جنگی اسناد کے نہ تھکنے والے سردار کی یاد میں

"احمد سوداگر" کی زندگی اُن کی زوجہ کی زبانی

وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو تم لوگ شہداء کی تشییع جنازہ میں شرکت نہ کرو اور اُنہیں تنہائی میں دفنایا جائے۔ وہ تقریباً چھ گھنٹوں تک امام خمینی (رہ) کے حرم میں بیٹھے رہے۔ جب وہ آئے، بالکل الگ ہی حالت تھی۔جیسے انہیں کسی چیز کا احساس ہوگیا تھا۔

سردار محمود کمن سے بات چیت

میرے کمانڈر کی یادیں

سردار محمود کمن نے کئی سالوں تک لیفٹیننٹ کرنل علی صیاد شیرازی کے ساتھ محاذوں پر ذمہ داری انجام دی/ ہمارے گھر کے نزدیک ایک بچہ بھاگ رہا تھا، میں نے کہا: کیا ہوا ہے؟ اُس نے کہا: صیاد کو مار دیا۔ میرا دل جل اٹھا/

سن 1974ء سے مربوط آیت اللہ غلام علی نعیم آبادی کے واقعات

زندان میں میری کوٹھڑی ایسی تھی!

آیت اللہ غلام علی نعیم آبادی سن 1944 ء میں دامغان کے نعیم آباد علاقے میں پیدا ہوئے۔ وہ پہلوی حکومت کے دوران شہنشاہی حکومت کی مخالفت کے جرم میں کئی بار گرفتار ہوئے اور بالآخر مشترکہ کمیٹی کے جیل میں آٹھ مہینے اور زندان قصر میں 30 مہینے قید اور کوڑوں کا مزہ چکھا

"دلدادہ" نامی کتاب کے بارے میں زہرا سبزہ علی سے گفتگو

یادوں کا قلمبند کرنا، معاشرتی تاثیر کیلئے

شہید علی رضا ماہینی کی ایک چھوٹی سی تصویر دیکھنا زہرا سبزہ علی (شاہ بابائی) کیلئے ایک چنگاری ثابت ہوا کہ وہ اس بوشہری شہید جو غیر منظم جنگوں کے گروپ کمانڈر تھے، کی یادوں کو جمع کریں

بڑے پیمانے پر کئے جانے والے پہلے آپریشن کے بارے میں بریگیڈ کمانڈر علی صدیق زادہ کی یادوں کے ساتھ

تیسرا حربہ اور وقت پر اصلی غفلت

25 دسمبر 1981ء کو یونٹوں نے اپنی آمادگی کا اعلان کیا۔ 25 دسمبر کی شام کو آپریشن کا پلان بریگیڈ کے یونٹوں تک پہنچا جنہوں نے پلان کو شروع کرنا تھا۔ یعنی پلان، شروع ہونے کیلئے حکم میں تبدیل ہوگیا۔ ڈویژن کی کمانڈ کی طرف سے مہر بستہ لفافے بریگیڈ کیلئے بھیجے گئے۔ بریگیڈ کے کمانڈرز بہت مطمئن تھے، کیونکہ یونٹوں کو اچھی طرح تیار کیا ہوا تھا۔

محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے

طاہرہ طاہری کے ساتھ گفتگو

رضا کار ادارے جہاد سازندگی کے واقعات، امدادی کام اور سنندج کے اسکول

طاہرہ طاہری انقلاب اسلامی کی کامیابی کے اوائل سے ہی سرگرم خواتین میں سے ایک ہیں۔ وہ رضا کارانہ طور پر اس ادارے میں بھرتی ہوئیں اور اسلامی جمہوری ایران کے خلاف صدامی فوج کی مسلط کردہ جنگ شروع ہونے کے بعد، رضاکار ادارے جہاد سازندگی کی طرف سے ہلال احمر ٹرین کے ساتھ کئی مرتبہ زخمیوں کی مدد کرنے ملک کے جنوبی علاقے میں گئیں

سورج مغرب سے طلوع ہوا

تہران کے آسمان پر کافی بڑا موڑ کاٹنے کے بعد جہاز نے لینڈ کیا۔ پہلے صحافی حضرات اور پھر امام کے ساتھی جہاز سے اُترے۔ حضرت امام کے شاگرد بھی استقبال کے لئے آئے ہوئے تھے اور ایئرپورٹ کے ہال میں جمع تھے ۔ میں بھی جب وہاں پہنچا تو کیا سنا کہ سب کے سب یہ ترانہ پڑھ رہے ہیں: اے خمینی امام ! اے خمینی امام!

" کتاب کی زبانی تاریخ" مطبوعات فرہنگ معاصر کے انچارج کی زبانی

دو زبانوں میں فرہنگ لغات کی پیداوار اور طباعت کے واقعات

ہمارا دل چاہتا تھا ہمارے پاس ہر زبان میں فرہنگ لغات کا مکمل نسخہ موجود ہو۔ ہمارا ہدف یہ تھا کہ اس نسخے کو مکمل کریں اور ہم چاہتے تھے کہ ہمارے مجموعے میں ایک فارسی لغات کی بھی فرہنگ ہو

گزشتہ دہائیوں میں شہر اراک میں ہونے والی قرآنی نشست کے بارے میں

ایک مکمل روایتی طریقہ کار

محمد رحیم بیرقی مرکزی صوبے کے ایک سرگرم قرآنی شخصیت ہیں جنہوں نے چند سالوں سے تہران میں سکونت اختیار کی ہوئی ہے۔ ار اک میں ہونے والی قرآن کریم کی سرکاری اور جدید نشستیں ہوں یا روایتی نشستیں، یہ شخصیت ہر جگہ فعال نظر آئی اور یہ یونیورسٹی میں قرآن کے استاد ہیں۔ ہم نے اُن کے ساتھ شہر اراک میں ہونے والی قرآنی نشست اور خاص طور سے مرحوم استاد محمد حسن نہرمیانی کے بارے میں بات چیت کی۔...
4
...
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔