ورکشاپ

زبانی تاریخ سے آشنائی – 7

انٹرویو کے سوالات کی خصوصیات

ترجمہ: محب رضا

2024-4-23


انٹرویو کے دوران

انٹرویو کے دوران، انٹرویو لینے والا سوالات پوچھتا ہے؛ اس حصے میں ان پوچھے گئے سوالات کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں.

 

انٹرویو کے سوالات کی خصوصیات

  • پہلا اصول یہ ہے کہ سوال واحد جملہ کی شکل میں ہونا چاہیے۔ ایک ہی وقت میں دو یا دو سے زیادہ سوالات کا پوچھنا  منع ہے؛ کیونکہ انٹرویو دینے والا عموماً آخری سوال پر بات شروع کرتا ہے اور باقی سوالات نظر انداز ہو جاتے ہیں ۔
  • سوال، لازماً سوالیہ انداز میں ہونا چاہیے،ناکہ خبری اندازمیں۔
  • سوالات کی ترتیب آسان سے مشکل کی جانب ہونی چاہیے۔ سیشن کا اختتام بھی آسان سوالات سے ہونا چاہیے۔تاکہ انٹرویو دینے والاتھکن کا احساس نہ کرے اور اگلے سیشن کو جاری  کرنے کی ترغیب ملے۔
  • سوال میں کسی برتری کا اظہار کرنا منع ہے۔
  • طویل مقدمہ ممنوع ہے؛ اگر سوالات انٹرویو دینے والے کے مطابق پوچھے جائیں تو مقدمہ لازم نہیں ہے۔اگر مقدمہ لایا جائے یعنی یا توکسی قسم کی برتری کا اظہار کیا گیا ہےیا انٹرویو دینے والا اس موضوع کے بارے میں اطلاعات نہیں رکھتا ، ہر دو صورتوں میں غلط ہے۔
  • سوالات فرد کے مطابق ہونے چاہئیں۔
  • سوالات واضح ہونے چاہئیں تاکہ راوی محقق کا مقصود سمجھ سکے۔
  • انٹرویو لینے والے کو مہارت کا استعمال کرنا چاہیے اور لگاتار کئی حساس سوالات نہیں پوچھناچاہیے۔
  • عام اور کلی سوالات کا فائدہ نہیں ہوتا، سوالات جزئی اور جوہری ہونے چاہئیں۔
  • کچھ حساس سوالات پوچھنے کے لیے، انٹرویو دینے والے سے اجازت لیں۔ ایک سوال پوچھنے کی اجازت نہ ملنا اس سے بہتر ہے کہ انٹرویو دینے والا پیچھے ہٹ جائے اور  پورا انٹرویو ہی منسوخ کر دیا جائے۔
  • سوالات آرام سے اور بغیر جلد بازی و جوش کے پوچھے جائیں۔
  • ایسے غیر مربوط سوالات جن کا موضوع سے تعلق نہ ہو، نہ پوچھے جائیں۔
  • ہر سوال پوچھنے کے بعد، انٹرویو لینے والے کوانتظار کرنا چاہیے کہ انٹرویودینے والے کا جواب ختم ہوجائے اور پھراگلا سوال پوچھے۔ انٹرویو لینے والے کے پاس سننے کی اچھی مہارت ہونی چاہیے۔
  • اگر انٹرویو لینے والا جواب نہیں سمجھ پایا ، تو اسے سچائی سے یہ بات بیان کردینا چاہیے؛ ورنہ دوسری صورت میں ممکن ہے کہ کتاب کے مخاطبین بھی یہ جواب نہ سمجھ سکیں۔
  • - اگر انٹرویو لینے والا کسی بات کو نہیں سمجھ پا یا   یاقبول نہیں کرتا، تو وہ انٹرویو دینے والے کے ساتھ بحث کر سکتا ہے۔لیکن اگر راوی اپنی بات پر اصرار کرے تو انٹرویو لینے والے کو مجادلہ کرنے کاکوئی حق نہیں ہے۔ اسےبحث اسی وقت ختم کردینی چاہیے۔
  • انٹرویو لینے والے کا فن یہ ہے کہ اگر راوی پوچھے گئے سوال سے  متعلق  کوئی غیر متعلقہ بات کہنا شروع کرے  تو وہ انٹرویو کے عمل کو آرام اور پرسکون طریقے سے درست سمت میں رہنمائی کردے۔
  • انٹرویو لینے والا راوی سے مخصوص اصطلاحات کی وضاحت کرنے کو کہے۔ ہو سکتا ہے کہ انٹرویو دینے والے کی مخصوص الفاظ سے مرادوہ نہ ہو جو   لغت میں بیان ہوئی ہے۔
  • انٹرویو لینے والے کو راوی سے مقامی اور علاقائی الفاظ کے معنی   لازماً معلوم کرنے چاہئیں۔
  • اگر راوی کوئی بات غلط بیان کر گیا  ہے، مثال کے طور پر، اس نے ایک تاریخ بتانے میں غلطی کردی ، تو انٹرویو لینے والے کو چاہیے کہ احترام کے ساتھ اسے یاد دلائیں تاکہ انٹرویو کا اعتبار مخدوش نہ ہو۔
  • بے معنی،مبہم اور خوش آمدانہ صفات اور القابات استعمال کرنے سے گریز کریں۔جیسےقابل فخر آپریشن یا محمد رضا پہلوی خائن ،اسی قسم موارد ہیں۔
  • انٹرویو لینے والے کو انٹرویو میں اپنی ذاتی پسندیدگیوں کو داخل نہیں کرناچاہیے۔ یہ مسئلہ وقت ضائع کرنے کے علاوہ انٹرویو دینے والے کے ذہن کو بھٹکانے کا باعث بھی بنتاہے۔
  • انٹرویو لینے والے کا لہجہ عادی ہونا چاہئے؛بہت زیادہ تکنیکی اور رسمی بھی نہیں اور زیادہ غیر رسمی بھی نہیں۔
  • انٹرویو لینے والا، ایک محدود حد تک ، راوی کی سوالات کے جوابات دینے میں مدد کرسکتا ہے، لیکن ایسا زیادہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس صورت میں انٹرویو دینے والے کی سوچ بکھر جاتی ہے۔
  • سوال کرتے وقت راوی کے وقار کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • انٹرویو لینے والے کو فعال ہونا چاہیے، ناکہ منفعل۔ جب فعال انٹرویو لینے والا سوالات پوچھتا ہے تو مختلف طریقوں سے کوشش کرتا ہے کہ راوی اپنی یادوں کوذہن میں لائے، انکو جانچے اور پھر انہیں بیان کرے۔ لیکن منفعل انٹرویو لینے والا صرف سوال پوچھتا ہے اور بغیر کسی ردعمل کے منتظر رہتا ہے کہ راوی  اپنی بات بیان کرے۔
  • کچھ افراد کا خیال ہے کہ انٹرویو کے سوالات، انٹرویو سے قبل انٹرویو دینے والے کو دیئے جانے چاہئیں، جبکہ کچھ دیگر سمجھتے ہیں کہ یہ کام نہیں کرنا چاہیے۔ اگرچہ زیادہ لوگوں کی رائے  یہ ہے کہ اصل سوالات راوی کو نہیں دینا چاہیں، بلکہ ہر سیشن سے پہلے پوچھے جانے والے  سوالات کا ایک عمومی  جائزہ اس کے سامنے رکھنا چاہیے  تاکہ وہ بہتر تیاری کے ساتھ انٹرویو کے لیےآئے ۔
  • جانبدارانہ سوالات پوچھنے سے گریز کریں؛ ایسے سوالات یا تو سیلف سنسرشپ کا سبب بن جاتے ہیں یا انکا جواب نہیں ملتا۔
  • سوالات یادداشت اور تجزیہ پر مرکوز ہونے چاہئیں۔ یہ سوالات الگ الگ سیشنز میں بھی کیے جا سکتے ہیں  یا ایک ہی سیشن میں دونوں حصوں کے سوالات ترکیبی صورت میں راوی سے پوچھے جا سکتے ہیں ۔
  • انٹرویو کے وقت کا ایک حصہ (تقریباً ایک تہائی) ان سوالات کے لیے مختص کرنا چاہیے جو انٹرویو کے دوران سامنے آئیں ۔راوی کی گفتگو کے دوران جو سوالات ذہن میں آتے ہیں، وہ اسی وقت پوچھنے چاہیے ۔

oral-history.ir


 
صارفین کی تعداد: 196


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
اسد اللہ تجریشی کی یادداشتیں

بائیکاٹ

جیل کی اُس زمانے کی اصطلاح کے مطابق میرا بائیکاٹ کردیا گیا تھا۔ بائیکاٹ یعنی کسی کو بھی یہ اجازت نہیں تھی کہ وہ سلام کا جواب دے، ساتھ کھانا کھائے، گفتگو کرے، ورزش کرے، یا کوئی بھی اور کام انجام دے
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔