زبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – تیئیسواں حصہ

راوی سے بحث و مباحثہ

بنیادی طور پر انٹرویو لینے والے کی ایک ذمہ داری، راوی کے ذہن کو کریدنا اور راوی کو قدیمی واقعات، اُس کے ذہن میں پوشیدہ باتیں اور گذشتہ مشاہدوں کو یاد دلانے میں مدد کرنا ہے، لیکن اس کام کو حکم چلاکر اور خود کو بڑھا ثابت کرکے نہیں ہونا چاہیے
تنہائی والے سال – ساتواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

اُس نے گھنٹی بجائی، نگہبان اندر آیااور مجھے اپنے ساتھ باہر لے گیا۔ اس دفعہ ہم چند برآمدوں سے گزر کر ایک کمرے میں داخل ہوئے۔ اُس نے آنکھوں سے پٹی کو ہٹایا۔ اُسی تفتیشی عمارت کے آس پاس کوئی نئی جگہ تھی۔ کمرے کے اندر، نگہبان نے میرے ہاتھ میں ہتھکڑی لگائی اور پوچھا: تمہیں کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟
زبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – چوبیسواں حصہ

حافظہ کو اُبھارنا

ایک اور مشکل جس کا انٹرویو لینے والوں کو سامنا ہوتا ہے، وقت گزرنے اور مختلف موضوعات کی وجہ سے راوی کے حافٖظہ کا ضعیف ہونا ہے
زبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – پچیسواں حصہ

انٹرویو کا اختتام

انٹرویو لینے والے کی ذمہ داری ہے کہ نشست کے آخر میں، ٹیلی فون اور رابطہ قائم کرنے والے دوسرے ذرائع جیسے ایمیل اور ایڈریس راوی کو دے تاکہ اُس کے لئے انٹرویو لینے والے اور متعلقہ ادارے سے رابطہ قائم کرنا ممکن ہو
تنہائی کے سال – چھٹا حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

مجھے بہت تعجب ہوا۔ مجھے اب پتہ چلا تھا کہ دشمن نے کس طرح ذلیلانہ طریقے سے ایک بڑی سازش کا جال بچھایا ہے تاکہ انقلاب کی سانسوں کو روک دے

سورج مغرب سے طلوع ہوا

تہران کے آسمان پر کافی بڑا موڑ کاٹنے کے بعد جہاز نے لینڈ کیا۔ پہلے صحافی حضرات اور پھر امام کے ساتھی جہاز سے اُترے۔ حضرت امام کے شاگرد بھی استقبال کے لئے آئے ہوئے تھے اور ایئرپورٹ کے ہال میں جمع تھے ۔ میں بھی جب وہاں پہنچا تو کیا سنا کہ سب کے سب یہ ترانہ پڑھ رہے ہیں: اے خمینی امام ! اے خمینی امام!

لوگوں کو پتہ ہے کہ ہم کون سے آقا صاحب کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں

شکنجہ دینے والے دو قسم کے لوگ تھے۔ چیل مزاج اور کبوتر مزاج۔ پہلی قسم کے لوگ بے رحم اور سنگدل تھے مار پیٹ میں بے لگام تھے اور دوسری قسم کے لوگ قدرے رحمدل تھے جو ہمدردی جتلاتے تھے۔ نسبتاً نرمی سے بات کرتے تھے۔ اور راز کی بات اگلواتے تھے
تنہائی کے سال – پانچواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

ہم لوگ گاڑی میں سوار ہوئے۔ تقریباً پانچ منٹ تک اِدھر اُدھر مڑنے کے بعد گاڑی ایک گلی کے کونے پہ جاکر ٹھہری۔ میں آنکھوں پر بندھی پٹی کے ایک کنارے سے بہت مشکل سے دیکھ پا رہا تھا۔ ہم دفاتر کی ایک عمارت میں داخل ہوئے۔
تنہائی کے سال – چوتھا حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

اُسی راستے اور اُسی لوہے کی سیڑھیوں سے گزر کر، جو میرے لئے بہت دشوار تھیں ، ہم اوپر آئے۔ آنکھوں پر اور ہاتھوں پر پٹیاں بندھ جانے کے بعد ہم ایک اسٹیشن گاڑی میں سوار ہوئے، جس میں حفاظت کیلئے دو نگہبان اور ایک ڈرائیور تھا، ہم نے بغداد کی طرف چلنا شروع کیا
" کتاب کی زبانی تاریخ" مطبوعات فرہنگ معاصر کے انچارج کی زبانی

دو زبانوں میں فرہنگ لغات کی پیداوار اور طباعت کے واقعات

ہمارا دل چاہتا تھا ہمارے پاس ہر زبان میں فرہنگ لغات کا مکمل نسخہ موجود ہو۔ ہمارا ہدف یہ تھا کہ اس نسخے کو مکمل کریں اور ہم چاہتے تھے کہ ہمارے مجموعے میں ایک فارسی لغات کی بھی فرہنگ ہو
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔