نصف صدی کی تاریخ ایک ثقافتی انقلاب لا سکتی ہے

یاد داشتوں کے مسائل میں ہمارا موجودہ مسئلہ یہ ہے ہم مستقبل سے ماضی میں چلے جاتے ہیں جبکہ ہم ماضی کی تاریخ کو حال میں بیان کر رہے ہوتے ہیں اور اس کا ایک نقصان یہ ہے آپکو حال سے ماضی میں اُ ٹھا کر پھینک دیا جاتا ہے اور آپ کے اندر ایک مایوسی کی کیفیت پیدا ہو جا تی ہے اور حسرت کو تقویت ملتی ہے۔

شہید علی سوری اپنے دوستوں کی زبانی

شہید علی سوری ملایر کے ایک مضافاتی گاؤں پیرغیب میں ۲۹ دسمبر ۱۹۵۹ کو پیدا ہوئے ان کے والد ۶۱۔ ۱۹۶۰ ء میں امام خمینی کے مقلدین میں سے تھے علی نے پانچ سال کی عمرمیں مرحوم سید ابوطالب میر معنی کے پاس قرآن کریم شروع کیا انھوں نے تعلیم کے لئے رات کے وقت کا انتخاب کیا کیونکہ دن میں کسب معاش کیا کرتے تھے۔

حجت‌‌الاسلام سعید فخرزاده، کے ساتھ ایک نشست

ہمارے معاشرے میں تاریخ سے صحیح طور فائدہ حاصل نہیں کیا جاتا اسے صرف چٹخارے کے طور پر اور عبرت حاصل کرنے کے لئے پڑھا جاتا ہے ،جبکہ تاریخ کا اصل کام انسانی علوم کے میدان میں تحقیقات کی راہ ہموار کرنا ہے Humanitiesعلوم انسانی کا ایک بہت بڑا حصہ معاشرے کی رفتار و کردار پر مشتمل ہے

حجتالاسلام سعید فخرزاده،کہ جو تاریخ شفاہی یا زبانی تاریخ کے شعبے کے سرپرست ہیں کتاب و انقلاب اسلامی کے سلسلے میں ایک نشست میں انھوں نے کہا صحیح تاریخی مطالب تک پہنچنے کے لئے تکرار بہت ضروری ہے کیوں کہ جھوٹ کا امکان ہے البتہ تاریخ میں اصلیت تک تو نہیں پہنچا جاسکتا لیکن اس اصل کی شبیہ تک پہنچ سکتے ہیں۔

جناب بلوری کی سن ۱۹۷۸ء کے نامہ نگاروں کے بارے میں باتیں

محمد بلوری ایک مایہ ناز صحافی ہیں انھوں نے اپنی سن ۱۹۷۸ء کی اشاعتی کارکردگی اور صحافت کے میدان میں جو مختلف واقعات پیش آئے ان کے بارےمیں گفتگو کی جیسے حسین علی کا قتل ، اور گوزن جیسی فلم کہ جو ایک حقیقی حادثہ تھا اور۔۔۔۔۔۔۔ بتا یا ۔

بهبودی ۔

انقلاب کے بارے میں کمزور و ضعیف کتابوں کو نقد کے زریعے بند کیا جانا چاہیے۔

ہدایت اللہ بہبودی ،ایک انقلابی اسلامی تاریخ نگار ہیں ،ایک نشست میں کہ جو کتاب و انقلاب اسلامی کے عنوان سے تھی خبر رساں ایجنسی ابنا کے ٹاک روم میں انھوں نے کہا ،اگر اسلامی انقلاب کے وسیع موضوع پر متوازی کام ہو تو کو ئی مشکل نہیں ہے بلکہ ایک طرح کا حسن سامنے آئے گالیکن ضعیف کتابوں کی جولانی کو نقد کے ذریعے سے روکنا ہوگا ہر چند نقد کی اجازت نہیں مگر کوشش کرنا چاہیے کہ اس کی جانب قدم اُٹھے ۔
...
14
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔