شاہ انقلاب سفید نافذ کرنے پر مامور تھا

بالآخر امام (رح) اور بقیہ علماء نے فیصلہ کیا کہ خرم آباد کے عالم دین آیت اللہ روح اللہ کمال وَند نامی کو شاہ سے گفتگو کیلئے دربار بھیجیں۔ انہوں نے شاہ کے ساتھ ملاقات میں علماء کی نظر پیش کی اور شاہ سے مزید وضاحت چاہی اور اسے شخصی مفادات کی بنا پر کیئے جانے والے فیصلوں، قانون کی خلاف ورزی اور اس کی اسلام کی مخالفت کے نتائج سے خبردار کیا۔

اسلامی انقلاب کے بعد پہلا ریفرنڈم

" استقلال، آزادی، جمہوری اسلامی" کا نعرہ یوں تو پہلوی دور حکومت میں کئی بار لگایا جا چکا تھا لیکن اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اب یہی نعرہ حکومت سازی کے لئے لگایا جانے لگا۔ اس موقع پر امام خمینی رح کی ہدایات پر اسلامی انقلاب کی کامیابی کے چند مہینوں کے اندر اندر ہی عوامی رائے جاننے کے لئے ریفرنڈم کروایا گیا جس کے نتیجے میں ایران میں اسلامی طرز حکومت کو ایران کے اصل نظام حکومت کے طور پر چن لیا گیا۔
۲۷۷ ویں یادوں بھری رات

اطلاعات، تیراکی اور ہمارے طلب کئے گئے وائرلیس سیٹ

ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، یادوں بھری رات میں مصطفی کریم پناہ، احمد قاسمی بیان اور رضا صفر زادہ نے آٹھویں و الفجر آپریشن سے متعلق اپنے واقعات کو بیان کیا اور دفاع مقدس کے دنوں کی یادوں کو تازہ کیا۔
علی میرزا خانی کی یادداشتیں

ایسا شہید جو ۱۵ دن بعد جنگی محاذ پر واپس آگیا!

انصار بٹالین کے اراکین کی سالانہ نشست میں مجھے دفاع مقدس میں موجود اس بٹالین کے سپاہیوں سے  گفتگو کرنے کا ایک اچھا موقع فراہم ہوا۔ میں جس سے بھی کوئی واقعہ سنانے کا کہتا وہ کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے اپنی جان چھڑالیتا۔ لیکن جب وہ آیا تو  سب نے مسکراتے ہوئے اُس کا استقبال کیا۔ اُس کے اپنے دوستوں سے بات چیت کرنے کے انداز سے پتہ چل رہا تھا کہ وہ انصار بٹالین کے پرجوش سپاہیوں میں سے تھا۔ اُس کے ایک دوست نے اُس کا ہاتھ تھاما اور اُسے میرے طرف لے آیا۔ اُس نے کہا:

پہلے انقلابی مارچ کی پہلی تصویر

وقت آن پہنچا اور ہمارے جوانوں نے اس کپڑے پر بنی تصویر کو لکڑیوں سے باندھ کر پلک جھپکتے ہی نمازیوں کی آنکھوں کے سامنے بلند کر دیا اور اسے بالکل آگے جا کر نصب کردیا۔ پھر کیا تھا مجمع نعرہ تکبیر اور صلواۃ کی صدائوں سے گونج اٹھا اور عوام نے جوشیلے انداز میں نعرے لگانا شروع کردیئے
۳۲ سال پہلے کا سفر

محاذ پر تیسری عید

میں نے سن ۱۹۸۵ء میں محاذ پر اپنی تیسری عید اس حال میں گزاری کہ مجھ پر دو ذمہ داریاں تھیں، ایک تو سپاہ مریوان کے ثقافتی شعبہ کے زیر نظر مرکز چنارہ میں چلنے والے سپاہ کے ثقافتی شعبہ کا انچارج بنا دیا گیا اور دوسرا یہ کہ مجھے مرکز چنارہ میں کمانڈر کے ساتھ کام کرنا پڑ رہا تھا۔
وہ لمحات جو روح انگیز حیاتی کی یادوں کا حصہ بن گئے

ماہ شہر کے واحد ہسپتال میں جنگ کے ابتدائی ایام

روح انگیز حیاتی نے رضاکار افراد کی ضرورت کا اعلان سنتے ہی، خود کو اپنے شہر کے واحد ہسپتال تک پہنچایا اور وہاں امدادی سرگرمیاں انجام دیں۔ جو لوگ آٹھ سالہ دفاع مقدس کے دوران صوبہ خوزستان کے ایک چھوٹے سے اور ساحلی شہر میں رہائش پذیر رہے وہ جانتے ہیں کہ ماہ شہر نے فوجیوں کی امداد میں، خاص طور سے زخمیوں کی بحالی اور اُن کے ابتدائی علاج میں اہم کردار اد کیا ہے۔
زبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتیں – دوسرا حصہ

انٹرویو لینے والے کی خصوصیات

زبانی تاریخ میں انٹرویو لینے والے کیلئے ضروری ہے کہ وہ جس کام کو کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اُس کے بارے میں اُس کے پاس کافی معلومات کا ذخیرہ ہو۔ انٹرویو لینے میں علمی اور معلوماتی کمزروی اُسے نہ صرف واقعات سمجھنے میں مشکل سے دوچار کریں گی بلکہ سوالات پوچھنے اور انٹرویو کو صحیح سے جاری رکھنے میں کمزوری کا سبب بنیں گی۔

قم المقدسہ کی معروف دینی درسگاہ مدرسہ فیضیہ کے نشیب وفراز

مدرسہ فیضیہ عالم اسلام کے بہت سے نامور علمائے کرام اور بزرگان دینی کی تعلیم و تدریس کا مرکز رہا ہے۔ سید محمد باقر میرداماد، صدرالمتالہین شیرازی جنہیں ملا صدار کے نام سے پہچانا جاتا ہے، ملا فیض کاشانی، ملا عبدالرزاق لاہیجی، شیخ عبدالکریم حائری، سید حسین بروجردی اور امام خمینی رح جیسی مشہور و معروف شخصیات نے اس مدرسے میں تعلیم حاصل کی اور تدریس و ترویج علم کی خدمات انجام دیں۔
زبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – پہلا حصہ

زبانی تاریخ، ثقافتی تبادلے کا دوسرا نام

یادوں کی جمع آوری ایک اہم کاوش ہے اگر یہ کام فعال اور بامقصد انٹرویوز کے ذریعے انجام پائے تو اسے "زبانی تاریخ" کہا جاتا ہے۔
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔