زندان میں بھی جدوجہد جاری رہی

مجھے اچانک پتہ چلا کہ میں نے نہ چاہتے ہوئے اس آیت کے معنی پر عمل کیا ہے: "یا اَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا مَنْ یَرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دینِهِ فَسَوْفَ یَأْتِی الله بِقَوْمٍ یُحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّونَهُ اَذِلَّهٍ عَلَی الْمُؤْمِنینَ اَعِزَّهٍ عَلَی الْکافِرینَ یُجاهِدونَ فی سَبیِلِ‌الله وَ لایَخافُونَ لَوْمهَ لائمٍ ذلِکَ فَضْلُ‌الله یُؤْتیهِ مَنْ یَشاءُ وَالله واسعٌ عَلیمٌ" [سورہ مائدہ، آیت ۵۴]

وابستگی کی شدت

اُس نے مجھے جھاڑ پلائی، میں نے بھی اُسے جواب دیئے لیکن جیسا کہ جناب ہاشمی طال غنچہ ای نے سفارش کردی تھی، مجھے آزاد کردیا گیا۔ یہاں سے مجھے پہلوی حکومت کی امریکا سے شدت کی وابستگی کا پتہ چلا

بہبہان میں تقریر اور اُس کے بعد کا ماجرا

مجھے اور جناب موسوی کو چند بار دھمکیاں ملی کہ اگر اس کام کو بندنہیں کیا گیا تو ہم حملہ کریں گے اور لوگوں کے خون کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔ جناب موسوی اور میں محکم انداز میں ڈٹے رہے یہاں تک کہ میرے خیال سے رمضان کی ساتویں شب تھی کہ میں نے منبر سے پہلوی خاندان کے جرائم اور ظلم و بربریت کے اوصاف بیان کیے

جدوجہد کے پیغامات

میرے خیال سے اہواز، یزد اور شیراز میں مشخص مولوی حضرات کے قریبی اور جان پہچان والے لوگ اور اصفہان میں بھی مرحوم خادمی کے جان پہچانے والے افراد ان پیغامات کو حاصل کرتے اور تہران میں بھی میں، جناب توکلی بینا اور ایک تیسرے آدمی – کہ جن کا نام اب مجھے یاد نہیں – اس کام کو انجام دیتے تھے

جلا وطنی کا خرچہ

تقریباً ایک گھنٹے بعد، ایک سپاہی آیا اور میرے سامنے پڑی میز پر ایک کاغذ رکھ کر کہا: "آپ کو ایک سال کیلئے کرمان کے انڈسٹریل علاقے میں جلا وطن کیا جا رہا ہے، آپ اس کاغذ پر دستخط کردیں"

بیرونی ممالک اور ایران کے قدرتی ذخائر کی لوٹ مار

انقلاب اسلامی کے رونما ہونے سے پہلے امام خمینی ؒ کو جن مسائل کے متعلق پریشانی لاحق رہتی تھی ان میں سے ایک اہم مسئلہ یہ تھا کہ بیرونی ممالک (امریکہ اور اس کے حواریوں) نے ایران کے قدرتی ذخائر کو لوٹنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا تھا۔

ہمیں لوگوں کے درمیان رہنا چاہیے

ہم نے کہا: "ہم مجرم تھوڑی ہیں جو ہمیں ہتھکڑیاں لگا رہے ہو! تم نے ہمیں جہاں لے کر جانا ہے لے جاؤ، ہتھکڑی کیوں لگاتے ہیں؟!"

۱۵ خرداد کو ہمارا عہد و پیمان

میں نے چند دیگر کیڈٹس کے ساتھ میٹنگ رکھی اور یہ طے کیا کہ مظاہرین سے آمنا سامنا ہونے کی صورت میں اپنے کسی آفیسر کا آرڈ نہیں مانیں گے۔ نہ فقط یہ بلکہ ہم فوج اور موقع پرموجود مسلح نفری کے خلاف الرٹ ہوجائیں گے۔

میں فارسی سیکھنا چاہتا ہوں!

میں نے کہا: "گھر قریب ہے یا دور؟" اُس نے کہا: "قریب ہے لیکن گاڑی موجود ہے۔" میں اور میرے ساتھ جو دو خواتین تھیں، ہم اُس کے ساتھ ہولئے۔ ہم ابھی چند قدم نہیں چلیں ہوں گے کہ اُس نے ہمارا سامان اٹھانے کیلئے پیروں کے بل جھک کر ہمارے ہمراہ موجود ایک ساتھی کا بیگ اپنے کاندھوں پر رکھ لیا۔

خط اور ملاقات

میں ان لوگوں سے گاڑھے تہرانی لہجے میں بات کر رہا تھا اور ساتھ ساتھ عام فرد کی طرح بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ ان کا دھیان اس بات کی طرف نہ جائے کہ ہم ان کو کوئی چکر دینا چاہ رہے ہیں
1
...
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تیسری قسط

میں ان لوگوں کے جہل اور لا علمی کو ثابت کرنے کیلئے ایک مضحکہ خیز واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہوں جو میں نے ٹیلی ویژن پر دیکھا۔ صدام نے ایک بند کو معنی کے لحاظ سے برعکس پڑھا۔ اس دفعہ بھی حاضرین نے ایک آواز میں کہا: " جی جناب، ہم متفق ہیں! " البتہ صدام کو ہوش آگیا اور اس نے اپنی غلطی کی اصلاح کرلی۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔