حسن قابلی علاء کے زخمی ہونے کا واقعہ

وصال معبود

انتخاب: فاطمہ بہشتی

ترجمہ: یوشع ظفر حیاتی

2024-4-25


کہتے ہیں تقریبا سو پِنٹ خون مجھے چڑھایا گیا تاکہ میں زندہ بچ سکوں۔ میں ان تمام افراد کا احسان مند ہوں جن کا خون میری رگوں میں دوڑ رہا ہے۔ بہرحال، ان تمام افراد نے میرے اوپر احسان بھی کیا ہے اور مجھے زحمت میں بھی ڈال دیا ے۔ جو لوگ شہید ہوگئے ہیں وہ تو کامیاب ہوگئے لیکن ہم جیسے لوگ جو باقی بچ گئے ہیں درحقیقت اگلی آزمائش کے منتظر ہیں۔

حالانکہ میری عمر کافی کم تھی لیکن تیسری مرتبہ مالک اشتر بیرکس سے محاذ جنگ روانہ ہورہا تھا۔ اس بار بھی معمول کے مطابق مجھے محمد رسول اللہ ۲۷ ڈویژن ہی بھیجا گیا  اور وہاں سے میں حمزہ سیدالشہداء بٹالین میں شامل ہوگیا۔ حمزہ سید الشہداء بٹالین میں شمولیت اختیار کرنے کے چند دنوں بعد مجھے کمپنی نمبر ایک میں ڈسٹرائر کے ذمہ داریاں سونپی گئیں اور میں وہاں مشغول ہوگیا۔ پروگرام کے مطابق اس کمپنی میں شامل تمام افراد آنے والے آپریشن کے لئے اپنے آپ کو خود ہی آمادہ کررہے تھے۔ اس لئے مجھے پہلے ایک دس دن کی ٹریننگ کے لئے بھیجا گیا۔ اس کے بعد کرخہ کے فوجی اڈے میں منتقل کردیا گیا تاکہ وہاں رہتے ہوئے میں اپنے آپ کو ہر طرح کے آپریشن کے لئے تیار کرسکوں اور اپنی فوجی صلاحیتوں کو نکھار سکوں۔ اس فوجے اڈے میں ٹریننگ، پیدل چلنا، راتوں کی ٹریننگ وغیرہ اتنی زیادہ تھی کہ جس سے آنے والے آپریشن کی عظمت کا اندازہ ہورہا تھا۔

آپریشن کا زمانہ آہستہ آہستہ نزدیک آتا جارہا تھا اور جن افراد کو اس میں شریک ہونا تھا وہ اب اپنا رخت سفر باندھنے میں مشغول تھے، اور بہت زیادہ ہشاش بشاش دکھائی دے رہے تھے۔ چند دنوں بعد ہم سے ہمارا سامان لے لیا گیا جسے گوشت منتقل کرنے والی سرکاری گاڑیوں میں روانہ کردیا گیا اور ہم سب بسوں میں بیٹھ کر اپنی منزل کی جانب روانہ ہوئے جن پر " محاذ جنگ کا معاینہ کرنے والا کاروان" جیسی عبارت تحریر تھی۔ یہ سب کچھ اس لئے کیا جارہا تھا کہ دشمن کو غفلت میں رکھا جائے اور اس آپریشن کا راز نہ کھل سکے۔ بالآخر ہمیں کارون شہر میں واقع ہیڈکوارٹر لے جایا گیا چند دن وہیں رکے رہے تاکہ آپریشن کا مقررہ وقت آن پہنچے۔ اسکے بعد ہمیں بہمن شہر لے جایا گیا اور پھر وہ دن آگیا جس رات ہمیں آپریشن شروع کرنا تھا۔

والفجر آپریشن کا پہلا مرحلہ "یا زہرا س" کے کوڈ ورڈ سے ہوا اور اسکے شروع ہوتے ہی فاو شہر مجاہسین اسلام کے قبضے میں آگیا۔ دوسرے مرحلے میں محمد رسول اللہ ص ڈویژن کو بھرپور انداز سے وارد جنگ ہونا تھا اور تیسرے مرحلے میں لشکر ۲۷ کی دو بٹالینز کو نمک کے کارخانے پر حملہ کرکے میزائلوں کی سائیٹ پر قبضہ کرنا تھا۔ اس لئے ہم بھی ان بٹالینز کے ساتھ فاو شہر میں داخل ہوئے تاکہ اگر ضروری ہوا تو ہم بھی جنگ میں کود پڑیں گے۔ الحمدللہ یہ دو بٹالینز اپنے مشن میں کامیاب ہوگئیں اس لئے ہماری ضرورت نہیں پڑی۔

اس کے اگلے دن آپریشن کا چوتھا مرحلہ شروع ہونا تھا جس میں ہماری بٹالین کو فاو۔ ام القصر ہائی وے پر قبضہ کرنا تھا ۔ ہم نے نماز مغربین پڑھنے کے بعد ہائی وے کی جانب چلنا شروع کیا اور ساڑھے نو بجے رات کو اپنی مطلوبہ جگہ پر پہنچ گئے۔ جوانوں نے ایک دوسرے کی روبوسی اور حلالیت مانگنا شروع کی جو اس آپریشن میں شہید ہونے والے تھے انکے چہروں سے ہی دکھائی دے رہا تھا کہ یہ اب واپس نہیں پلٹیں گے ۔ ہم نے دس بجے عراقیوں کی جانب بڑھنا شروع کیا اور اب ہم عراقیوں کے اتنا نزدیک پہنچ چکے تھے کہ انکی گفتگو بھی صاف سنائی دے رہی تھی۔ دس بج کر تیس منٹ پر یا زہرا س کے مقدس کوڈ سے آپریشن کا آغاز ہوا۔ ہماری بٹالین ک قسمت تھی کہ ہمارے سامنے صدام کے رائل گارڈز کا قوی ہیکل دستہ اپنے دو سو ٹینکوں کے ساتھ موجود تھا۔ جو انفارمیشن ہمارے پاس آئی تھی اس کے مطابق طے تھا کہ رائل گارڈز اگلی صبح حملہ کرکے فاو پر دوبارہ قبضہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ اسکی خبر حتیٰ ڈویژں کو بھی نہیں تھی اور یہ ایک طرح سے ہماری غیبی مدد تھی کہ ہم نے اس رات حملہ کردیا تھا۔ ہر چند ہمارے شہیدوں اور زخمیوں کی تعداد زیادہ تھی لیکن دشمن کی مرکزیت ٹوٹ گئی اور اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور جوانوں نے سو سے زیادہ ٹینکوں کو نابود کردیا۔

اس آپریشن میں دستے میں میری ذمہ داری پیغامات پہچانا اور آر پی جی چلانے والے کی مدد کرنا تھا۔ جنگ کے شدت بڑھ رہی تھی اور سب اللہ اکبر کے نعروں میں آگے بڑھتے ہوئے دشمن کے کئی ٹینکوں کو ناکارہ بنا کر ان سے عبور کرگئے تھے۔ جھڑپیں شدید تھیں اور بہت زیادہ گولیاں چل رہی تھیں۔ بالآخر دشمن کے چوتھے یا پانچویں ٹینک کے بعد ہم زمین پر لیٹ گئے اور ہم نے عراقی فوج اور مورچوں کی جانب فائرنگ شروع کردی۔

میرے پاس دو ہینڈ گرینیڈ تھے۔ میں نے ان دونوں کی پن نکالی اور دشمن کے مورچوں کی جانب پھینک کر تیزی سے واپس پلٹ آیا۔ گرینیڈ کے پھٹنے کے بعد اطئنان حاصل کرنے کے لئے اپنی بندوق سے اس مورچے کی جانب برسٹ فائر کرنے لگا۔ اسی اثنا میں مجھے احساس ہوا کہ میرا شانہ جل رہا ہے اور چند ہی لمحوں بعد متوجہ ہوا کہ میری کمر میں چھرے لگ گئے ہیں جس سے خون بہہ رہا ہے۔ مجھے تھوڑا کمزوری کا احساس ہوا اسی لئے اپنی جگہ سے اٹھ نہیں پایا کہ اٹھ کر واپس پلٹ سکوں۔ معلوم ہوا کہ گرینیڈ کے پھٹنے سے میرے تین ساتھی شہید ہوگئے اور مجھے بھی اسکے کچھ چھرے بازو اور کمر میں لگے ہیں جس کی وجہ سے میں زخمی ہوچکا ہوں۔

کچھ دیر بعد فرست ایڈ کا عملہ پہنچا جس نے میرے بازو اور پیٹ پر پٹیاں باندھیں اور مجھے فرسٹ ایڈ کے کیمپ لے گئے۔ پھر مجھے ایک سُن کرنے والا انجیکشن لگایا گیا اور ایمبولنس میں دریائے اروند کے کنارے لے گئے۔ جب مجھے دریائے اروند سے لانچ کے ذریعے دوسری جانب منتقل کیا جارہا تھا تو لانچ کے کناروں سے میرے اوپر پانی کی جو چھینٹیں پڑ رہی تھیں انہیں میں محسوس کررہا تھا۔ دریا کی دوسری جانب مجھے ایمبولنس میں منتقل کرکے یا زہرا نامی ایمرجنسی اسپتالمنتقل کیا گیا اور فرسٹ اید دینے کے بعد اہواز روانہ کردیا گیا۔ میں آپریشن تھیٹر تک ہوش و حواس میں تھا۔ اسکے بعد ڈاکٹر نے مجھے بے ہوشی کا انجیکشن لگا دیا اور ۔۔۔

جب میں ہوش میں آیا تو اپنے آپ کو ایک سی ون تھرٹی طیارے میں پایا۔ مجھے اہواز سے مشہد کے قائم ہاسپٹل منتقل کیا گیا تھا۔ میرے گھر والوں تک میرے زخمی ہونے کی اطلاع پہنچنے میں چند دن لگے اور پھر میری والدہ میری ایک بہن کہ جو خود بھی نرس تھیں مشہد پہنچ گئیں۔ میری بہن نے ڈاکٹروں سے بات چیت کی اور ان سے درخواست کی کہ مجھے تہران منتقل کیا جائے۔ پہلے تو ڈاکٹروں نے مخالفت کی اور کہا کہ اسکی حالت ٹھیک نہیں اور ہو سکتا ہے کہ راستے میں ہی شہید ہوجائے۔ لیکن میری بہن کے اصرار پر مجھے ہوائی جہاز کے ذریعے تہران منتقل کیا گیا اور ایئرپورٹ سے سیدھا مہر ہاسپٹل منتقل کردیا گیا۔

میری حالت بہت خراب تھی اور کسی کو بھی میرے زندہ بچ جانے کی امید نہیں تھی۔ اسی وجہ سے ہاسپٹل کے سرجن نے جب میری حالت دیکھی تو میری بہن سے کہا کہ اس کے پیٹ کا زخم خراب ہوچکا ہے اس لئے اسے آپریشن تھیٹر میں بھی نہیں لے جایا جاسکتا اور یہ کل صبح تک زندہ نہیں بچے گا۔ لیکن اگلے دن صبح تک میں خدا کے فضل و کرم سے زندہ بچ گیا جس پر ڈاکٹرز بھی تعجب کررہے تھے۔ اسی وجہ سے فیصلہ کیا گیا کہ اگر خونریزی بند ہوگئی تو مجھے علاج کے لئے کچھ دن بعد ملک سے باہر بھیجا جائے گا۔ لیکن جس دن میری فلائیٹ تھی اس سے اک رات پہلے میری پیٹ اور منہ سے خون بہنا شروع ہوگیا اور ایک بار پھر ڈاکٹرز مجھ سے نا امید ہوگئے۔ لیکن بدقسمتی سے یا خوشقسمتی سے کچھ دیر بعد خدا پر توکل اور دوستوں کی جانب سے ائمہ کرام علیہم السلام سے توسل کے نتیجے میں میں ایک دن اور زندہ رہ گیا۔ اگلے دن ڈاکٹر نے کئی مرتبہ میرا معائنہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ دیا کہ اسے ملک سے باہر نہیں بھیجا جاسکتا کیونکہ اگر جہاز میں اسے خون ریزی ہوگئی تو یہ بچ نہیں پائے گا۔ اس لئے بہتر ہے کہ اسے یہیں رکھا جائے تاکہ یہ صحت یاب ہوجائے اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔

۱۹۸۶ کی عید بھی اسپتال میں گذر گئی اور اب میں کچھ صحتیاب ہورہا تھا۔ لیکن عید کے دوسرے یا تیسرے دن مجھے اندرونی طور پر دوبارہ شdید خون ریزی ہوگئی۔ اس دفعہ میری حالت بہت زیادہ خراب ہوگئی تھی۔ جو میرے دوست احباب بتاتے ہیں کہ میرا بلڈ پریشر چھ سے نیچے آچکا تھا اور میں کوما میں چلا گیا تھا۔ فورا ڈاکٹرز کی ٹیم نے میرا معائنہ کرنے کے بعد کہا کہ اسے بس تازہ خون ہی زندہ رکھ سکتا ہے۔ سرکاری ٹیلیویژن سے بلڈ دونیشن کا اعلان کیا گیا اور امت حزب اللہ کے ایثار اور قربانی، اور خون ہدیہ کرنے کے نتیجے میں مجھے مرنے سے بچا لیا گیا۔

لیکن کچھ عرصۃ بعد جب میں نسبتا بہتر ہوگیا اور میری صحت قدرے بہتر ہوگئی تو میں ایک بار پھر محاذ جنگ روانہ ہوگیا۔ اس دوران محاذ جنگ پر ہونے کے ساتھ ساتھ میں نے اپنا ڈپلومہ مکمل کیا اور آج بھی میں یہی چاہتا ہوں کہ انشاء اللہ اپنا تعلیمی سفر جاری رکھوں گا۔

خدایا تو گواہ ہے اور مجھے بھی اچھی طرح یاد ہے کہ جوان مورچوں کے پیچھے اور ان قبروں میں جو انہوں نے اپنے لئے خود ہی کھود رکھی تھیں کس طرح گریہ و زاری اور مناجات کرتے تھے، کتنا با صفا اور بہترین ماحول تھا۔۔۔ خدایا انہوں نے تجھ سے ایسا کیا کہا اور کس طرح تجھ سے گفتگو کی تو نے انہیں ااپنے وصل کا راستہ دکھلا دیا اور مجھ روسیاہ کو انتظار میں، ایک اور امتحان کے انتظار کا منتظر چھوڑ دیا ۔۔۔

 



 
صارفین کی تعداد: 183


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
اسد اللہ تجریشی کی یادداشتیں

بائیکاٹ

جیل کی اُس زمانے کی اصطلاح کے مطابق میرا بائیکاٹ کردیا گیا تھا۔ بائیکاٹ یعنی کسی کو بھی یہ اجازت نہیں تھی کہ وہ سلام کا جواب دے، ساتھ کھانا کھائے، گفتگو کرے، ورزش کرے، یا کوئی بھی اور کام انجام دے
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔