محمدحسین خالدی کی انقلاب اورجنگ کے ایام کی تصویروں پر ایک نظر(۱)

میری پہلی تصویریں بہشت زہرا)س( کی تھیں

محمد حسین خالدی،اپنےدوستوں کے درمیان حسین عکاس کے نام سے جانے جاتے ہیں. ان کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے انقلاب اور ایران پرعراق کی طرف سے تحمیل کی ہوئی جنگ کےزمانے کی یادداشت کو تصویروں کی شکل میں اپنے البم میں محفوظ کیا ہواہے ۔

۱۷ شہریور ۱۳۵۷ کی عینی شاہد سے گفتگو، رخشندہ اولادی

میدان ژالہ کیوں احتجاج کی جگہ کے عنوان سے منتخب ہوا؟

۱۷ شہریور،حکومت پھلوی کے مقابلے میں ایران کے لوگوں کے قیام کے لئے یاد کیا جاتا ہے۔ ۱۷ شہریور کے چشم دید گواہوں میں سے ایک ہیں رخشندہ اولادی جو کہ ۳۷ سال گذرنے کے بعد آج ہم ان سے اس دن کے بارے میں گفتگو کرینگے۔

موسیٰ حقانی سے ایک گفتگو، جدیدتعلیمی اداروں کا ایران میں ورود، دوسرا حصہ

تہران یونیورسٹی کا قیام ایک مثبت قدم تھا اور ان کالجز یعنی تمام درس گاہوں کا ایک کر دینا انھیں پراکندگی سے روکنا تھا اور اس مسلئے کے حل کے لئے ایک مددگار امر تھا۔ ہماری مشکل عمارت کا بنانا نہیں تھا جس طرح سے بعد میں بنائی گئی کہ اب بھی حالت تعمیر میں ہے، آپ ایران کے دور دراز علاقوں میں دیکھئے کہ پرائیوٹ کالج اور پیام نور بنالئے گئے ہیں ،کیا ان سب نے ہماری مشکل حل کی؟

مدارس کی جگہ پر اسکولوں پر اعتماد

موسیٰ حقانی سے ایک گفتگو، جدیدتعلیمی اداروں کا ایران میں ورود،

حصہ اول

ایران میں مغربی تفکر کی نمائندگی فرانس کر رہا تھا ایوینجلیکل مشنریوں میں سے بعض کہ جو ایران آتی تھیں وہ اکثر فرانسیسی ہو اکرتی تھیں اور امریکی ایوینجلیکل مشنریاں بھی ایران میں داخل ہوئیں اور انھوں نے بھی اپنا کام کیا ان کی تاثیر آپ البرز اسکول میں دیکھ سکتے ہیں کہ جسے امریکہ نے ایران میں بنایا تھا اور وہ اسکولز کہ جو فرانس نے آذربائجان اور تہران میں بنائے تھے وہاں ان کی تاثیر تھی

کتاب "ہدایت سوم" کے مصنف سے گفتگو

سجادی منش: یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بعد والوں کو دفاع مقدس کی درست روایات بیان کریں تاکہ تمام لوگوں ان جنگجنوں کی بہادری و دلاروی سے آشنا ہو جائیں اور اپنے ایمان کی قدرت میں اضافہ کریں۔

عباس یمینی شریف اور روش نو اسکول

والد صاحب ١۳۳۳ شمسی میں ایران واپس پلٹے اور جہاں نوکری کیا کرتے تھے وہاں کے ماحول کو اپنے حاصل کردہ علم کے مطابق نہیں پایا۔ خوش قسمتی کے ساتھ جب پرائیوٹ اسکولز بنانے کا پروگرام بنا، اور والد صاحب کو پتہ چلا تو وقت ضائع کئے بغیر روش نو اسکول کی بنیاد رکھ دی تاکہ بچوں کی جدید طرز تعلیم اور تربیت کو اس جگہ پر پہچنوایا جا ئے۔

ہمارا نہ دیکھنا ہماری کم محنت کا نتیجہ ہے

ایران میں آرٹ کے باب میں ریسرچ اب بھی نئی بات ہے

مینو خان کہ جو سالوں کا روزنامہ نگاری کا تجربہ رکھتی ہیں، ایک طولانی سفر کے بعد تاریخ آرٹ میں تحصیل کے تسلسل کے لئے، ایک ناقابل فراموش ریسرچ کے ساتھ دست پُر اپنے وطن واپس پلٹی ہیں، ان کی ڈاکٹریٹ کے مقالے کا عنوان "١۹۸١ کی جنگ کے بعد ایرانی پینٹگ میں جنگ کے اثرات" تھا۔ انہوں نے پیرس یونیورسٹی کے مشرقی زبانوں اور تہذیبوں کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ میں اسکا دفاع کیا اور اچھے نمبر حآصل کئے۔ یہ مقالہ اس موضوع میں ایک منبع اور ایک ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے ان کی یہ تحقیق فرانسس اور ایران میں کتاب کی صورت میں منتشر ہو چکی ہے ۔

ایک ایسا شہید کہ جس کی تاریخ شہادت معلوم نہیں

شہید تندگویان کی بہن سے بات چیت

جواد کا تیل کی صنعت سے ہی جناب بوشہری اور جناب سادات سے دوستانہ تھا، شہید بہشتی نے ان سے انڑویو لیا تھا ان کا انتخاب جواد تھا، پھرشہید رجائی نے ان کا انٹرویو لیا اور وہ سب اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ جواد میں وہ خصوصیات ہیں کہ جو ۲۷ ویں سا ل میں تیل کی صنعت کا وزیربن سکے۔

خبر رساں ایجنسی ابنا کی زبانی تاریخ کے شعبے کے سیکرٹری سے گفتگو

کاظمی: زبانی تاریخ ملت کی پناہ گاہ ہے

زبانی تاریخ شفاہی ملت کی پناہ گاہ ہے اورتاریخ نگاری جمہوری ترین نوع شمار ہو تی ہے،میں گمنام افرد کی تاریخ نگاری کا شوق رکھتا ہوں جبکہ ہمارے ملک میں تاریخ نگاری مشہور افرد کی شخصیات اور قبائل کے طور طریقے کو بیان کرنے کا نام ہے، میں نے مشہور افرد کے بارے میں لکھا ہے وہ اس وقت مشہور نہ تھے بلکہ میری کتاب کی وجہ سے وہ پہنچانے گئے ۔

دفاع مقدس کی یادیں کبھی بھی نہیں بھولنی چاہیئں

سجادی منش۔یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو دفاع مقدس کی درست روایات بیان کریں تاکہ تمام لوگ ان جنگجنوں کی بہادری و دلاروی سے آشنا ہو جائیں اور اپنے ایمان کی قدرت میں اضافہ کریں۔ سورہ مہر کے خبر نگار کے مطابق، کمانڈر محمد جعفر اسدی کی روداد کی کتاب ہدایت سوم  سید حمید سجادی منش کی کاوشوں سے ضبط تحریر میں آئی اور سورہ مہر کے توسط سے منتشر ہو ئی، یہ کتاب کمانڈر اسدی کی آپ بیتی کو مکمل طور پر ایک تسلسل کے ساتھ ان کے بچپن سے لیکر مسلط کردہ جنگ...
...
12
 

سردار سید رحیم صفوی صاحب کی ڈائری سے اقتباس

ہم جس پل سے بھی گزرے، اسے تباہ کردیا تا کہ واپسی کا کوئی رستہ باقی نہ بچے۔ یوں اس معرکے کے لئے وہی فرد آگے بڑھ سکتا تھا جو جان ہتھیلی پہ رکھ کر پیش قدمی کرنا جانتا ہو۔ البتہ ہمارے لیے اس وحشتناک منظر میں صرف اور صرف ایک ہی چیز سکون کا باعث تھی اور وہ تھی اہل بیت علیھم السلام سے توسل اور اللہ کی عنایت۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔