ایک دہشتگرد فرقے کے ساتھ زندگی گذارنا اور اس سے فرار

آنا پیوو وراچک [۱] ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر، کلچرل ایڈیٹر اور فرابزرور [۲] کے بانیوں میں سے ایک ہیں اور اس سے پہلے وہ یورپی سیکٹر کے ایڈیٹر تھے۔ وہ ایک آزاد مؤلف اور کالم نویس ہیں اور لندن میں رہتے ہیں اور اب تک چند اداروں جیسے اقوام متحدہ، انجمن سیاست خارجی اور مسکو ٹایمز [۳] کے لئے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔

حسین شاہ حسینی سے گفتگو

امریکہ کے حامیوں کی جانب سے برطانیہ مخالف وزیر کی پھانسی

سید حسین فاطمی ۱۰ نومبر ۱۹۵۴، جب امریکا اور برطانیہ نے ایران کی عوامی حکومت پر شب خون کیا تھا اسکے ایک سال بعد، ملٹری کورٹ کے حکم پر تھران میں پھانسی پر چڑھائے گئے۔

اسماعیل نادری سے گفتگو

رمضان آپریشن کی ان کہی باتیں

حاجی اسماعیل نادری سے انکے گھر میں ملاقات طے پائی ہے۔ وہ کمانڈر جس نے اپنے دونوں پاوں کربلا ۵ آپریشن میں شلمچہ کے مقام پر قربان کردیئے۔ اب اراک یونیورسٹی میں تاریخ کے استاد ہیں۔ خزاں کے ایک خوشگوار دن انکا مھمان ہوا تاکہ ان سے رمضان آپریشن کے بارے میں کچھ سن سکوں۔

ٹائی لگاو اور تصویریں کھینچو!

محمد حدین جمال زادہ سے اراک میں انقلاب اسلامی کے حوالے سے گفتگو

محمد حسین جمال زادہ سن ۱۹۵۲ ایران کے شہر اراک میں پیدا ہوئے۔ ان کی زندگی اراک شہر کے بعض تاریخی حوادث سے مربوط رہی ہے۔ جس شہر کے مرد و خواتین کا کردار تاریخ میں موثر بلکہ تاریخ ساز رہا ہے۔ اراک کے عوامی انقلاب کی تاریخ میں اور پہلوی حکومت کے آخری دنوں میں انکی کھینچی ہوئی منفرد تصاویر ایک تاریخی حیثیت کی حامل ہیں۔

میں نے تصویریں ساواک کے حوالہ کردیں

شہر اراک کی تاریخ میں محمد علی داوری کی تصویروں کی بہت اہمیت ہے۔ وہ پہلے فوٹو گرافر ہیں جو اسٹوڈیو میں فلیش استعمال کرتے ہیں اور اسی طرح شہر کے واقعات، اتفاقات اور حادثات کے پہلے فوٹو گرافر، کپڑے، المونیم اور اجسام پر تصویریں بنانا بھی اُن کے ہنر اور تخلیق کی نشاندہی کرتا ہے ۔

اراک میں امریکی یرغمالیوں پر نگہبانی کی داستان

حفاظت کیلئے جوان فوجیوں کو رکھا گیا تھا۔ وہاں پہ فوجی ہمیشہ رہتے تھے۔ اس طرح سے تھا کہ دو گھنٹے ڈیوٹی دیتے، دو گھنٹے تیار رہتے اور دو گھنٹے سوتے تھے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہم نے جوان فوجی جو رکھے تھے وہ اپنی جوانی کی وجہ سے بہت کھیل کود اور مذاق کرتے۔ مثلاً ایک دوسرے سے کشتی لڑتے اور بچہ گانہ حرکتیں زیادہ کرتے۔ ان فوجیوں کے شور کی آواز ان یرغمالیوں تک جاتی اور وہ ہمارے جوان فوجیوں کو تعجب سے دیکھتے تھے اور اُنہیں اُمید نہیں تھی کہ سپاہ کے فوجی اتنے زندہ دل اور شوخ طبیعت کے مالک ہوں گے۔ بعد میں سمجھ گئے کہ ان لوگوں کی عادت ہی مذاق کرنے کی ہے۔

حضرت یونس ؑ یونٹ کے غوطہ خور

آپریشن کربلا 4 کی شکست کا تصور بھی محال تھا

اس یونٹ کے لئے غوطہ خوروں کا انتخاب کیا جاتا تھا اور ایسے مجاہدین کو منتخب کیا جاتا تھا جو جنگی صلاحیتوں کیساتھ ساتھ جسمانی طور پر بھی مضبوط ہوں ، محاذ پر جانے کے بعد اپنی لگن کیوجہ سے میں نے کافی مہارت حاصل کرلی تھی اور جسمانی لحاظ سے بھی جسمانی ہیکل میں تیزی سے تبدیلی آئی تھی ،اسوجہ سے منتخب ہوگیا کہ میرا سب سے پہلا آپریشن والفجر 8 تھا۔

دفاع مقدس میں انجمن جہاد سازندگی کے عملے اور انجینئرنگ کا کردار(2)

وسیع آپریٹنگ علاقے اور لوگوں کا کام

اب تک عراق کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کے بارے میں کافی تحریریں سامنے آچکی ہیں جسمیں مجاہدین کی ایثار وقربانی اور کردار سے لے کر ،محاذ کے پس پردہ خواتین کا کردار بھی سامنے لایا جا چکا ہے اور اس موضوع پر کافی روشنی ڈالی گئی ہے کہ ان تمام ایثار وقربانی کے واقعات سے پیوستہ ،ان لوگوں کے کردار سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا جو کہ جہاد سا زندگی (جہادی تعمیر وزندگی) نامی تنظیم کے طور پر سامنے آۓ اور ان دستوں (اسٹاف) کا کام لوگوں(عوام) سے مدد جمع کرنے سے لے کر، پلوں کی تعمیر ،دیواروں اور مورچوں کی تعمیر کرنا تھا وہ بھی ان برستے گولوں کی بوچھاڑ میں۔۔۔۔۔،یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے جنگ کے اختتام کے کئی سالوں بعد تک بھی، جنگی خراب کاریوں اور نقصانات کی مرمت اور تعمیر کا کام جاری رکھا، ہم نے اسی سلسلے میں وزارت جھاد و زراعت کے ، ثقافتی امور کے محکمے کے ڈپٹی آفس میں، فتح اللہ نادعلی صاحب سے ،اس اسٹاف کی کارکردگی، ذمہ داریوں اور بالخصوص جنگ کے دوران ، تعمیر اور انجینئرنگ کے امورمیں ان کی خدمات کے حوالے سے گفتگو کی، پچھلے ہفتے اس گفتگو کا پہلا حصّہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا گیا اور اب اس گفتگو کا دوسرا اور آخری حصّہ آپکی خدمت میں پیش کیا جارہاہے.

بلاشبہ، ان مقاصد پر ذرہ برابر بھی شک نہ تھا!

اصفہان کی ٹیکنیکل یونیورسٹی کے طالب علموں کی تحریک ، محمد علی حاجی منیری سے گفتگو

یہ گفتگو ،اصفہان کی ٹیکنیکل یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ،انجینئر محمد علی حاجی سے خرم شہر کی آزادی کی سالگرہ کے موقع پر، سن 1977 میں، ہونے والی اصفہان کی ٹیکنیکل یونیورسٹی کے طلباء کی تحریک کے بارے میں کی جارہی ہے، کہ اس گفتگو میں آپ اس تحریک سے متعلق کافی معلومات سے آشنا ہوں گے، یہ گفتگو ہمارے راوی (محمد حاجی منیری) کو اس مسلط کردہ جنگ کے دنوں اور اپنے ساتھیوں اور شہداء کی یادوں میں لے گئی اور انہوں نے اسطرح سے ان دنوں کی منظر کشی کی کہ تین دہائیوں سے زیادہ کا وقت گزرنے کے باوجود یہ واقعہ ،آج بھی تازہ لگتا ہے اور پڑہے جانے کے قابل ہے۔

ہم حیران تھے؛ ابتدائی ایام میں اس طرح کی جنگ کے لئے ہم تیار نہ تھے

میں باہر تو آگئ لیکن ایسا لگ رہا تھا جیسے گونگی ہوگئی ہوں۔ مجھے یاد ہےکہ میں نے صرف اس کو گلے سے لگایا اور بغیر بات کئے ہوئے ہم دونوں رونے لگے اس وقت اسکو سمجھ میں آیا کہ اس کا بچہ نہیں رہا۔ وہ دن میرا سب سے برا دن تھا،ایک عرصہ تک میں سوچتی رہی کہ اگر میرا بچہ ہومن اس کی جگہ ہوتا، توکیا ہوتا؟اس دن کے مناظر کو میں نے کئ دنوں تک خواب میں دیکھا تھا۔
...
10
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔