اس معتبر چہرے کی یاد جو عام لوگوں، یونیورسٹیوں اور قائد انقلاب کے درمیان رابطے کاذریعہ تھا

آیت ا... مرتضیٰ مطہری ۲ فروری سن ۱۹۲۰ءکو مشہد سے ۷۵ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک فریمان نامی علاقے میں پیدا ہوئے۔ وہ بارہ سلا کی عمر میں مشہد چلے گئے تاکہ حوزہ علمیہ مشہد میں دینی علوم کی ابتدائی تعلیم حاصل کرسکیں اور پھر سن ۱۹۳۷ء میں وہاں سے حوزہ علمیہ قم چلے گئے تاکہ اپنی تعلیم کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں۔

اسلامی انقلاب کی کامیابی کے ایام

بہمن ۱۳۵۷ )فروری ۱۹۷۹(ایرانیوں کے لئے ایک سرنوشت ساز مہینہ قرار پایا۔ پہلوی حکومت سے سالہا سال مقابلہ کرنے اور اس راہ میں سختیاں اور مصبتیں جھیلنے والے افراد کی نجات کے دن نزدیک آچکے تھے۔

۵ جون کوقیام کرنے والے ساتھی کی یاد

شیخ حسین خندق آبادی

شیخ حسین خندق آبادی (۱۹۱۷ء – ۱۹۶۷ء) تہران کے خطباء اور واعظوں میں سے تھے، حوزہ علمیہ قم سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد تہران واپس پلٹے اور دین کی تبلیغ میں مصروف ہوگئے۔ اپنی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے کئی دفعہ ساواک کی طرف سے اذیت و پریشانی کا شکار ہوئے اور جیل میں رہے۔ برین ہیمبرج کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں وعظ و تقریر سے منع کردیا، لیکن انھوں نے  اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اور اپنا فرض جانتے ہوئے اپنے کام کو جاری رکھا، یہاں تک کہ ۲۱ رمضان کی شب، شب...

امام (رہ) کی جلا وطنی کے تناظر میں آیت اللہ سید مصطفی خمینی کی جلاوطنی

۴ نومبر ۱۹۶۴ کی صبح کمانڈو فورسز امام کے گھر میں گھس گئی اور انہیں گرفتار کرکے تہران اور پھر ترکی کے شہر آنکارا منتقل کردیا۔ امام کی گرفتاری کی خبر سنتے ہی آیت اللہ سید مصطفی خمینی نے علماء سے مشورہ کیا۔ آیت اللہ مرعشی نے اس امکان کا اظہار کیا کہ امام کے فرزند کو بھی گرفتار کرلیا جائے گا۔

حجاب پر پابندی کی سازش اور امام خمینی (رہ) کی حق گوئی

رضا خان نے اپنی حکومت کے آغاز میں دھوکہ دہی کے طریقے کو اپنایا اور امام حسین (ع) کی عزاداری کے جلوسوں میں پیدل شرکت کی؛ لیکن آہستہ آہستہ اپنے تمام دینی عقائد کو ایک طرف رکھ دیا اور نوبت یہاں تک آپہنچی کہ فرنگی لباس اور ٹوپی ایران کا رسمی لباس قرار پایا اور مجالس کو محدود کر دیا گیا اور حجاب کو ممنوع۔

آیت اللہ غفاری، امام خمینی (رہ) کی تحریک کے دوران مستقل جدوجہد کرنے والی شخصیت

تقریر کے دوران غضب و غصے کی حالت میں ایک پولیس افسر مسجد میں داخل ہوا اور لوگوں کے پیچھے، کمر پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہوگیا۔ آیت اللہ غفاری نے گرج دار آواز میں کہا: "جناب آفیسر، آپ بھی دوسرے لوگوں کی طرح بیٹھ کر سنیں۔ آپ اس طرح کیوں کھڑے ہیں؟ کیا لوگوں کو ڈرانا چاہتے ہیں؟!"

شعلہ بیان خطابت کے مالک؛ آیت اللہ دستغیب کی سیاسی سرگرمیوں کا جائزہ

(سن ۱۹۶۲ء سے ۱۹۶۴ء تک)

اگر ہم چند ایسے علماء کا نام لینا چاہیں کہ جن کا نام شروع ہی سے امام خمینی (رہ) کی تحریک کی ساتھ جڑ گیا ہو تو بغیر کسی شک کے اُن میں سے ایک نام سید عبد الحسین دستغیب کا ہے۔

ساواک کا آیت اللہ سید مصطفی خمینی کو گرفتار کرنے کا مقصد کیا تھا؟

امام خمینی (رہ) کی ترکی جلاوطنی اور ۲جنوری کو اُن کے فرزند آیت اللہ مصطفی خمینی کی گرفتاری سن ۱۹۶۵ء کے اہم اور خبرساز واقعات تھے جو ۲۶ اکتوبر ۱۹۶۴ء کو امریکیوں کو قانون سے استثنیٰ قرار دینے والے بل کی منظوری کے خلاف امام تقریر کی وجہ سے عمل میں آئے۔

آیت اللہ کی یادداشتیں لکھنے کی سنت

شاید جناب ہاشمی کا اپنی یاد داشت شائع کرنے کا اہم ترین ہدف وہی انقلاب اور نظام کی مدد قرار دیا جا سکتا ہے کہ جس کے لئے انہوں نے اپنی تمام زندگی صرف کردی۔ درحقیقت جناب ہاشمی اپنی خود نمائی سے زیادہ اس چیز کی طرف زیادہ مائل تھے کہ نظام کی اعلیٰ سطح پر ہونے والے فیصلوں آشکار کریں اور مؤرخین و محققین کو اُن کی کیفیت سے آگاہ کریں

جنوبی یورپ میں ’’کوہ حضرت عباس علیہ السلام‘‘

البانیا کی سرحد پر’’مقدونیہ یعنی سابق یوگوسلاویا میں جناب ’’رقیہ سلام اللہ علیہا‘‘ سے منسوب ایک قبر ہے۔اور اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہےکہ تیرانا کے شمال میں’’تومور‘‘نامی ایک پہاڑ ہے جو ’’کوہ حضرت عباس علیہ السلام‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔
...
9
 

تم اشارہ کرتے کہ زیادہ نہ ماریں

ہمارے تفتیشی افسر کا نام رحیم خانی تھا، جو بہت عجیب، عمدہ اور ماہرانہ طریقے سے کام کرتا تھا۔ہم میں سے جس سے بھی پوچھ گچھ کرتا ، کہتا تھا،" میں نے سنا ہے کہ تمہیں قید میں مارتے ہیں؟اگر کوئی شکایت  ہے تو بتاوَتاکہ اسکی خبر لگاوَں
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔