سید مرتضیٰ نبوی اور محل کی یادیں

ہمارا جیل میں ایک نیٹ ورک یا تنظیم تھی اور ظاہر سی بات ہے دوسو،تین سو لوگ تھے بغیر کسی نظم وضبط اور تنظیم کے کام نہیں کرسکتے تھے لہذا ہم نے خفیہ طور پر ایک کمیٹی بنائی ہوئی تھی ہر دن ایک نمائندہ انتخاب کرتے جو باقی کاموں کی تقسیم بندی کرتا،ساتھ ہی یہ بھی بتاتا چلوں کی جیل میں مل کر کام کرنا،میرے پسندیدہ اور یادگار لمحوں میں سے ہے،جیسے جس دن ہماری باری ہوتی تو صبح جلدی اٹھ کر قہوہ بنانا،دسترخوان لگانا،سبکو بلانا پھر برتن دھونا پھر دوپہر کے کھانے اور رات کے کھانے کے انتظامات میں سارا دن اتنا مصروف گزرتا کہ پتہ ہی نہ چلتا۔

17شہریور کی یادیں

شاہ کا تختہ الٹ گیا اور قصہ تمام ہوگیا،بالآخر ریلی ختم ہوئی اور میں انہی گاڑیوں میں سے ایک پر سوار ہوکر روانہ ہوا، نعرے لگ رہے تھے کہ کل صبح 8بجے ژالہ چوک باب تازہ میں شہداء چوک پر جمع ہوں گے سب نعرے لگاتے اپنے اپنے گھروں کی طرف لوٹ رہے تھے۔

کی کہانی، امریکہ میں رہنے والے ایک ایرانی پروفیسر کی زبانی

ایرانی فوجیوں کی کہانی، در اصل، جنگ کی تاریخ کے ابتدائی اجزاء میں سے ہے وہ ابتدائی اجزاء جو اس جنگ کی اصل حقیقت ہیں مگر یہ جنگ ان کے نقطہ نظر سے بیان ہی نہیں ہوئی

۱۷ شہریور ۱۳۵۷ کے عینی شاہدوں سے گفتگو، اکبر براتی

جب گولی چلانےکا پہلا حکم صادر ہوا۔۔۔۔

اس سے پہلےکہ میں اپنی یادداشت بیان کروں ،آپ کی خدمت میں عرض کرتا چلوں کہ ۱۷شہریور کے واقعہ میں امریکہ کا ہاتھ ہونا مکمل طور پر واضح اور روشن ہے۔اس وقت تک ایران میں ۴۵ ہزار امریکی مشیر موجود تھے جو ایرانی فوج کو اپنے اشاروں پر چلارہے تھے۔

کیا قدیم زمانہ تھا۔۔۔۔

سلام کی تعلیمات زندگی میں فضول خرچی کو حرام کہا گیا ہے، اس دور کے لوگ بھی، جو کم آمدنی کی بنا پر تنگدست تھے، فضول خرچی کے بارے میں بہت محتاط رہتے تھے اور جہاں تک ممکن ہوتا اسراف اور فضول خرچی سے پرھیز کرتے۔

سیاسی قیدیوں کی یادوں میں عید نوروز

عید میں کچھ ہفتے باقی تھے عمومی جلسے میں نوروز کے جشن پر بحث چھڑی ہوئی تھی اور جیل میں نوروز کی رسموں کے اجراء کی مخالفت پر۔ بعض لوگ کہہ رہے تھے کہ ہمیں ثقافتی جشن کی حمایت نہیں کرنی چاہئے ہے۔ بعض لوگ کہتے کہ یہ رسم جمشید شاہ نے شروع کی ہے اور یہ جشن شہنشاہوں کا ہے۔

ایک "روشن" کی تاریک موت ۔۔۔

آپ پولینڈ میں چار سال رہیں اور وہیں پر" لشک وژنیاک" جو کہ انجینئرنگ کا طالب علم تھا، ملاقات ہوئی اور پھر وہیں پولینڈ میں شادی کرلی اس کے بعد اعلی تعلیم حاصل کرنے مغربی برلن میں سکونت اختیار کر لی

باقر کاظمی کی زندگی کی یادداشتیں

سید باقر کاظمی ایران کی مشہور شخصیتوں میں سے ہے جس کا تعلق احمد شاہ کے دور سے ڈاکٹر مصدق کے وزارت عظمیٰ کے دور تک ہے، وہ پہلوی اول کے زمانہ مین ایران کے وزیر خارجہ تھے۔ انہوں نے ہر سال کے لحاظ سے اپنی یادوں کو تحریر کیا ہے۔

میں اپنی یادوں سے پیچھے نہیں ہٹونگا

ایک جگہ لکھا کہ بیژن جلالی مجھ سے ۱۰ سال بڑا تھا اور دوسری جگہ کہ شاپور بنیاد ۱۰ سال مجھ سے چھوٹا تھا اور دونوں چل بسے اور میں نے لکھا کہ اگر ملک الموت باری باری پھرتا تو بیژن کے بعد میری باری تھی نہ کہ شاپور کی اور یہاں لکھ رہا ہوں کہ ھوشنگ گلشیری میرے ھمسن و سال تھے وہ بھی چلے گئے اور اگر مدت زمان کا حساب کتاب ہوتا، مجھے بھی اسکے مرنے کے ساتھ اس جہان سے کوچ کرجانا تھا۔

سیاسی قیدی اور عید نوروز

پہلوی دور میں قیدی کمترین امکانات کے ساتھ بہار کی آمد کا جشن مناتے تاکہ بتاسکیں کہ موسم سرما کا اختتام ہوچکا ہے۔ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد خاص شرائط میں پیش آنے والے ان قیدیوں کے مختلف گروہوں کے قصے و واقعات قلمبند کیے گئے جو اس دور کے تلخ و شیریں ایام کی یادگار ہیں۔
...
30
 
اشرف السادات سیستانی کی یادداشتیں

ایک ماں کی ڈیلی ڈائری

محسن پورا جل چکا تھا لیکن اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ اسکے اگلے دن صباغجی صاحبہ محسن کی تشییع جنازہ میں بس یہی کہے جارہی تھیں: کسی کو بھی پتلی اور نازک چادروں اور جورابوں میں محسن کے جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔