اخبارات کی کانٹ چھانٹ

پہلوی دور حکومت اور اخبارات میں سینسر شپ

انہیں مشکلات کی وجہ سے سن ۱۹۷۸ میں پورے ملک میں سینسر کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج شروع ہوگیا۔ محمد بلوری جو اس زمانے کے معروف صحافی ہیں لکھتے ہیں کہ ۱۹۷۸ کے ایک دن تقریبا ساڑھے نو بجے صبح دو فوجی افسر آفس میں داخل ہوئے۔ اپنے تعارف کروائے بغیر وہ چیف ایڈیٹر کے دفتر میں گھس گئے

محترمہ اشرف السادات سیستانی کی کچھ یادیں

میرے بھائی آسٹریا میں رہتے ہیں۔ وہیں مقیم ہیں اور گھر بار بھی وہیں ہے۔ پچھلے سال گرمیوں کی چھٹیوں میں ایران آئے تھے۔ ان کا طرز تفکر مجھ سے بالکل مختلف ہے۔ انہوں نے مجھ سے کہا: " میں دعوت نامہ بھیجوں گا تم اپنے بچوں کو ایک ایک کرکے میرے پاس بھیجو اور مجھ سے ڈاکٹرز اور انجینئرز واپس لے لو۔"

خرم شہر کی آزادی کی خبروں کی کوریج میں آبادان ریڈیو اور رپورٹرز کا کردار

خرم شہر! تو اب آزادی کا پیام بر ہے، تاریخ تیرے نام کو بڑے تقدس کے ساتھ لکھے گی اور آئندہ آنے والی نسلیں اسے پڑھ کر ایمان اور شجاعت کا درس لیں گی۔ خرم شہر! ہم تیری طرف آئیں گے ، قدس کی جانب ہمارے رستے کھول دے۔

ابوالقاسم اقبالیان

ہم بت توڑتے ہیں شیشے نہیں

شاہ اسکوائر پر پہنچنے سے پہلے شہرداری کی بلڈنگ کے پاس عوام کو روک لیا۔ میں خود فائر بریگیڈ کی گاڑی کے پاس پہنچا تاکہ اسکے اوپر چڑھ کر تقریر کرسکوں۔ جیسے ہی گاڑی پر چڑھنے لگا، شہرداری کے ڈائریکٹر نے میرا راستہ روکنے کی کوشش کی، میں نے اس کے سینے پر مکا مار کر اپنے آپ سے دور کیا۔

عبداللہ صادقی کی یادداشتوں سے اقتباس

میں زیر لب ذکر پڑھ رہا تھا تاکہ پل عبور کرکے اپنے مسافروں کو صحیح سالم پہنچا سکوں۔ اس طرف دیکھا اسی گاڑی میں آگ لگی ہوئی تھی۔ شاید کوئی راکٹ آکر لگا تھا۔ لوگ جل گئے تھے اور انکے لے کچھ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اگر میں رکتا تو میری جان کو بھی خطرہ تھا۔

ہم یہی تو چاہ رہے تھے!

مقرر کی اس بات نے ہمیں طیش دلا دیا، اسی لئے ہمارے ایک دوست نے جس کی آواز بہت زیادہ اونچی تھی چلا کر کہا " عالم تشیع کے عظیم مرجع تقلید حضرت آیت اللہ خمینی کی صحت و سلامتی کے لئے بلند صلوات"

دہشتگرد تنظیم کوملہ

۱۳ فروری کو مھاباد کی بیرکوں پر ڈیموکریٹ پارٹی کے قبضے کے بعد، ۵ مارچ ۱۹۷۹ کو ایک بیانیہ جاری کرتے ہوئے ایرانی عوام کو اس کامیابی کی مبارکباد دی گئی۔ کوملہ نے کردستان کی خودمختاری کے ساتھ ساتھ، مغربی آذربائیجان، ایلام اور کرمانشاہ کی جدائی کا بھی مطالبہ کردیا اور مختلف علاقون میں محاذ آرائی کے بعد سقز شہر پر تسلط حاصل کرنے کے بعد اپنی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز کردیا۔

تبریز فوجی بیرکس کا سقوط

محمد زادہ اور بنابی نے جا کر آیت اللہ قاضی کی تحریر بید آبادی کو دکھائی جو اسوقت تبریز کے بیرکس کا کمانڈر تھا اور کہا کہ یہ بیرکس فی الحال امام خمینی رح کے نمائندے کے زیر نظر کام کرے گا اور بیدآبدی کو بغیر کسی مزاحمت کے نہتا کرکے آیت اللہ قاضی کے گھر لے آئے۔ بیدآبادی آیت اللہ قاضی کے گھر میں نہایت محترمانہ انداز سے قید کیا جاچکا تھا اور یہ خبر کہیں بھی نہیں پھیلی تھی۔ ظہر کے بعد عوام کو خبر ملی کہ تبریز کی فوجی بیرکس بھی سقوط کرگئی ہیں۔

مجاہدین خلق سے امام خمینی رح کی بے اعتنائی

جب ہم امام خمینی رح کی خدمت میں پہنچے تو دیکھا کہ مجاہدین خلق سے متعلق تین چار کتابچے انکے پاس رکھے ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں کوئی بات شروع کرتا امام خمینی رح نے ان میں سے ایک کتابچہ اٹھایا اور فرمانے لگے مثلا یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلامی اخلاقیات کو مارکسسٹ اقتصادی نطرئیے سے مخلوط کردیا جائے؟

امام خُمینی کی رہائی کے بعد قم واپسی

جو  چیز میرے لئے جالب تھی کہ بہت سے پُراخلاص لوگ ایسے بھی تھے جووضو کر رہے تھے۔ ہمیں کچھ ہوش  نہیں تھا، بس امام خُمینی کی زیارت کرنے کے شوق میں یخچال قاضی میں انکے گھر کی جانب دوڑے جارہے تھے
2
...
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔