ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح؛ گیارہواں حصہ

اس وقت تک میں کبھی ایران سے باہر نہ گئی تھی۔ کوئی اور زبان مجھے آتی نہ تھی

عید الفطر کے اگلے دن، فہیمہ سادات کی ولادت ہوئی۔ علی کی امی کے بقول بہت اچھی صابرہ بچی ہے سارا ماہ رمضان المبارک صبر کیا کہ ہم روزہ رکھ لیں

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح؛ دسواں حصہ

اسلام نے بھی ہمیں یہی حکم دیا ہے۔ اگر دسترخوان سادہ ہو [پر تعیش نہ ہو] تو کیا یہ مہمان نوازی نہ ہوگی؟

میں سوچ رہی تھی کہ ہماری بے عزتی ہو گئی ہے۔ مہمان کے لئے کوئی اچھا کھانا بنانا چاہئے تھا۔ میری حالت خراب تھی اور ہمیشہ کی طرح مسکرا رہا تھا۔

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – چوبیسویں قسط

جفیر سپلائز سینٹر  گھر والوں کے ساتھ ایک ہفتے کی چھٹی گزارنے کے بعد مارچ 1981ء  کے شروع میں، میں گاؤں جفیر میں واقع میڈیکل یونٹ کے لیے روانہ ہوا۔ یہ گاؤں ڈویژن 9 اور 5 کے بیک اپ اور اسسٹنگ یونٹس کے پڑاؤ کے بعد ایک بڑے اور اہم فوجی علاقے  میں اور فورسز اور عراقی گاڑیوں کی جمع ہونے کی ایک جگہ میں تبدیل ہو چکا تھا۔  یہ گاؤں جس نے ہماری فورسز کو جگہ دی تھی اور اس تک جانے والے راستے، سب اگلے مورچوں کے یونٹس تک گولہ بارود، کھانے پینے کا سامان اور طبی ساز و

بحری افواج کے نام کا شہید ہمتی کے نام سے جڑ جانا

یادوں بھری رات کا۳۰۸ واں پروگرام

وَ جَعلنا مِن بَین اَیدیهم سَداً و مِن خَلفِهِم سَداً فَاَغشَیناهم فهم لایُبصِرون۔ میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ آٹھ سالہ دفاع مقدس کے دوران، آپریشنوں میں بحری افواج کے ہائر کرافٹ اسکوارڈ کے اسٹاف کے ساتھ تھا۔ ہمارے گھر والے جزیرہ خارک میں تھے

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تیئیسویں قسط

محاذ پر چھائی ہوئی خاموشی کی وجہ سے میں زیاده تر اپنی خندق کے پاس مطالعہ کرتا رہتا۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک گولی میرے اتنا قریب سے گزرے گی۔ ایک دن میں معمول کے مطابق مطالعے میں مشغول تھا کہ اچانک میری ناک سے کچھ سینٹی میٹر کے فاصلے سے ایک گولی گزری۔ میں گھبرا کر اپنی جگہ سے اچھل پڑا۔ میں نے دیکھا کہ ایک فوجی نے مینا کو ہاتھ میں پکڑا ہوا ہے اور اس کے شکار سے بہت خوش ہے۔ اس نے اس پرندے کا شکار کرنے کے ارادے سے گولی چلائی تھی خدا کا لطف و کرم نہ ہوتا

۴۲ طیاروں کی ٹولی کے ایک پائلٹ کے واقعات

یادوں بھری رات کا۳۰۷ واں پروگرام – چوتھا حصہ

ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۳۰۷ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ اکتوبر ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں امیر حبیبی، محمد غلام حسینی اور عطاء اللہ محبی نامی پائلٹوں نے عراق کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا ۔

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – بائیسویں قسط

اس نے جواب میں کہا: "کیوں نہیں ایسا ہی ہے لیکن ان کے پاس کچھ مقامی بھیڑیں ہیں جو انھوں نے غنیمت کے طور پر قبضے میں لے لی ہیں۔" میں نے کہا: " سمجھ گیا۔"

دوران جنگ کے ایک ڈاکٹر کی کہانی

ان شہریوں کا مداوا جنہوں نے ہمارا محاصرہ کیا تھا

میں اور ایک اراک سے تعلق رکھنے والا پاسدار ایمبولینس کی طرف دوڑے جیسے ہی ہم اس کے اسٹریچر کو ایمبولینس سے نیچے اتارنے لگے اچانک ہم پر شدید فائرنگ شروع ہوگئی۔ تب ہمیں احساس ہوا کہ وہاں موجود دیگر افراد آگے کیوں نہیں بڑھے

شاہی کارندوں کے نیزے امام خمینی رح کے پوسٹرز کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے

میں نے جو لکھا ہے اپنے دلی اعتقادات کی روشنی میں لکھا ہے۔ آج بھی کوشش کرتا ہوں کہ اپنے اشعار میں ہی موجود رہوں۔ جس شخص نے زندگی کے اتنے اہم واقعے کو دیکھا ہو وہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کسی مجاہد نے محاذ جنگ کو دیکھا ہو۔

یادوں بھری رات کا۳۰۷ واں پروگرام – دوسرا حصہ

سمندری گشت

پائلٹ آر پی جی سے فائر کرنے والا اور طیارہ آر پی جی بن گیا!

اس آٹھ سالہ دفاع مقدس کے دوران فضائی آرمی تیر کے نشانے پر تھی۔ جس دن عراق نے ایران پر حملہ کیا، ایران اور خاص طور سے فضائی آرمی کے حالات بہت خراب تھے

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – اکیسویں قسط

15 جنوری 1981ء،  شام کے وقت میں جفیر پہنچا اور معمول کے مطابق جو ڈیوٹی لیٹر میرا انتظار کر رہا تھا مجھے ملا۔  اگلے دن میں نے سامان سفر باندھا اور بریگیڈ کی "پ" بیس کیلئے روانہ ہوگیا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں نماز ظہر کے وقت وہاں پہنچوں گا جب ایرانی فورسز کی گولہ باری رک جاتی ہے۔ میں مقررہ وقت پر بریگیڈ کے کیمپ پہنچا۔ میڈیکل ڈپٹی ڈائریکٹر "حجام" نے اپنی ہمیشہ کی مسکراہٹ کے ساتھ میرا استقبال کیا۔  اس بار سب کچھ بدل چکا تھا اور کرنل اسٹاف "جواد

یادوں بھری رات کا۳۰۷ واں پروگرام – تیسرا حصہ

سن ۱۹۸۳ء میں ہماری ڈیوٹی

ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۳۰۷  واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴  اکتوبر ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں امیر حبیبی، محمد غلام حسینی اور عطاء اللہ محبی نامی پائلٹوں  نے عراق کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا ۔ آپ نے اس رپورٹ کے پچھلے حصے میں، پائلٹ بریگیڈیئر محمد غلام حسینی کے بیان کردہ واقعات کے پہلے حصہ کو پڑھ لیا۔ انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح؛ گیارہواں حصہ

اس وقت تک میں کبھی ایران سے باہر نہ گئی تھی۔ کوئی اور زبان مجھے آتی نہ تھی
عید الفطر کے اگلے دن، فہیمہ سادات کی ولادت ہوئی۔ علی کی امی کے بقول بہت اچھی صابرہ بچی ہے سارا ماہ رمضان المبارک صبر کیا کہ ہم روزہ رکھ لیں

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔