۲۸۲ ویں یادوں بھری رات میں کہے اور سنے جانے والے واقعات

پائلٹ حسین لشکری اور مرصاد آپریشن کی یادیں

ایرانی زبانی تاریخ کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس کی یادوں بھری رات کے سلسلہ کا ۲۸۲ واں پروگرام، جمعرات کی شام ۲۷ جولائی ۲۰۱۷ء کو آرٹ گیلری کے سورہ آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں سردار اسد اللہ ناصح، منیژہ لشکری، پائلٹ حسین لشکری کی بیگم، پائلٹ احمد مہر نیا اور پائلٹ فرشید اسکندری نے اپنے واقعات سنائے۔

عاشورائی تقریریں

سانسوں کی آوازیں ہر پل بڑھتی جا رہی تھیں۔ آقائے خمینی میرے پاس سے اٹھے تاکہ جانے کیلئے تیار ہوں۔ میں پریشان تھی لیکن میں نے سب گھر والوں کو جگایا اور ان سے کہا، اٹھیں۔ باہر کے کچھ مرد گھر میں داخل ہونے والے ہیں۔ اٹھیں تاکہ نامحرم افراد نہ دیکھیں

بابا مجھے اسلحہ چاہئے

آہنی جالیوں کے پیچھے سے اپنے گھر والوں سے ملاقات کر رہا تھا۔ میری اہلیہ اور بچے جالی کی دوسری طرف تھے اور ہمارا درمیانی فاصلہ تقریبا دو میٹر کا تھا۔ بچے اپنی میٹھی میٹھی زبان میں میرا دل لوٹ رہے تھے۔ اور میں انہیں اپنی آغوش میں لینے کے لئے بے تاب تھا۔ بچوں نے اپنے معصوم لہجے میں مجھ سے سوال کیا کہ بابا گھر کب آئین گے اور میں نے بھی تتلا کر ان سے اگلے ہفتے گھر واپس آنے کا وعدہ کر لیا۔
یادوں بھری رات کا ۲۷۴ واں پروگرام

پہلی بار بیان ہونے والی داستان

"یادوں بھری رات " کے سلسلے کا ۲۷۴ واں پروگرام ۲۴ نومبر، ۲۰۱۶ء کو جمعرات کی شام آرٹ گیلری میں منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں محمد مجیدی، محمد ابراہیم بہزاد پور اور امیر حسین حجت نے دفاع مقدس کے دوران کی اپنی یادوں کے دریچوں کو وا کیا۔
۲۷۳ ویں یادوں بھری رات کی رپورٹ

کمان ۹۹ اور دیگر فضائی آپریشن سے متعلق خلابازوں کی یادیں

مسلط کردہ جنگ سے ۹ مہینے پہلے، تقریباً صبح کے وقت میں نے بہت ہی برا خواب دیکھا پھر میری آنکھ کھل گئی۔ میں تین دن تک یہی خواب دیکھتا رہا اور میں ہر دفعہ خواب میں دیکھتا کہ میرا جہاز سقوط کر گیا ہے اور میرا جنازہ پیراشوٹ کے ذریعے زمین کی طرف جا رہا ہے
دینی علوم میں مورد بحث عناوین میں سے ایک موضوع کا تاریخی نشان

شہید محمد مفتح کی سب سے پہلی تحریر

شہید مفتح کی طرف سے جوانی میں لکھی جانے والی یہ تحریر اس موضوع (حجاب و بے حجابی) پر آنے والی تحریروں میں گام اوّل کی حیثیت رکھتی ہے اور قلم کے میدان میں مذہبی سرگرم افراد اور علمائے دین کی طرف سے اس موضوع پر بعنوان ردّ عمل شروع کی تحریروں میں سے شمار ہوتی ہے۔
شہید محمد علی رجائی کے دو واقعات

وزیر کے ساتھ مذاق!

جس زمانے میں زاہدی صاحب تہران کے تربیتی امور کی ذمے داری کو سنبھالے ہوئے تھے، البرز کے سیکنڈری اسکول میں ایک بڑا سیمینار منعقد ہوا اور اس کے ساتھ ہی تربیتی امور کے ارکان کی کوششوں سے ایک عظیم الشان نمائش بھی منعقد ہوئی جس میں صوبہ تہران میں تربیتی امور سے متعلق ہونے والے کاموں اور چیزوں کی نمائش لگائی گئی۔
۲۷۱ ویں یادوں بھری رات

محلہ اصفہانک کے دلاروں کی داستانیں

عبد الرضا طرازی ۲۷ ویں محمد رسول اللہ (ص) ڈویژن کے وائرلیس آپریٹر اور کربلا بٹالین کے ڈپٹی کمانڈر جنرل رحیم قیمشی نے دفاع مقدس میں مغربی اور جنوبی محاذوں پر پیش آنے والے اپنے واقعات بیان کئے۔
۲۷۰ ویں یادوں بھری رات

نہر اروند میں ہونے والے آپریشن کی داستانیں

سن ۱۹۸۶ء جنگ کے سخت ترین سالوں میں سے تھا اور اسی سال سب سے زیادہ لوگ شہید ہوئے ہیں؛ کیونکہ بہت ہی تھوڑے عرصہ میں شدید آپریشنز کئے گئے
ڈاکٹر قمر آریان کی شائع نہ ہونے والی یادداشت

وہ شعر جو مصدق تک نہ پہنچ سکا

سن ۲۰۱۰ء کے گرمیوں کے دنوں میں ایک دن صبح تہران کے محلہ بہجت آباد گیا ؛ ایسے گھر پر، جس کے دروازے کی گھنٹی کے اوپر "زرین کوب" لکھا ہوا تھا، لیکن ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزر چکا تھا کہ ڈاکٹر عبد الحسین زرین کوب اس گھر اور اس دنیا کو خیرباد کہہ چکے تھے۔ اب اس گھر میں ہمیشہ اُن کا ساتھ دینے والی زوجہ اکیلی رہتی تھیں۔
1
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔