شاہرود کے جوانوں کا فحاشی کے اڈوں سے مقابلہ

میں نے جیسے ہی سیٹی بجائی کسی نے آواز لگائی پولیس اور پھر سب لوگ بھاگنے لگے۔ ہم بھی ایک گلی میں گھس گئے۔ دور سے دیکھا کہ پولیس نے اس جگہ کا محاصرہ کرلیا ہے اور کچھ لوگوں کا پیچھا کررہی ہے

نیرہ سادات احتشام رضوی کی ڈائری سے

اسی وقت ایک پولیس آفیسر اپنے کارندوں کے ہمراہ پہنچ گیا اور جب اس نے بھانپا کہ یہ لوگ واحدی صاحب کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے  تو اس نے ان دونوں کو گالیاں بکنی شروع کر دیں اور کہا: ’’ تم نے واحدی سے کیا رشوت لی ہے کہ اسے یوں فرار ہونے دیا؟‘‘

یہ ہوٹل نہیں ہے

سوء تفاہم دور کرنے کے لئے ثقافتی ہم آہنگی کرنی چاہئے

راستے بھر موکب ہی موکب تھے۔ بچے عطر ہاتھوں میں لئے کھڑے تھے۔ سارے راستے انواع اقسام کے کھانے تھے۔ موکب  کے خادمین جگہ جگہ چائےاور کھانے وغیرہ کے لئے اصرار کرتے تھے۔ انواع و اقسام کے نوحوں اور مرثیوں نے سارے راستے کی فضا کو پر کیا ہوا تھا۔ ہم آٹھ لوگ تھے ایک ساتھ ہی سفر کرتے اور ایک ساتھ ہی آرام کرتے۔

نجات  علی  اسکندری  کی  یاداشتیں

کیپٹن  نے  کہا :"سفید  جھنڈے  کے  ساتھ  باڈر  تک  آئے  تھے  اور  کھڑے  ہوگئے  تھے۔ان  کو  نہتا  کرکے  آپ  کا  انتطار  کررہے  تھے  وائرلیس  خراب  تھا  اس  لئے  ربطہ  نہیں ہوسکا۔

شہید نواب صفوی سے نیرہ سادات کی ملاقات کی حکایت

جب  ہم  وہاں  پہنچے  تو  دیکھا  کہ  ہر  طرف  مسلح  افراد  کھڑے  ہیں  کہ  دو  عورتیں  ایک  مرد  سے  ملنے  آئیں  ہیں! مجھے  اس  بات  پر  تعجب  ہوا  کہ  یہ  لوگ  نواب  صفوی  سے  کتنا  ڈرتے  ہیں۔

 آیت‌الله قاضی  کی  شہادت  کس  طرح  ہوئی

میں  نے  ٹارچ  کی  روشنی  میں  چار  گولیوں  میں  سے  دو  کے  خول  دیکھے۔اسکے  بعد  ہم   پولیس  کی  گاڑی  میں  بیٹھ   کر سینا   ہسپتال  پہنچے  ۔ہسپتال  کے  باہر  ایک  جمع  غفیر  تھا  لوگ  اور  کمیٹی  فورس  {نیروھائی  کمیتہ}  کسی  کو  ہسپتال  کی  اوپری  منزل  میں  جانے  نہیں  دے  رہے

نواب  صفوی  انکی  زوجہ  کی گفتگو میں

میں  تقریباً  ایک  ڈیڑگھنٹے  تک  بولتی  رہی۔رش  لگ  چکا  تھا۔فضا  میں  موت  کا  سنٹا  طاری  تھا۔سانسیں  سینوں  میں  مبحوس  تھی  اور  میں    غُر  ا  رہی  تھی  اور  میری  باتیں  سب  سن  رہے  تھے

ایک تصویر کی کہانی

امام خمینی کا  پر فکر پورٹریٹ  (نوفل لوشاتو فرانس[1] میں قیام کے آخری ایام میں)

امام خمینی کی نشر شدہ تصاویر ، انقلاب  اسلامی کی اہم ترین تصویری اسناد ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے ان تصاویر میں پوشیدہ کہانیوں کو قلم بند کیا جائے۔ امام خمینی کی ہزاروں تصاویر میں  سے ان کا ایک پورٹریٹ انتہائی اہمیت کا حامل ہے

شہید مطہری کے لئے مرغی کا سالن

اس زمانے میں ہم اتنے زیادہ انڈے ابالا کرتے تھے اور مہمانوں میں تقسیم کرتے تھے کہ رپورٹرز ہم سے سوال کیا کرتے تھے کہ آپ کے مذہب میں انڈے کس چیز کی علامت ہیں اور ہم جواب دیتے تھے کہ ...

آیت اللہ عبداللہ محمودی کے واقعات سے انتخاب

ایران عراق جنگ کا آغاز

رات کے وقت عراقیوں نے دوبارہ پیش قدمی کی اور پچھلی بار سے زیادہ آگے تک آگئے۔ جھڑپیں جاری تھیں۔ تقریبا مہر کے مہینہ کی دس تاریخ تھی کہ عراقی نخلستان کی طرف سے اندر داخل ہوئے اور بہت حد تک بندرگاہ پر قبضہ کر لیا۔ اب بندرگاہ اور کسٹم میں کوئی باقی نہ بچا تھا۔ سب چلے گئے تھے۔
5
...
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔