علی قمری کی یادوں کے ساتھ

جنگ کا پہلا دن

جب امام خمینی ؒ نے فرمایا کہ کردستان کو آزاد کرائیں۔ ۱۶ ستمبر ۱۹۷۹ء کو کردستان بھیجے جانے والے سب سے پہلے یونٹوں میں، میں بھی شامل تھا۔ اہم ترین حادثہ جو میری کردستان میں ڈیوٹی کے اختتام پر رونما ہوا، تہران واپس آتے وقت کوملہ پارٹی کے فوجیوں کا ہم پر حملہ کرنا تھا۔

علی فدائی کی یادوں کے ساتھ

صرف خربوزہ بچا ہے!

عراقی فوجی جن سرنگوں میں مستقر تھے وہ مستطیل شکل کی تھیں۔ ہماری تعداد کم تھی۔ ہم اس فکر میں تھے کہ اسلحہ ڈھونڈ کر سرنگ کے ابتدائی حصے پر جاکر اُن کا محاصرہ کرلیں کہ عراق نے کاٹیوشا میزائل مارے، لیکن اُس کے اپنے ہی فوجی مارے گئے!

جوا آوڈیچ کے ساتھ گفتگو

حسینی اور آودیچ خاندان، خرم شہر اور سربرنیتسا

صربیا کی فوجیں مردوں کو لوگوں سے جدا کرتی اور قتل کر ڈالتی تھیں۔ تیسرے دن ہم بسوں کی طرف چل پڑے جو مسافروں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے پر مامور تھیں۔ میرے بھائی کی عمر ۱۲ سال تھی اور خوش قسمتی سے ہم اس کو بچا لانے میں کامیاب ہوگئے تھے

پائلٹ ناصر ژیان کی یادوں کے ساتھ

ابتدائی شناخت سے لیکر آپریشن کی کمانڈ تک

جب ہم کمانڈنگ اسٹاف کی ٹریننگ حاصل کر رہے تھے، ہمیشہ ایک فرضی دشمن ہماری پڑھائی کا حصہ ہوتا تھا اور اُس وقت عراق کو فرضی دشمن سمجھا جاتا تھا۔ اس وجہ سے کہا گیا تھا سب سے پہلے کرمانشاہ میں ایوی ایشن کا گروپ مستقر ہو اور اُسے تمام وسائل دیئے جائیں

"رفیق مثل رسول" نامی کتاب کی مؤلفہ شہلا پناہی کے ساتھ بات چیت

واقعات کا لکھنا یعنی تسبیح کے دانوں کو پرونا

مؤلفہ شہلا پناہی واقعات لکھنے والوں میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے مواصلات کے شعبہ میں اپنی پڑھائی مکمل کی اور وہ شہدائے مدافع حرم کے واقعات کو جمع کرکے لکھتی ہیں۔ اس سلسلے میں اُن کی کارکردگی اس بات کا بہانہ بنی کہ ایران کی زبانی تاریخ اُن سے "رفیق مثل رسول" نامی کتاب اور اسی طرح اُن کے لکھے جانے والے آثار میں تحقیق اور انٹرویو کے طریقہ کار کے بارے میں بات چیت کرنے کیلئے اُن کے ساتھ بیٹھے۔

بہشت زہرا (س) میں موجود ایک یادگار تصویر کی کہانی

دھماکے کے بعد کا لمحہ

یہ اس تصویر کے بارے میں ہونے والے معجزات میں سے ایک ہے؛ اُس نے مٹی کے نیچے سے کیمرے کو ڈھونڈ لیا، اُس نے مٹی سے اٹے رومال سے اُس کے لنز کو صاف کیا اور تصویریں کھینچنا شروع کردیا۔

اقلیمہ جاہدی سے ہونے والی گفتگو

محاذ پر جہادی سرگرمیاں

میں خواتین کو جمع کرتی اور ہم ایک بڑے سے گھر میں کام کرتے تھے۔ ہم سپاہیوں کیلئے کپڑے سیتے تھے، مربا اور آچار بناتے تھے۔ زخمیوں کے خون لگے کپڑے جو محاذ سے ٹرک پر آتے تھے، اُنہیں دھوتے تھے

دفاع مقدس کے دوران فداکار خاتون زہرا الماسیان کی باتیں

خرم شہر اور آبادان میں امدادی سرگرمیاں

زہرا الماسیان کی جوانی کے ابتدائی سال، انقلاب اسلامی کی کامیابی اور عراق کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کے آغاز کےہمراہ تھے۔ وہ ایران پر عراقی بعثی پارٹی کے حملے کے ابتدائی دنوں میں ہی آبادان میں مختلف فیلڈز میں کام کرنا شروع کردیتی ہیں

دفاع مقدس کے دوران امدادی کارکن نجمہ جمارانی سے گفتگو

فدائیان اسلام اور آبادان کا محاصرا ہونے والے دنوں کے واقعات

ہم لوگ اکتوبر ۱۹۸۱ء تک اُن کے ساتھ رہے۔ جب ہم آخری مرتبہ تہران کیلئے واپس آ رہے تھے تو ہمارے فوجی آبادان محاصرے کو توڑنے کیلئے مقدمات فراہم کر رہے تھے

"کمانڈروں کی بیویوں کی زبانی تاریخ" کی پہلی مقدماتی کتاب مؤلفین کی نگاہ میں

واقعات اور جنگ کی اجتماعی تاریخ کو اکٹھا کرنا

جب جنگ ہوتی ہے تو اُس کے اثرات معاشرے کے تمام طبقات پر پڑتے ہیں۔ اس دوران جو زیادہ سختیوں کو تحمل کرتے ہیں وہ جنگ کے اعلیٰ افسران اور اُن کے گھر والے ہوتے ہیں۔ عراق کی ایران کے خلاف آٹھ سالہ جنگ بھی اس قانون اور قاعدے سے مستثنیٰ نہیں۔ ایسی جوان لڑکیاں جن کی ابھی نئی نئی شادی ہوئی تھی، انہیں دن رات اپنے شوہروں کے ایک ٹیلی فون کے انتظار میں رہنا پڑتا اور وہ زندگی اور اپنے فرزندوں کی تربیت کے بوجھ کو تن تنہا اپنے کاندھوں پر اٹھاتیں۔ ان کے شوہروں کو بھی جنگ کے دوران زیادہ مصروفیت کی وجہ سے اتنا وقت نہیں ملتا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کی خیریت دریافت کرلیں۔
3
...
 

سب سے زیادہ دیکھے جانے والے

ایران میں ایک جاپانی ماں کی داستان

اسے ابھی گئے ہفتہ بھی نہیں ہوا تھا کہ بسیجیوں کی جانب سے ایک خط مجھے موصول ہوا۔ لفافے پر محمد کے دستخط دیکھ کر دل کو سکون ملا۔ خط کھولا تو اس میں لکھا تھا: " پہلے میں مغربی جنگی محاذوں پر، جو پہاڑی علاقوں میں ہیں، مصروف تھا۔ لیکن اب جنوبی علاقے کی طرف آگیا ہوں
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔