جون ۱۹۶۳ میں ارومیہ کے علماء کی گرفتاری

پولیس والا ٹرک آپ لوگوں کو اسی وقت تہران لے جانے کیلئے تیار کھڑا ہے اور وہاں لے جاکر آپ لوگوں قزل قلعہ زندان کی تحویل میں دیدیں گے! لہذا اگر آپ شاہ کی مخالفت کا ا رادہ نہیں رکھتے تو آکر تعہد نامہ پر دستخط کریں اور آزاد ہوجائیں

جب میں قم پہنچا ۔۔۔

تھانے کے انچارج نے امام جمعہ کے گھر پر مجھ سے کہا: اگر آپ یہاں رہے تو مجھے آپ کو گرفتار کرنا پڑے گا۔ آپ انتشار پھیلانے والے کے عنوان سے متعارف ہوئے ہیں اور اگر میں آپ کو گرفتار نہیں کروں تو میں خود خطرے میں ہوں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔۔۔

ہم ایک دو گھنٹے تک وہاں رہے جب تک جنازوں کو جمع کرلیا گیا۔ ہمارے محلے کے افراد بہت زیادہ تھے۔ فضائی آرمی کے علاقے کے افراد، وہی محلے کے افراد و ۔۔۔ ورزش کرنے والے افراد، فوٹبال کھیلنے والے افراد، سب رو رہے تھے اور یہ خون تھا جو اب جاری ہوچکا تھا اور یہ خون انقلاب کی کامیابی پر جاکر رکا

ہم نے ۵ جون(۱۵ خرداد) والے دن بازار کی طرف حرکت کی ۔۔۔۔

سڑکوں پر سپاہی لوگوں کو مار رہے ہیں تم یہیں کھڑے رہو میں تمہیں تمہارے گھر تک چھوڑ کر آنے کیلئے اپنے گھر جاکر واپس آتا ہوں

جلاوطنی میں ابوذر لائبریری کا قیام

مجھے کوہ سنگی کے پیچھے کسی کی تحویل میں دیا گیا اور مجھے ایک سیل کے اندر بند کر دیا۔ میرے برابر والے سیل میں ایک بدکردار عورت کو قید کیا ہوا تھا، آفیسرز بار بار آتے اور اُس کے ساتھ مذاق کرتے اور گندی گندی باتیں کرتے

وہ واقعہ جو رہبر انقلاب اسلامی نے یادوں بھری رات میں سنایا

شروع میں تو ہماری سمجھ میں نہیں آیا کیا ہوا ہے؛ بعد میں بتایا گیا کہ حملہ ہوا ہے اور مہر آباد ایئرپورٹ پر بمباری کی ہے۔ میں اُس میٹنگ میں شرکت کرنے کیلئے گیا جہاں کام کرنے والے افراد میرا انتظار کر رہے تھے کہ میں جاکر تقریر کروں۔ کچھ منٹوں پر مشتمل یعنی میں نے چار پانچ منٹ بات کی اور کہا مجھے کام ہے، مجھے جانا پڑے گا؛ ہم پر حملہ ہواہے

پائلٹ لیڈر کیومرث حیدریان کی یادیں

آپ صدام کو نیچا دکھانے کیلئے تیار ہیں؟

ایمبولنس کے دروازے کو کھولا گیا۔ میرے بیٹے مجھ سے لپٹ گئے اور مجھے اپنی آغوش میں لے لیا۔ میں نے اپنی زندگی کے بہترین لمحات میں سے ایک لمحہ کو اس وقت اشکوں کے ساتھ تجربہ کیا۔ آزادی اسکوائر کے قریب وہی کم تعداد میں جو گاڑیاں تھیں، رک گئی تھیں اور لوگ اشکبار آنکھوں سے ہمیں دیکھ رہے تھے

بازی دراز کا دورہ

ہم اس چھاؤنی میں تھے کہ بسیج ریڈیو نے یہ خبر نشر کی عنقریب آیت اللہ اشرفی اصفہانی "بازی دراز" والے علاقے کا دورہ کریں گے۔ یہ خبر سنتے ہی میں تصدیق کی خاطر کرمانشارہ روانہ ہوگیا وہاں پہنچ کر آیت اللہ کی اقتدا میں نماز جمعہ ادا کی اور وہاں پر تبلیغاتی امور سے متعلق قیام پذیر جوانوں سے گفتگو کے بعد یہ تصدیق ہوگئی کہ ریڈیو کی خبر درست ہے

تاریخ نگار، اولین صحافی

صحافی کو معاشرہ کا زندہ ضمیر فرد بھی کہا جاتا ہے اور میڈیا میں صحافی کو جمہوریت کا چوتھا رکن شمار کیا جاتا ہے
1
...
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں