جیل میں حصول علم

اسی اثنا میں ایک اور قیدی جو چوری کے جرم میں گرفتار تھا اس نے اپنی گردن کے پاس سے سوئی نکالی جو شاید ہمیشہ ہی اس کے پاس رہتی تھی اور میری ہتھکڑیاں کھول دیں اور میں نے امتحان دینا شروع کردیا۔ جب وہ سپاہی چابی لے کر واپس لوٹا تب تک میں آدھا امتحان دے چکی تھی

تحریک امام خمینی

پہلوی حکومت کے خلاف "اسلامی  جمیعت شیراز " کے سخت اعلان کی اشاعت

تف ہو ان گونگے ، ناجائز وکلاء پر ، ان والدین پر جنہوں نے ایسے بے وقوف احمقوں کی پرورش کی۔  مسلمانو ، وطن کی محبت  میں جاگو ، آزادی کے لیے، اسلامی احکامات کے نفاذ کے لیے، اب آپ تسلیم کریں کہ یہ ہمارے مذہب ، ضمیر اور انسانیت کا فرض ہے کہ بڑے حکام کی پیروی کریں ہم حسین علیہ السلام کی راہ کی پیروی کرتے ہیں

سید مجتبی ہاشمی

شہادت کے روز آپ اپنی دکان بند کررہے تھے، کہ کچھ افراد آئے اور انہوں نے اصرار کیا کہ ہم اسکارف اور کوٹ خریدنے بہت دور سے آئے ہیں۔ سید اس دن مسلح نہیں تھے، انہوں نے دکان کا شٹر اوپر اٹھایا اور دروازہ کھول کر اندر چلے گئے۔ منافقین نے پیچھے سے ان پر گولیاں چلا دیں جس سے وہ موقع پر ہی شہید ہوگئے

 تحریک امام خمینی

پہلوی سیکورٹی ایجنٹوں کی طرف سے امام خمینی کے بیٹے کو دھمکیاں

خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مشارالیہ اپنے رویے پر نظر ثانی نہیں کرتا ہے اور مذکورہ علماء اور مشتعل لوگوں سے رابطہ منقطع نہیں کرتا ہے تو متعلقہ حکام  کے سخت ردعمل کے ساتھ کا سامنا کرناہوگا

 حجت الاسلام خراسانی کی یادوں سے ایک اقتباس

بنی صدر کی مخالفت

خدا نے ایسا کردیاکہ اس نے اپنی داڑھی اور مونچھیں مونڈیں اور سینگھار کیا عورتوں کے کپڑے پہنے اور ہوائی جہاز کے بیت الخلا میں چھپ کر فرار ہو گیا اسکا راز فاش ہوچکاتھا

صحیفہ امام

پہلوی حکومت کے رویے کے خلاف احتجاج

امام خمینی (رہ) نے تہران میں پہلوی حکومت کے ایجنٹوں کے ذریعہ آیت اللہ خوانساری اور آیت اللہ بہبانی کے گھروں کے محاصرے اور علماء کی توہین کے بارے میں ایرانی قوم کو 3 بہمن 1341 کو ایک پیغام لکھا

صحیفہ امام

پہلوی حکومت کے ریفرنڈم کے خلاف ہوشیار رہنے کی ضرورت

امام خمینی (رہ) نے جنوری 1341شمسی کے آخر میں آنے والے دنوں میں سفید انقلاب کے اصولوں پر پہلوی حکومت کے ریفرنڈم کے بارے میں خبردار کیا اور علماء اور لوگوں کی ہوشیاری اور مزاحمت کی ضرورت پر زور دیا۔

 شیعہ علماء اور مراجع عظام کے اتحاد سے ایران کی آزادی کا تحفظ

حضرت کاتسلیت نامہ ہمارے لیے باعث تشکرہے۔ امید ہے کہ اسلام کے علماء اور اس وقت کے مرجع اعلام  میں اتحادہو خدا ان جیسوں کی کثرت کرے

سفر مکہ اور آیت اللہ بہشتی سے ملاقات

میں نے انہیں الوداع کہا. اس سال، ہم ایک اچھے کاروان کے ساتھ گئے تھے کہ  اس کاروان میں ہمارے ہمفکرافراد کافی تھے

شاہ کے زمانے میں مذہبی کتابیں کیسے لکھیں گٸی؟

ایک پرعزم گروپ (ڈاکٹر غفوری اور ڈاکٹر باہنر کے ساتھ) ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ اسلام ، ایمان ، عمل ، جدوجہد ، جہاد ، عبادت اور فضیلت کو نوعمروں اور یہاں تک کہ ابتدائی اسکول کے دوسرے سال کے طالب علموں تک پہنچاٸیں
1
...
 
11 ویں امیر المومنین ڈویژن کے شہید کمانڈر کی یاداشت

ہیلٹی - 10

ہمیں اس کا احساس اس وقت ہوا جب عراقی "رسام"  گولی ہم پر تقریبا  چھ بجے پیچھے سے چلائی گئی۔  یعنی ہم مکمل محاصرے میں تھے

جیل میں حصول علم

اسی اثنا میں ایک اور قیدی جو چوری کے جرم میں گرفتار تھا اس نے اپنی گردن کے پاس سے سوئی نکالی جو شاید ہمیشہ ہی اس کے پاس رہتی تھی اور میری ہتھکڑیاں کھول دیں اور میں نے امتحان دینا شروع کردیا۔ جب وہ سپاہی چابی لے کر واپس لوٹا تب تک میں آدھا امتحان دے چکی تھی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔