محل میں ٹارچر سن 42 سے شروع ہوا،

لطف اللہ میثمی سے، ان کی یادوں کے بارے میں گفتگو

پہلی مرتبہ مجھے، سن 42 کی سردیوں کے آغاز میں، تحریک آزادی اور انکے رہنماؤں کی عدالتوں سے روابط رکھنے کی وجہ سے گرفتار کیا ، ہوا کچھ یوں کہ کچھ دوست، سیاسی اعلانات کا مجموعہ میرے لۓ لا رہے تھے کہ پکڑے گۓ اور ان کی گرفتاری باعث بنی کہ مجھے بھی گرفتار کیا گیا اور 42 کی سردیوں سے 43 کی گرمیوں تک قزل قلعہ جیل میں اور کچھ مدت کے لۓ عارضی جیل میں رکھا گیا۔

مسعود کیمیائی کے ساتھ ، نماز جمعہ کی ویڈیو ریکارڈنگ کی یادیں

کاش وہ ریکارڈنگز (کیسٹیں) موجود ہوتیں۔۔

میں اس زمانے میں ریڈیو میں زیادہ سرگرم اور فعال نہ تھا صرف ہفتے میں ایک دن جایا کرتا تھا ، سینئرز اس زمانے میں زیادہ دوستی نہیں کرتے تھے اس زمانے میں تو سارے شعبوں میں ریڈیو ٹی وی اور سینما بہت فعال تھے اور میڈیا اس انتظار میں تھا کہ انقلاب کے بعد ان کو بہت ذیادہ اہمیت دی جاۓ گی اور اگر دیکھا جاۓ تو انقلاب سے پہلے اس وقت کی ثقافت اور ہنر کو دکھانا کوئی گناہ نہ تھا

سید مرتضیٰ نبوی ،محل کی یادوں کو بیان کرتے ہیں

تاریخ کی حقیقتوں کو مٹانا نہیں چاہئے

مرتضیٰ نبوی،انقلاب سے پہلے کے سیاسی قیدیوں میں سے ہیں جو زیادہ تر محل کی جیل میں قید رہے لہذا انکی یادیں اور مشاہدات اسی قید سے متعلق ہیں،نبوی صاحب ابھی بھی روزنامہ رسالت کے مدیر،تشخیص مصلحت نظام کونسل وانجینئرز کی مرکزی کونسل کے رکن ہیں۔

سید مرتضیٰ نبوی اور محل کی یادیں

ہمارا جیل میں ایک نیٹ ورک یا تنظیم تھی اور ظاہر سی بات ہے دوسو،تین سو لوگ تھے بغیر کسی نظم وضبط اور تنظیم کے کام نہیں کرسکتے تھے لہذا ہم نے خفیہ طور پر ایک کمیٹی بنائی ہوئی تھی ہر دن ایک نمائندہ انتخاب کرتے جو باقی کاموں کی تقسیم بندی کرتا،ساتھ ہی یہ بھی بتاتا چلوں کی جیل میں مل کر کام کرنا،میرے پسندیدہ اور یادگار لمحوں میں سے ہے،جیسے جس دن ہماری باری ہوتی تو صبح جلدی اٹھ کر قہوہ بنانا،دسترخوان لگانا،سبکو بلانا پھر برتن دھونا پھر دوپہر کے کھانے اور رات کے کھانے کے انتظامات میں سارا دن اتنا مصروف گزرتا کہ پتہ ہی نہ چلتا۔

محمدحسین خالدی کی انقلاب اورجنگ کے ایام کی تصویروں پر ایک نظر(۱)

میری پہلی تصویریں بہشت زہرا)س( کی تھیں

محمد حسین خالدی،اپنےدوستوں کے درمیان حسین عکاس کے نام سے جانے جاتے ہیں. ان کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے انقلاب اور ایران پرعراق کی طرف سے تحمیل کی ہوئی جنگ کےزمانے کی یادداشت کو تصویروں کی شکل میں اپنے البم میں محفوظ کیا ہواہے ۔

۱۷ شہریور ۱۳۵۷ کی عینی شاہد سے گفتگو، رخشندہ اولادی

میدان ژالہ کیوں احتجاج کی جگہ کے عنوان سے منتخب ہوا؟

۱۷ شہریور،حکومت پھلوی کے مقابلے میں ایران کے لوگوں کے قیام کے لئے یاد کیا جاتا ہے۔ ۱۷ شہریور کے چشم دید گواہوں میں سے ایک ہیں رخشندہ اولادی جو کہ ۳۷ سال گذرنے کے بعد آج ہم ان سے اس دن کے بارے میں گفتگو کرینگے۔

موسیٰ حقانی سے ایک گفتگو، جدیدتعلیمی اداروں کا ایران میں ورود، دوسرا حصہ

تہران یونیورسٹی کا قیام ایک مثبت قدم تھا اور ان کالجز یعنی تمام درس گاہوں کا ایک کر دینا انھیں پراکندگی سے روکنا تھا اور اس مسلئے کے حل کے لئے ایک مددگار امر تھا۔ ہماری مشکل عمارت کا بنانا نہیں تھا جس طرح سے بعد میں بنائی گئی کہ اب بھی حالت تعمیر میں ہے، آپ ایران کے دور دراز علاقوں میں دیکھئے کہ پرائیوٹ کالج اور پیام نور بنالئے گئے ہیں ،کیا ان سب نے ہماری مشکل حل کی؟

مدارس کی جگہ پر اسکولوں پر اعتماد

موسیٰ حقانی سے ایک گفتگو، جدیدتعلیمی اداروں کا ایران میں ورود،

حصہ اول

ایران میں مغربی تفکر کی نمائندگی فرانس کر رہا تھا ایوینجلیکل مشنریوں میں سے بعض کہ جو ایران آتی تھیں وہ اکثر فرانسیسی ہو اکرتی تھیں اور امریکی ایوینجلیکل مشنریاں بھی ایران میں داخل ہوئیں اور انھوں نے بھی اپنا کام کیا ان کی تاثیر آپ البرز اسکول میں دیکھ سکتے ہیں کہ جسے امریکہ نے ایران میں بنایا تھا اور وہ اسکولز کہ جو فرانس نے آذربائجان اور تہران میں بنائے تھے وہاں ان کی تاثیر تھی

کتاب "ہدایت سوم" کے مصنف سے گفتگو

سجادی منش: یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بعد والوں کو دفاع مقدس کی درست روایات بیان کریں تاکہ تمام لوگوں ان جنگجنوں کی بہادری و دلاروی سے آشنا ہو جائیں اور اپنے ایمان کی قدرت میں اضافہ کریں۔

عباس یمینی شریف اور روش نو اسکول

والد صاحب ١۳۳۳ شمسی میں ایران واپس پلٹے اور جہاں نوکری کیا کرتے تھے وہاں کے ماحول کو اپنے حاصل کردہ علم کے مطابق نہیں پایا۔ خوش قسمتی کے ساتھ جب پرائیوٹ اسکولز بنانے کا پروگرام بنا، اور والد صاحب کو پتہ چلا تو وقت ضائع کئے بغیر روش نو اسکول کی بنیاد رکھ دی تاکہ بچوں کی جدید طرز تعلیم اور تربیت کو اس جگہ پر پہچنوایا جا ئے۔
...
10
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، پہلا حصہ

قارئین سے گفتگو
میں ایک ایسی خاتون کے سامنے بیٹھی تھی جس کی جوانی کا بیشتر حصہ غریب الوطنی میں گذرا تھا اور سفر کا اختتام، ہمسفر زندگی کی زندگی کے خاتمہ کے ساتھ ہوا تھا۔ اور وہ پچھلے ۱۸ سال سے تن تنہا ماں اور باپ بن کر بچوں کی کفالت کے فرض سے عہدہ برآں ہو رہی تھیں ۔ ایک ایسی خاتون کہ جس کی تمام تر زندگی اب اس کے بچے تھے۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔