شہید عراقی سے غیر متوقع ملاقات

میری جیب میں بہترین قسم کاتھامیں نےگھبراتےہوئےاسےباہرنکالااوراضطراب کےساتھ کہا:  "حضرت آیت اللہ !اگرممکن ہےتونمازکےوقت یہ عطرآپ کےساتھ رہے!

قصہ عظیم الشان مظاہروں کا

ہم نے ایسے ہی چلتے چلتے ٹرکوں کو دیکھا جو مسلح جتھوں سے بھرے ہوئے تھے۔ دو روز قبل ہی کہا گیا تھا کہ حکمران جمعرات کو فائرنگ اور حملہ کے لئے تیار ہے۔ ہم نے ان دھمکیوں کی پرواہ نہیں کی تھی۔ خواتین نے، ان بہادر بہنوں نے اس دن معرکہ سر کیا تھا

چاکلیٹ نہ کھانے کی سزا

خاک اور گندگی نکل کر رضائی کے کپڑوں پر لگ گئی۔ منوچہری بھی کمرے میں کھڑا یہ سارا ماجرا دیکھ رہا تھا۔ رضائی کو تو کاٹو تو بدن میں خون نہیں تھا۔ مجھے گالیاں دیتے ہوئے کہنے لگا: یہ تم نے کیا کردیا، میرے کپڑے بھی خراب کردیئے۔ مجھے ابھی یہاں سے کام پر جانا تھا۔ اس نے تازیانہ اٹھایا اور غصے سے مجھے مارنا شروع کردیا۔

انقلابی جدوجہد کرنے والوں  کے لئے عراق کی سوغات

امام خُمینی نےلوگوں کوآمادگی اورآمازئش کی  تاکیدکی لیکن مسلحانہ جدجہدکی  کسی طور اجازت نہیں دی۔ جبکہ جدوجہدمسلحانہ کوآپ بلامانع جانتےتھے۔ اہم ترین آمادگی عام زندگی سے وابستگی کوچھوڑناتھا۔

کس طرح میرے والد سے دستخط لیے گئے

لوگوں نے حکومت سے کدورت کی وجہ سے علما کے اس معاہدے کو قبول نہیں کیا۔  لوگ مسجد و بازار کو چھوڑنے پر تیار نہیں تھے۔  ناچارمسجد والوں نے فون کیا اس کے علاوہ چارہ نہیں تھا کہ میں مسجد آؤں اور منبر پر جاکر اس معاملے کے صحیح ہونے کی اطلاع لوگوں کودوں

چھ روزہ جنگ میں غاصب صیہونی حکومت سے مقابلہ

میرا نوے دن کا سفرنامہ جو تحریری شکل میں موجود تھا کہ جس میرے بیرون سفرکی تمام روداد تحریر تھی کہ میں دوسرے ممالک کے کن انقلابی شخصیات رہنماؤں سے ملا ہوں،  میں نے سب کو جمع کیا اور آنگن کے باغیچے میں انہیں دفن کر دیا۔

سیرجان میں گرفتاری

میرےگھروالےحوض پرکپڑےدھونےمیں مشغول تھے۔  جب اچانک یہ لوگ گھرمیں داخل ہوئےاورگھروالی نےانہیں دیکھا توفوراً گھبرا کر وہ اندرورنی کمرےکی طرف بھاگیں اور انکا پاؤں پھسل گیا جس سے وہ زمین پر گر گئیں اور انکا ہاتھ  ٹوٹ گیا۔ 

مجلس برپا کرنے کے جرم میں گرفتاری

میں نےکہا:  "ٹھیک ہےمیں چلتاہوں مگر تمہارےیہ کام زیادہ دن تک نہیں چلیں گے۔"  انھوں  نے کہا:  "کچھ بھی ہو تمہیں  لے جائیں گے اور اب تم یہاں واپس نہیں آؤ گے۔  اپنےکپڑے اور سامان بھی اٹھالو۔  اپنےگھر والوں کو بتادو۔"

میں بھی اسلام کا سپاہی ہوں

اچانک امام خمینی رح نے اپنے سینے پر اپنی انگلی مارتے ہوئے غصے سے فرمایا: " میں بھی اسلام کا سپاہی ہوں، ہمیں بھی ہماری فوجی ذمہ داری ادا کرنے دیں۔"

ماجرا محرم کا

اس   زمانے میں  یہ  رسم  تھی  کہ  عزاداری  کے ماتمی  دستے  مجلس  کے  ،بازارمیں  مجلس  ختم  ہونے کے بعد، روزانہ  ایک ایک  کرکے فوجی  افسروں کے  کلب  جاتے  اور شاہ  کے لئےدعا کرتے۔
3
...
 

سردار سید رحیم صفوی صاحب کی ڈائری سے اقتباس

ہم جس پل سے بھی گزرے، اسے تباہ کردیا تا کہ واپسی کا کوئی رستہ باقی نہ بچے۔ یوں اس معرکے کے لئے وہی فرد آگے بڑھ سکتا تھا جو جان ہتھیلی پہ رکھ کر پیش قدمی کرنا جانتا ہو۔ البتہ ہمارے لیے اس وحشتناک منظر میں صرف اور صرف ایک ہی چیز سکون کا باعث تھی اور وہ تھی اہل بیت علیھم السلام سے توسل اور اللہ کی عنایت۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔