خاطرات کی تین سو بتیسویں رات ۔۱

ہر ایرانی فوجی افسر کے خاطرات ایک مستقل کتاب میں تبدیل ہوسکتے ہیں

کچھ منٹ بعد ہوش میں آئے تو دوبارہ اپنی ذمہ داری انجام دینا کا خیال آیا لیکن وہ زخموں سے چور چور تھے انکی توانائی ختم ہورہی تھی۔ آخر کار انہوں نے وائرلیس پر اپنا آخری جملہ کہا:"میری والدہ اور امام خمینی کو کہہ دیں شیاکوہ لرز گیا لیکن انشائی کے پیروں میں لرزش نہیں آئی"

یادوں بھری رات کا ۳۱۶واں پروگرام (پہلا حصہ)

تکفیری دہشت گردوں کی اسارت میں پیش آنے والے چند واقعات

یادوں بھری رات کے ۳۱۶ویں پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں تکفیری دہشت گردوں کے ہاتھوں اسیر ہونے والے " مصطفی بیدقی" اور دفاع مقدس کے مجاہد " جناب سردار علی ولی زادہ" نے شرکت کی اور اپنی مجاہدانہ زندگی میں پیش آنے والے واقعات کو بیان کیا۔ اس پروگرام کو ۲۷ اگست ۲۰۲۰ء کو آپارات ویب سائٹ کی جانب سے نشر کیا گیا۔ اس پروگرام کی میزبانی کے فرائض جناب داود صالِحی انجام دے رہے تھے۔

یادوں بھری رات کا ۳۱۵ واں پروگرام۔ دوسرا حصہ

انقلاب اسلامی ۸ سالہ جنگ کا فاتح

۲۳ جولائی ۲۰۲۰ء کی شب یادوں بھری رات کے ۳۱۵ ویں پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس کو آپارات ویب سائٹ پر نشر کیا گیا۔ اس پروگرام میں " سید احمد قشمی" اور " ڈاکٹر حمید رضا قنبری" مہمان تھے جنہوں نے دفاع مقدس کے دوران پیش آنے والے واقعات کو ناظرین کے لیے پیش کیا اور اس پروگرام میں میزبانی کے فرائض " داؤد صالحی" انجام دے رہے تھے۔

یادوں بھری رات کا ۳۱۴ واں پروگرام (پہلا حصہ)

شہید چمران کی کچھ یادیں

۲۵ جون ۲۰۲۰ء کو یادوں بھری رات کے تین ۳۱۴ ویں پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں شہید مصطفی چمران کے حلقہ احباب میں سے تین دوستوں کو دعوت دی گئی جس میں انہوں نے شہید کے واقعات کو بیان کیا۔

کبھی نہیں سوچا تھا اسیری ۱۰ سال طولانی ہوجائی گی

یادوں بھری رات کا ۳۱۵ واں پروگرام

ہمیں بے جرم اسیر کیا گیا تھا۔ ہمارے ہاتھوں کو پشت سے باندھا گیا اور ہماری آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر قید کردیا گیا۔ ہم جس راستے سے گزرتے تھے ہمیں مجوسی کہہ کر متعارف کروایا جاتا اور لوگ ہمارا تماشا دیکھا کرتے

شہید چمران کی کچھ یادیں

یادوں بھری رات کا ۳۱۴ واں پروگرام (پہلا حصہ)

۲۵ جون ۲۰۲۰ء کو یادوں بھری رات کے تین ۳۱۴ ویں پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں شہید مصطفی چمران کے حلقہ احباب میں سے تین دوستوں کو دعوت دی گئی جس میں انہوں نے شہید کے واقعات کو بیان کیا۔

یادوں بھری رات کا ۳۱۳واں پروگرام (دوسرا حصہ)

اسارت کی سختیاں "مہدی طحانیان" کی زبان سے

ایران کی تاریخ کی بیانگر ویب سائٹ کی جانب سے ۲۱ مئی ۲۰۲۰ کو 313ویں پروگرام کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں دفاع مقدس کے دوران خرم شہر کی آزادی کے لیے حصہ لینے والے "مہدی رفیعی" نے شرکت کی اور مہدی طحانیان اس پروگرام کی دوسری نشست کے مہمان تھے جنہوں نے دفاع مقدس میں پیش آنے والی داستانوں کو نقل کیا۔

خرم شہر کی آزادی میں انسانیت کی داستان

یادوں بھری رات کا ۳۱۳واں پروگرام (پہلا حصہ)

مہدی رفیعی نے اپنی گفتگو کا آغاز ایک شعر سے کیا " ما ز بالاییم و بالا میرویم، ما از دریا ییم و دریا میرویم، ما ز اینجا و ز آنجا نیستیم، ما ز بی جاییم و بی جامی رویم، ھمتی عالی در شہرھای ماست ، از علی تا ربّ اعلی می رویم"۔

میدان جنگ میں جراثیم کے ساتھ بھی جنگ کررہے تھے

یادوں بھری رات کا ۳۱۲ واں پروگرام (دوسرا حصہ)

دفاع مقدس کے واقعات پر مبنی پروگرام، یادوں بھری رات کی ۳۱۲ ویں نشست کا اہتمام کیا گیا جس کے پہلے حصے میں ایک ہنرمند مجاھد کی داستان کو بیان کیا گیا اور اس داستان پر مبنی کتاب سے متعلق گفتگو بھی کی گئی۔ اس پروگرام میں جناب ڈاکٹر سعید مرزبان راد داستان بیان کریں گے۔ اس پروگرام کو ایران کی تاریخ کی بیان گر ویب سایٹ کی جانب سے ۴ اپریل ۲۰۲۰ء کو آپارات ویب سائٹ پر نشر کیا کیا گیا۔ پروگرام میں "عبدالرضا طرازی اور ڈاکٹر سعید مرزبان راد" نے بعنوان مہمان شرکت کی۔

جنگ کے دوران ہنرمند مجاھد کی داستان

یادوں بھری رات کا ۳۱۲ واں پروگرام (پہلا حصہ)

دفاع مقدس کے واقعات پر مبنی پروگرام، یادوں بھری رات کی ۳۱۲ ویں نشست کا اہتمام کیا گیا جس کے پہلے حصے میں ایک ہنرمند مجاھد کی داستان کو بیان کیا گیا اور اس داستان پر مبنی کتاب سے متعلق گفتگو بھی کی گئی۔ اس پروگرام کو ایران کی تاریخ کی بیان گر ویب سایٹ کی جانب سے ۴ اپریل ۲۰۲۰ء کو آپارات ویب سائٹ پر نشر کیا کیا گیا۔ پروگرام میں "عبدالرضا طرازی اور ڈاکٹر سعید مرزبان راد" نے بعنوان مہمان شرکت کی۔
1
...
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، سترہواں حصہ

تمہارا یہ رزمیہ جوش و جذبہ۔۔۔ واقعاً خوش رہو
میں جانتی تھی کہ یہ ہندوستانی چینلز زیادہ تر عراقی فوج کی خبریں دے رہے ہین اور یہ تصاویر اور خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں، رات تک ان کی فکروں میں گم رہتی اور ایرانی شہداء کے خاک و خون آلود چہرے میری آنکھوں کے سامنے گھومتے رہتے۔ علی کے آتے ہی میں اس پر برس پڑتی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔