سالہائے جنگ کی روٹیاں

" سالہائے جنگ کی روٹیاں" یہ کتاب دفاع مقدس کے زمانے میں سبزوار کے ایک گاوں صدخرو کی خواتین کے کردار پر ایک نظر ہے۔ یہ کتاب " محمد اصغرزادہ" کی جانب سے ۲۴ گھنٹے کے انٹرویو کا حاصل ہے جو انہوں نے صدخَرو کی خواتین سے کیے اور "محمود شم آبادی" نے اس کو قلمبند کیا ہے۔ صدخرو گاوں کی خواتین کی جانب سے جنگ کی حمایت اور ان کے کردار سے متعلق داستان ۱۶ فصلوں اور ۱۲۶ عنوانات پر بیان کی گئی ہے۔ کتاب کی آخری دوفصلیں ان دلیر خواتین اور اس گاؤں کی شہداء کی تصویروں پر مشتمل ہے۔...

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – پچیسویں قسط

محاذ پر سکون کے ساتھ ساتھ بے چینی چھائی ہوئی تھی۔ ہمارے اردگرد "سام" میزائلز کی تنصیب کے بعد پھر کبھی علاقے میں ایرانی طیارے نظر نہیں آئے۔ ہم میں سے ہر ایک اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوگیا۔

اس نے خود کو ("شام" میں) شہادت کی بس تک پہنچادیا

"پچاس سالہ خزاں" نامی کتاب پر ایک نظر

شہید کمانڈر جمالی کی زوجہ کی زبانی، ان کی کہانی کی روشن تصویر کے طور پر اور زبانی تاریخ اور دستاویزی فلم کی شکل میں اس کتاب کا جائزه لیا جا سکتا ہے۔ کتاب کی مصنفہ نے شام میں ہونے والی جنگ کی ان کہی یادوں کو آسان الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے ساده زبان میں لکھا ہے

حسن کمالیان کے نشیب و فراز سے بھرپور واقعات کی داستان

"آقای کاف میم"

"آقای کاف میم" حسن کمالیان کے اُس زمانے میں نشیب و فراز سے بھرپور واقعات  کی داستان پر مبنی کتاب ہے جب وه مسلط کرده جنگ کے دوران فوٹوگرافر اور دستاویزی فلم ساز کی حیثیت سے موجود تھے۔  اس کتاب کی تحقیق اور تألیف کی ذمہ داری "رضا پاکسیما" کو دی گئی تھی اور اسے "اداره مطالعات محاذ ثقافتی اسلامی انقلاب"، "راه یار" پبلی کیشنز نے جنوری ۲۰۲۰ء  میں شائع کیا ہے۔ "اداره مطالعات محاذ ثقافتی اسلامی انقلاب" کے "زبانی تاریخ یونٹ"...

حمید حسام سے اُن کی زندگی اور اُن کی تالیفات کے بارے میں انٹرویو

"در جستجوی مہتاب: حمید حسام کی زندگی اور تالیف" ایسی کتاب کا نام ہے جو حسین قرائی کے انٹرویو سے تشکیل پائی ہے۔

دفاع مقدس کے بارے میں اہل قلم حضرات کے واقعات

یہ کتاب مؤلف (آذر خزاعی سرچشمہ) کی تین سالہ کوشش کا نتیجہ ہے جس میں انھوں نے ۱۴۰ آرٹسٹوں اور لکھاریوں کی زندگی کے واقعات کو جمع کیا ہے کہ دفاع مقدس کے زمانے میں ایرانی عوام کی زندگی کو بامقصد دکھانے کیلئے غیر داستانی روایتوں، دل کی باتوں اور اُن کی یادوں سے مرتب کیا ہے

"غربت کے ایام" دو خواتین کی زبانی

امام موسی صدر کے بارے میں حاصل ہونے والی زبانی تاریخ

اس کتاب کی تالیف امام موسی صدر تحقیقاتی ثقافتی مرکز کی زبانی تاریخ کے پروجیکٹ میں انٹرویو سننے سے شروع ہوئی ۔۔۔ انٹرویو دینے والے دو افراد ایک دوسرے سے کچھ شباہتیں رکھتے ہیں؛ دونوں افراد دو خاندانوں صدر اور خمینی کے افراد سے مربوط تھے

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – پانچویں قسط

عراق کی بعثی حکومت نے سن ۱۹۸۰ء میں عراقی ہزاروں گھرانوں کو اس بہانے سے کہ اُن کی اصلیت ایرانی ہے اور وہ عراق میں ہونے والی متعدد تخریب کاریوں میں ملوث ہیں، ایران جلا وطن کردیا

خراسان کے راویوں کے واقعات

"۱۷۶ ویں غوطہ خور" اور "شرح آسمان"

تھپڑ مارنے کی وجہ امریکی استاد کا اُس کے ساتھ ٹریننگ کرنے والے ایک ایرانی اسٹوڈنٹ کی توہین کرنا تھی! ایک ایسا انسان ایک منفرد شخصیت کا حامل ہوسکتا ہے

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، پہلا حصہ

قارئین سے گفتگو

میں ایک ایسی خاتون کے سامنے بیٹھی تھی جس کی جوانی کا بیشتر حصہ غریب الوطنی میں گذرا تھا اور سفر کا اختتام، ہمسفر زندگی کی زندگی کے خاتمہ کے ساتھ ہوا تھا۔ اور وہ پچھلے ۱۸ سال سے تن تنہا ماں اور باپ بن کر بچوں کی کفالت کے فرض سے عہدہ برآں ہو رہی تھیں ۔ ایک ایسی خاتون کہ جس کی تمام تر زندگی اب اس کے بچے تھے۔
2
...
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، بیسواں حصہ

ہندوستان میں گذارے ہوئے آخری سالوں میں ہمیں کئی ایک تلخ تجربات ہوئے  جیسے جنگ بندی کی قرارداد اور اس پر امام  خمینی کا ناخوش ہونا، خود امام خمینی کی رحلت اور ۱۳۶۹ میں پاکستان کے صوبہ پنجاب میں تعینات ایرانی  سفیر شہید گنجی کی لاہور میں شہادت۔

جناب عبداللہ صالحی صاحب کی ڈائری سے انتخاب شدہ

یہ ایک معمولی سپاہی تھا جسے ٹیلی فون کی تار سے الٹا لٹکایا گیا تھا۔ اس بے چارے سے کیا معلومات ملنی تھیں انکو۔ خیر، ہم نے جب حملہ کیا تو وہ تو بھاگ گیے لیکن یہ سپاہی بیچارا لٹکا رہ گیا۔ ابھی زندہ تھا۔ جیسے تیسے اسے نیچے اتارا۔ ٹیلی فون کی تار گوشت کو کاٹ کر اس کے پاؤں کی ہڈیوں تک پہونچا چکی تھی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔