تنہائی والے سال – اٹھارہواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

جس وقت ہمیں اس کیمپ میں لایا جا رہا تھا، نگہبانوں کا ہم سے اچھا رویہ نہیں تھا اور وہ ہمیں خمینی کا ساتھی کہہ کر پکارتے تھے۔ البتہ یہ بات افتخار اور عزت کا باعث تھی کہ دشمن ہمیں اسلامی حکومت اور امام کا معتقد اور حامی سمجھتا ہے

مختصر زبانی تاریخ

بدلتے زمانے کے جدید تقاضوں نے زبان اور زبان سے بیان ہونے والی رواتیوں ، حکاتیوں اور واقعات کو نئی نسلوں کی استعداد اور حوصلے کو سامنے رکھتے ہوئے علوم انسانی کے احاطے میں رہ کر موثر مفید اور دلچسپ بنا دیا ہے

اقلیمہ جاہدی سے ہونے والی گفتگو

محاذ پر جہادی سرگرمیاں

میں خواتین کو جمع کرتی اور ہم ایک بڑے سے گھر میں کام کرتے تھے۔ ہم سپاہیوں کیلئے کپڑے سیتے تھے، مربا اور آچار بناتے تھے۔ زخمیوں کے خون لگے کپڑے جو محاذ سے ٹرک پر آتے تھے، اُنہیں دھوتے تھے

تنہائی والے سال – گیارہواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

ہم دونوں کیلئے بہت ہی قیمتی معاملہ تھا۔ مجھے اطمینان ہوگیا کہ میں نے جو آوازیں سنی تھیں وہ ایرانی خواتین کی آوازیں ہیں۔ صدام اور اُس کے نوکروں سے کوئی چیز بعید نہیں تھی۔ جس کو پکڑ سکتے تھے، پکڑ لیتے تھے

جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں

انصار بٹالین کے سپاہیوں کی سالانہ نشست میں یادوں کا بیان

جنگ کے مصنف کی روایت کے مطابق محاذ کی مزاحیہ باتیں

پرانے سپاہیوں میں سے دو افراد، امیر ہوشنگ فتوحی اور محمد خوش طینت ہمارے ساتھ تھے۔ امیر ہوشنگ کو امیر گاندھی کہا جاتا تھا۔ وہ دبلے پتلے اور لمبے بھی تھے اور وہ اپنی پیشانی پر ایک تل بھی لگا لیتے۔ ایک رات ہم گئے تو ہم نے دیکھا کہ امیر ہوشنگ، سید مہدی کے ساتھ رات کو ہونے والے اس مسئلے پر بحث کر رہے ہیں

لوگوں کو پتہ ہے کہ ہم کون سے آقا صاحب کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں

شکنجہ دینے والے دو قسم کے لوگ تھے۔ چیل مزاج اور کبوتر مزاج۔ پہلی قسم کے لوگ بے رحم اور سنگدل تھے مار پیٹ میں بے لگام تھے اور دوسری قسم کے لوگ قدرے رحمدل تھے جو ہمدردی جتلاتے تھے۔ نسبتاً نرمی سے بات کرتے تھے۔ اور راز کی بات اگلواتے تھے

تہران میں صہیونیوں کی جاسوسی سرگرمیاں

۱۰ مئی ۱۹۶۲ء کو ساواک کی رپورٹ کے مطابق صہیونی ایران میں جاسوسی سرگرمیوں میں ملوث تھے اور ایران میں یہودیوں کو اسکاوٹ ٹریننگ دینے والی تنظیم یعنی "خلوتص" کے صہیونیوں کے ساتھ تعلقات پر کام کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک شمعون حناساب نامی یہودی جس نے اسرائیل میں جاسوسی پر پانچ سال کام کیا تھا، تہران میں "خلوتص" کا انچارج تھا اور تہران میں یہودی جوانوں کی اسکاؤٹ تربیت کی ذمہ دار ی اس پر عائد تھی۔

ساواک کے انچارج کو شعبان جعفری کی درخواست

۲۹ مئی سن ۱۹۶۲ء کو شعبان جعفری نے ساواک کے چیف میجر جنرل پاک روان کو درخواست لکھی تھی جس میں ماہ محرم میں عزاداری کے انعقاد کے لئے بجٹ کی رقم مانگی گئی تھی۔ اس درخواست کے نتیجے میں ساواک کے مالی ڈپارٹمنٹ نے اس درخواست کو حکام بالا تو پہنچایا اور رقم کی وصولی کے لئے شاہی دربار کے پروٹوکول ہیڈ سلیمان بہبودی اور جنرل بریگیڈیئر علوی کیا کو لکھے گئے خط میں یہ بیان کیا کہ:

سوئزر لینڈ میں محمد رضا پہلوی کے بینک اکاؤنٹس

محمد رضا پہلوی اور اس کی بیوی چند دنوں کے لئے ہالینڈ میں رکے اور پھر ۳ مئی ۱۹۶۲ء کو جنیوا (سوئزر لینڈ) کے لئے روانہ ہوگئے۔ شاہ نے اپنے اس سفر میں چار پانچ دن وہاں قیام کیا اور اس کی وجہ اپنا میڈیکل چیک اپ (طبی معائنہ) کروانا بتایا۔
1
...
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں