کتاب جولائی ۸۲

حمید داؤدی نے اپنی کتاب ’’جولای ۸۲‘‘ میں ان چار ایرانی سفارتی افراد کے بارے میں لکھاہے جنہیں ۳۲ سال پہلے اغوا کرلیا گیا تھا اور وہ اب بھی صیہونی قید میں ہیں ۔یہ کتاب ۵۲۴ صفحات پر مشتمل ہے ۔

کتاب "راہنمای تحقیق مصاحبہ‌ای، زمینہ و روش"

کتاب "راہنمای تحقیق مصاحبہ‌ای، زمینہ و روش" یعنی انٹریو کے زریعے تحقیق انجام دینا اور اس کا طریقہ نامی کتاب ایک دائرۃ المعارف ہے جس کے ازسر نوتعارف کی ضرورت ہے۔

دست خدا

کتاب ’’دست خدا‘‘ ایک فوجی افسر جناب قاسم علی زارعی اور انکے دوست شھید الحاج ستار ابراھیمی کے یادگار واقعات پر مبنی ھے۔ زارعی اس کتاب میں اپنے اور اپنے جنگی ساتھیوں کے واقعات کو فصیح انداز میں بیان کرتے ہیں اس کتاب میں دفاع مقدس کے دوران اسد آباد کے فوجیوں کی قربانیوں کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔ س کتاب میں کچھ حصہ ہمدان کے دفاع مقدس کی تاریخ پر مشتمل ہے۔

جلے ہوئے جزیرے کا سفر

ہیروشیما کا تاریخی پس منظر

"تاریخ شفاہی ایران" کے ہفتہ وار میگزین کو یہ افتخار حاصل ہے کہ اُس نے پہلی مرتبہ ہفتہ وار، ہدایت اللہ بہبودی کا سفرنامہ شائع کیا۔قارئین نے یہ سفرنامہ جو کہ پندرہ (۱۵) اقساط پر مشتمل تھا شمارہ ۱۳۲ سے ۱۴۵ تک جو شہریور سے بہمن ٍ۱۳۹۲ ش ھ تک فارسی اور انگلش زبان میں شائع ہوا ملاحظہ فرمایا۔

ظلمتوں میں پرواز

"شاپور بختیار کی سیاسی زندگی" پر حمید شوکت کی جرمنی سے چھپنے والی تازہ ترین کتا ب

حمید شوکت جو عرصہ دراز سے ایران کی اپوزیشن تحریک کی تاریخ پر کتابیں لکھ رہے تھے انھوں نے اس دفعہ "شاپور بختیار کی سیاسی زندگی" پر قلم اٹھایا ہے۔
...
11
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، بیسواں حصہ

ہندوستان میں گذارے ہوئے آخری سالوں میں ہمیں کئی ایک تلخ تجربات ہوئے  جیسے جنگ بندی کی قرارداد اور اس پر امام  خمینی کا ناخوش ہونا، خود امام خمینی کی رحلت اور ۱۳۶۹ میں پاکستان کے صوبہ پنجاب میں تعینات ایرانی  سفیر شہید گنجی کی لاہور میں شہادت۔

جناب عبداللہ صالحی صاحب کی ڈائری سے انتخاب شدہ

یہ ایک معمولی سپاہی تھا جسے ٹیلی فون کی تار سے الٹا لٹکایا گیا تھا۔ اس بے چارے سے کیا معلومات ملنی تھیں انکو۔ خیر، ہم نے جب حملہ کیا تو وہ تو بھاگ گیے لیکن یہ سپاہی بیچارا لٹکا رہ گیا۔ ابھی زندہ تھا۔ جیسے تیسے اسے نیچے اتارا۔ ٹیلی فون کی تار گوشت کو کاٹ کر اس کے پاؤں کی ہڈیوں تک پہونچا چکی تھی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔