مسلم آزاد جماعت کی تشکیل کے اسباب

جب میں سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہوگیا اور میرے غیر ملکی سفر شروع ہوگئے تو ساواک کو کوئی اور چارہ نظر نہیں آیا اور مجھے پیشکش کی کہ میں اپانا کام جاری رکھوں لیکن ساواک کو اپنے کاموں کی رپورٹ دیتا رہوں ۔ انہوں نے اس پیشکش کو قبول کرنے کے لئے مجھے تین دن کی مہلت دی لیکن میں کوٹ پین کر عراق فرار کرگیا

آبادن کے عرب زبان طالبعلم کی فیضیہ پر ساواک کے حملے کی روایت

میں اور عبدالکریم ایک حجرے میں داخل ہوئے اور اپنا عمامہ اور عبا قبا اتار کر دشداشہ پہن کر نکلنے ہی والے تھے کہ حجرے کا دروازہ کسی نے لات مار کر کھول دیا

ایک لفط نہیں بولوں گا چاہے مجھ پر بے انتہا تشدد کیا جائے

ہم نے طے کررکھا تھا کہ اگر غیوران کو میرے روبرو کھڑے ہونے پر مجبور کیا جائے تاکہ وہ میری شناسائی کرے یا باہمی تعلقات کا اعتراف کرے تو وہ کہیں گے کہ چہ پور صاحب میں نے آپ کے ساتھ کام کرنے کا اعتراف کرلیا ہے اور اور ان کو سب کچھ بتا دیا ہے لیکن میں اس کا انکار کروں گا۔

فوجی عدالت میں مقدمہ کی پیروی

فیصلہ کا دن معین ہوگیا۔ میں نے اپنی فائل کو دوبارہ مطالعہ کرنے کے لیے اور اپنی صفائی پیش کرنے کے لئے میرے پاس لانے درخواست کی۔ عدالت کی طرف سے میرے لئے ایک وکیل تعیین کیا تھا ، لیکن مجھے معلوم تھا کہ یہ صرف خانہ پوری کے لئے ہے اور عدالت کے فیصلہ پر اس کا کوئی خاص اثر نہیں ہوگا۔ میں نے اپنی صفائی پیش کرنے کے لئے 30 صفحات کی تحریر تیار کی تھی۔

وہ واقعی میں ایک ممتاز کمانڈر تھے!

آپ سب کو شہادت ملنی چاہیے، لیکن ابھی بہت جلدی ہے اور ابھی ملک کو آپ لوگوں کی بہت ضرورت ہے۔ سسٹم کو آپ کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد میں نے کہا جس دن مجھے "صیاد" کی شہادت کی خبر دی گئی تو میں نے کہا وہ شہادت کے لائق تھا، اس کا حق تھا

ایک خاتون زائر کے مطابق

اربعین کی پیادہ روی کے انتظامات میں خواتین کا کردار سادہ لیکن پاکیزہ مکانات

شور و غل مچا ہوا تھا۔ پیادہ روی کی سڑکوں پر لوگوں کا ہجوم تھا۔ ہمارے ساتھ ساتھ وہاں تقریباً ہر قوم و ملت کے لوگ آئے ہوئے تھے ہندوستانی پاکستانی سے لے کر لبنانی، ایرانی، عراقی، آذربائیجانی، ترک، کینیڈین وغیرہ وغیرہ، جتنا ہم آگے بڑھتے جا رہے تھے رش اتنا زیادہ ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔

تفتیشی کمرے میں

گرفتاری کے بعد مجھے اپنے باس کے پاس لے گئے جو ایک عالیشان کمرے میں بیٹھا تھا جس میں قیمتی اور خوبصورت صوفے ترتیب سے لگے ہوئے تھے کمرے کے آخر میں ایک بڑی سی میز موجود تھی جس کی پیچھے وہ باس بیٹھا تھا

"زہرہ فرہادی"کی یادوں میں آپریشن "ثامن الآئمہ"(آٹھویں امام)

لیکن اس سال کا موسم خزاں ہمارے لئے امام خمینی کے پیغام سے شروع ہوا۔ امام خمینی نے اپنی تقریر میں فرمایا تھا کہ "آبادان" کا محاصرہ ٹوٹنا چاہیے لیکن آپریشن شروع کرنے کی کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا تھا۔ 22 ستمبر سے آبادان پر عراقی حملہ شدت اختیار کر گیا تھا۔

ایک خاتون زائر کے مطابق:

امام حسین علیہ السلام کے لیے وقف شدہ مکانات

ایک شور و غل برپا تھا۔ گھروں کے سامنے استقبال شروع ہوا اور گھروں کے مالک خندہ پیشانی سے زائرین کا انتظار کر رہے تھے۔ ہم جس گلی کوچے سے گزرتے وہاں کے اکثر گھروں کے دروازے زائرین کے لیے کھلے ہوئے تھے اور زائرین کے لیے واش روم، غسل خانے اور واشنگ مشینیں موجود تھیں

گوهرالشریعه دستغیب سنارہی ہیں

شوہر کے بھائی رحیم کی گرفتاری کی داستان

دکھ اور صبر

پوچھ تاچھ کرنے والے نے اس سے دو تین بار پوچھا: " تم نے اپنے چچا کو کوئی کاغذ دیا تھا؟" بچے کی آواز نہیں نکل رہی تھی۔ میں سمجھ گئی کہ وہ پریشان ہے۔ اسے ان سے چھڑوانے کے لیے میں نے دروازے کے پیچھے سے کہا: " سر! ہمارا ملازم "مشہدی رضا" اپنے بیوی بچوں سے ملنے کے لیے گاؤں گیا ہوا تھا۔ میں بھی ملازم ہوں اس لیے میں نے "مشہدی رضا" کے واپس آنے تک بچے کو اس کے چچا کے پاس چھوڑ دیا تھا۔
2
...
 
11 ویں امیر المومنین ڈویژن کے شہدا کے کمانڈر کی یاداشت

ہیلٹی -3

جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو وہ اتنے حیران ہوئے کہ گویا ان پر بجلی گرگٸی ہو۔ وہ سات کے سات ایکدم زمین پر گر پڑے ان پر ہم نے بندوقیں تان لیں۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔