17 شہریور [۸، ستمبر] کے قتل عام کے خلاف بھوک ہڑتال

منافقت ، مجاہدین خلق کی ایک واضح صفت تھی اور مناقق کا اسم ان پر پوری طرح صادق آتا تھا۔ ہم نے بھوک ہڑتال کی مدت ایک ہفتہ طے کی تھی اور واقعی ہم نے ایک ہفتہ بھوک ہڑتال کی جس میں ہم روزانہ صرف دو کپ قہوہ وہ بھی بہت ہلکا ، استعمال کرتے تھے تاکہ جسم میں پانی کی مقدار برقرار رہے

علماء کا تہران یونیورسٹی میں پناہ لینا

آیت اللہ مطہری نے ہمیں پیغام دیا کہ محترم لوگوں کو تہران یونیورسٹی میں جمع کیاجائے ہم وہاں پناہ لیں گے۔ تہران کے مشرقی حصے کے تمام کام میرے ذمہ لگا دئیے گئے تھے۔ میں نے بہت سے لوگوں کو فون کیا کہ وہ بھی اس پناہ گزینی میں شریک ہوں۔

آج جب میں ان دنوں کے بارے میں سوچتا ہوں…

حضرت امام خمینی کی طرف سے صادر شدہ اعلانات کی فوٹو کاپی کروانا اور پھر آبادان شہر میں ان کی تقسیم بذات خود ایک معجزے سے کم نہ تھا۔ یہ کام خود ہم اپنے ہاتھوں سے کرتے تھے اس کے باجود کبھی کبھی یہ بات سمجھنا اور ماننا ہمارے لیے مشکل ہوجاتی تھی کہ بعض اعلانات کیسے تیار ہوئے اور کب اور کیسے لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچ گئے

امام خمینی ؒ کی آزادی کے بعد اُن سے ملاقات

ب کی کوشش تھی کہ حضرت امام کے گھر کے اندر جائیں۔ گھر البتہ پرانی طرز تعمیر کا تھا، جبھی مجھے اس کے گرنے کا خدشہ ہوا …۔ دروازہ بند کردیا گیا۔

امام خمینی ؒکے گھر میں ہونے والی تاریخی تقریر

اس تاریخی تقریر کے لئے جس دن کا انتخاب ہوا وہ ۲۶ اکتوبر ۱۹۶۴ کا دن تھا اور خزاں کا موسم تھا اور اگرچہ اس پروگرام میں شرکت کے لئے باقاعدہ طور ملکی سطح پر عوام کو دعوت نہیں دی گئی تھی لیکن اس کے باوجود قریبی قصبوں خصوصاً تہران کی عوام اور انقلابی افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی

دو موارد میں خصوصی تاکید

حضرت امام خمینی ؒ کی گفتگو پوری ہونے پر ہمیں بہت عجیب سا لگا اور سخت پریشانی لاحق ہوئی۔ ظاہر سی بات ہے پریشانی تو ہونا ہی تھی کہ اب اس تحریک کا مستقبل کیا ہوگا اور اب امام خمینی ؒ جدوجہد کی اس تحریک کو کیسے جاری رکھ پائیں گے؟

تنہائی والے سال – اٹھارہواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

جس وقت ہمیں اس کیمپ میں لایا جا رہا تھا، نگہبانوں کا ہم سے اچھا رویہ نہیں تھا اور وہ ہمیں خمینی کا ساتھی کہہ کر پکارتے تھے۔ البتہ یہ بات افتخار اور عزت کا باعث تھی کہ دشمن ہمیں اسلامی حکومت اور امام کا معتقد اور حامی سمجھتا ہے

مختصر زبانی تاریخ

بدلتے زمانے کے جدید تقاضوں نے زبان اور زبان سے بیان ہونے والی رواتیوں ، حکاتیوں اور واقعات کو نئی نسلوں کی استعداد اور حوصلے کو سامنے رکھتے ہوئے علوم انسانی کے احاطے میں رہ کر موثر مفید اور دلچسپ بنا دیا ہے

اقلیمہ جاہدی سے ہونے والی گفتگو

محاذ پر جہادی سرگرمیاں

میں خواتین کو جمع کرتی اور ہم ایک بڑے سے گھر میں کام کرتے تھے۔ ہم سپاہیوں کیلئے کپڑے سیتے تھے، مربا اور آچار بناتے تھے۔ زخمیوں کے خون لگے کپڑے جو محاذ سے ٹرک پر آتے تھے، اُنہیں دھوتے تھے

تنہائی والے سال – گیارہواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

ہم دونوں کیلئے بہت ہی قیمتی معاملہ تھا۔ مجھے اطمینان ہوگیا کہ میں نے جو آوازیں سنی تھیں وہ ایرانی خواتین کی آوازیں ہیں۔ صدام اور اُس کے نوکروں سے کوئی چیز بعید نہیں تھی۔ جس کو پکڑ سکتے تھے، پکڑ لیتے تھے
1
...
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں