کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔

امام خمینی رح کا ترکی میں قیام

بورسا شہر کے لوگ انہیں "بابا" کہہ کر پکارتے تھے

پہلوی حکومت کے تصورات کے برخلاف امام خمینی رح نے ترکی میں بھی اپنے بہت سارے دوست بنا لئے حتیٰ بورسا کے عوام امام خمینی رح کو باب کہہ کر پکارنے لگ گئے تھے۔ امام خمینی رح تقریبا ایک سال ترکی میں رہے۔ آُپ نے وہاں کتاب تحریر الوسیلہ تحریر کی۔ آپ کو ایک سال بعد ترکی سے آپ کے صاحبزادے سمیت عراق تبعید کردیا گیا۔

حج میں شاہ کے خلاف مظاہرہ

پہلےچند دنوں تک تو مجلس میں بہت پریشان ہوتا تھا، لیکن آج میں آُ سے ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ میں نے اپنی پوری زندگی درباریوں کی خدمت میں گذار دی۔ آیا توبہ کا کوئی راستہ موجود ہے؟۔ میں سمجھ گیا کہ الحمد اللہ یہ شخص منقلب ہوچکا ہے۔ لہذا ہم نے اسکی رہنمائی کی، وہ اتنا بدل چکا تھا کہ اس کے بعد ہر رات وہ بڑے جوش و ولولے سے ہمارے گفتگو سننے وقت پر پہنچ جاتا تھا۔

آیت اللہ محلاتی کی تقریروں پر پابندی لگادی گئی

۲ فروری ۱۹۷۵ کو شاہ کی خفیہ انٹیلیجنس ایجنسی ساواک کے اعلیٰ افسر پریوز ثابتی کے حکم پر آیت اللہ شیخ فضل اللہ محلاتی کے منبر پر بیٹھنے پر پابندی لگا دی گئی۔ اگرچہ آپ پر اسلامی انقلاب کی کامیابی کے زمانے تک پابندی لگی رہی، لیکن آپ جب مصلحت سمجھتے مسجدوں اور مذہبی رسومات میں تشریف لے جاتے اور اپنے گفتگو کے زریعے رائے عامہ کو حالات سے آگاہ کرتے رہتے تھے۔ انکا یہ عمل اس بات کا سبب بنا کہ ساواک نے چراغ پا ہو کر بالآخر انہیں ۱۹۷۸ کے ابتدائی مہینوں میں دوبارہ...

جون ۱۹۶۳ میں ارومیہ کے علماء کی گرفتاری

پولیس والا ٹرک آپ لوگوں کو اسی وقت تہران لے جانے کیلئے تیار کھڑا ہے اور وہاں لے جاکر آپ لوگوں قزل قلعہ زندان کی تحویل میں دیدیں گے! لہذا اگر آپ شاہ کی مخالفت کا ا رادہ نہیں رکھتے تو آکر تعہد نامہ پر دستخط کریں اور آزاد ہوجائیں

جب میں قم پہنچا ۔۔۔

تھانے کے انچارج نے امام جمعہ کے گھر پر مجھ سے کہا: اگر آپ یہاں رہے تو مجھے آپ کو گرفتار کرنا پڑے گا۔ آپ انتشار پھیلانے والے کے عنوان سے متعارف ہوئے ہیں اور اگر میں آپ کو گرفتار نہیں کروں تو میں خود خطرے میں ہوں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔۔۔

ہم ایک دو گھنٹے تک وہاں رہے جب تک جنازوں کو جمع کرلیا گیا۔ ہمارے محلے کے افراد بہت زیادہ تھے۔ فضائی آرمی کے علاقے کے افراد، وہی محلے کے افراد و ۔۔۔ ورزش کرنے والے افراد، فوٹبال کھیلنے والے افراد، سب رو رہے تھے اور یہ خون تھا جو اب جاری ہوچکا تھا اور یہ خون انقلاب کی کامیابی پر جاکر رکا

ہم نے ۵ جون(۱۵ خرداد) والے دن بازار کی طرف حرکت کی ۔۔۔۔

سڑکوں پر سپاہی لوگوں کو مار رہے ہیں تم یہیں کھڑے رہو میں تمہیں تمہارے گھر تک چھوڑ کر آنے کیلئے اپنے گھر جاکر واپس آتا ہوں

جلاوطنی میں ابوذر لائبریری کا قیام

مجھے کوہ سنگی کے پیچھے کسی کی تحویل میں دیا گیا اور مجھے ایک سیل کے اندر بند کر دیا۔ میرے برابر والے سیل میں ایک بدکردار عورت کو قید کیا ہوا تھا، آفیسرز بار بار آتے اور اُس کے ساتھ مذاق کرتے اور گندی گندی باتیں کرتے
2
...
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، پہلا حصہ

قارئین سے گفتگو
میں ایک ایسی خاتون کے سامنے بیٹھی تھی جس کی جوانی کا بیشتر حصہ غریب الوطنی میں گذرا تھا اور سفر کا اختتام، ہمسفر زندگی کی زندگی کے خاتمہ کے ساتھ ہوا تھا۔ اور وہ پچھلے ۱۸ سال سے تن تنہا ماں اور باپ بن کر بچوں کی کفالت کے فرض سے عہدہ برآں ہو رہی تھیں ۔ ایک ایسی خاتون کہ جس کی تمام تر زندگی اب اس کے بچے تھے۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔