دفاع مقدس میں محمد رضا رمضانیان کے واقعات

مورچوں کی تعمیرات سے لیکر انجینئرنگ ٹیکنیکل یونٹ کی کمانڈنگ تک

کتاب کا متن سوال جواب کی صورت میں ہے اور علی ہاشمی نے مبہم نکات کے حل اور سوالات کے جوابات کے لئے ذیلی حاشیے کا انتخاب کیا ہے۔ کتاب آغاز سے ہی بنا کسی اضافی بحث کے براہ راست محمد رمضانیان کی زندگی کو اُجاگر کرتی ہے

یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"

"پی ڈبلیو "نامی کتاب میں لکھے جانے والے حساس لمحات

اسکول کے زمانے سے ہی جامع مسجد لوشان میں بھی میری آمد و رفت اچھی خاصی ہوگئی۔ میں نماز اور قرآن پاک اسی مسجد میں جاکر پڑھا کرتا تھا اور پھر جلد ہی مسجد کے امام جماعت الحاج سلیمانی آشتیانی صاحب سے اچھی علیک سلیک ہوگئی۔ ان کے بارے میں سنا تھا کہ ان کو جلا وطن کرکے لوشان بھیجا گیا ہے

تنہائی والے سال – اکتیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

ہوا کھانے کے ابتدائی اوقات میں، دو افراد ہر طرف سے نگہبانوں کی دیکھ بھال کر رہے ہوتے تھے، ایسے میں داستانوں کو تقسیم کرنے والا انچارج بہت احتیاط سے کھڑکی میں موجود خالی جگہ سے اُسے دوسری عمارت کے اندر بھیج دیتا اور پھر اُسی عمارت کے اصلی دروازے کے پیچھے جاتا اور پوری احتیاط کے ساتھ، داستان حاصل کرنے والے سے اُس کی واپسی کے بارے میں وقت کو معین کرتا۔

یادوں بھری رات کا ۲۸۶ واں پروگرام

خلاء بازوں کے قابل فخر واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۶ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۵ اکتوبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس تقریب میں حسین کاتوزیان، علی رضا نمکی اور محمود محمودی نے دفاع مقدس کے دوران پائلٹوں کی بہادری کے واقعات کو بیان کئے

تنہائی والے سال – تیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

عمارت "الف" میں منتقل ہونے کے بعد ہماری صورتحال بہتر ہوگئی تھی اور ہم کچھ حد تک راضی ہوگئے تھے؛ لیکن ابھی تک ہوا کی مشکل موجود تھی کہ یہ ہماری ہمیشہ کی مشکل تھی

جون ۱۹۶۳ میں ارومیہ کے علماء کی گرفتاری

پولیس والا ٹرک آپ لوگوں کو اسی وقت تہران لے جانے کیلئے تیار کھڑا ہے اور وہاں لے جاکر آپ لوگوں قزل قلعہ زندان کی تحویل میں دیدیں گے! لہذا اگر آپ شاہ کی مخالفت کا ا رادہ نہیں رکھتے تو آکر تعہد نامہ پر دستخط کریں اور آزاد ہوجائیں

تنہائی والے سال – اُنتیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

خط یا بہتر ہوگا یہ کہوں کہ ہم نے مصیبت بھرے خط کو پورے کیمپ میں ایک شخص سے دوسرے شخص تک پہنچایا اور سب نے پڑھا۔ اُن پر بہت ہی سختیاں اور مشکلات گزری تھیں۔ اُس نے زندان اور قیدیوں کا تعارف کروانے کے ساتھ لکھا تھا

جب میں قم پہنچا ۔۔۔

تھانے کے انچارج نے امام جمعہ کے گھر پر مجھ سے کہا: اگر آپ یہاں رہے تو مجھے آپ کو گرفتار کرنا پڑے گا۔ آپ انتشار پھیلانے والے کے عنوان سے متعارف ہوئے ہیں اور اگر میں آپ کو گرفتار نہیں کروں تو میں خود خطرے میں ہوں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں