حسن کمالیان کے نشیب و فراز سے بھرپور واقعات کی داستان

"آقای کاف میم"

"آقای کاف میم" حسن کمالیان کے اُس زمانے میں نشیب و فراز سے بھرپور واقعات  کی داستان پر مبنی کتاب ہے جب وه مسلط کرده جنگ کے دوران فوٹوگرافر اور دستاویزی فلم ساز کی حیثیت سے موجود تھے۔  اس کتاب کی تحقیق اور تألیف کی ذمہ داری "رضا پاکسیما" کو دی گئی تھی اور اسے "اداره مطالعات محاذ ثقافتی اسلامی انقلاب"، "راه یار" پبلی کیشنز نے جنوری ۲۰۲۰ء  میں شائع کیا ہے۔ "اداره مطالعات محاذ ثقافتی اسلامی انقلاب" کے "زبانی تاریخ یونٹ"...

حمید حسام سے اُن کی زندگی اور اُن کی تالیفات کے بارے میں انٹرویو

"در جستجوی مہتاب: حمید حسام کی زندگی اور تالیف" ایسی کتاب کا نام ہے جو حسین قرائی کے انٹرویو سے تشکیل پائی ہے۔

دفاع مقدس کے بارے میں اہل قلم حضرات کے واقعات

یہ کتاب مؤلف (آذر خزاعی سرچشمہ) کی تین سالہ کوشش کا نتیجہ ہے جس میں انھوں نے ۱۴۰ آرٹسٹوں اور لکھاریوں کی زندگی کے واقعات کو جمع کیا ہے کہ دفاع مقدس کے زمانے میں ایرانی عوام کی زندگی کو بامقصد دکھانے کیلئے غیر داستانی روایتوں، دل کی باتوں اور اُن کی یادوں سے مرتب کیا ہے

"غربت کے ایام" دو خواتین کی زبانی

امام موسی صدر کے بارے میں حاصل ہونے والی زبانی تاریخ

اس کتاب کی تالیف امام موسی صدر تحقیقاتی ثقافتی مرکز کی زبانی تاریخ کے پروجیکٹ میں انٹرویو سننے سے شروع ہوئی ۔۔۔ انٹرویو دینے والے دو افراد ایک دوسرے سے کچھ شباہتیں رکھتے ہیں؛ دونوں افراد دو خاندانوں صدر اور خمینی کے افراد سے مربوط تھے

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – پانچویں قسط

عراق کی بعثی حکومت نے سن ۱۹۸۰ء میں عراقی ہزاروں گھرانوں کو اس بہانے سے کہ اُن کی اصلیت ایرانی ہے اور وہ عراق میں ہونے والی متعدد تخریب کاریوں میں ملوث ہیں، ایران جلا وطن کردیا

خراسان کے راویوں کے واقعات

"۱۷۶ ویں غوطہ خور" اور "شرح آسمان"

تھپڑ مارنے کی وجہ امریکی استاد کا اُس کے ساتھ ٹریننگ کرنے والے ایک ایرانی اسٹوڈنٹ کی توہین کرنا تھی! ایک ایسا انسان ایک منفرد شخصیت کا حامل ہوسکتا ہے

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، پہلا حصہ

قارئین سے گفتگو

میں ایک ایسی خاتون کے سامنے بیٹھی تھی جس کی جوانی کا بیشتر حصہ غریب الوطنی میں گذرا تھا اور سفر کا اختتام، ہمسفر زندگی کی زندگی کے خاتمہ کے ساتھ ہوا تھا۔ اور وہ پچھلے ۱۸ سال سے تن تنہا ماں اور باپ بن کر بچوں کی کفالت کے فرض سے عہدہ برآں ہو رہی تھیں ۔ ایک ایسی خاتون کہ جس کی تمام تر زندگی اب اس کے بچے تھے۔

"جیو شیخ حسن!" واقعات کی دوسری کتابوں سے مختلف

"جیو شیخ حسن" نامی کتاب جو صوبہ قم کے ایک پائیدار ثقافتی و مطالعاتی آرٹ سنٹر میں لکھی گئی اور سورہ مہر پبلیکیشنز نے اسے سن ۲۰۱۸ میں بازار کی زینت بنایا۔

"عزیز کردہ" نامی کتاب میں شہید حسن تاجوک کا تعارف

"عزیز کردہ" وہ عنوان ہے جو محترمہ مرضیہ نظر لو نے شہید حسن تاجوک کی مستند سوانح حیات کو بخشا ہے۔ یہ کتاب ۳۶۸ صفحات پر مشتمل ہے جسے صریر پبلیکیشنز نے ۲۰۱۹ میں بازار کی زینت بنایا ہے۔

کمانڈوز کے چند واقعات

"سپاہیوں کی زبانی تاریخ" کی چھٹی اور ساتویں جلد کا مجموعہ حسن سلطانی اور علی اصحابی کے زبانی واقعات سے مخصوص ہے۔ یہ دونوں اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے کمانڈوز ہیں جنہوں نےایک نشست میں میر عماد الدین فیاضی کے ساتھ بات چیت کی۔
3
...
 
اشرف السادات سیستانی کی یادداشتیں

ایک ماں کی ڈیلی ڈائری

محسن پورا جل چکا تھا لیکن اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ اسکے اگلے دن صباغجی صاحبہ محسن کی تشییع جنازہ میں بس یہی کہے جارہی تھیں: کسی کو بھی پتلی اور نازک چادروں اور جورابوں میں محسن کے جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔