حادثہ فیضیہ کی یاد میں ہونے والی مجلس

۲۵ شوال والے دن، شہداء مدرسہ فیضیہ کی یاد منانے والا چوتھا سال تھا۔ جیسا کہ میں خود اُس دن کا مشاہدہ کرچکا تھا میرا دل ٹوٹا ہوا تھا۔ اُس سے پہلے تین سالوں میں شہداء کی یاد میں مجالس منعقد ہوئی تھیں؛ لیکن چوتھے سال شام چار بجے تک اس کام کی اجازت نہیں دی گئی اور ساواک اور پولیس کے افراد، مدرسہ کو مکمل طور پر کنٹرول کر رہے تھے۔ لیکن اس کے بعد، چوتھی مجلس کا پروگرام بہت ہی شاندار انداز میں منعقد ہوا۔

ایران کے عام لوگوں کے ذہن میں شاہ کی تصویر

ایک دن صبح کے وقت بی بی جان ہانپتے ہوئے بالائی منزل سے سیڑھیاں اترتی ہوئی نیچے آئیں اور اُونو صاحب سے اپنے خواب کو بیان کرنے لگیں جو انہوں نے صبح کے نزدیک دیکھا تھا۔ اس خواب میں بی بی جان نے "اعلی حضرت شہنشاہ" سے ملاقات کی اور ان سے مکالمے کا شرف حاصل کیا۔

وہ چیف ایڈیٹر جو استاد تھے

میں خود سے پوچھتا ہوں اگر جناب گوردزیانی ہوتے، کیا وہ لکھتے؟ اگر وہ اس وقت ہوتے اور میں اُن سے لکھنے کی اجازت لیتا، وہ ہونٹوں پر مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہتے جیسے تمہاری مرضی؟ میں نے اتنا سوچا کہ مجھے آیا وہ خود بھی لوگوں کے لئے لکھتے تھے۔ لیکن اُن کی تحریر کہاں اور میری کہاں!

سٹی پولیس کی عارضی جیل کے واقعات

مجھے اس جیل میں بزرگوں سے علمی، سیاسی، معاشرتی اور خصوصاً مذہبی بحثوں سے بہت سے روحانی فائدے حاصل ہوئے۔ روزانہ، ہم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کے علاوه، کبھی کبھی سات آٹھ لوگ مل کر کسی علمی- اخلاقی موضوع پر بحث کیا کرتے تھے

قذافی، قابل بھروسہ نہیں!

پیرس میں، اسی چھوٹے سے کمرے میں جہاں امام کی رہائش تھی ان کے پاس پہنچے، سفر کی تفصیلات اور قذافی سے ہونے والی گفتگو کو ان کی خدمت میں عرض کیا۔ ہماری توقع کے برعکس کہ ہم سوچ رہے تھے کہ امام خوش ہوں گے، انھوں نے کچھ سوچا اور فرمایا:"قذافی قابل بھروسہ نہیں"

پرانے زمانے کی آلبم سے ایک تصویر

ایک عظیم شخصیت کے بارے میں دو دوستوں کی روایت

گذشتہ ہفتے مزاحمتی ادب کا مرکز ایک ایسے دوست سے ہاتھ دھو بیٹھا کہ جسے نمایاں ہونے کا شوق نہیں تھا۔ ہدایت اللہ بہبودی اور احمد فیاض نے چند سطروں میں جناب احد گودرزیانی کے واقعات کو بیان کیا ہے۔

امام خمینی کے نمائندوں کا ملتا جلتا ردّعمل

اُن کا کہنا یہ تھا کہ ہم طیارہ اور دوسرے وسائل آپ کو فراہم کرتے ہیں، آپ نجف جائیں اور حکومت کا پیغام آقای خمینی تک پہنچائیں۔ ہمارا تو خیال یہ ہے کہ اس پیغام کو پہنچانے کیلئے قاضی صاحب بہت ہی مناسب رہیں گے۔

ایسے پائلٹ کی یاد میں جس نے اپنی روداد خود سنائی

اکبر توانگرایان ۱۹ ستمبر سن ۱۹۵۱ء میں اصفہان میں پیدا ہوئے، فانٹوم لڑاکا طیارے کے پائلٹ تھے۔ ۶۱ ویں اور ۳۱ ویں شکاری بٹالین کے کمانڈر تھے۔ چابہار ایئربیس کے نائب کمانڈر بھی رہے۔ شکاری چھاؤنی نمبر ۱۰ کے کمانڈر اور پائلٹ کالج کے کمانڈر بھی رہے

آسمانی سردار

الٰہی کمانڈر اور شیطانی کمانڈر

طویل عرصے سے ایک دوسرے کے مد مقابل رہنے والی ان دو طاقتوں نے الٰہی نمائندہ (ہیرو) اور شیطانی نمائندہ (ولن) کو جنم دیا ہے۔ ہیرو معاشرے کا محافظ ہے جبکہ ولن معاشرہ کا دشمن۔

سن ۱۹۶۸ء میں امام خمینی ؒ کا عزاداری کے طرز طریقے پر اعتراض

جو ماتمی انجمنیں آئی ہوئی تھیں ان کے نوحوں کا انداز بدلا ہوا تھا۔ ماتم داری اور سینہ زنی کا انداز بھی مختلف تھا۔ مجھے یاد ہے کہ نوحہ خوان حضرات یہ اشعار پڑھ رہے تھے: کربلا کربلا، فیضیہ بنا قتلگاہ۔ علماء کا خون ناحق جو گرا، امام کی نصرت بن گیا
1
...
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – چھبیسویں قسط

اس منحوس رات میں ایک پیرامیڈکس نے مجھے دو پین کلر انجکشن لگائے۔ اگلے دن صبح میں نڈھال بستر پر لیٹا ہوا تھا۔ ڈاکٹر "یعقوب" یونٹ کمانڈر کے پاس گئے اور اسے میری حالت سے آگاہ کیا۔ انھون نے مشورہ دیا کہ مجھے علاج اور آرام کے لئے ہسپتال بھیجا جائے۔ لیکن اس نے منع کردیا اور کہا: "اسے یہیں رہنے دو اور اس کا علاج ہونا چاہیے۔ آخرکار وہ ایک ڈاکٹر ہے!"

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔