سیرجان میں گرفتاری

میرےگھروالےحوض پرکپڑےدھونےمیں مشغول تھے۔  جب اچانک یہ لوگ گھرمیں داخل ہوئےاورگھروالی نےانہیں دیکھا توفوراً گھبرا کر وہ اندرورنی کمرےکی طرف بھاگیں اور انکا پاؤں پھسل گیا جس سے وہ زمین پر گر گئیں اور انکا ہاتھ  ٹوٹ گیا۔ 

مجلس برپا کرنے کے جرم میں گرفتاری

میں نےکہا:  "ٹھیک ہےمیں چلتاہوں مگر تمہارےیہ کام زیادہ دن تک نہیں چلیں گے۔"  انھوں  نے کہا:  "کچھ بھی ہو تمہیں  لے جائیں گے اور اب تم یہاں واپس نہیں آؤ گے۔  اپنےکپڑے اور سامان بھی اٹھالو۔  اپنےگھر والوں کو بتادو۔"

میں بھی اسلام کا سپاہی ہوں

اچانک امام خمینی رح نے اپنے سینے پر اپنی انگلی مارتے ہوئے غصے سے فرمایا: " میں بھی اسلام کا سپاہی ہوں، ہمیں بھی ہماری فوجی ذمہ داری ادا کرنے دیں۔"

ماجرا محرم کا

اس   زمانے میں  یہ  رسم  تھی  کہ  عزاداری  کے ماتمی  دستے  مجلس  کے  ،بازارمیں  مجلس  ختم  ہونے کے بعد، روزانہ  ایک ایک  کرکے فوجی  افسروں کے  کلب  جاتے  اور شاہ  کے لئےدعا کرتے۔

عراقی شہید سے غیر متوقع ملاقات

انھوں نے عطرمجھ سےلیااسےسونگھاگویاکہ انھیں پسندآگیا، اسےاپنی جیب میں رکھااورمیراشکریہ ادا کیا۔ اگرعطراچھانابھی ہوتاتب بھی وہ میرادل رکھنےکےلئےاس رکھ لیتے،کیونکہ میں خوف زدہ تھاکہ کہیں یہ میرا یہ کام گستاخی شمارنہ ہولیکن انھوں نےمیری تشویق کےلئےمجھ سے لےلیا۔

بے پردگی اورایک جیسے لباس کاقانون

انھوں  نے ہمیں انکے انھیں کلمات کےساتھ تقریب میں داخل  کیا۔ حوض کےساتھ، کرسیاں لگی تھیں اور تاجر اور علما پہلوی کیپ اورکوٹ پہنے بیٹھےتھے۔ عورتیں بغیر چادر بدن چھپائے وہاں موجود تھیں۔

روح اللہ کی نماز عاشقانہ

اچانک میں نے امام رح کی جانب دیکھا جو مجھے دیکھ رہے تھے۔ میں امام خمینی کی نگاہوں کو خوب سمجھتا تھا، انکے پاس گیا اور پوچھا آپ کو مجھ سے کوئی کام ہے؟ فرمانے لگے کیا یہ طے نہیں تھا کہ نو بجے مجھے یاد دلاؤ گے اور اس وقت نو بج کر دس منٹ ہو رہے ہیں۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ پیٹ لیا مجھ سے برداشت نہیں ہورہا تھا میں نے کہا اس حالت میں؟

زندان میں نماز کی برکتیں

جب میں کھانسوں گا اور چیخنا چلانا شروع کردوں گا کہ ان لوگوں نے پریشان کررکھا ہے، ان لوگوں کو بس ٹائلٹ لے کر جاؤ لے کر آؤ، اسی وقت تم بھی دروازہ پیٹنا شروع کردینا اور چیخنا چلانا کہ مجھ سے برداشت نہیں ہورہا۔ تم کہنا؛ سانجی قارنیمی دوغرویور

شاہ کے زمانے میں پرنٹ میڈیا

پہلے دس سال کا نتیجہ سیاسی بھونچال کی صورت میں تھا امام خُمینی کی سربراہی میں علماء  کی تحریک   اورانکے اشتہارات کا سامنا ساواک سے  ہوا چونکہ ۱۹۵۵میں سینسر کا قانون لاگو ہوچکا تھا جس کی  وجہ سے تمام  پرنٹ میڈیا ان کے ہاتھ  میں تھا۔

انقلابی جدوجہد کرنے والوں کے لئے عراقی سوغات

ہم ۱۵ محرم کو بھرے ہاتھوں قصر شیریں کے راستے ایران میں واپس پلٹے اور اس سفر کی سوغات اپنے سفر کا تجربہ امام خُمینی سےملاقات اور انکا انقلابی جوانوں کے لئے جو پیغام تھا
4
...
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔