سب سے زیادہ دیکھے جانے والے

محترمہ جومای احمد کروفی کی یادیں
ہم نے اپنے مقصد سے شیخ صاحب کے ایک بچے کو آگاہ کیا اور اس نے جواب میں کہا کہ میرے والد نے کہا ہے کہ میں یہاں سے نہیں جاؤں گا، کیونکہ حکومت اور فوج میرے لوگوں کو مار رہے ہیں اور میں بھی یہاں ان کے پاس ہوں۔ اس وقت ہمارے پاس شیخ صاحب کے گھر اور اس کے اردگرد علاقے میں 700 سے زیادہ شہید اور زخمی تھے

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔

