سیمین اور جلال کی یادیں ، ان کے گھر" اختتام دنیا" پر۔۔

ویکٹوریہ بتاتی ہیں کہ جس دن سیمین کا انتقال ہوا میں کن کے پاس تھی انہوں نے مجھ سے کہا میں آج بستر سے نہیں اٹھ پارہی ہوں اور میری حالت ٹھیک نہیں ہے میں تھوڑی دیر ان کے پاس رہی پھر اپنے گھر واپس آگئی مگر دل بہت پریشان تھا اس لۓ ان کی ہمسائی کو فون کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ٹھیک ہیں اور اب سیمین کی حالت بہتر ہے ظہر کے بعد جب ان کی ہمسائی نے محسوس کیا کہ ان کی حالت بگڑ رہی ہے تو ان کو آب زم زم ّدیا اور فورا ہمیں فون کیا مگر جب تک میں پہنچی وہ اس دنیا سے کوچ کر چکیں تھیں

ورلڈ کنفیڈریشن کے نمائندے پیام حسین رضائی

پیام حسین رضائی ،نمائندہ ورلڈ کنفیڈریشن اور بین الاقوامی تنظیم العفو کا،شاہ کے زمانے میں ایران کے قیدیوں سے ملاقاتی دورہ

میری اہم ترین ذمے داری جوکہ میری سیاسی زندگی کا اعزاز ہے وہ مشکل حالات اور خطروں میں میرے کنفیڈریشن کے ساتھی مجاہدین کا مجھ پراعتماد ہے جوکہ میری استقامت اور ہمت و حوصلے کا سبب بنا،ان کا یہ اعتماد اور بھروسہ باعث بنا کہ میں خود پر اور اس راہ پر فخر کرتا ہوں

ایرانیوں کی پولینڈ کے پناہ گزینوں کی مہمان نوازی کی خوبصورت یادیں

زیادہ تر مہاجرین کے کپڑے جوؤں سے بھرے ہوئے تھے ایرانیوں نے ان کے دوسرے کپڑے دیئے اور ان کے کپڑوں کو جلادیا اور پھر ان کو تہران منتقل کردیا اسکے علاوہ پانچ کیمپ بھی ،دولاب ،یوسف آباد،قلعہ مرغی اور تہران میں بنائے گئے،آنے والے مہاجرین ان کیمپوں میں گزر بسر کرنے لگے وہ مرد اور خواتین جو جنگ میں شرکت کے خواہش مند تھے اور صحت مند تھے انہیں محاذ پربھیج دیا گیا.

کتاب "وہ ۲۳ افراد" سے اقتباس

ان ۲۳ افراد کا رمضان کیسا گذرا ؟

افطار سے آدھا گھنٹہ قبل کوئی سر پھرا عراقی نگہبان ہمارےحوالات میں داخل ہوتا ہے اس بوتل کو منہ لکا کر پی جاتا اور خالی کرکے ہنستا ہوا باہر چلا جاتا مگر نہ تو وہ جرات اعتراض رکھتا تھا نہ ہم جرات ممانعت

یہ اصفہان ہے ۔۔۔

مصدق کی طرف سے دی گئی بے جا آزادی کی وجہ سے تودہ پارٹی والے منہ زور ہوگئے تھے اور بہر حال کیونکہ ہماری عوام مسلمان ہے تو کمیونسٹوں کے ساتھ مل کر کیسے رہ سکتی تھی، اور دوسری جانب انہوں نے خود اس تفرقے کو ایجاد کیا تھا مثلا مین نے سنا کہ تہران میں ایک کتے کے اوپر لکھا تھا، آیتاللہ جس سے مراد آیت اللہ کا شانی تھے اس کام نے مذہبیوں کا دل خون کردیا۔

بحرین کی ایران سے علیحدگی کی کہانی، اور جنرل فریدون جیم کی یادیں

فریدون جم کو ان کی اس گفتگو کے کچھ عرصے بعد ہی ، معزول کردیا گیا اور ایرانی سفارت نے اس کو اسپین میں سفیر کے عہدے پر فائز کر دیا گیا یہ ایک طرح کی مہذب جلا وطنی تھی

ورلڈ کنفیڈریشن کے سابق سیکریٹری، فریدون اعلم کی یادیں

مظاہروں میں ایرانی طلباء بھی طبق معمول شریک تھے اور اپنی یکجہتی کا ثبوت دے رہے تھے کہ انہی کے ساتھ ساتھ ایک سیاہ فام جوان بھی چل رہا تھا، پولیس کے افسر نے کہا کہ میں ایک ایک ایرانی کو اس کے نام کے ساتھ جانتا ہوں یہ بتاؤ کہ یہ سیاہ فام تم لوگوں کے درمیان کیا کر رہا ہے؟

۱۷ شہریور کے عینی شاہدوں کی گفتگو

۱۷ شہریور کی یادداشتیں

17شہریور دراصل اس انقلاب اور عظیم کام کی ابتداء تھی مگر شاہ سمجھتا تھا کہ یہ اختتام ہے جو کہ اسکی سب سے بڑی غلط فہمی تھی۔

جنگ کی کہانی، امریکہ میں رہنے والے ایک ایرانی پروفیسر کی زبانی

یہ کہانی محمد کی ہے ، میرے بہترین دوستوں میں سے ایک کی، جو ایران عراق جنگ کے دوران مارا گیا۔مجھے اور محمد کو ایرانی فوج میں خدمات سر انجام دینے کیلئے، فوجی سروسز بھیجا گیا لیکن دونوں کی ڈیوٹیاں الگ الگ یونٹس اور محاذوں پر تھیں ہر ایک یا ڈیڑھ ماہ کے بعد آٹھ سے دس دنوں کی چھٹی ہوتی جس میں گھر جاتے ، شاور صاف ستھرا بیڈ، گردوغبار سے دوری اور سب سے بڑھ کر گولیوں، میزائلوں اور دستی بموں کی آوازوں سے دور یہ لمحات، بہت قیمتی ہوا کرتے تھے مگر جمعرات کا دن اس لحاظ سے دکھ والا ہوتا تھا کہ اس دن جنگ میں شہید ہونے والوں کے جنازے عمومی تدفین کے لئے لائے جاتے تھے۔

ورلڈ کنفیڈریشن کے سابق سیکریٹری، فریدون اعلم کی یادیں

سن 1967 کی گرمیوں کی بات ہے، میں کنفیڈریشن کا سیکریٹری تھا کہ محمد رضا شاہ ،جرمنی کے صدر کی، سرکاری دعوت پر جرمنی آیا،اس زمانے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں، مجھ سمیت، زندہ یاد رحمت خسروی، چنگیز پہلوان، حسن ماسالی، بہمن نیرومند شامل تھے۔
...
29
 
اشرف السادات سیستانی کی یادداشتیں

ایک ماں کی ڈیلی ڈائری

محسن پورا جل چکا تھا لیکن اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ اسکے اگلے دن صباغجی صاحبہ محسن کی تشییع جنازہ میں بس یہی کہے جارہی تھیں: کسی کو بھی پتلی اور نازک چادروں اور جورابوں میں محسن کے جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔