احمد یوسف زادہ کی تحریر کی ہوئی یادداشت

وہ 23 افراد

گرفتاری کے بعد انہیں صدام کے محل لے جایا جاتا ہے اور وہ ان جوانوں سے ملاقات کرتا ہے ۔اس وقت کا عراقی صدر صدام انہیں دیکھنے کے بعد بہت تعجب کرتا ہے اور کہتا ہےکہ انہیں آزاد کردیگا تاکہ جاکر تعلیم حاصل کریں اور ڈاکٹر انجینئر بنیں اور اس کے بعد اسے خط لکھیں ۔ اس ملاقات میں صدام ان سے کہتا ہے جاؤ جاکر پڑھائی لکھائی کرو نہ کے محاذ پر آکر جنگ کرو، اور دعویٰ کرتا ہے کہ دنیا بھر کے بچے میرے بچے ہیں۔

کتاب جولائی ۸۲

’احمد متوسلیان،سیدمحسن موسوی، کاظم اخوان اور تقی رستگار۔ لبنان میں ایرانی سفارت خانہ کے ان چار افراد کو ۱۳۶۱ میں عراق کی طرف سے ہمارے ملک پر تھونپی ہوئی جنگ کے دوران اسرائیلی عناصر کیطرف سے اغوا کر لیا گیا تھا۔ ان کی کھوج میں لگی ہوئی انجیسیوں کے مطابق ان کے اثرات اب بھی موجود ہیں۔ حمید داؤدآبدی نے اپنی کتاب ’’جولای ۸۲‘‘ میں ان چار ایرانی سفارتی افراد کے بارے میں لکھاہے جنہیں ۳۲ سال پہلے اغوا کر لیا گیا تھا اور وہ اب بھی صیہونی قید میں ہیں ۔یہ کتاب ۵۲۴ صفحات پر مشتمل ہے ۔

باقر کاظمی کی زندگی کی یادیں

سید باقر کاظمی ایران کی مشہور شخصیتوں میں سے ہے جس کا تعلق احمد شاہ کے دور سے ڈاکٹر مصدق کے وزارت عظمیٰ کے دور تک ہے ،وہ پہلوی اول کے زمانہ مین ایران کا وزیر خارجہ تھا ۔اس نے ہر سال کے لحاظ سے اپنی یادوں کو تحریر کیا ہے۔ کاظمی المعروف بہ مہذب الدولہ ولد سید محمود معتصم الدولہ ۱۲۷۱ ش کو شہر تفرش مین پیدا ہوا ۔ سیکنڈری تعلیم حاصل کرنے کے بعد مدرسہ علوم سیاسی سے تعلیم مکمل کرکے فارغ ہوا اور وہیں تدریس کرنے لگا۔۱۳۰۶ ش ،میں اس کو مدرسہ علوم سیاسی کے علمی انجمن کا رکن بنایا گیا اور اس نے وہاں جغرافیا کی تعلیم دینا شروع کردی۔

کتاب لشکر نامہ دیلمقانی پر ایک نظر

کتاب لشکر نامہ میجر محمد تقی دیلمقانی کی لکھی ہوئی یادیں ہیں جو انہوں نے سماجی اور فوجی مسائل کے سلسلے میں لکھی تھیں۔ ان یادداشتوں کو رامین رامین نژاد نے جمع کیا ہے اور یہ کتاب ۱۳۹۳ میں آہنگ قلم پریس سے طبع ہوئی۔

تقی مکی نژاد کی زندگی کے کچھ پہلو

تاریخ سے متعلق دونئی کتابوں پر ایک نظر

کتاب ’’روز گار سرکشی (تقی مکی نژاد کی زندگی سے متعلق ہے جو ایران میں کمیونسٹوں کے ۵۳ افراد پر مشتمل گروہ کا ایک فعال رکن تھا)‘‘یوسف نیکنام اور کتاب’’اندیشہ اجتماعی متفکران مسلمان (از فارابی تا ابن خلدون)‘‘ تقی آزاد ارمکی کے ذریعہ لکھی گئی ہے جو منظر عام پر آچکی ہے۔

کتاب: تهران، خیابان آشیخ هادی

کتاب تهران، خیابان آشیخ هادی ع۔پاشائی کے نام احمد شاملو(۱)کے خطوط پر مشتمل ہے اور یہ کتاب حالیہ دنوں میں چشمہ پریس سے شائع ہوکر منظر عام پر آئی ہے۔

فرسٹ کیپٹن ہوشنگ صمدی کی یادداشتیں

فرسٹ کیپٹن ہوشنگ صمدی کی یادداشتیں سید قاسم حسینی کی کوشش و کاوش سے زیور طباعت سے آراستہ ہوئیں۔ کیونکہ بحری فوج کی بہت کم یادداشتیں منظر عام پر آئی ہیں اس لیے یہ یادداشتیں دوسری جنگ کی یادداشتوں سے منفرد ہیں۔

رضا شاہ، ایران کی عصری تاریخ کے روشن سائے میں

«رضاشاه در سایہ روشن تاریخ معاصر ایران، از آغاز تا پایان سلطنت» رضا شاہ ،ایران کی عصری تا ریخ کی روشنی میں، ابتدا سے حکومت کے خاتمے تک۔ رضا شاہ پہلوی کے بارے میں ایک نئی کتاب ہے جس میں موجودہ ماخذوں کی طرف رجوع کرتےہوئے سیاسی منظر نامہ میں رضا شاہ پہلوی کی تاریخی شخصیت اور حالات کا تجزئیہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

عراق کی یادداشتیں

کتا ب ’’یادداشتہائے عراق ‘‘ کو معروف اور نوبل انعام یافتہ مشہور مصنف ماریو ورگس لیوسا (Jorge Mario Pedro Vargas Llosa) کے عراق کے سلسلہ میں عینی مشاہدات کی بنیاد پر لکھا گیا ہے ۔ اس کتاب کے مطالب عراق پر اتحادی فوج کے حملہ اور اس کے سلوک کے سلسلہ میں دستاویزات کو شامل ہے ۔اس کتاب کے قارئین کو ،عراقی عوام کے صدام کی آمرانہ حکومت سے آزاد ی حاصل کرنے میں کامیابی کے تجربہ سے بخوبی آگاہی حاصل ہوسکتی ہے اور قارئین عراق میں رونما ہونے والے واقعات کے سلسلہ میں درست قضاوت کرسکتے ہیں ۔

ایران کی معماری پر زبانی تاریخ کا ایک مقدمہ

آج بھی ایران میں معماری کے بہت سے قدیم شواہد موجود ہیں کہ جن سے لوگ غافل ہیں۔ ہمارے پاس زبانی تاریخ مٹنے والی ہے، ایران میں معماری پر ماضی کی تاریخ جو آج بھی لوگوں کے سینوں میں پوشیدہ ہے اس سے پہلے کہ ہم اس قیمتی معلومات سے ان کے مرنے کے ساتھ محروم ہوجائیں بیدار ہونا چاہیے۔ کتاب حاضر زبانی تاریخ کے علمی اور عملی مباحث کے سلسلے میں ایک لمحہ فکریہ ہے۔ "زبانی تاریخ " معماری ایران کے قیمتی شواہد کو محفوظ کرنے کے سلسلے میں پہلا قدم ہے۔
...
9
 
11 ویں امیر المومنین ڈویژن کے شہید کمانڈر کی یاداشت

ہیلٹی - 10

ہمیں اس کا احساس اس وقت ہوا جب عراقی "رسام"  گولی ہم پر تقریبا  چھ بجے پیچھے سے چلائی گئی۔  یعنی ہم مکمل محاصرے میں تھے

جیل میں حصول علم

اسی اثنا میں ایک اور قیدی جو چوری کے جرم میں گرفتار تھا اس نے اپنی گردن کے پاس سے سوئی نکالی جو شاید ہمیشہ ہی اس کے پاس رہتی تھی اور میری ہتھکڑیاں کھول دیں اور میں نے امتحان دینا شروع کردیا۔ جب وہ سپاہی چابی لے کر واپس لوٹا تب تک میں آدھا امتحان دے چکی تھی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔