انقلاب کے دور میں مساجد
مسجد لر زادہ
مسجد لر زادہ تہران کی ایک معروف مسجد اور پہلوی حکومت کے خلاف تحریک کا اہم مرکز تھی۔ یہ مسجد ۱۳۵۰ سے ۱۳۵۷ [ ۱۹۷۱ سے ۱۹۷۸] تک جنوب مشرقی تہران میں مبارزات اسلامی کے لئے ہال اور انقلابی نوجوانوں کے جمع ہونے کا مرکز تھی، بالخصوص ان طلبہ کے لئے جنوبی تہران کی انقلابی تحریکوں میں شریک تھے۔زبانی تاریخ میں اسناد و مدارک کی اہم ترین کارگردگی
زبانی تاریخ کی تدوین میں اسناد کی سب سے اہم کارکردگی بلاشبہ ان اسناد سے استفادہ کرنا ہے جن کے صحیح ہونے کا یقین محقق کو ہے اور اسی طرح وہ زبانی واقعات بھی ہیں جو مختلف زاویوں سے کسی ایک خاص موضوع کے متعلق حاصل ہوئے ہیںتنہائی والے سال – تیرہواں حصّہ
دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات
جب ہم نے اُس پائلٹ کو کمانڈر کے سامنے پیش کیا تو وہ بہت سہما ہوا اور پریشان تھا۔ اُس نے اپنے خیال کے مطابق کہ اُسے کوئی تکلیف اور اذیت نہ پہنچائی جائے، جلدی جلدی بولنے شروع کردیا: " میں نے آپ کے اسیر ہونے والے پائلٹوں کے ساتھ بات کی تھی۔ میں نے اُنہیں قریب سے دیکھا تھا اور میں اُن کے ساتھ بہت محبت سے پیش آیا تھازبانی تاریخ کے انٹرویو میں سوالوں کا انداز
اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ انٹرویو لینے افراد ایک خاص منصوبہ کی انجام دہی کیلئے انٹرویو دینے والے شخص کے ایک خاص حصے سے واقعات کو جمع کرتے ہیںمزدورں کی زبانی تاریخ
ساٹھ کی دہائی میں، جب زبانی تاریخ نے کام شروع کرنے کیلئے قدم بڑھایا، گذشتہ ماضی اور گمشدہ جہانوں کو ٹٹولنے میں خواتین، مزدور اور اَن پڑھ لوگ اس کے محور اصلی کے طور پر سامنے آئےانٹرویو پر اندرونی کیفیت کا اثر
زبانی تاریخ کے انٹرویو لینے والوں کو راوی کی ذہنی اور نفسیاتی حالت پر توجہ کرنی چاہیے اور اُسے پرسکون اور تدریجی عمل کے ساتھ اُس کے ذہن کو خالی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔یادداشت لکھنے کی کلی خصوصیات
شاید یاد داشتوں سے دلچسپی رکھنے والوں کی طرف سے کئے جانے والے سوالوں میں سے ایک یہ ہو کہ یاد داشت لکھنے میں کیا خصوصیات پائی جاتی ہیں؟ کیا یادداشت لکھنے والے کو خاص فنون کا حامل ہونا چاہیے؟ کیا ذاتی یاد داشت کو لکھنا ایک آسان یا محال کام ہے؟زبانی تاریخ کے انٹرویو پر وقت کے حالات کی تاثیر
واقعات لکھنے اور زبانی تاریخ کے نقائص میں سے ایک، مختلف افراد اور موضوعات کے بارے میں راوی کی رائے اور قضاوت پر وقت گزرنے کے ساتھ سیاست اورثقافت کی غیر اصلی اور فرعی باتوں کی تاثیر ہے۔اولویت کسے حاصل ہے؟
واقعہ کا پالینا یا حقیقت کا کشف کرنا
زبانی تاریخ کی خصوصیات میں سے ایک اُس کا ایک مشخص موضوع کی حدود میں بامقصد انٹرویو انجام پانے کو سمجھا جاتا ہے۔ اسی دلیل کی وجہ سے عام طور پر زبانی تاریخ میں کام کرنے والے افراد سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ راوی کا احترام کرتے ہوئے، اپنی وسعت قلبی کو بڑھاکر، صبر و حوصلہ کے ساتھ اُس کی باتوں کو سنیں اور مناسب موقع پر معین حدود میں رہتے ہوئے سوالات کو پیش کرے۔زبانی تاریخ کی تالیف کے بارے میں
سوالوں کے ساتھ یا بغیر سوالوں کے، یہ نکات ضروری ہیں
یاد داشتوں کی تالیف اور متن کی حتمی ترتیب،بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے اور زبانی تاریخ کے محقق کو چاہئیے اس کام کی ظرافت پر توجہ رکھے اور اُسے ذمہ داری کے ساتھ انجام دے۔ موضوع کو واضح کرنے کیلئے مندرجہ ذیل نکات ذکر کئے جا رہے ہیں3
...
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
"رہبر معظم، انقلاب کی راہ میں"
وہ شخصیت، جو اسلامی انقلاب کی جدوجہد اور دفاعِ مقدس (جنگ) کے ایام کی تاریخ نویسی اور اس انقلاب کے پرچار کو ایک تاریخی ضرورت اور مذہبی و قومی فریضہ سمجھتی تھی، اپنے چاہنے والوں کو ان شیریں یادوں کے ساتھ تنہا چھوڑ کر معبودِ حقیقی سے ملنے کے لیے اپنے ابدی اور عرفانی سفر پر روانہ ہوگئی: "ارجعی الی ربک راضیة مرضیه، فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی""1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
