مشہد کے پہلے ریڈیو اسٹیشن کے بارے میں

ریڈیو ڈویژن خراسان (خراسان کا علاقائی ریڈیو اسٹیشن)

کرنل علی اصغر نظام الملکی کی یادیں،

ایران کے ریڈیو کے افتتاح کو 75 سال گزر چکے ہیں اور ان سالوں میں ،تاریخی ،سیاسی ،سماجی،تعلیمی ،تفریحی اور معلوماتی و حالات حاضرہ اور خبروں سے متعلق مختلف قسم کے پروگرام بروڈکاسٹ کئے گئے ہیں۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ریڈیو آرکائیو جو اس میڈیا کی تاریخ و ارتقاء پر مشتمل ہیں نہایت اہمیت کے حامل ہیں لہذا ریڈیو کی تاریخ شفاہی ، اہم موضوعات میں سے ایک ہے جس پر تاریخ شفاہی کام کررہی ہے اوراس کام کو انجام دے کر اس میڈیا کی گویا تاریخ رقم کرسکتی ہے۔

آپریشنز میں فتح اور کامیابی ،بغیر مہارت کے ممکن نہ تھی

اب تک عراق کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کے بارے میں کافی تحریریں سامنے آچکی ہیں جسمیں مجاہدین کی ایثار وقربانی اور کردار سے لے کر ،محاذ کے پس پردہ خواتین کا کردار بھی سامنے لایا جا چکا ہے اور اس موضوع پر کافی روشنی ڈالی گئی ہے کہ ان تمام ایثار وقربانی کے واقعات سے پیوستہ ،ان لوگوں کے کردار سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا جو کہ جہاد سا زندگی (جہادی تعمیر وزندگی) نامی تنظیم کے طور پر سامنے آۓ اور ان دستوں (اسٹاف) کا کام لوگوں(عوام) سے مدد جمع کرنے سے لے کر ، پلوں کی تعمیر ،دیواروں اور مورچوں کی تعمیر کرنا تھا وہ بھی ان برستے گولوں کی بوچھاڑ میں۔۔۔۔۔،یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے جنگ کے اختتام کے کئی سالوں بعد تک بھی، جنگی خراب کاریوں اور نقصانات کی مرمت اور تعمیر کا کام جاری رکھا، ہم نے اسی سلسلے میں وزارت جھاد و زراعت کے ، ثقافتی امور کے محکمے کے ڈپٹی آفس میں، فتح اللہ نادعلی صاحب سے ،اس اسٹاف کی کارکردگی، ذمہ داریوں اور بالخصوص جنگ کے دوران، تعمیر اور انجینئرنگ کے امورمیں ان کی خدمات کے حوالے سے گفتگو کی، جو آپ قارئین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔

اسٹیشن 1 پر، مشہد کی پہلی شہری ٹرین کی تاریخ شفاہی

آبادی میں اضافہ، تعمیرو ترقی اور شہر میں توسیع سبب بنی کہ، شہری نقل و حمل کا اہم ترین موضوع، شہری ناظمین کی توجہ کا مرکز بنا، میٹرو یا شہری ٹرین انڈر گرا‏ؤنڈ ٹرانسپورٹ (زیر زمین نقل و حمل) کے نیٹ ورکس ہیں، جو مسافروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے اور ٹریفک کے مسئلے کو بہترین طور پر حل کر نے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔

مسجد گوہر شاد کے قتل عام سے متعلق ایک نئی دستاویز

مسجد گوہر شاد کے اس قتل وغارت کو (۸۰)اسی سال ہوچکے ہیں اس دوران مختلف کتابیں ،دستاویزات اور رپورٹیں ،اس واقعے سے متعلق شائع ہوچکی ہیں جن میں سے تقریباً سبھی نے اس واقعے کے وقوع پذیر ہونے کے دلائل ،وجوہات ،نتائج اور مرنے والوں کی تعداد پر بات کی ہے.

۱۷ شہریور ۱۳۵۷ کے عینی شاہدوں سے گفتگو، عباس ملکی

اس دن کی اہم تصویریں

اس روز چونکہ فوجی حکومت کا پہلا دن تھااس لئے مجھےکیہان اخبار کی جانب سے تہران کی سڑکوں کی طرف بھیجا گیا تھاتاکہ جاکرشہرکےحالات حاصل کرسکوں اوراس سے متعلق رپورٓٹ تیارکروں۔صبح سات بجےسوکراٹھااورتہران کی سڑکوں پرادھر ادھر پھرنےلگا اور رپورٹ تیار کرکے اخبار کے دفتر پہونچا۔ وہیں پر مجھے بتایاگیاکہ کچھ لوگ مظاہرےکے لئےمیدان ژالہ (ژالہ چوراہے) پر جمع ہوئے ہیں لہذا دوبارہ جاؤں اور جاکر رپورٹ تیار کروں ۔

پہلی خاتون ٹرک ڈرائیورکی یادیں

مشہدی خاتون سڑکوں پر پیش پیش

اب بھی بعض لوگوں کویقین نہیں ہوتا کہ ایک عورت بھی ٹرک ڈرائیونگ جیسے مشکل کام کو انجام دے سکتی ہے۔چالیس سال پہلے ہائی وے پر ڈرائیونگ کی سختی اورحادثات کی وجہ سے خواتین اس کام میں نہیں آتی تھیں ۔کیوں کہ بڑے ٹرک اور بھاری گاڑیاں چلانا شجاعت اور ہمت کا کام ہے۔ بہت سے لوگوں کویقین ہی نہیں ہوتا کہ ایک خاتون بھی ٹرک ڈرائیونگ جیسے مشکل کام کو انجام دے سکتی ہے۔

جناب بلواری کی سن ۵۷ کے نامہ نگاروں کے بارے میں گفتگو

محمد بلوری ایک پیش قدم صحافی ہیں انھوں نے اپنی سن ۵۷ شمسی یعنی ١۹۷۸کی اشاعتی کارکردگی کہ دوران جو صحافت کے میدان میں مختلف واقعات پیش آئے، انھوں نے ان کے بارےمیں نے بتایا جیسا کہ حسین علی کی قتل، اور گوزن جیسی فلم کہ جو ایک حقیقی حادثہ تھا اور۔۔۔۔۔۔۔ بتایا۔

رضا شاہ کی علی امینی کے ساتھ ٹیلی فونی گفتگو کی وضاحت

یہ آڈیو فائل دراصل ساواک کے وائر ٹیپ سے شاہ کے زمانے کے پہلے وزیر ڈاکٹر علی امینی کے گھر سے لی گئی ہے۔

مشہد کی حیثیت و اہمیت

پروفیسر لطفی کے انٹرویو سے چند اقتباسات

انقلاب کا آغاز مشہد سے ہوا کہ میں وہ ولولہ اور سوچ جو اس وقت مشہد میں تھی کسی دوسرے شہر میں ملاحظہ نہیں کرتا ہوں۔ البتہ قم جو کہ مذہبی حوالے اور مراجع عظام کی موجودگی کے باعث ایک اتھارٹی تھا۔ لیکن پھر بھی حکومت کو بدلنے اور نئی حکومت کے قیام کا خیال مشہد سے ہی ابھرا، جس کے بعد کچھ گوریلا تنظیمیں بھی ابھریں۔

تاریخ، زبانی انداز میں !

انقلاب اسلامی سے متعلق روایات اور تاریخ میں نظر آنے والا اختلاف دراصل متعدد تضادات اور مختلف طریقوں سے جمع کی ہوئی،پہچان اور خط وکتابت کی روش میں اختلاف کی وجہ سے ہے۔
...
9
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تیسری قسط

میں ان لوگوں کے جہل اور لا علمی کو ثابت کرنے کیلئے ایک مضحکہ خیز واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہوں جو میں نے ٹیلی ویژن پر دیکھا۔ صدام نے ایک بند کو معنی کے لحاظ سے برعکس پڑھا۔ اس دفعہ بھی حاضرین نے ایک آواز میں کہا: " جی جناب، ہم متفق ہیں! " البتہ صدام کو ہوش آگیا اور اس نے اپنی غلطی کی اصلاح کرلی۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔