"بیتی یادوں کی شب" کے عنوان سے تین سو چونتیسواں پروگرام-1

ہم نے سید احمد سے پوچھا: "چھاؤنی میں تو پانی نہیں تھا، تم کہاں سے لے آئے؟"۔ کہنے لگا: " سچ پوچھو تو ان قیدیوں کی حالت مجھ سے دیکھی نہ گئی۔ یہ پانی میں دفتر کے واٹر کولر سے نکال کر لایا ہوں"۔ آپ یقین کریں وہ آدھا گلاس پانی ہمارے لیے اس قدر با برکت تھا کہ اس نے ہمیں اس گرمی میں نجات دی اور پانی پینے کے بعد سب کی حالت بہتر ہوگئی۔

325ویں یادوں  بھری رات  (پہلا حصہ)

سرحدی محافظ۔ ۔ ۲

ہم کافی عرصہ فاو میں رہے وہاں ہمارےساتھ شاہرود کا ایک نوجوان بھی تھی۔ واقعی بڑا ہی چنچل تھا۔  مجھ سے کہا ہم چاہتے ہیں اڑ جائیں میں سمجھا یہ فرار کرنا چاہتا ہے۔ میں نے کہا میں تمہیں نہیں جانے دونگا۔ تمہیں یہیں رہنا پڑے گا۔ اس نے کہا: اگر تم اڑنا نہیں چاہتے تو نہ اڑو یہاں بیٹھو اور مورچہ صاف کرو

325ویں یادوں  بھری رات  (پہلا حصہ)

سرحدی محافظ۔۱

یادوں بھری رات کا ۳۲۵واں  پروگرام  مورخہ ۲۴ جون ۲۰۲۱ کو حوزہ ہنری میں منعقد ہوا جس کی میزبانی داؤد صالحی نے کی۔ اس پروگرام کا موضوع ’’ سرحدی محافظ‘‘ تھا۔ اس پروگرام میں بریگیڈئیر جنرل جلال ستارہ صاحب، کرنل ابوالقاسم خاتمی اور ناجا کے ثقافتی مشیر علی کاظم حسنی نے شرکت کی اور اپنے تاثرات اور تجربات بیان کئے

۳۲۵ ویں یادوں بھری رات حصہ دوم

سرحدی رجمنٹ میر جاوہ میں مجلس عزا کی یادیں

یادوں  بھری رات کا ۳۲۵واں پروگرام  بروزجمعرات  ۲۴ جون ۲۰۲۱؁ء  حوزہ ہنری کے صحن میں منعقد ہوا۔ اس کی میزبانی کے فرائض محترم داؤد صالحی نے انجام دئیے۔  اس پروگرام کا موضوع، فوج کے سرحدی محافظ تھا۔ اس پروگرام میں بریگیڈئیر جنرل جلال ستارہ صاحب، کرنل ابوالقاسم خاتمی اور ناجا کے ثقافتی مشیر علی کاظم حسنی نے شرکت کی اور اپنے تاثرات اور تجربات بیان کئے۔

بانہ  کی سرحدی رجمنٹ کے واقعات

قصہ مختصر آپریشن کی رات جو بھی محمد سے ملا اس نے  یہی جملہ سنا کہ میں امام رضا علیہ السلام کی یاد میں بے قرار ہوں۔ محمد مردانی اسی رات کردستان کے آپریشن میں شہید ہوگئے۔ ان کی  والدہ کہتی ہیں میں اپنے کمرے میں نماز پڑھ رہی تھی، ابھی نماز ختم ہی ہوئی تھی کہ دروازہ کی گھنٹی بجی میرا دل دھک سے رہ گیا

جوشیلی  گاڑیاں 

۳۲۶ ویں یادوں کی رات   ۲۹ جولائی ۲۰۲۱ بروز جمعرات حوزہ ہنری کے صحن میں ، داؤود صالحی کی میزبانی میں منعقد ہوئی۔ یہ پروگرام ’’ جنگ میں  شعبہ اشتہارات کے جنگوجوؤں کی روایت‘‘ کے عنوان سے منقعد ہوا۔ اس پروگرام سے سردار محمد علی آسودی، جناب اسماعیل محمودی اور ڈاکٹر محمد قاسمی نے خطاب کیا۔

کردستان میں قیام کی نعمت

سپاہ کے کردستان میں داخلے کے ساتھ ہی فوجیوں کا وظیفہ اور شعار ’’ أَشِدَّاءُ عَلَى الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَهُمْ۔(۱)  بن گیا۔  کردستان کی قوتوں کے ساتھ مقابلے کے لئے پہلی کوشش نرم رویہ اور شفقت و مہربانی کا سلوک تھا اس کے بعد قوت اور سختی کا اظہار

یادوں کی تین سو چوبیسویں رات ۔3

"ہیلو مسٹر سید" کتاب کی رونمائی

اس کیمپ میں ٹارچرکرنے والوں میں سے ایک کا نام ہاشم تھا، جس کاھیکل استخوانی اور چہرہ سیاہ تھا۔ اس نے ٹارچر سیل میں ہم سے کہاکہ تم لوگوں کے سرپھاڑنے کی زمہ داری میری ہے

یادوں بھری رات کا یادگاری 324 واں پروگرام

موصل کیمپ کی یادیں

جب ہم موصل کے کیمپ 1 میں ان کی خدمت میں تھے ، ہم نے دیکھا کہ جب صبح اٹھتے وقت سے رات کے آخر تک وہ ایرانی قیدیوں سے متعلق معاملات میں ہمیشہ مصروف رہتےتھے اور انہیں ذاتی معاملات کا کوئی موقع نہیں ملتا تھا۔ سوائے نماز اور کھانے کے

یادوں کی تین سو تیسسویں شب ۔2

شہید چیت سازیان کا گریہ ان کی مشکلات کاحل

یادوں بھری رات کا تین سو تیئسواں پروگرام مئی کی دوسری جمعرات ، 1400 کو آرٹس سینٹر میں انسٹاگرام پر آن لائن منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کی انجام دہی کے لئے حسین بہزادی انچارج تھے ، جس میں کرنل "احمد حیدری" اور محترمہ "زهرا پناهی‌روا" نے اپنی یادوں کو شٸیر کی
1
...
 
جناب غلام علی مہربان جہرمی کی ڈائری سے اقتباس

"جنگ بندی کا اعلامیہ، اس کی قبولی اور جنگ کا خاتمہ"

میں وہاں سے اٹھا اور مورچے میں جاکر اسدی صاحب اور ید اللھی صاحب کے پاس جا یٹھا، وہ بھی رو رہے تھے لیکن حقیقت کا علم انہیں بھی نہ تھا۔ بہرحال ان کا اصرار یہ تھا کہ کسی صورت اس حکم کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہئے۔ میں نے بھی کہا: اگرچہ یہ سب بہت افسوس ناک ہے لیکن کوئی اس کی مخالفت نہیں کرے گا"۔ 
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔