صاحب الزماں کے چند سکے!

اردشیر اور میں نے، تین ماہ تک، اپنا تقریباً سارا وقت اس جشن کو ہر ممکن حد تک شاندار طریقے سے منانے کے لیے صرف کیا۔ جشن کے پروگراموں میں سے ایک چیز، ایران کی سیاسی صورتحال کو متعارف کرانے والا، ۴۰ صفحات پر مشتمل، ایک کتابچہ بھی شامل تھا، جو جرمن زبان میں تھا۔

آیت اللہ شاہرودی کی موجودگی میں سیاسی خطبہ

یہ مجلس 12 ربیع الاول کو حضرت امام رضا علیہ السلام کے حرم مطہر پر ہونے والے حملے کی برسی کے موقع پر منعقد کی گئی تھی اور دوسری جانب اسی موقع پر آقا روح اللہ خمینی کو ترکی جلاوطن کیا گیا تھا۔

دعائے توسل کی محفل میں کیا ہوا؟ 1

جناب قمی کے گھر کے بالمقابل ساواک کا اڈا تھا جہاں سے وہ ہر چیز کنٹرول کرتے تھے۔ یہ اس بات کا علم رکھتے ہوئے بھی کافی وقت ادھر ہی رہے اور طلاب اور غیر طلاب سے نشستیں کرتے رہے! اس زمانے میں حالات بہت مشکل تھے، اور امام کا ذکر کرنا واقعی ہمت کا کام تھا، البتہ اسکی اہمیت اور قدر بھی تھی۔

کتاب ’’سربازی برای ہمیشہ‘‘ سے اقتباس

بدر آپریشن کی روداد

رات میں ہم ان تیرتے ہوئے پلوں کو چھپا دیا کرتے تھے تاکہ دشمن  کے جہاز اور ہیلی کاپٹر ان کو نہ دیکھ سکیں۔ ایک اور مہم ذمہ داری وہ امیر المومنین بریگیڈ کی تھی جس میں زیادہ تعداد بو شہریوں کی تھی۔ ذمہ داری یہ  تھی کہ جوانوں کو  اس پار سے اس پار اتارنا ہوتا تھا۔ یہ اسقدر مشکل کام تھا کہ اس کے لئے ایمان اور قوی جذبہ ایثار  کی ضرورت تھی۔ بوشہر کے جوانوں نے اس ذمہ داری کو احسن طریقہ سے نبھایا۔

امریکہ میں نماز جمعہ کا قیام

یہ عمارت طلبہ کی سرگرمیوں کے لیے وقف تھی اور اس میں طلبہ کی غیر نصابی سرگرمیوں کے لیے مختلف سہولیات موجود تھیں۔ وہاں ہر فرد یا گروہ اپنے ذوق کے مطابق کوئی بھی غیر نصابی سرگرمی انجام دے سکتا تھا۔

انزلی اور رشت میں اعلامیے کیسے تقسیم کیے گئے

میں مسلسل، امام کی رہائش گاہ اور وہاں موجود لوگوں جیسے مرحوم آقا پسندیدہ، مرحوم آقا اشراقی، مرحوم خادمی، جناب گرامی، جناب ربانی شیرازی، جناب ربانی املشی اور وہاں موجود دیگر ذمہ داران کے ساتھ مستقل رابطے میں تھا اور ان سے خبریں، معلومات اور احوال پوچھ رہا تھا۔ ان حضرات کے ذریعے ہم تک اعلامیہ پہنچ رہے تھے، اور ہم انہیں مختلف مستعار ناموں کے ساتھ، ڈاک کے ذریعے آگے روانہ کر دیتے تھے

ویتنام جنگ کے خلاف بون میں طلباء کا عظیم اور بے مثال مظاہرہ

ساواک کے اہلکار کیمروں کی مدد سے مظاہرین کی تصاویر کھینچ رہے ہیں۔ اپنے اور اپنے دوستوں کی حفاظت کے لیے یا تو اپنا چہرہ ڈھانپ لیں یا اپنے آپ کو دوسرے طلباء کے ہجوم میں چھپا لیں، یا کم از کم اپنا چہرہ سڑک کی دوسری جانب موڑ لیں

اپنی باری کا انتظار کریں

قم کے صف اول کے علماء نے، حوزہ علمیہ قم کے بانی اور اپنے استاد کے فرزند، آیت اللہ شیخ مرتضی حائری کے گھر جمع ہو کر اقدام کرنے کا فیصلہ کیا۔ نتیجے کے طور پر، ان میں سے ہر ایک نے شاہ کو الگ الگ ایک ٹیلیگرام لکھا. ان میں سے امام کا ٹیلی گرام سب سے زیادہ سخت تھا۔ لیکن ان ٹیلیگراموں کے جواب میں، چند دن کی تاخیر کے بعد شاہ نے اپنے آپ کو بری الذمہ کر لیا اور ساری ذمہ داری حکومت کے کندھوں پر ڈال کر اس کام کا ذمہ دار اسے ٹہرا دیا

نصرت اللہ محمود زادہ کے واقعات کا ایک ٹکڑا

جنگ کے دروران سڑکیں بنانے کی اہمیت

مجاہدین کا آخری معرکہ چند مختلف مقامات  کو اپنا محور بنائے ہوئے تھا۔ بلڈوزر پہاڑیوں کا سینہ چیرتے ہوئے گلان کی چوٹی کی جانب گامزن تھے۔ یک دم دشمن کی فائزنگ نے تمام پہاڑی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

کاروباری حضرات کی شہید بہشتی سے ملاقات

بازاریوں کو مقابلے اور جدوجہد کا اندازہ تھا، لیکن شاید اس قسم کے موضوع کے لیے درکار آمادگی نہیں رکھتے تھے۔ آقا بہشتی نے اچانک یہ بحث چھیڑ دی۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر آپ معاشرے میں اسلامی حکومت چاہتے ہیں تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
3
...
 
حسن قابلی علاء کے زخمی ہونے کا واقعہ

وصال معبود

۱۹۸۶ کی عید بھی اسپتال میں گذر گئی اور اب میں کچھ صحتیاب ہورہا تھا۔ لیکن عید کے دوسرے یا تیسرے دن مجھے اندرونی طور پر دوبارہ شdید خون ریزی ہوگئی۔ اس دفعہ میری حالت بہت زیادہ خراب ہوگئی تھی۔ جو میرے دوست احباب بتاتے ہیں کہ میرا بلڈ پریشر چھ سے نیچے آچکا تھا اور میں کوما میں چلا گیا تھا۔ فورا ڈاکٹرز کی ٹیم نے میرا معائنہ کرنے کے بعد کہا کہ اسے بس تازہ خون ہی زندہ رکھ سکتا ہے۔ سرکاری ٹیلیویژن سے بلڈ دونیشن کا اعلان کیا گیا اور امت حزب اللہ کے ایثار اور قربانی، اور خون ہدیہ کرنے کے نتیجے میں مجھے مرنے سے بچا لیا گیا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔