مشترکہ کمیٹی کے زندان میں تبدیلی، سال ۱۳۵۷، پچاس کی دہائی

وہ ہمیں گاڑی میں سوار کرکے مشترکہ کمیٹی کی جیل میں لے گئے۔ اس وقت سڑکوں پر سناٹا طاری تھا۔ فوجی حکومت نے سڑکوں پر یوں دھاک بٹھا رکھی تھی جیسے شہر میں کوئی نہ ہو۔

ٹینکوں کے بالمقابل جنگی معرکہ آرائی

فوج نے اہواز میں مارشل لاء کا اعلان کر دیا تھا اور ٹینک سڑکوں پر آ گئے تھے۔ دہشت پیدا کرنے کی خاطر وہ سڑک کے کنارے کھڑی گاڑیوں پر ٹینک چڑھا کر انہیں کاغذ کی کچل رہے تھے

زندان سے رہائی

بہرالحال اس قسم کی گفتگو کرنا، انکے لیے حیرت انگیز تھا، کیونکہ اب ہم انکے قیدی تھے اور مار بھی کھا چکے تھے اور اس طرح کھل کر بحث بھی کررہے تھے

تم اشارہ کرتے کہ زیادہ نہ ماریں

ہمارے تفتیشی افسر کا نام رحیم خانی تھا، جو بہت عجیب، عمدہ اور ماہرانہ طریقے سے کام کرتا تھا۔ہم میں سے جس سے بھی پوچھ گچھ کرتا ، کہتا تھا،" میں نے سنا ہے کہ تمہیں قید میں مارتے ہیں؟اگر کوئی شکایت  ہے تو بتاوَتاکہ اسکی خبر لگاوَں

زندان میں حجاب کی ممانعت

یرے والدین  نے بعدمیں بتایا کہ انٹیلی جنس  افسران، ان پر ناراض ہوئے کہ ہم نے تمہیں سوالات پوچھنے کو کہا تھا اورتم ایک بچی سے بے وقوف بن گئے، اور اس سے کچھ بھی نہیں اگلوا سکے

ایران میں ایک جاپانی ماں کی داستان

اسے ابھی گئے ہفتہ بھی نہیں ہوا تھا کہ بسیجیوں کی جانب سے ایک خط مجھے موصول ہوا۔ لفافے پر محمد کے دستخط دیکھ کر دل کو سکون ملا۔ خط کھولا تو اس میں لکھا تھا: " پہلے میں مغربی جنگی محاذوں پر، جو پہاڑی علاقوں میں ہیں، مصروف تھا۔ لیکن اب جنوبی علاقے کی طرف آگیا ہوں

جناب غلام علی مہربان جہرمی کی ڈائری سے اقتباس

جنگ بندی کا اعلامیہ، اس کی قبولی اور جنگ کا خاتمہ

میں وہاں سے اٹھا اور مورچے میں جاکر اسدی صاحب اور ید اللھی صاحب کے پاس جا یٹھا، وہ بھی رو رہے تھے لیکن حقیقت کا علم انہیں بھی نہ تھا۔ بہرحال ان کا اصرار یہ تھا کہ کسی صورت اس حکم کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہئے۔ میں نے بھی کہا: اگرچہ یہ سب بہت افسوس ناک ہے لیکن کوئی اس کی مخالفت نہیں کرے گا

انقلاب اسلامی کے بعد بین الاقوامی سطح پر ایران کا تشخص

آیت اللہ خامنہ ای کچھ افراد کے ساتھ ہندوستان اور آقای سید محمد خامنه‌ای چین کے لئے روانہ ہوگئے۔ آقاےربانی املشی الجزائر اور دیگر وفود بھی مختلف ممالک کے دورے پر نکل گئے۔ ان وفود کے قائدین، مختلف سیاسی اور انقلابی رہنما تھے۔

عبداللہ صالحی صاحب کی کچھ یادیں

عراقیوں کے بم ہمارے دائیں بائیں گر رہے تھے۔ جن کی آواز سے وہ بوڑھی خاتون اور بچے ڈر کے مارے چلا رہے تھے۔ہم پل پہ پہونچے۔ہم سے آگے ایک گاڑی جارہی تھی۔ فاصلہ اتنا کم تھا کہ اندر بیٹھے مسافروں کو، جو ایک ہی گھر کے افراد تھے، ہم دیکھ پا رہے تھے۔

حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے،

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

معابدہ چوک کے پاس ایک پولیس والے نے میرے سر پہ اس زور سے ڈنڈا مارا کہ میں بے ہوش کر گر گیا۔ کچھ ایرانی مجھے تھام کر فلسطینیوں کی قیامگاہ میں لے آئے۔ وہاں پہ سب ایرانی مرد و خواتین تھے۔
1
...
 

مشترکہ کمیٹی کے زندان میں تبدیلی، سال ۱۳۵۷، پچاس کی دہائی

وہ ہمیں گاڑی میں سوار کرکے مشترکہ کمیٹی کی جیل میں لے گئے۔ اس وقت سڑکوں پر سناٹا طاری تھا۔ فوجی حکومت نے سڑکوں پر یوں دھاک بٹھا رکھی تھی جیسے شہر میں کوئی نہ ہو۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔