فرنگیس،گیلان کی شیر دل خواتین کی کہانی

متعدد مصنفین کے قلموں نےایران پر عراق کی آٹھ سالہ تحمیلی جنگ کی یادوں کو جاوید بنا دیا ہے۔جنگ نے صرف محاذوں پر ہی اپنے اثرات نہیں چھوڑے تھے بلکہ ملک کے مغربی اورمغربی جنوبی شہروں اوردیہاتوں میں بھی اس کے تلخ اثرات نمایاں ہیں۔مرد و عورت سب اپنے ملک کے دفاع کے خاطر اپنے گھروں اور آشیانوں سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔مہناز فتاٰحی ایک ایسی مصنف ہیں جنہوں نےاپنی اور ملک کے مغربی محاذوں پر جنگ کے دیگر شاہدین کے یادداشتوں کو تحریر کرنےکے ساتھ ساتھ کردی مردوں اورخواتین کی شجاعت کو بھی بیان کیا ہے تاکہ تاریخ یہ نہ بھولنے پائے کہ جنگ کے دوران ایران کن حالات سے دوچار تھا۔

مسلط کردہ جنگ کی پہلی طبی معاون خاتون سے گفتگو

عراق کی طرف سے ایران پر تحمیل کی ہوئی جنگ کے دوران بہت سی خواتین مردوں کے قدم سےقدم ملاکر محاذ پر گئی تھیں۔اور نرس کا کام کرنا،ایمبلنس چلانا،فوجی بنکر لڑنا،فوج کی پشتپناہی کرنا اور فوجی سازو سامان ان تک پہونچانے جیسے کام کرکے اپنے ملک کا دفاع کرتی تھیں۔ ایران ترابی ایسی خاتون ہیں جو۲۴سال کی عمرمیں سب سے پہلی طبی امداد پہونچانے کی غرض سے پاوہ اورسوسنگرد گئی تھیں۔انہوں نے وہاں کےحالات کے سلسلہ میں ہم سے گفتگوکی۔

محل کے قید خانے سے جُڑی،انور خامہ ای کی یادیں

انور خامہ ای ان 53 افراد میں سے،زندہ رہنے والے وہ واحد شخص ہیں جنھوں نے محل کے قید خانے میں گزاری ،ان کے پاس ان گزرے دنوں کی بہت سی یادیں باقی ہیں،محل کے اس قید خانے میں قید،سیاسی اور غیر سیاسی قیدیوں کی یادیں ۔۔۔۔فرخی یزدی کی قید تنہائی سے آزادی تک کی یادیں ۔۔۔۔۔ انور خامہ ای ،اس وقت 96برس کےہیں لہذا سن 1316سے1320کی یادوں کو سوچ سوچ کر،ٹہر ٹہر کر اور مشکل سے بیان کرپاتے ہیں۔

مسیح مہاجری کی اسلامی جمہوریہ تنظیم سے جڑی یادیں

شہید بہشتی نے کہا: مصدق ایک مثبت سوچ رکھنے والا (اچھا) اور معتبر انسان ہے۔ یہ گفتگو، سید حسن آیت کے بارے میں مہرنامے رسالے کے خصوصی شمارہ نمبر25 میں شائع کی گئی ہے۔

حسن حضرتی سے ،تاریخی تحقیق میں غالب بحرانی طریقوں پر گفتگو (پہلاحصہ )

تاریخی تحقیق میں ثابت شدہ طریقے کی حکمرانی

میرے خیال میں یہی تاریخی تحقیق کا المیہ ہے کہ بہت سارے لوگ ،تاریخ میں تحقیق کے نام پر ایسے شامل ہوئے ہیں جنہوں نے باقاعدہ تاریخ کو نہیں پڑھا اور نہ ہی کسی یونیورسٹی یا کالج میں اس مضمون سے کوئی وابستگی رکھی ہے۔ کیاہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ نفسیات اور سوشیالوجی میں ایسا کیوں نہیں ہوتا ؟

محل میں ٹارچر سن 42 سے شروع ہوا،

لطف اللہ میثمی سے، ان کی یادوں کے بارے میں گفتگو

پہلی مرتبہ مجھے، سن 42 کی سردیوں کے آغاز میں، تحریک آزادی اور انکے رہنماؤں کی عدالتوں سے روابط رکھنے کی وجہ سے گرفتار کیا ، ہوا کچھ یوں کہ کچھ دوست، سیاسی اعلانات کا مجموعہ میرے لۓ لا رہے تھے کہ پکڑے گۓ اور ان کی گرفتاری باعث بنی کہ مجھے بھی گرفتار کیا گیا اور 42 کی سردیوں سے 43 کی گرمیوں تک قزل قلعہ جیل میں اور کچھ مدت کے لۓ عارضی جیل میں رکھا گیا۔

مسعود کیمیائی کے ساتھ ، نماز جمعہ کی ویڈیو ریکارڈنگ کی یادیں

کاش وہ ریکارڈنگز (کیسٹیں) موجود ہوتیں۔۔

میں اس زمانے میں ریڈیو میں زیادہ سرگرم اور فعال نہ تھا صرف ہفتے میں ایک دن جایا کرتا تھا ، سینئرز اس زمانے میں زیادہ دوستی نہیں کرتے تھے اس زمانے میں تو سارے شعبوں میں ریڈیو ٹی وی اور سینما بہت فعال تھے اور میڈیا اس انتظار میں تھا کہ انقلاب کے بعد ان کو بہت ذیادہ اہمیت دی جاۓ گی اور اگر دیکھا جاۓ تو انقلاب سے پہلے اس وقت کی ثقافت اور ہنر کو دکھانا کوئی گناہ نہ تھا

سید مرتضیٰ نبوی ،محل کی یادوں کو بیان کرتے ہیں

تاریخ کی حقیقتوں کو مٹانا نہیں چاہئے

مرتضیٰ نبوی،انقلاب سے پہلے کے سیاسی قیدیوں میں سے ہیں جو زیادہ تر محل کی جیل میں قید رہے لہذا انکی یادیں اور مشاہدات اسی قید سے متعلق ہیں،نبوی صاحب ابھی بھی روزنامہ رسالت کے مدیر،تشخیص مصلحت نظام کونسل وانجینئرز کی مرکزی کونسل کے رکن ہیں۔

سید مرتضیٰ نبوی اور محل کی یادیں

ہمارا جیل میں ایک نیٹ ورک یا تنظیم تھی اور ظاہر سی بات ہے دوسو،تین سو لوگ تھے بغیر کسی نظم وضبط اور تنظیم کے کام نہیں کرسکتے تھے لہذا ہم نے خفیہ طور پر ایک کمیٹی بنائی ہوئی تھی ہر دن ایک نمائندہ انتخاب کرتے جو باقی کاموں کی تقسیم بندی کرتا،ساتھ ہی یہ بھی بتاتا چلوں کی جیل میں مل کر کام کرنا،میرے پسندیدہ اور یادگار لمحوں میں سے ہے،جیسے جس دن ہماری باری ہوتی تو صبح جلدی اٹھ کر قہوہ بنانا،دسترخوان لگانا،سبکو بلانا پھر برتن دھونا پھر دوپہر کے کھانے اور رات کے کھانے کے انتظامات میں سارا دن اتنا مصروف گزرتا کہ پتہ ہی نہ چلتا۔

محمدحسین خالدی کی انقلاب اورجنگ کے ایام کی تصویروں پر ایک نظر(۱)

میری پہلی تصویریں بہشت زہرا)س( کی تھیں

محمد حسین خالدی،اپنےدوستوں کے درمیان حسین عکاس کے نام سے جانے جاتے ہیں. ان کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے انقلاب اور ایران پرعراق کی طرف سے تحمیل کی ہوئی جنگ کےزمانے کی یادداشت کو تصویروں کی شکل میں اپنے البم میں محفوظ کیا ہواہے ۔
...
10
 

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

میں تیسری بار پوچھ رہا ہوں کہ کیا دلہن مجھے نکاح کے لئے اپنا وکیل مقرر کرتی ہیں؟؟؟
بالآخر میں نے وہ ہاں کہہ دی جس کے سب خلاف تھے۔ اور یوں صلوات اور شور کی صدا گونجی ۔ دلہا کو سیج پر بلایا گیا تاکہ شادی کی انگوٹھی پہنانے کی رسم ادا کی جائے اور تصویریں اتار لی جائیں۔ میں شرم سے پانی پانی ہوئی جاتی تھی۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔