ایک فوجی مشق کی یادداشت؛ علی تحیری کی زبانی

شاہ فوراً میری طرف پلٹا۔ وہ غصے سے لال چہرے کے ساتھ قریب آیا اور اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھ کر پوچھا: "کیا ہوا؟ کیا کوئی چیز تمہیں پریشان کر رہی ہے؟" میں نے کہا: "قربان! یہ آپ کو غلط رپورٹ دے رہے ہیں۔ ہم 28 ویں رجمنٹ کے اصطبل میں ٹھہرے ہوئے ہیں اور ہمیں جو راشن دیا جا رہا ہے وہ عام سپاہیوں کا ہے، ہمیں افسران کے راشن سے محروم رکھا گیا ہے۔"

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 67

جیسے ہی شیخ صاحب نے ہمارے دفتر میں قدم رکھا، ان کی نظر اس نعرے پر پڑی تو انہوں نے غصے سے کہا: ’’کس نے کہا خدا ایک ہے؟ کس نے کہا کہ رہنما اور وطن ایک ہے؟‘‘ میں نے بہت آرام سے کہا: ’’ماموستا یعنی ایک سے زیادہ خدا، وطن اور رہنما ہیں؟!‘‘

شاہ بے دینی کو رواج دینا چاہتا ہے

اب عاشورہ کی شام ہے... جب میں کبھی عاشورہ کے واقعات پر غور کرتا ہوں، تو میرے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ اگر بنی امیہ اور یزید بن معاویہ کا نظام صرف حسین (ع) سے جنگ کر رہا تھا، تو وہ وحشیانہ اور غیر انسانی رویہ کیا تھا جو انہوں نے عاشورہ کے دن بے سہارا خواتین اور معصوم بچوں کے ساتھ کیا؟

محترمہ عفت مرعشی کی یادوں سے اقتباس

دردِ فراق

ملاقات ختم ہونے کے بعد، آقا شریفی نے شہربانی کے قریب چوراہے پر جا کر وہ ٹیکسی ڈھونڈ لی اور سوار ہو گئے۔ انہوں نے پتہ دیا اور کیسٹ ڈھونڈنے لگے تو ڈرائیور بھانپ گیا اور بولا: "جس چیز کو تم ڈھونڈ رہے ہو، انشاء اللہ وہیں پہنچ جائے گی جہاں پہنچنی چاہیے۔" پتا چلا کہ ٹیکسی ڈرائیور بھی تحریکی ساتھیوں میں سے تھا۔

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 66

مفتی زادہ اور موسوی صاحب نے ہلال احمر کی پہاڑی[1] پر رات گزاری۔ اگلی رات ہم تقریباً تیس گاڑیاں لے کر جوانرود تک ان کے ساتھ ساتھ گئے۔ جوانرود میں داخل ہونے سے پہلے، سررود[2] گاؤں میں ایک بوڑھی خاتون جنہوں نے اپنی زندگی میں کبھی اتنی گاڑیاں اور اتنے لوگ نہیں دیکھے تھے، گاڑیوں کے قافلے کے قریب پہنچیں اور انہوں نے حیرت سے ہمارے ایک دوست سے پوچھا: ’’کیا ہوا ہے؟‘‘

شہید سید مرتضیٰ آوینی کی زندگی کے آخری چند واقعات

راوی کا آخری سفر

نو اپریل، شہید سید مرتضیٰ آوینی کی برسی کا دن ہے؛ وہ مستند ساز اور آٹھ سالہ عراق-ایران جنگ کے وہ نامور راوی، جن کا سفرِ عشق بالآخر "فکہ" کے تپتے صحراؤں میں شہدائے کربلا کے قافلے سے جا ملا۔ کتاب "شہیدِ فرہنگ؛ شہید سید مرتضیٰ آوینی در آیینہ خاطرات" ان کی زندگی کے مختلف ادوار اور سرگرمیوں پر محیط مختلف یادوں کا مجموعہ ہے

عباس دوزدوزانی کے واقعات سے ایک اقتباس

"انقلابی حلقوں سے لے کر اسلامی حکومت کے عسکری بازو تک"

ہم نے اسی جملے کو " امام کا حکم" سمجھا اور وہاں سے رخصت ہوئے۔ تہران واپسی پر اکیس  اپریل ۱۹۷۹ کو ایک اعلامیہ جاری کیا جسے لکھنے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی تھی۔ ہم نے وہ متن اخبارات کو دیا جو اگلے دن شائع ہوا

زبانی تاریخ کی وثاقت؛ امکان سے ضرورت تک

زبانی تاریخ میں اصلیت اور وثاقت کا معاملہ کچھ مختلف ہے۔ یہاں مواد کو معتبر بنانے میں وہ تمام مراحل شامل ہیں جن کے تحت انٹرویو کا ماحول فراہم کیا جاتا ہے، اسے ترتیب دیا جاتا ہے، اسے محفوظ کیا جاتا ہے اور پھر شائع کیا جاتا ہے۔

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 65

ہماری ہمدردانہ باتوں کا ہیروی گاؤں کے باسیوں پر اثر ہوا اور ہماری یہ باتیں، ان سب کے ووٹنگ میں حصہ لینے کا باعث بنیں۔ ہم خوشی خوشی دوپہر دو بجے بَلَبزان گاؤں چلے گئے۔ ووٹنگ کے لیے گاؤں کی مسجد کا انتخاب کیا گیا تھا۔

تہران کے عوامی اجتماعات میں موجود عراقی موکب کے ارکان سے گفتگو

ہمارے ایران آنے کی دو وجوہات ہیں: ایک وجہ ہمارا مذہب اور عقیدہ ہے، خاص طور پر "ولایت" پر ہمارا پختہ یقین۔ ہم مجاہدین ہیں اور ہمارا نصب العین شہادت ہے۔ ہمارے لیے عراق، ایران، یمن اور لبنان ایک ہی ہیں؛ ہمارے درمیان کوئی سرحد نہیں ہے۔ ہم خود کو صرف عراقی نہیں سمجھتے، بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم سب ایک ہی دین اور مذہب کے پیروکار ہیں؛ ہمارا ہدف ایک ہی ہے اور وہ ہے دشمن کی نابودی۔

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 64

28 مارچ 1979 کو شیخ عزالدین حسینی نے ایک اعلامیے کے ذریعے یہ اعلان کیا کہ ’اسلامی جمہوریہ‘ کا مفہوم ہمارے لیے واضح نہیں ہے اور انہوں نے کُردستان کی عوام سے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا۔

"رہبر معظم، انقلاب کی راہ میں"

وہ شخصیت، جو اسلامی انقلاب کی جدوجہد اور دفاعِ مقدس (جنگ) کے ایام کی تاریخ نویسی اور اس انقلاب کے پرچار کو ایک تاریخی ضرورت اور مذہبی و قومی فریضہ سمجھتی تھی، اپنے چاہنے والوں کو ان شیریں یادوں کے ساتھ تنہا چھوڑ کر معبودِ حقیقی سے ملنے کے لیے اپنے ابدی اور عرفانی سفر پر روانہ ہوگئی: "ارجعی الی ربک راضیة مرضیه، فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی"
 

ایک فوجی مشق کی یادداشت؛ علی تحیری کی زبانی

شاہ فوراً میری طرف پلٹا۔ وہ غصے سے لال چہرے کے ساتھ قریب آیا اور اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھ کر پوچھا: "کیا ہوا؟ کیا کوئی چیز تمہیں پریشان کر رہی ہے؟" میں نے کہا: "قربان! یہ آپ کو غلط رپورٹ دے رہے ہیں۔ ہم 28 ویں رجمنٹ کے اصطبل میں ٹھہرے ہوئے ہیں اور ہمیں جو راشن دیا جا رہا ہے وہ عام سپاہیوں کا ہے، ہمیں افسران کے راشن سے محروم رکھا گیا ہے۔"
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔