خرم شہر کی آزادی میں انسانیت کی داستان

یادوں بھری رات کا ۳۱۳واں پروگرام (پہلا حصہ)

مہدی رفیعی نے اپنی گفتگو کا آغاز ایک شعر سے کیا " ما ز بالاییم و بالا میرویم، ما از دریا ییم و دریا میرویم، ما ز اینجا و ز آنجا نیستیم، ما ز بی جاییم و بی جامی رویم، ھمتی عالی در شہرھای ماست ، از علی تا ربّ اعلی می رویم"۔

میدان جنگ میں جراثیم کے ساتھ بھی جنگ کررہے تھے

یادوں بھری رات کا ۳۱۲ واں پروگرام (دوسرا حصہ)

دفاع مقدس کے واقعات پر مبنی پروگرام، یادوں بھری رات کی ۳۱۲ ویں نشست کا اہتمام کیا گیا جس کے پہلے حصے میں ایک ہنرمند مجاھد کی داستان کو بیان کیا گیا اور اس داستان پر مبنی کتاب سے متعلق گفتگو بھی کی گئی۔ اس پروگرام میں جناب ڈاکٹر سعید مرزبان راد داستان بیان کریں گے۔ اس پروگرام کو ایران کی تاریخ کی بیان گر ویب سایٹ کی جانب سے ۴ اپریل ۲۰۲۰ء کو آپارات ویب سائٹ پر نشر کیا کیا گیا۔ پروگرام میں "عبدالرضا طرازی اور ڈاکٹر سعید مرزبان راد" نے بعنوان مہمان شرکت کی۔

جنگ کے دوران ہنرمند مجاھد کی داستان

یادوں بھری رات کا ۳۱۲ واں پروگرام (پہلا حصہ)

دفاع مقدس کے واقعات پر مبنی پروگرام، یادوں بھری رات کی ۳۱۲ ویں نشست کا اہتمام کیا گیا جس کے پہلے حصے میں ایک ہنرمند مجاھد کی داستان کو بیان کیا گیا اور اس داستان پر مبنی کتاب سے متعلق گفتگو بھی کی گئی۔ اس پروگرام کو ایران کی تاریخ کی بیان گر ویب سایٹ کی جانب سے ۴ اپریل ۲۰۲۰ء کو آپارات ویب سائٹ پر نشر کیا کیا گیا۔ پروگرام میں "عبدالرضا طرازی اور ڈاکٹر سعید مرزبان راد" نے بعنوان مہمان شرکت کی۔

دشمن کی شدید گولہ باری میں شہید قاسم سلیمانی سے مذاق

یادوں بھری رات کا ۳۱۱ واں پروگرام – تیسرا حصہ

بس میں نے فیصلہ کرلیا کہ ان کے ساتھ کام کروں گا۔ جب ہم واپس آئے تو شہید قاسم سلیمانی نے پوچھا : کیا صورت حال ہے ؟ میں نے کہا اگر آپ اجازت دیں تو میں تہران جاکر اپنا ایک ضروری کام کر کے واپس آجاتاہوں؟

ایام زندگی کی داستان

یادوں بھری رات کا ۳۱۱ واں پروگرام – دوسرا حصہ

یادوں بھری رات کے پروگرام کی دوسری راوی محترمہ فوزیہ مدیح ہیں جنہوں نے ۸ سالہ جنگ میں دیگر خواتین کے ساتھ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ۲۱ سالہ لڑکی جس نے جنگ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور خرم شہر کو عراقی فوج کے ہاتھوں میں جاتا ہوا دیکھا

پاکستان میں اربعین حسینی 2020

اس سال پاکستان میں اربعین امام حسین علیہ السلام کا کچھ اور ہی رنگ تھا کیوں کہ اس سال شیعان حیدر کرار علیہ السلام اور سلفی و وھابی فکر کے حامل افراد میں تصادم کی صورتحال پیش آئی تھی۔

شام کی داستان

یادوں بھری رات کا ۳۱۱ واں پروگرام – پہلا حصہ

خاک سے بھرے کھانے کے ٹِن

ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۳۱۱ واں پروگرام، دفاع مقدس میں خواتین کے کردار کو سراہنے کے لئے، جمعرات کی شام، ۲۰ فروری ۲۰۲۰ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں محترمہ ترابی، سیدہ فوزیہ مدیح اور حاج مہدی زمردیان نے اپنے واقعات بیان کیے

شام کی داستان

یادوں بھری رات کا ۳۱۰ واں پروگرام – تیسرا حصہ

مجاہدین نے آپریشن شروع کیا اور دشمن سے جنگ شروع ہوگئی۔ دشمن مسلسل گولیاں برسا رہا تھا اور جبھۃ النصرہ کے دہشت گرد "اللہُ اکبر" کی صدائے بلند کرنے لگے۔ محمد امین کریمیان دشمن سے ۳۰ میٹر کے فاصلے پر تھے،فاطمیون کے جوانوں سے کہنے لگے "لبیک یا علی کی صدا بلند کریں" ہم بھی لبیک یا علی کی صدائے بلند کرنے لگے اور دشمن کی جانب گولیاں چلاتے ہوئے بڑھنے لگے

یادوں بھری رات کا ۳۱۰ واں پروگرام – دوسرا حصہ

قاسم سلیمانی کا ثقافتی پہلو

اس پروگرام میں محسن مومنی شریف آرٹس کونسل کے سربراہ ، حجت السلام و المسلمین علی شیرازی، مرتضی سرھنگی، شہید محمد جمالی کی زوجہ مریم جمالی کی موجودگی میں کتاب " خزاں کے پچاس سال" کی نمائش ہوئی۔ یہ وہی کتاب ہے جو بقول جناب سرھنگی اور سردار سلیمانی نے اس پر کافی تاکید کی ہے۔

یادوں بھری رات کا ۳۱۰ واں پروگرام – پہلا حصہ

اُس نے اپنی جان انقلاب، اسلام اور ایرانی عوام پر نثار کردی

حاج قاسم نے اپنے وصیت نامہ میں لکھا: "خداوند! میرا تیرا شکر گزار ہوں کہ تو نے مجھے اپنے صالح بندہ عزیز از جان خمینی کے بعد، اپنے ایک اور صالح بندہ کی راہ پر گامزن رکھا کہ جس کی مظلومیت بہت زیادہ ہے، ایسا انسان جو آج اسلام، تشیع، ایران اور اسلام کی سیاسی دنیا کا حکیم و دانا ہے، ہر دل عزیز خامنہ ای، کہ میری جان اُن پر قربان ہوجائے۔ میرے محترم ایرانی بہن بھائیوں! میری اور مجھ جیسی ہزاروں جانیں آپ پر قربان ہوجائیں؛ جیسا کہ آپ نے اسلام اور ایران پر سینکڑوں جانیں نچھاور کیں۔
3
...
 

سردار سید رحیم صفوی صاحب کی ڈائری سے اقتباس

ہم جس پل سے بھی گزرے، اسے تباہ کردیا تا کہ واپسی کا کوئی رستہ باقی نہ بچے۔ یوں اس معرکے کے لئے وہی فرد آگے بڑھ سکتا تھا جو جان ہتھیلی پہ رکھ کر پیش قدمی کرنا جانتا ہو۔ البتہ ہمارے لیے اس وحشتناک منظر میں صرف اور صرف ایک ہی چیز سکون کا باعث تھی اور وہ تھی اہل بیت علیھم السلام سے توسل اور اللہ کی عنایت۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔