کتاب "کس نے میرا لباس پہنا" میں زبانی تاریخ کی روش سے استفادہ

کاتب نے کتاب کے مقدمے میں قارئین سے یہ گزارش کی ہے کہ محسن فلاح کی قید، قید ہونے کی جگہ، وقت اور کیفیت اور نیز اس کے اُس شہید سے شبہات، کہ جسے محسن فلاح سمجھ کر دفنایا گیا تھا (لیکن حقیقت میں گمنام تھا) اور اس کا مفصل ذکر کتاب میں موجود ہے، سے آگاہی ہونے کے بعد اپنے اردگرد کسی ایسے خاندان کو تلاش کریں جو اپنے عزیز جوان کا منتظر ہو اورورثا کے مل جانے پر کاتب کو اطلاع دیں۔

بہشت زہرا (س) میں موجود ایک یادگار تصویر کی کہانی

دھماکے کے بعد کا لمحہ

یہ اس تصویر کے بارے میں ہونے والے معجزات میں سے ایک ہے؛ اُس نے مٹی کے نیچے سے کیمرے کو ڈھونڈ لیا، اُس نے مٹی سے اٹے رومال سے اُس کے لنز کو صاف کیا اور تصویریں کھینچنا شروع کردیا۔

تنہائی والے سال – اٹھارہواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

جس وقت ہمیں اس کیمپ میں لایا جا رہا تھا، نگہبانوں کا ہم سے اچھا رویہ نہیں تھا اور وہ ہمیں خمینی کا ساتھی کہہ کر پکارتے تھے۔ البتہ یہ بات افتخار اور عزت کا باعث تھی کہ دشمن ہمیں اسلامی حکومت اور امام کا معتقد اور حامی سمجھتا ہے

مختصر زبانی تاریخ

بدلتے زمانے کے جدید تقاضوں نے زبان اور زبان سے بیان ہونے والی رواتیوں ، حکاتیوں اور واقعات کو نئی نسلوں کی استعداد اور حوصلے کو سامنے رکھتے ہوئے علوم انسانی کے احاطے میں رہ کر موثر مفید اور دلچسپ بنا دیا ہے

تنہائی والے سال – سترہواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

کچھ اور ساتھی بھی ایسے تھے جو عہد پورا کرنے والے اور اسلامی حکومت کے طرفدار تھے جو مذہبی پروگرام ، اُسی چھوٹے سے قرآن کے ساتھ جلسہ قرآن اور نماز جماعت کیلئے بہت زیادہ کوششیں کرتے تھے۔

سن ۱۹۵۷ سے لیکر سن ۱۹۶۷ تک کے دستاویزات کے بارے میں

وہ دستاویزات جن کی تحقیق زبانی تاریخ کیلئے اہمیت کی حامل ہے

ایک وہ وقت بھی تھا جب پیغام رسانی کی واحد شکل کتاب ہی ہوا کرتی تھی۔ اور پھر رفتہ رفتہ اخبارات چھپنے لگے اور ساتھ ساتھ ریڈیو اور ٹیلی ویژن بھی منظر عام پر آگئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کتاب کے چھپنے کی تعداد اور موضوعات کے تنوع میں نمایاں کمی آگئی اور وہ سب کچھ جو کتاب کے اختیار میں تھا میڈیا کے دیگر نئے مصادیق کے ہاتھوں میں چلا گیا

اقلیمہ جاہدی سے ہونے والی گفتگو

محاذ پر جہادی سرگرمیاں

میں خواتین کو جمع کرتی اور ہم ایک بڑے سے گھر میں کام کرتے تھے۔ ہم سپاہیوں کیلئے کپڑے سیتے تھے، مربا اور آچار بناتے تھے۔ زخمیوں کے خون لگے کپڑے جو محاذ سے ٹرک پر آتے تھے، اُنہیں دھوتے تھے

تنہائی والے سال – سولہواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

مجھے آپ لوگوں سے زیادہ اذیت اور شکنجوں میں رکھا گیا ہے! چونکہ بعثی مجھ سے کہا کرتے: "تم تو عرب ہو، ہم سے کیوں جنگ کرتے ہو" اور وہ مسلسل مجھے سے اپنے ساتھ تعاون کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں

یادوں بھری رات کا ۲۹۱ واں پروگرام

دو آپریشنز کی یادیں

دفاع مقدس کے سلسلے میں یادوں بھری رات کا 2۹۱ واں پروگرام، ثقافتی تحقیق، مطالعات اور پائیدار ادب کے مرکز اور ادبی و مزاحمتی فن کے مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام،۲۴ مئی ۲۰۱8ء کو آرٹ گیلری کے سورہ آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ اگلا پروگرام ۲۸ جون کو ہوگا۔

تنہائی والے سال – پندرھواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

ہم لوگوں کے درمیان کچھ کرنل تھے؛ ایک بحری افواج کے ڈاکٹر، کچھ پولیس کے آفیسرز او ر اسی طرح ایشیا کے نمبر ون ویٹ لفٹر جناب "علی والی" جو رضاکارارانہ طور پر محاذ پر آئے تھے۔ درجے والے کچھ پرانے لوگ بھی تھے جو افسر بن گئے تھے اور وہ تجربہ اور ڈیوٹی میں سینئر تھے۔ اُن میں سے ایک جو ساحلوں کی سیکیورٹی کے ادارے میں کام کرتے تھے، وہ باقی سب سے بڑے تھے اور اُن کا قد بلند تھا اور وہ دیکھنے میں لاغر نظر آتے تھے ، وہ علاقے سے گزرتے ہوئے پکڑے گئے اور قیدی بن گئے تھے
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں