چہلم کی پیادہ روی کا سفرنامہ لکھنے کے لئے دس نکات

وہ سفرنامے جو انٹرویو کی بدولت دلچسپ ہوجاتے ہیں

ہمارے ملک ایران میں سن ۲۰۱۱ سے اربعین کے سفر نے باقاعدہ شکل اختیار کی اور اربعین کے حوالے سے سفر نامہ نویسی کی تحریک کو کافی سراہا گیا۔ چہلم کے سفرنامے کے عنوان سے متعدد کتابیں چھپیں

ادھوری پرواز

پانچ افراد تھے؛دفاع مقدس کے کمانڈروں میں سے پانچ کمانڈر۔ ۲۸ ستمبر ۱۹۸۱ کا دن تھا۔ ثامن الائمہ (ع) آپریشن دو دن پہلے کامیابی سے ہمکنار ہوا تھا۔ وہ لوگ ہوائی جہاز کے ذریعے تہران واپس آنا چاہتے تھے، لیکن اُن کی پرواز ادھوری رہ گئی اور وہ لوگ شہید ہوگئے۔

تلاش و جستجو ایک محقق کی سب سے بڑی خصوصیت ہے

پوشیدہ تاریخ اور تاریخ شفاہی

روایوں کے متلاشی اور ان سے انس رکھنے والوں کو ہمیشہ اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے روابط کو ان لوگوں سے ہمیشہ دوستانہ طرز پر محفوظ رکھیں تاکہ دوسرے راویان کو تلاش کرنے کی راہ ہموار ہو

انقلاب کے دور میں مساجد

مسجد لر زادہ

مسجد لر زادہ تہران کی ایک معروف مسجد اور پہلوی حکومت کے خلاف تحریک کا اہم مرکز تھی۔ یہ مسجد ۱۳۵۰ سے ۱۳۵۷ [ ۱۹۷۱ سے ۱۹۷۸] تک جنوب مشرقی تہران میں مبارزات اسلامی کے لئے ہال اور انقلابی نوجوانوں کے جمع ہونے کا مرکز تھی، بالخصوص ان طلبہ کے لئے جنوبی تہران کی انقلابی تحریکوں میں شریک تھے۔

زبانی تاریخ میں اسناد و مدارک کی اہم ترین کارگردگی

زبانی تاریخ کی تدوین میں اسناد کی سب سے اہم کارکردگی بلاشبہ ان اسناد سے استفادہ کرنا ہے جن کے صحیح ہونے کا یقین محقق کو ہے اور اسی طرح وہ زبانی واقعات بھی ہیں جو مختلف زاویوں سے کسی ایک خاص موضوع کے متعلق حاصل ہوئے ہیں

تنہائی والے سال – تیرہواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

جب ہم نے اُس پائلٹ کو کمانڈر کے سامنے پیش کیا تو وہ بہت سہما ہوا اور پریشان تھا۔ اُس نے اپنے خیال کے مطابق کہ اُسے کوئی تکلیف اور اذیت نہ پہنچائی جائے، جلدی جلدی بولنے شروع کردیا: " میں نے آپ کے اسیر ہونے والے پائلٹوں کے ساتھ بات کی تھی۔ میں نے اُنہیں قریب سے دیکھا تھا اور میں اُن کے ساتھ بہت محبت سے پیش آیا تھا

زبانی تاریخ کے انٹرویو میں سوالوں کا انداز

اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ انٹرویو لینے افراد ایک خاص منصوبہ کی انجام دہی کیلئے انٹرویو دینے والے شخص کے ایک خاص حصے سے واقعات کو جمع کرتے ہیں

مزدورں کی زبانی تاریخ

ساٹھ کی دہائی میں، جب زبانی تاریخ نے کام شروع کرنے کیلئے قدم بڑھایا، گذشتہ ماضی اور گمشدہ جہانوں کو ٹٹولنے میں خواتین، مزدور اور اَن پڑھ لوگ اس کے محور اصلی کے طور پر سامنے آئے

انٹرویو پر اندرونی کیفیت کا اثر

زبانی تاریخ کے انٹرویو لینے والوں کو راوی کی ذہنی اور نفسیاتی حالت پر توجہ کرنی چاہیے اور اُسے پرسکون اور تدریجی عمل کے ساتھ اُس کے ذہن کو خالی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یادداشت لکھنے کی کلی خصوصیات

شاید یاد داشتوں سے دلچسپی رکھنے والوں کی طرف سے کئے جانے والے سوالوں میں سے ایک یہ ہو کہ یاد داشت لکھنے میں کیا خصوصیات پائی جاتی ہیں؟ کیا یادداشت لکھنے والے کو خاص فنون کا حامل ہونا چاہیے؟ کیا ذاتی یاد داشت کو لکھنا ایک آسان یا محال کام ہے؟
1
...
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – گیارہویں قسط

جنگ شروع ہونے کے دو ہفتے بعد، صدام کی حکومت کو یقین ہوگیا کہ فوج اس سے زیادہ کچھ کرنے کی قدرت نہیں رکھتی؛ اور یہ کہ وقت کی گردش اُن کے فائدے میں نہیں ہے

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔