو سے تشکیل پائی ہے۔

ایسے پائلٹ کی یاد میں جس نے اپنی روداد خود سنائی

اکبر توانگرایان ۱۹ ستمبر سن ۱۹۵۱ء میں اصفہان میں پیدا ہوئے، فانٹوم لڑاکا طیارے کے پائلٹ تھے۔ ۶۱ ویں اور ۳۱ ویں شکاری بٹالین کے کمانڈر تھے۔ چابہار ایئربیس کے نائب کمانڈر بھی رہے۔ شکاری چھاؤنی نمبر ۱۰ کے کمانڈر اور پائلٹ کالج کے کمانڈر بھی رہے

یادوں بھری رات کا۳۰۶ واں پروگرام – پہلا حصہ

کشمیر کے واقعات

ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۳۰۶ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۶ ستمبر۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں علی سید ناصری، روح اللہ رضوی اور محمد سرور رجائی نے کشمیر اور افغانستان میں انقلاب اسلامی ایران کے اثرات کے بارے میں بتایا۔

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – سولہویں قسط

ایک دن کرنل "محمد" ہم سے ملنے آئے اور انہوں نے مجھ سے چاہا کہ میں ان کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھاؤں، کیونکہ وه اکیلے تھے اور فوجی قواعد کے تحت وہ فوجیوں کے ساتھ کھانا نہیں کھا سکتے تھے

آسمانی سردار

الٰہی کمانڈر اور شیطانی کمانڈر

طویل عرصے سے ایک دوسرے کے مد مقابل رہنے والی ان دو طاقتوں نے الٰہی نمائندہ (ہیرو) اور شیطانی نمائندہ (ولن) کو جنم دیا ہے۔ ہیرو معاشرے کا محافظ ہے جبکہ ولن معاشرہ کا دشمن۔

امیر ثامری کی یادوں کے ساتھ – دوسرا حصہ

خرم شہر میں جدوجہد کے ایام

ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کے خبر نگار امیر ثامری کے ساتھ گفتگو کرنے بیٹھے ہیں تاکہ وہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے ابتدائی سالوں اور عراق کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کے ابتدائی ایام کے بارے میں بتائیں۔ اس انٹرویو کے پہلے حصے میں، انھوں نے خرم شہر کے ابوذر گروپ کا تعارف کروایا۔ اب آپ اُن کے انٹرویو کا دوسرا حصہ ملاحظہ فرمائیں۔

سن ۱۹۶۸ء میں امام خمینی ؒ کا عزاداری کے طرز طریقے پر اعتراض

جو ماتمی انجمنیں آئی ہوئی تھیں ان کے نوحوں کا انداز بدلا ہوا تھا۔ ماتم داری اور سینہ زنی کا انداز بھی مختلف تھا۔ مجھے یاد ہے کہ نوحہ خوان حضرات یہ اشعار پڑھ رہے تھے: کربلا کربلا، فیضیہ بنا قتلگاہ۔ علماء کا خون ناحق جو گرا، امام کی نصرت بن گیا

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – چودہویں قسط

میں ہیڈ کوارٹر کی اکیلی خندق میں داخل ہوا جو دو حصوں میں تقسیم ہوتی تھی ایک کلینک اور دوسرا بریگیڈ کے سیکریٹری کا آفس۔ باقی لوگ ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے نیچے مضبوط اڈوں میں زندگی گزار رہے تھے۔
 

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

میں تیسری بار پوچھ رہا ہوں کہ کیا دلہن مجھے نکاح کے لئے اپنا وکیل مقرر کرتی ہیں؟؟؟
بالآخر میں نے وہ ہاں کہہ دی جس کے سب خلاف تھے۔ اور یوں صلوات اور شور کی صدا گونجی ۔ دلہا کو سیج پر بلایا گیا تاکہ شادی کی انگوٹھی پہنانے کی رسم ادا کی جائے اور تصویریں اتار لی جائیں۔ میں شرم سے پانی پانی ہوئی جاتی تھی۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔