ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، چودہواں حصہ

خانہ فرہنگ کا راستہ گم ہوچکا تھا

رکشے والے نے کرایہ بڑھانے کے لئے کہا کہ اسے راستہ معلوم نہیں میں نے اسے سمجھایا کہ بھائی تم چلنا شروع کرو میں گلیاں ، سڑکیں دیکھ کر خود راستہ پہچان لوں گی اور ہم خانہ فرہنگ پہنچ جائیں گے۔ کچھ دور سفر کرنے پر مجھے احساس ہوا راستہ طویل ہوگیا ہے اور خانہ فرہنگ کے آس پاس کی گلیوں کا کوئی نام و نشان نہیں ہے

انجمن اسلامی معلمان کا قیام !

سن 1978ء میں  جب جناب رجائی زندان سے آزاد ہوئے تو ہم ان سے ملنے ان کے گھر گئے۔ اگرچہ وہ زندان کے شکنجہ اور سختیوں کے باعث بہت ناتوان و ضعیف ہوچکے تھے؛ مگر بلند ہمت تھے اور ان ہی دنوں میں جب لوگوں کے اعتراضات و احتجاجات اپنے عروج کو پہنچ چکے تھے، انھوں نے  کہا: ہمارے لئے بھی لازم ہے کہ ہم دوبارہ اپنی سرگرمیوں کا آغاز کریں۔ اس ملاقات کے بعد، انجمن اسلامی معلمان، اساتید کی سنجیدہ کوششوں کے نتیجے میں تشکیل پائی۔البتہ اس انجمن کی تشکیل کے مقدمات سن 1978ء میں

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تیسویں قسط

یونٹ کے افراد نے پیرامیڈک وارنٹ آفیسر "محمد سلیم" کی قیادت میں ہمارا استقبال کیا۔ موبائل یونٹ، 3 خندقوں پر مشتمل تھا۔ پہلی خندق چھوٹی اور مضبوط تھی جس میں دوائیاں رکھی جاتی تھیں، دوسری خندق اس کے برابر میں تھی جو پیرامیڈکس کے کام کرنے کی جگہ تھی، اور تیسری خندق دوسری خندقوں سے 40 میٹر کے فاصلے پر تھی جو ایمبولینس ڈرائیورز کے آرام کی جگہ تھی۔

یادوں بھری رات کا ۳۱۰ واں پروگرام – دوسرا حصہ

قاسم سلیمانی کا ثقافتی پہلو

اس پروگرام میں محسن مومنی شریف آرٹس کونسل کے سربراہ ، حجت السلام و المسلمین علی شیرازی، مرتضی سرھنگی، شہید محمد جمالی کی زوجہ مریم جمالی کی موجودگی میں کتاب " خزاں کے پچاس سال" کی نمائش ہوئی۔ یہ وہی کتاب ہے جو بقول جناب سرھنگی اور سردار سلیمانی نے اس پر کافی تاکید کی ہے۔

سردار صیاد شیرازی شہید کی یادداشیں

پہلوی حکومت کے سامنے استقامت و پائیداری!

صیاد! ایک طرف سے امام نے اپنے اعلانات میں فرمایا ہے کہ یہاں سے فرار کر جائیں۔ اور آپ کہہ رہے ہیں استقامت دکھاؤ اس لیے کہ چھاؤنی میں رہنا ضروری ہے۔ بالآخر ایک دن تو اسلحہ اٹھانا ہی ہے

آیت‌الله عبدالله محمدی کی یادداشتیں

خرم شہر کے پولیس اسٹیشن پر قبضہ

سلام علیک اور خیریت وغیرہ پوچھنے کے بعد مجھ سے اس طرح مخاطب ہوئے : جناب محمدی! پولیس اسٹیشن آپ کے اور دوسرے علماء کے اختیار میں ہے۔ ہم بھی آپ کے تابعدار ہیں۔ میں نے کہا ، "ٹھیک ہے ، میں پولیس اسٹیشن آرہا ہوں۔"

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – اُنتیسویں قسط

ایمبولینس رکی اور ہم پانی کے کنویں کے پاس اترے۔ ہم نے ڈول کو پانی سے نکالا اور ہاتھ منہ دھویا۔ ڈرائیور نے ریڈی ایٹر میں بھی تھوڑا پانی ڈالا۔ چند لمحوں کے لئے ہم اس گاؤں میں چہل قدمی کرنے میں مشغول ہو گئے۔ میں نے اپنے پاس موجود چھوٹے کیمرے سے کچھ یادگار تصویریں کھینچیں۔ اس کے بعد میں نے مزار کا رخ کیا۔

حکومت کے بائیکاٹ کے لئے دعائے توسل کا اہتمام

کچھ راتوں کے بعد دوبارہ آئے اور ہمارے بیٹھنے کی جگہ پر پانی گرادیا تاکہ کوئی نہ بیٹھ سکے اس کے باوجود بھی ہم کسی اور جگہ کا انتخاب کرتے جو خشک ہوتی وہاں بیٹھ جاتے۔ اس طرح اس دعا کا انعقاد حکومت کے خلاف ایک حربہ ثابت ہوا

میں اپنے اسماعیل کو تیرے حوالے کرتی ہوں!

"ایک سوم سیب" یعنی ایک تہائی سیب نامی کتاب دفاع مقدس کے دو شہید مصطفی اور مجتبی بختی کی والدہ "خدیجہ شاد" کی زندگی کے واقعات پر مشتمل ہے جس کو محمد محمودی نے تحریر کیا ہے۔ ۲۹۶ صفحات پر مشتمل اس کتاب "خط مقدم" پبلیکیشنز نے شائع کیا ہے۔

مسجد گوہر شاد میں ہونے والا دوسرا حادثہ

قم میں آیت اللہ گلپایگانی، مشہد میں آیت اللہ شیرازی نے کل عوامی سوگ کا اعلان کیا ہے اور یہ ممکن ہے کہ دوسرے شہروں میں اس کے اثرات مرتب ہوں، اطلاعات کے مطابق آیت اللہ شریعت مداری اور قم کے باقی علماء نے ایک بیان جاری کرکے اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے

امام خمینی ؒ کی تقریر کو ریکارڈ کرکے منتشر کرنے کا طریقه

سن ۱۹۶۳  اور ۱۹۶۴ میں میرے اہم ترین کاموں میں سے ایک، امام خمینی ؒ کے خطابات اور جلسات میں شرکت کرنا تھا۔ بنیادی طور پر ہم قم میں پیش آنے والے ہر حادثے سے مطلع ہوجاتے تھے اور کوشش کرتے کہ قم جائیں اور پیش آنے والے حادثات کے بارے میں معلومات حاصل کریں اور تحریک کے آغاز سے ہی همارا طریقہ کار تھا۔ قم میں امام خمینی ؒکے خطابات کو ریکارڈ کرنا اور ریکارڈ شدہ کیسٹوں  کو تہران منتقل کرنا میرے ذمہ دار یوں میں سے ایک تھا۔ اور یہی وجہ تھی کہ میں ہمیشہ امام خمینی ؒ

سفید انقلاب کے خلاف احتجاج میں آیہ اللہ بھبھانی کے گھر پناہ لینا

جب امام خمینی کی طرف سے سفید انقلاب نامی ریفرنڈم کے بائیکاٹ کا اعلان ہوا تو علماء اور مراجع نے بھی اس کا مقابلہ شروع کیا اور لوگوں کو اعلانات اور انقلابی بیانات کے ذریعے اس ریفرنڈم میں شرکت سے منع کرنے لگے
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، چودہواں حصہ

خانہ فرہنگ کا راستہ گم ہوچکا تھا
رکشے والے نے کرایہ بڑھانے کے لئے کہا کہ اسے راستہ معلوم نہیں میں نے اسے سمجھایا کہ بھائی تم چلنا شروع کرو میں گلیاں ، سڑکیں دیکھ کر خود راستہ پہچان لوں گی اور ہم خانہ فرہنگ پہنچ جائیں گے۔ کچھ دور سفر کرنے پر مجھے احساس ہوا راستہ طویل ہوگیا ہے اور خانہ فرہنگ کے آس پاس کی گلیوں کا کوئی نام و نشان نہیں ہے

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔