سب سے زیادہ دیکھے جانے والے

راوی کا آخری سفر
بہشت زہرا (س) میں اُن کے والد کے گرد گھیرا تھا، وہ پرسکون اور مطمئن تھے، بالکل خود آقا مرتضی کی طرح، جب غسل خانے کے شیشے کے پیچھے سے اُنہیں اُس کٹی ہوئی ٹانگ کے ساتھ دیکھا۔ ایک عورت آئی تھی جس کی آنکھیں رونے سے سرخ تھیں، لگتا تھا کسی شہید کی ماں ہے، کہنے لگی: «برسوں سے اس آواز پر روئی چلی آئی ہوں لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ آپ کے صاحب زادے ہیں۔ وہ ہم سب کا بیٹا ہے، خوش نصیب ہیں آپ لوگ۔»

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔

