امام (رہ) کی جلا وطنی کے تناظر میں آیت اللہ سید مصطفی خمینی کی جلاوطنی

۴ نومبر ۱۹۶۴ کی صبح کمانڈو فورسز امام کے گھر میں گھس گئی اور انہیں گرفتار کرکے تہران اور پھر ترکی کے شہر آنکارا منتقل کردیا۔ امام کی گرفتاری کی خبر سنتے ہی آیت اللہ سید مصطفی خمینی نے علماء سے مشورہ کیا۔ آیت اللہ مرعشی نے اس امکان کا اظہار کیا کہ امام کے فرزند کو بھی گرفتار کرلیا جائے گا۔

حجاب پر پابندی کی سازش اور امام خمینی (رہ) کی حق گوئی

رضا خان نے اپنی حکومت کے آغاز میں دھوکہ دہی کے طریقے کو اپنایا اور امام حسین (ع) کی عزاداری کے جلوسوں میں پیدل شرکت کی؛ لیکن آہستہ آہستہ اپنے تمام دینی عقائد کو ایک طرف رکھ دیا اور نوبت یہاں تک آپہنچی کہ فرنگی لباس اور ٹوپی ایران کا رسمی لباس قرار پایا اور مجالس کو محدود کر دیا گیا اور حجاب کو ممنوع۔

آیت اللہ غفاری، امام خمینی (رہ) کی تحریک کے دوران مستقل جدوجہد کرنے والی شخصیت

تقریر کے دوران غضب و غصے کی حالت میں ایک پولیس افسر مسجد میں داخل ہوا اور لوگوں کے پیچھے، کمر پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہوگیا۔ آیت اللہ غفاری نے گرج دار آواز میں کہا: "جناب آفیسر، آپ بھی دوسرے لوگوں کی طرح بیٹھ کر سنیں۔ آپ اس طرح کیوں کھڑے ہیں؟ کیا لوگوں کو ڈرانا چاہتے ہیں؟!"

شعلہ بیان خطابت کے مالک؛ آیت اللہ دستغیب کی سیاسی سرگرمیوں کا جائزہ

(سن ۱۹۶۲ء سے ۱۹۶۴ء تک)

اگر ہم چند ایسے علماء کا نام لینا چاہیں کہ جن کا نام شروع ہی سے امام خمینی (رہ) کی تحریک کی ساتھ جڑ گیا ہو تو بغیر کسی شک کے اُن میں سے ایک نام سید عبد الحسین دستغیب کا ہے۔

ساواک کا آیت اللہ سید مصطفی خمینی کو گرفتار کرنے کا مقصد کیا تھا؟

امام خمینی (رہ) کی ترکی جلاوطنی اور ۲جنوری کو اُن کے فرزند آیت اللہ مصطفی خمینی کی گرفتاری سن ۱۹۶۵ء کے اہم اور خبرساز واقعات تھے جو ۲۶ اکتوبر ۱۹۶۴ء کو امریکیوں کو قانون سے استثنیٰ قرار دینے والے بل کی منظوری کے خلاف امام تقریر کی وجہ سے عمل میں آئے۔

آیت اللہ کی یادداشتیں لکھنے کی سنت

شاید جناب ہاشمی کا اپنی یاد داشت شائع کرنے کا اہم ترین ہدف وہی انقلاب اور نظام کی مدد قرار دیا جا سکتا ہے کہ جس کے لئے انہوں نے اپنی تمام زندگی صرف کردی۔ درحقیقت جناب ہاشمی اپنی خود نمائی سے زیادہ اس چیز کی طرف زیادہ مائل تھے کہ نظام کی اعلیٰ سطح پر ہونے والے فیصلوں آشکار کریں اور مؤرخین و محققین کو اُن کی کیفیت سے آگاہ کریں

جنوبی یورپ میں ’’کوہ حضرت عباس علیہ السلام‘‘

البانیا کی سرحد پر’’مقدونیہ یعنی سابق یوگوسلاویا میں جناب ’’رقیہ سلام اللہ علیہا‘‘ سے منسوب ایک قبر ہے۔اور اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہےکہ تیرانا کے شمال میں’’تومور‘‘نامی ایک پہاڑ ہے جو ’’کوہ حضرت عباس علیہ السلام‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔

سید رشید: دستاویزات اور زبانی تاریخ کے آئینے میں

سید رشید چنارانی شمالی خراسان کی روایات میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں،اُن کے کئے گئے اقدامات ،علاقے کی ناامنی کا سبب بنے جنکی وجہ سے انکے خلاف قانونی چارہ جوئی ہوئی۔

تاریخ شفاہی کی رو سے بو شہر میں انقلاب اسلامی (3)

1978کے اواخر میں، جدوجہد اور تنازعات کا عروج

زیر نظر مضمون میں ہم بو شہر صوبے میں پہلوی حکومت کے خلاف اور انقلاب اسلامی کے حصول میں ہونے والے تنازعات پر بات کریں گے اس مضمون میں بو شہر کے لوگوں کی رہبر انقلاب امام خمینیؓ کی پیروی پر تحقیق اور معلومات ،انٹرویوز کی صورت میں جمع کی گئی ہیں اور اسی طرح ان تنازعات میں مجاہدین اور عالموں کا تعارف کرانا بھی اس مضمون (آرٹیکل) کا مقصد ہے۔

تاریخ شفاہی کی رو سے بو شہر میں انقلاب اسلامی(2)

گروہوں کا اتحاد اور انقلابی افراد

زیر نظر مضمون میں ہم بو شہر صوبے میں پہلوی حکومت کے خلاف اور انقلاب اسلامی کے حصول میں ہونے والے تنازعات پر بات کریں گے اس مضمون میں بو شہر کے لوگوں کی رہبر انقلاب امام خمینیؓ کی پیروی پر تحقیق اور معلومات ،انٹرویوز کی صورت میں جمع کی گئی ہیں اور اسی طرح ان تنازعات میں مجاہدین اور عالموں کا تعارف کرانا بھی اس مضمون (آرٹیکل) کا مقصد ہے۔
...
8
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – ساتویں قسط

تشہیراتی اداروں نے، انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد اس سلسلے میں تقسیم بندی کی جو تحریکیں اور جو آشوب گرانہ اقدامات ہوئے اُس کی خبریں اور رپورٹیں منتشر کیں۔ تشہیراتی ادارے اس بات کے پیش نظر کے ایران کو مختلف دھڑوں میں تقسیم کیا جائے " ایرانی قوم" کی جگہ "ایرانی قوموں" کی عبارت کو استعمال کرنے لگے

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔