لوگوں کو پتہ ہے کہ ہم کون سے آقا صاحب کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں

شکنجہ دینے والے دو قسم کے لوگ تھے۔ چیل مزاج اور کبوتر مزاج۔ پہلی قسم کے لوگ بے رحم اور سنگدل تھے مار پیٹ میں بے لگام تھے اور دوسری قسم کے لوگ قدرے رحمدل تھے جو ہمدردی جتلاتے تھے۔ نسبتاً نرمی سے بات کرتے تھے۔ اور راز کی بات اگلواتے تھے

تہران میں صہیونیوں کی جاسوسی سرگرمیاں

۱۰ مئی ۱۹۶۲ء کو ساواک کی رپورٹ کے مطابق صہیونی ایران میں جاسوسی سرگرمیوں میں ملوث تھے اور ایران میں یہودیوں کو اسکاوٹ ٹریننگ دینے والی تنظیم یعنی "خلوتص" کے صہیونیوں کے ساتھ تعلقات پر کام کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک شمعون حناساب نامی یہودی جس نے اسرائیل میں جاسوسی پر پانچ سال کام کیا تھا، تہران میں "خلوتص" کا انچارج تھا اور تہران میں یہودی جوانوں کی اسکاؤٹ تربیت کی ذمہ دار ی اس پر عائد تھی۔

ساواک کے انچارج کو شعبان جعفری کی درخواست

۲۹ مئی سن ۱۹۶۲ء کو شعبان جعفری نے ساواک کے چیف میجر جنرل پاک روان کو درخواست لکھی تھی جس میں ماہ محرم میں عزاداری کے انعقاد کے لئے بجٹ کی رقم مانگی گئی تھی۔ اس درخواست کے نتیجے میں ساواک کے مالی ڈپارٹمنٹ نے اس درخواست کو حکام بالا تو پہنچایا اور رقم کی وصولی کے لئے شاہی دربار کے پروٹوکول ہیڈ سلیمان بہبودی اور جنرل بریگیڈیئر علوی کیا کو لکھے گئے خط میں یہ بیان کیا کہ:

سوئزر لینڈ میں محمد رضا پہلوی کے بینک اکاؤنٹس

محمد رضا پہلوی اور اس کی بیوی چند دنوں کے لئے ہالینڈ میں رکے اور پھر ۳ مئی ۱۹۶۲ء کو جنیوا (سوئزر لینڈ) کے لئے روانہ ہوگئے۔ شاہ نے اپنے اس سفر میں چار پانچ دن وہاں قیام کیا اور اس کی وجہ اپنا میڈیکل چیک اپ (طبی معائنہ) کروانا بتایا۔

فرقہ بہائیت سے خرید و فروش پر پابندی

۶ جون ۱۹۶۲ء کو شیعہ مراجع عظام سے ایک کمپنی کی بوتلوں خاص طور سے پیپسی کولا کی خرید و فروخت کے بارے میں پوچھا گیا، جواب میں مراجع نے اس خرید و فروخت کو حرام قرار دیا اور چونکہ اس کمپنی کا تمام تر سرمایہ اور امتیاز بہائی فرقہ کی ملکیت ہیں اور نیز یہ کمپنی بہائی مسلک کی ترویج و تبلیغ میں سب سے بڑا کردار ادا کر رہی ہے پس اس کے فتوی کے مطابق اس کمپنی کی بوتلیں پینے، خریدنے اور بیچنے سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

آیت اللہ مرعشی نجفی: بہائی فرقے کے مبلغین، فساد اور گمراہی کی جڑ ہیں

۱۹ مئی سن ۱۹۶۲ء کو آیت اللہ سید شہاب الدین مرعشی نجفی نے پہلوی حکومت کے وزیر داخلہ کو ایک خط لکھا، جس میں انھوں نے صوبہ اصفہان میں "فریدن" کے دیہاتوں میں سے ایک "اسکندری" نامی دیہات میں بہائی فرقہ کی فعالیت اور تبلیغ پر تشویش ظاہر کی اوربہائیوں کو فتنہ و فساد کی جڑ کہا اور حکومت سے ان کی روک تھام کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے "بہائی مرد و خواتین مبلغین" کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید لکھا: چونکہ ماہ محرم الحرام نزدیک...

آیت اللہ طالقانی کی اقتداء میں عید الاضحی کی نماز

۱۵ مئی ۱۹۶۲ء، صبح ۸ بجے ، ساواک کی رپورٹ کے مطابق (اسی دن اور اسی وقت) آیت اللہ سید محمد طالقانی کی اقتداء میں عید قربان کی نماز باجماعت ادا ہوئی، جس میں انجینئرز، تاجر حضرات اور اسلامی تنظیموں کے طالب علموں کے تقریباً ۲۰۰ افراد نے شرکت کی۔

ایران کی سرزمین کو امریکی مفادات کا ٹھکانہ بنانے کی مخالفت

اپریل ۱۹۶۲ء کو جب محمد رضا پہلوی اپنی بیگم کے ساتھ لندن میں قائم پہلوی حکومت کے سفارت خانہ کے لئے روانہ ہوا،اور وہ جب وہاں پہنچا تو اسے حکومت مخالف جوان طالب علموں کا سامنا کرنا پڑا جو جو سفارت کو گھیرے میں لئے ہوئے مظاہرہ کر رہے تھے اور نعرے لگا رہے تھے۔ درحقیقت وہ سب پہلوی حکومت کی طرف سے ایران کو امریکی مفادات کا اڈا بنانے کے مخالف تھے اور اسی بات پر اعتراض کر رہے تھے۔

یادوں بھری رات کے سلسلے کا ۲۸۳ واں پروگرام

سرحدوں کی حفاظت کرنے والے کمانڈروں کی یادوں کا بیان

ہمارا ماہ شہر کے کنارے سے گزرنے کا ارادہ تھا کہ ہم نے دیکھا کہ عراقیوں نے راستہ بند کیا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے ہم نے ایک لاؤنچ کرایہ پر لی اور ہم نے ہر آدمی کا کرایہ ۵۰ تومان اور اپنی جیپ کیلئے بھی ۱۵۰ تومان کرایہ دیا تاکہ وہ ہمیں راتوں رات فاو کے پیچھے سے آبادان تک پہنچا دے

ایک پبلیشر کی یادیں

کتاب اور میرا ماجرا جو مزاج

خود شاملو بیان کرتے ہیں جب وہ کیہان اخبار میں تھے، ایک وزیر اخبار کے دفتر کا دورہ کرنے آیا۔ جب شاملو کے تعارف کی باری آئی اور اُن کے تعلیمی معیار کو پوچھا گیا، انھوں نے بہت ہی آرام سے کہا میں نے چار کلاسیں پڑھی ہیں
1
...
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔