زبانی تاریخ (ایران)

تنہائی والے سال – بائیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

اسکندری، علی رضائی اور میں نے پہلے سے ہماہنگی کی ہوئی تھی کہ ہر کسی کے ساتھ چچا (ریڈیو) کا ایک سامان ہو – اور خود چچا - میرے ساتھ تھے۔ ہم ایک سیل میں داخل ہوئے۔ ہم نے کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے سب سے پہلے پورے کمرے کا جائزہ لیا تاکہ چچا نوروز کو چھپانے کیلئے کوئی مناسب جگہ ڈھونڈیں

تنہائی والے سال – اکیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

اس حالت میں کہ اُس نے میری آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی تھی، ہم اُس کے ساتھ راہداری سے گزرے اور لفٹ کے ذریعے نچلے طبقے میں گئے۔ راہداری طے کرنے کے بعد ہم ایک کمرے میں داخل ہوئے اور اُس نے مجھے ایک کونے میں کھڑا کردیا۔

یادوں بھری رات کا ۲۹۲ واں پروگرام

ڈاکٹر چمران اور لال رومالوں کے واقعات کا بیان

ایران کی زبانی تاریخ کی سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۲ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۸ جون ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس تقریب میں عبد اللہ نوری پور، مریم کاظم زادہ اور مہدی زمردیان نے عراق کی ایران پر مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ کے دوران اپنے اپنے واقعات کو بیان کیا۔

"نظریہ تاریخی شفاہی" نامی کتاب کی اشاعت

کتاب "زبانی تاریخ کی تھیوری" لین آبرامز نے تحریر کی ، جس کا ترجمہ علی فتح علی آشتیانی نے کیا۔ اور پھر ۲۰۱۸ میں ادارہ ادبیات برائے انقلاب اسلامی اورانتشارات سورہ مہر نے اس کی نوک پلک سنوار کر بازار کی زینب قرار دیا۔

تنہائی والے سال – بیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

مئی ۱۹۸۲ کے آخری دنوں میں، ایک رات جب ہم داستان سننے میں مصروف تھے، داستان لکھنے والے نے اچانک ،گھٹی ہوئی آواز میں زور لگاتے ہوئے کہا: دوستوں، خرم شہر آزاد ہوگیا!

زبانی تاریخ میں اسناد و مدارک کی اہم ترین کارگردگی

زبانی تاریخ کی تدوین میں اسناد کی سب سے اہم کارکردگی بلاشبہ ان اسناد سے استفادہ کرنا ہے جن کے صحیح ہونے کا یقین محقق کو ہے اور اسی طرح وہ زبانی واقعات بھی ہیں جو مختلف زاویوں سے کسی ایک خاص موضوع کے متعلق حاصل ہوئے ہیں

"رفیق مثل رسول" نامی کتاب کی مؤلفہ شہلا پناہی کے ساتھ بات چیت

واقعات کا لکھنا یعنی تسبیح کے دانوں کو پرونا

مؤلفہ شہلا پناہی واقعات لکھنے والوں میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے مواصلات کے شعبہ میں اپنی پڑھائی مکمل کی اور وہ شہدائے مدافع حرم کے واقعات کو جمع کرکے لکھتی ہیں۔ اس سلسلے میں اُن کی کارکردگی اس بات کا بہانہ بنی کہ ایران کی زبانی تاریخ اُن سے "رفیق مثل رسول" نامی کتاب اور اسی طرح اُن کے لکھے جانے والے آثار میں تحقیق اور انٹرویو کے طریقہ کار کے بارے میں بات چیت کرنے کیلئے اُن کے ساتھ بیٹھے۔

تنہائی والے سال – اُنیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

شروع میں جو باتیں ہم ریڈیو سے سنتے تھے وہ مختلف طرح کی ہوتی تھیں۔ ریڈیو حتی بی بی سی اور دوسرے چینل بھی پکڑلیتا۔ لیکن ایک ہفتے بعد نیا قانون تشکیل پانے کے ساتھ، ریڈیو کا ریسیور صرف ایران کی فریکوینسی کو پکڑتا تھا۔

کتاب "کس نے میرا لباس پہنا" میں زبانی تاریخ کی روش سے استفادہ

کاتب نے کتاب کے مقدمے میں قارئین سے یہ گزارش کی ہے کہ محسن فلاح کی قید، قید ہونے کی جگہ، وقت اور کیفیت اور نیز اس کے اُس شہید سے شبہات، کہ جسے محسن فلاح سمجھ کر دفنایا گیا تھا (لیکن حقیقت میں گمنام تھا) اور اس کا مفصل ذکر کتاب میں موجود ہے، سے آگاہی ہونے کے بعد اپنے اردگرد کسی ایسے خاندان کو تلاش کریں جو اپنے عزیز جوان کا منتظر ہو اورورثا کے مل جانے پر کاتب کو اطلاع دیں۔

بہشت زہرا (س) میں موجود ایک یادگار تصویر کی کہانی

دھماکے کے بعد کا لمحہ

یہ اس تصویر کے بارے میں ہونے والے معجزات میں سے ایک ہے؛ اُس نے مٹی کے نیچے سے کیمرے کو ڈھونڈ لیا، اُس نے مٹی سے اٹے رومال سے اُس کے لنز کو صاف کیا اور تصویریں کھینچنا شروع کردیا۔
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں