امیر سمیری -کی یادوں کے ساتھ ۔1

 شہر اور سرحد پرابوزر رجمنٹ خرمشہر کا کردار

جھڑپیں پہلے شہر کے اندر سے شروع ہوئیں۔  بعض اوقات رات کو ہم خلق عرب کے حامیوں کے ساتھ جھڑپیں کرتے اور فائرنگ شروع کر دیتے۔  انہوں نے حملہ کیا اور ہم نے جواب دیا۔  چونکہ ہمارے پاس بڑی تعداد میں فوج تھی ، ہم شہر کی حفاظت کو برقرار رکھنے کے ذمہ دار تھے۔  ابوذر ان تمام ریلیوں کی حفاظت کا بھی ذمہ دار تھا جو خلق عرب کے حامیوں کی طرف سے کئے گئے بم دھماکوں کی وجہ سے ہوئیں

امیر سمیری کی یادوں کے ساتھ

 خرمشہر مزاحمت کے دن

ایران کی اورل ہسٹری ویب سائٹ کے نامہ نگار نے امیر سمیری کے ساتھ بیٹھ کر اسلامی انقلاب کی فتح اور عراق ایران جنگ کے شروع دنوں کی اپنی یادوں کے بارے میں بات کی۔  اس انٹرویو کے پہلے حصے میں ، انھوں نے ابوذر خرمشہر گروپ کو متعارف کرایا

 زرہ پوش جنرل

16 ویں آرمرڈ ڈویژن ک سابق کمانڈر بریگیڈیئر جنرل سیروس لطفی کے  انٹرویو

آرمرڈ بریگیڈیئر جنرل سیرس لوطفی عراق ایران جنگ میں قزوین 16 ویں آرمرڈ ڈویژن کے سابق کمانڈر، فوج کے قدس بیس کے کمانڈر اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف میں ڈپٹی چیف آف آپریشنز اور ڈپٹی چیف آف انٹیلی جنس اور مسلح افواج کے جنرل سٹاف کی کارروائیاں  آپریشن نصر میں ، تراویح ، سمین العائمہ، طارق القدس ، بیت المقدس، فتح المبین، رمضان، والفجر ابتدائی، والفجر 1-2-3 میں بکتر بند آپریشن کے انچارج تھے

ژرہ پوش جنرل

 یہ ایک دلچسپ دن تھا جس نے مجھے مداخلت کرنے کی اجازت نہیں دی۔  ہم نے اس کے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔  اس نے مجھے ایک شرط پر مدعو کیا کہ ہم پیر کو ملیں گے۔  کیونکہ پیر کے دن پھلیاں تھیں اور اسے یہ کھانا پسند تھا۔

کبری احمدی کے زمانہ جنگ کے واقعات

زمانہ جنگ میں بسیجی خواتین کے واقعات

کبری احمدی جو کئی سالوں سے ثقافتی اور اجتماعی کاموں میں مصروف ہیں، اُن کی جوانی کی شروعات انقلاب اسلامی کی کامیابی اور صدامی افواج کی ایران پر مسلط کردہ جنگ سے ہوئی تھی۔

"بتول قیومی" سے گفتگو

"خرم شہر" کی آزادی کی مٹھائی کے پیسوں سے ہم نے آپریشن تھیٹر کے کپڑوں کا انتظام کیا

میں نے اتنی بوتلیں جمع کی تھیں کہ میں "بوتل والی خاتون" مشہور ہو گئی تھی۔ ایک دن میں بوتلیں جمع کرنے گئی ہوئی تھی، "کوکاکولا" روڈ جو ہمارے گھر سے بہت دور تھا، سے ایک خاتون آئی، جب اس نے دیکھا کہ ہمارا صحن گندا ہے اور برتن باغیچے کے پاس رکھے ہوئے ہیں تو اس نے برتن دھو دیے اور میرے بچوں سے کہا: " اپنی امی سے کہنا کہ میں رضائے الہی کے لیے تمہاری مدد کرنے آئی تھی

ریڈیو کی وہ داستان جو آبادان کی استقامت کی آواز بنا

صابری نے اس کتاب میں دفاع مقدس کے ابتدائی سالوں میں اپنے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ پیش آنے واقعات کو قلم بند کیا ہے۔ اس کام کے لیے انھوں نے اور عبداللہ نعیم زادہ نے ۱۰۰ سے زائد انٹرویو کیے ہیں

دوران جنگ کے ایک ڈاکٹر کی کہانی

ان شہریوں کا مداوا جنہوں نے ہمارا محاصرہ کیا تھا

میں اور ایک اراک سے تعلق رکھنے والا پاسدار ایمبولینس کی طرف دوڑے جیسے ہی ہم اس کے اسٹریچر کو ایمبولینس سے نیچے اتارنے لگے اچانک ہم پر شدید فائرنگ شروع ہوگئی۔ تب ہمیں احساس ہوا کہ وہاں موجود دیگر افراد آگے کیوں نہیں بڑھے

شاہی کارندوں کے نیزے امام خمینی رح کے پوسٹرز کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے

میں نے جو لکھا ہے اپنے دلی اعتقادات کی روشنی میں لکھا ہے۔ آج بھی کوشش کرتا ہوں کہ اپنے اشعار میں ہی موجود رہوں۔ جس شخص نے زندگی کے اتنے اہم واقعے کو دیکھا ہو وہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کسی مجاہد نے محاذ جنگ کو دیکھا ہو۔

امیر ثامری کی یادوں کے ساتھ – دوسرا حصہ

خرم شہر میں جدوجہد کے ایام

ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کے خبر نگار امیر ثامری کے ساتھ گفتگو کرنے بیٹھے ہیں تاکہ وہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے ابتدائی سالوں اور عراق کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کے ابتدائی ایام کے بارے میں بتائیں۔ اس انٹرویو کے پہلے حصے میں، انھوں نے خرم شہر کے ابوذر گروپ کا تعارف کروایا۔ اب آپ اُن کے انٹرویو کا دوسرا حصہ ملاحظہ فرمائیں۔
1
...
 
11 ویں امیر المومنین ڈویژن کے شہید کمانڈر کی یاداشت

ہیلٹی - 10

ہمیں اس کا احساس اس وقت ہوا جب عراقی "رسام"  گولی ہم پر تقریبا  چھ بجے پیچھے سے چلائی گئی۔  یعنی ہم مکمل محاصرے میں تھے

جیل میں حصول علم

اسی اثنا میں ایک اور قیدی جو چوری کے جرم میں گرفتار تھا اس نے اپنی گردن کے پاس سے سوئی نکالی جو شاید ہمیشہ ہی اس کے پاس رہتی تھی اور میری ہتھکڑیاں کھول دیں اور میں نے امتحان دینا شروع کردیا۔ جب وہ سپاہی چابی لے کر واپس لوٹا تب تک میں آدھا امتحان دے چکی تھی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔