ہمارا نہ دیکھنا ہماری کم محنت کا نتیجہ ہے

ایران میں آرٹ کے باب میں ریسرچ اب بھی نئی بات ہے

مینو خان کہ جو سالوں کا روزنامہ نگاری کا تجربہ رکھتی ہیں، ایک طولانی سفر کے بعد تاریخ آرٹ میں تحصیل کے تسلسل کے لئے، ایک ناقابل فراموش ریسرچ کے ساتھ دست پُر اپنے وطن واپس پلٹی ہیں، ان کی ڈاکٹریٹ کے مقالے کا عنوان "١۹۸١ کی جنگ کے بعد ایرانی پینٹگ میں جنگ کے اثرات" تھا۔ انہوں نے پیرس یونیورسٹی کے مشرقی زبانوں اور تہذیبوں کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ میں اسکا دفاع کیا اور اچھے نمبر حآصل کئے۔ یہ مقالہ اس موضوع میں ایک منبع اور ایک ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے ان کی یہ تحقیق فرانسس اور ایران میں کتاب کی صورت میں منتشر ہو چکی ہے ۔

ایک ایسا شہید کہ جس کی تاریخ شہادت معلوم نہیں

شہید تندگویان کی بہن سے بات چیت

جواد کا تیل کی صنعت سے ہی جناب بوشہری اور جناب سادات سے دوستانہ تھا، شہید بہشتی نے ان سے انڑویو لیا تھا ان کا انتخاب جواد تھا، پھرشہید رجائی نے ان کا انٹرویو لیا اور وہ سب اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ جواد میں وہ خصوصیات ہیں کہ جو ۲۷ ویں سا ل میں تیل کی صنعت کا وزیربن سکے۔

خبر رساں ایجنسی ابنا کی زبانی تاریخ کے شعبے کے سیکرٹری سے گفتگو

کاظمی: زبانی تاریخ ملت کی پناہ گاہ ہے

زبانی تاریخ شفاہی ملت کی پناہ گاہ ہے اورتاریخ نگاری جمہوری ترین نوع شمار ہو تی ہے،میں گمنام افرد کی تاریخ نگاری کا شوق رکھتا ہوں جبکہ ہمارے ملک میں تاریخ نگاری مشہور افرد کی شخصیات اور قبائل کے طور طریقے کو بیان کرنے کا نام ہے، میں نے مشہور افرد کے بارے میں لکھا ہے وہ اس وقت مشہور نہ تھے بلکہ میری کتاب کی وجہ سے وہ پہنچانے گئے ۔

دفاع مقدس کی یادیں کبھی بھی نہیں بھولنی چاہیئں

سجادی منش۔یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو دفاع مقدس کی درست روایات بیان کریں تاکہ تمام لوگ ان جنگجنوں کی بہادری و دلاروی سے آشنا ہو جائیں اور اپنے ایمان کی قدرت میں اضافہ کریں۔ سورہ مہر کے خبر نگار کے مطابق، کمانڈر محمد جعفر اسدی کی روداد کی کتاب ہدایت سوم  سید حمید سجادی منش کی کاوشوں سے ضبط تحریر میں آئی اور سورہ مہر کے توسط سے منتشر ہو ئی، یہ کتاب کمانڈر اسدی کی آپ بیتی کو مکمل طور پر ایک تسلسل کے ساتھ ان کے بچپن سے لیکر مسلط کردہ جنگ...

استاد علی رضا کمری

نصف صدی کی تاریخ ایک ثقافتی انقلاب لا سکتی ہے

میری نظر میں نصف صدی گذر چکی ہے اوریہ ایک ایسا دور ہے کہ ان جیسے مسائل اور موضوعات کے لئے بہت سازگار ہے اور سوال و جواب کی صورت میں ایسے انٹر ویوز جو زبانی تاریخ پر مبنی ہوں لئے جائیں اور ان سے معلومات اکھٹی کی جا ئیں

شہید علی سوری اپنے دوستوں کی زبانی

میں یہ نہیں کرسکتا کہ آج چھٹی لے لوں تاکہ شہید نہ ہوں، جب ایک آفسر آگے ہے تو آگےہے کیونکہ شہادت آگے ہے یہ بات میں نے اپنے سپاہیوں کو کہہ دی ہے تمہیں بھی بتا رہا ہوں کو ئی پریشانی کی بات نہیں، رونا نہیں، اگر رونا تو صرف امام حسین علیہ السلام کے لئے رونا

کتاب شرح اسم کے مصنف جناب ہدایت اللہ بہبودی سے گفتگو

اس کتاب کی تالیف میں بہت ساری اسناد سامنے تھیں۔ میری کوشش تھی جو کچھ اس شخصیت کے بارے میں مشہور ہے اس کو حاصل کر وں، دو طرح کی اسناد اس مسلئے میں موجود تھیں ایک اسناد کاغذی اور دوسری سند شفاہی تھی

سید فرید قاسمی سے گفتگو

زبانی تاریخ، نظریہ پردازی کا مقدمہ ہے

تاریخ کو اگر ہم علم نہ کہیں توکم از کم یہ ضرور ہے کہ یہ ایک فلیڈ ہے کہ جو مختلف مضامین کے ضمن میں ہے ۔ زبانی تاریخ تحلیلی تحقیق اور جستجو کی جانب ایک قدم ہے کہ جو دیگر منابع کے ساتھ ملکر معنٰی دیتی ہے اور کبھی یہ بذات خود ایک منبع اور مرجع ہے

کمانڈر گل علی بابائی سے گفتگو

دفاع مقدس کی یادیں ہمارے لئے زندگی گذرانے کا نمونہ بن سکتی ہیں /آٹھ سال کی جنگ عوامی جنگ تھی ۔

جنگ کی یادگاروں کو لکھنے کے بارے میں گل علی بابایی کہتے ہیں " مقدس دفاع کے ایام معاشرے کی اصلاح اور اجتماع کے مخربات سے لڑنے اور زندگی کے طور طریقے کی نشاندہی کے لئے اور اجتماعی و اقتصادی زندگی کے لئے ضروری ہے یہ زندگی کے سنوارنے میں ایک نمونہ ہو سکتے ہیں۔

محمد سپانلو سے گفتگو

میرے لئے شعر یادوں اور تاریخ کو کشف کرنے کا نام ہے

کہا جاتا ہے کہ شعر ایک وسیع کلمہ ہے، میں نے پچاس سال پہلے جوانی کے عالم میں اپنی جوانی کی یادوں کو لکھا۔ میں نے لکھا کہ میری نظرمیں شعر ایک منبسط یعنی پھیلا ہوا کلمہ ہے
...
11
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – پانچویں قسط

عراق کی بعثی حکومت نے سن ۱۹۸۰ء میں عراقی ہزاروں گھرانوں کو اس بہانے سے کہ اُن کی اصلیت ایرانی ہے اور وہ عراق میں ہونے والی متعدد تخریب کاریوں میں ملوث ہیں، ایران جلا وطن کردیا

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔