سن ۱۹۶۸ء میں امام خمینی ؒ کا عزاداری کے طرز طریقے پر اعتراض

جو ماتمی انجمنیں آئی ہوئی تھیں ان کے نوحوں کا انداز بدلا ہوا تھا۔ ماتم داری اور سینہ زنی کا انداز بھی مختلف تھا۔ مجھے یاد ہے کہ نوحہ خوان حضرات یہ اشعار پڑھ رہے تھے: کربلا کربلا، فیضیہ بنا قتلگاہ۔ علماء کا خون ناحق جو گرا، امام کی نصرت بن گیا

بہت خطرناک!

جب میں نے یہ صورتحال دیکھی تو مجھے یقین هو گیا که یہ لوگ فوجی چھاؤنی پر حمله کریں گے اور فوجی دستے اور فوجی چھاؤنی کے گارڈز بھی اس صورتحال میں مزاحمت نہیں کریں گے، کیونکہ ہر کسی کو اپنی فکر تھی که کہیں وه لوگوں کے ہاتھ نہ لگ جائے۔

۲۲ مارچ سن ۱۹۶۳ء کی دوپہر، مدرسہ فیضیہ

امام خمینی ؒ کا گھر حرم [حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا] کے سامنے والی تنگ و باریک گلیوں میں سے ایک گلی میں تھا۔ ہم گھر میں داخل ہوئے اور اوپر والی منزل میں جاکر بیٹھ گئے۔ لوگ مسلسل آ رہے تھے

استقبال کے لیے پریکٹس اور تیاری

شہید محمد بروجردی انقلاب سے پہلے مسلح گوریلا فورس میں تھے اور شہید عراقی کے ذریعے میرا ان سے تعارف ہوا تھا۔ انھوں نے چالیس پچاس سپاہیوں کو اس کام کو منظم کرنے کے لیے جمع کر رکھا تھا

جسے آپ تلاش کر رہے ہیں، وہ میں ہی ہوں!

مجھے یقین آگیا کہ یہ اللہ کی مشیت ہے۔ اور اس نے ہی یہ سب کچھ کیا اور یہ سارے پروگرام بنائے۔ میں وہاں سے نکل کر احاطے کے اندر گشت کرنے لگا

مشی کا آخری دن کربلا کی سمت سفر

ہم آگے کی طرف بڑھ رہے تھے۔ تھوڑا آگے جاکر ہم ناشتے کے لئے رکے اور ناشتہ کرکے دوبارہ روانہ ہوگئے۔ راستے میں ایک ایرانی موکب پر نگاہ پڑی جو اصفہانیوں کا تھا۔

میانہ میں نو محرم والے دن ریلی

میرے جسم کی تمام ہڈیوں میں چبھن کے ساتھ درد ہو رہا تھا، جس وقت سپاہیوں نے میرے گھر پر دھاوا بولا تھا میں اُن سے لڑ پڑا اسی وجہ سے مجھے جناب احمدی سے زیادہ مار کھانی پڑی

۲۱ جولائی ۱۹۶۳ء کو گرگان میں ہونے والی تقریر

ماہ صفر کی ۲۹ تاریخ [۲۱ جولائی ۱۹۶۳ء]کا دن آگیا۔ اس حالت میں کہ مسجد گلشن کے تمام ہال اور اُس کے اطراف کے صحن اطراف کے گاؤں اور دیہاتوں سے آئی ہوئی عوام سے بھرے ہوئے تھے، میں منبر پر گیا اور میں نے مجلس کے آخری مقرر کے عنوان سے، اپنی باتوں کا آغاز کیا

تہران کے ڈاکٹروں کی جانب سے قزوین کے زخمیوں کی امداد

قزوین کے فوجی گورنر ، بریگیڈیئر جنرل معتمدی نے لوگوں پر جبر و تشدد اور اُن میں خوف و ہراس پھیلانے کیلئے جنوری ۱۹۷۹ء میں اس شہر میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا اور خون کی ندیاں بہا دیں

مطبوعات کا مطالعہ کرنا اور اُن کی خبریں امام خمینی تک پہنچانا

امام خمینی نے بھی میرا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: آپ میری طرف سے مطبوعات کا مطالعہ کرنے اور مجھے اُس سے آگاہ کرنے کے انچارج ہیں اور آپ کو مطبوعات خریدنے کے پیسے مجھ سے لینے پڑیں گے
1
...
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – چودہویں قسط

میں ہیڈ کوارٹر کی اکیلی خندق میں داخل ہوا جو دو حصوں میں تقسیم ہوتی تھی ایک کلینک اور دوسرا بریگیڈ کے سیکریٹری کا آفس۔ باقی لوگ ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے نیچے مضبوط اڈوں میں زندگی گزار رہے تھے۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔