کتاب "ننہ علی" کا تعارف

امیر اور علی کی شہادت کے بعد ھمایونی صاحبہ کی زندگی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا۔ انکے شوہر بیٹوں کی شہادت کا قصوروار انہیں ٹہرانے لگے اور اس سلسلے میں ان کی سرزنش کرتے رہے جس نے انکے رنج و غم میں مزید اضافہ کردیا

کتاب "زیتون کی شاخوں سے عروج" کا جائزہ

احمد متوسلیان کی بچپن سے اسیر ہونے تک کی زندگی

ملک کے مغربی حصوں میں ضد انقلاب قوتوں کی جانب سے بحران پیدا کئے جانے کے دوران احمد متوسلیان کا اس سے نمٹنا اور حسن نیت اور داریوش فر جیسے افراد سے رابطہ برقرار کرنے کے واقعات کی وجہ سے ان واقعات کو اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔

کتاب  ’’فرسان‘‘ کا اجمالی تعارف

جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی ایران کی فوج نے بھی ایک ایسا گروہ تشکیل دیا تھا جس کا کام یہ تھا کہ ان کا کوئی فرد بعض اوقات تنہا بیس بیس کلو میٹر تک دشمن کے علاقہ میں چلا جاتا تھا اور  اس علاقہ میں بارودی سرنگ بچھاتا تھا یا عراقی فوج کے جنگی سازو سامان کو خراب   کیا کرتا تھا۔ یہ لوگ کمال کے شجاع لوگ تھے اور اس کام کے دوران کئی ایک لوگ شہید بھی ہو جایا کرتے تھے۔

کتاب  ’’ما ھم جنگیدیم‘‘[1] کا تعارف

ان خواتین کی داستانوں کو چار فصول میں بیان کیا گیا ہے ۔اس کی پہلی فصل کا عنوان ’’ قبل از انقلاب (انقلاب سے پہلے)‘‘  ہے ۔ عنوان سے ہی ظاہر ہے کہ اس فصل میں انقلاب اسلامی ایران سے پہلے کے واقعات درج ہیں۔ اس فصل میں ۷ روایات یا داستانیں بیان ہوئی ہیں۔

کتاب ’’مجاہد پارسا‘‘ پر ایک نظر

یہ کتاب محمد کاظم عاملی کے قلم سے رشتہ تحریر میں آئی ہے۔ اس میں چار فصول میں آیت اللہ سید حسن موسوی شالی کی زندگی  کے واقعات بیان ہوئے ہیں۔ ان کی تعلیمی سرگرمیاں، ان کی دینی ، فرہنگی اور سیاسی مصروفیات کو چار فصلوں میں بیان کیا گیا ہے۔

تنقید: کتاب’’سیاست و حکمت‘‘

یہ بات واضح نہیں کہ وہ واقعات جو دوسری کتابوں میں بہت تفصیل کے ساتھ درج ہیں ان کے بارے میں مکرر گفتگو کیوں کی گئی ہے۔ اس کتاب میں ان واقعات کا مقام و محل کیا ہے اور ان سے کیا نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے۔ اس کتاب کی تیسری اور چوتھی فصل کے مطالب تقریبا ۶۶ صفحات پر مشتمل ہیں ۔ان دو فصلوں میں  درج واقعات میں سے بہت ہی کم واقعات ایسے ہیں  جو راوی یعنی ڈاکٹر بہشتی کی زبان سے نقل کئے گئے ہوں۔

کتاب ’’این مرد پایان ندارد (بے پایان مرد)‘‘ سے دو واقعات

معلوم ہے کیا کہہ رہے ہو؟تم چاہتے ہو کہ میں دشمن کے شدید حملوں کے  دوران چھٹی پر چلا جاوں؟ مجھے پتہ ہے کہ تم یہ کیوں کہہ رہے ہو۔  میرے بچہ کی وجہ سے کہہ رہے ہو نا؟

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد آپ یہاں قسط وار مطالعہ کرسکتے ہیں

کتاب ’’بہ وسعت واژہائی بی مرز‘‘[1] پر ایک طائرانہ نظر

پہلی لڑائی خلق مسلمان تحریک سے ہوتی ہے۔ سپاہ میں قدم رکھے ابھی بیس دن ہی ہوئے ہوتے ہیں کہ ارومیہ اور تبریز میں خلق مسلمان کا واقعہ پیش آجاتا ہے۔تبریز میں اس کی شدت زیادہ ہوتی ہے مگر ارومیہ میں بھی ان کے کارندے موجود ہوتے ہیں جن کو گرفتار کر کے ان سے اسلحہ لے لیا جاتا ہے۔

کتاب  ’’حاج حمزہ‘‘ پر ایک نظر

حاج حمزہ قربانی کے واقعات

پہلی چیز جو قاری کو اس کتاب کی جانب متوجہ کرتی ہے وہ اس کی خوبصورت جلد اور بہترین صفحہ بندی اور لکھائی کی خوبصورتی ہے۔ مثال کے طور پر اس کتاب کا انتسابی صفحہ چفیہ (بسیجی رومال) کی تصویر سے مزین ہے اور فصول کے عناوینی صفحات کو فوجیوں کے نام کی تختیوں اور زنجیر وغیرہ سے سجایا گیا ہے
1
...
 

خاموش فریاد

مجاہدین ناامید ہوگئے۔ ایک طرف سے بھوک اور پیاس تو دوسری طرف سے برف اور سردی نے انکی ہمت توڑ دی تھی۔ اگر مزید چند دنوں تک یہ سامان یہاں نہیں پہنچتا تو بہت سارے جوان شہید ہوجاتے۔ اس لئے جوانوں میں سے پانچ بہترین جوانوں نے رضاکارانہ طور پر اس درے میں اترنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ یہ ساز و سامان واپس لا سکیں۔ وہ لوگ درے میں اترے لیکن ہم نے جتنا بھی انکا انتظار کیا وہ واپس نہیں آئے
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔