زبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – بیسواں حصہ
اچھی طرح کان لگا کے سننا (۲)
اچھا ہوگا اگر آپ انٹرویو کے دوران، کبھی سر کو ہلائیں کسی تائید کرنے والے لفظ جیسے "جی" یا "صحیح فرمایا" کا سہارا لیتے ہوئے راوی کی بات کو سمجھنے کا اظہار کریںانقلاب کی پہچان اور وضاحت
ایران میں موجود امریکی فوجی مشاورتی کمیٹی کے سربراہ کے نام
اگر روحانیت کے نفوذ اور اثر و رسوخ کا اندازہ لگانا چاہتے ہو تو بس اتنا جان لو کہ اس ملک (ایران) میں ساڑھے تین کروڑ کی آبادی میں ۸۰ ہزار مساجد، ایک لاکھ ۸۰ ہزار علماء اور بارہ ہزار سے زیادہ آیت اللہ موجود ہیں ..."زبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – اُنیسواں حصہ
اچھی طرح اور دھیان سے سننا (۱)
دوسروں کی بات اچھی طرح دھیان سے سننے کا شمار اُن مہارتوں میں ہوتا ہے جو تمام انسانی رابطوں کے قیام میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جن میں سے ایک انٹرویو ہے۔ بنیادی طور پر انٹرویو کے تمام مقدمات کو بہت دقت کے ساتھ فراہم ہونا چاہیے تاکہ ہم راوی کی بات کو صحیح سے سن کر اُسے ریکارڈ کریں۔زبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – اٹھارہواں حصہ
جسمانی حرکات و سکنات (۲)
آپ کی آواز سامنے والے کے فاصلے کے ساتھ مناسب ہو، اسٹوڈیو کے ماحول سے سازگار ہو اور ضرورت پڑنے پر آواز کو کم یا زیادہ کرنے کی سہولت دستیاب ہو اور اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے وقت سامنے والے کے ساتھ باہمی رویے کا خیال رکھا جائےخوزستان کے جوانوں کے ایک گروہ کی سوانح حیات کتاب بن گئی
اہواز کی جزائری مسجد کے لوگوں کے واقعات
یہ کتاب ایران کی مساجد میں سے ایک مسجد کا تاریخچہ بیان کر رہی ہے جو خاص اور تاریخی جغرافیہ پر موجود ہے۔ ایک اور منظر سے ایسے جوانوں کی سوانح حیات ہے کہ انقلاب اسلامی اور دفاع مقدس نے اُن کی عمر اور تجربہ میں اضافہ کیا اور جس کے شہید تاریخ میں زندہ و جاوید ہوگئےزبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – سترہواں حصہ
جسمانی حرکات و سکنات کا استعمال (۱)
زبانی تاریخ کے انٹرویو لینے والے کو رابطہ برقرار کرنے کی مہارتوں سے آگاہ ہونا چاہیے اور ایک اچھے انٹرویو کی خاطر انہیں کام میں لائے۔ انہی مہارتوں میں سے ایک مہارت، جسمانی حرکات و سکنات کی ہےزبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – سوالہوں حصہ
انٹرویو کے دوران حرکات و سکنات اور ان کی اہمیت
جسمانی حرکات و سکنات، معنی و مفہوم پہنچانے کے ساتھ ساتھ مخاطب میں اعتماد یا بے اعتمادی کی فضا قائم کرنے اور خوشی سے شوق میں اضافہ یا اس کے مزاج میں انحراف اور روکھا پین پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیںاس احساس کا اطمینان
فی الحال مجھے ایران کی خارجہ پالیسی کو معتدل بنانے کیلئے کوئی بھی راہِ حل دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ ہمیں جیسے ہی موقع ملے گا ہم کوشش کریں گے امام خمینی اور ان کے طرفدار لوگوں کی فکر کو معتدل کریںزبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – پندرہواں حصہ
سوال کیسے کیا جائے؟
انٹرویو لینے والے کئی ایسے حضرات ہیں جن کے پاس دسیوں مناسب سوالات ہیں لیکن ان میں سے بعض سوالوں کو یا پیش نہیں کرسکے یا پھر پیش کرنے کے بعد مطلوبہ اور مناسب جواب حاصل نہ کرسکےزبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – چودہواں حصہ
مثالی سوالات
ہم یہاں مناسب سوال اور نا مناسب سوال کی مثالوں کو مساوی تعداد میں ذکر کریں گے تاکہ مخاطب دونوں قسموں میں موازنہ کرسکے۔ البتہ یہ بات واضح سی ہے کہ کچھ جگہوں پر جواب تک رسائی حاصل کرنے کے لئے ایک سے زیادہ طریقے استعمال کرنے چاہئیے۔5
...
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
راوی کا آخری سفر
نو اپریل، شہید سید مرتضیٰ آوینی کی برسی کا دن ہے؛ وہ مستند ساز اور آٹھ سالہ عراق-ایران جنگ کے وہ نامور راوی، جن کا سفرِ عشق بالآخر "فکہ" کے تپتے صحراؤں میں شہدائے کربلا کے قافلے سے جا ملا۔ کتاب "شہیدِ فرہنگ؛ شہید سید مرتضیٰ آوینی در آیینہ خاطرات" ان کی زندگی کے مختلف ادوار اور سرگرمیوں پر محیط مختلف یادوں کا مجموعہ ہے"1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
