تنہائی والے سال – چوبیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

اس مدت میں ہم نے ریڈیو پر جو افسوسناک ترین خبر سنی، وہ جمہوری اسلامی ایران کی پارلیمنٹ میں دھماکہ اور شہید بہشتی اور امام و انقلاب کے ۷۲ بہترین ساتھیوں کی شہادت خبر تھی۔ سب کی حالت عجیب ہوگئی تھی اور بری طرح رو رہے تھے۔ ہم نے خداوند متعال کی بارگاہ میں – بندھے ہاتھوں اور ٹوٹے دلوں – سے دعا مانگی کہ امام اور انقلاب کو سازشوں سے محفوظ رکھے۔

یادوں بھری رات کا ۲۹۳ واں پروگرام

شہدائے جنگ کی شوخیاں اور راز

دفاع مقدس کے سلسلے میں یادوں بھری رات کا 2۹۳ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام،۲۶ جولائی ۲۰۱۸ء کو آرٹ گیلری کے سورہ آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔

بازی دراز کا دورہ

ہم اس چھاؤنی میں تھے کہ بسیج ریڈیو نے یہ خبر نشر کی عنقریب آیت اللہ اشرفی اصفہانی "بازی دراز" والے علاقے کا دورہ کریں گے۔ یہ خبر سنتے ہی میں تصدیق کی خاطر کرمانشارہ روانہ ہوگیا وہاں پہنچ کر آیت اللہ کی اقتدا میں نماز جمعہ ادا کی اور وہاں پر تبلیغاتی امور سے متعلق قیام پذیر جوانوں سے گفتگو کے بعد یہ تصدیق ہوگئی کہ ریڈیو کی خبر درست ہے

تنہائی والے سال – تیئیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

نگہبانوں میں سے ایک آدمی کے علاوہ باقی سب ہمیشہ چکر لگاتے رہتے تھے اور وہ اپنا کھانا احاطے میں موجود گول میز پر کھاتے تھے اور کھانے کے بعد عام طور سے شراب لاتے تھے اور بلند آواز میں قہقہے لگاتے تھے۔ اُن کی آنکھوں سے قساوت اور بے رحمی بری طرح ٹپک رہی ہوتی تھی۔

علی فدائی کی یادوں کے ساتھ

صرف خربوزہ بچا ہے!

عراقی فوجی جن سرنگوں میں مستقر تھے وہ مستطیل شکل کی تھیں۔ ہماری تعداد کم تھی۔ ہم اس فکر میں تھے کہ اسلحہ ڈھونڈ کر سرنگ کے ابتدائی حصے پر جاکر اُن کا محاصرہ کرلیں کہ عراق نے کاٹیوشا میزائل مارے، لیکن اُس کے اپنے ہی فوجی مارے گئے!

تلاش و جستجو ایک محقق کی سب سے بڑی خصوصیت ہے

پوشیدہ تاریخ اور تاریخ شفاہی

روایوں کے متلاشی اور ان سے انس رکھنے والوں کو ہمیشہ اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے روابط کو ان لوگوں سے ہمیشہ دوستانہ طرز پر محفوظ رکھیں تاکہ دوسرے راویان کو تلاش کرنے کی راہ ہموار ہو

تاریخ نگار، اولین صحافی

صحافی کو معاشرہ کا زندہ ضمیر فرد بھی کہا جاتا ہے اور میڈیا میں صحافی کو جمہوریت کا چوتھا رکن شمار کیا جاتا ہے

آخر کار یہ طے پایا کہ امام خمینی کے لئے کوئی مخصوص جگہ بنائی جائے

قم کو امام خمینی کی آمد کے لئے تیار کرنا

بالخصوص امام خمینی کی وہ شعلہ ور تقاریر جن سے اس تحریک کا آغاز ہوا تھا وہ مدرسہ فیضیہ میں ہی کی گئی تھیں، لہذا بہتر یہی تھا کہ اسی علمی اور سیاسی مکان کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا جائے۔ اس سلسلے میں جب مدرسہ میں داخل ہونے کے راستے کے بارے میں بحث ہوئی تو بعض لوگوں کا خیال تھا کہ اس کے داخلی اور خارجی راستے اس طرح کے اجتماعات اور جلسوں کے لئے مناسب نہیں ہیں اور لوگوں کو بالخصوص خواتین کو بہت سی مشکلات پیش آ سکتی ہیں

17 شہریور [۸، ستمبر] کے قتل عام کے خلاف بھوک ہڑتال

منافقت ، مجاہدین خلق کی ایک واضح صفت تھی اور مناقق کا اسم ان پر پوری طرح صادق آتا تھا۔ ہم نے بھوک ہڑتال کی مدت ایک ہفتہ طے کی تھی اور واقعی ہم نے ایک ہفتہ بھوک ہڑتال کی جس میں ہم روزانہ صرف دو کپ قہوہ وہ بھی بہت ہلکا ، استعمال کرتے تھے تاکہ جسم میں پانی کی مقدار برقرار رہے

کتاب " دادی امی کا باغ" میں کردی خاتون کے واقعات

خان زاد کے واقعات کے ساتھ ساتھ، اس کتاب میں روانسرا کے لوگوں کی ثقافت ، آداب رسوم ، لوگوں کی ایمانی کیفیت اور اس علاقے کے جغرافیہ کو سمجھانے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔ میں چاہتی تھی کہ اس کتاب میں اور زیادہ تصاویر اور اسناد شامل ہوں مگر نہیں
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں