تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – بائیسویں قسط

اس نے جواب میں کہا: "کیوں نہیں ایسا ہی ہے لیکن ان کے پاس کچھ مقامی بھیڑیں ہیں جو انھوں نے غنیمت کے طور پر قبضے میں لے لی ہیں۔" میں نے کہا: " سمجھ گیا۔"

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – اکیسویں قسط

15 جنوری 1981ء،  شام کے وقت میں جفیر پہنچا اور معمول کے مطابق جو ڈیوٹی لیٹر میرا انتظار کر رہا تھا مجھے ملا۔  اگلے دن میں نے سامان سفر باندھا اور بریگیڈ کی "پ" بیس کیلئے روانہ ہوگیا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں نماز ظہر کے وقت وہاں پہنچوں گا جب ایرانی فورسز کی گولہ باری رک جاتی ہے۔ میں مقررہ وقت پر بریگیڈ کے کیمپ پہنچا۔ میڈیکل ڈپٹی ڈائریکٹر "حجام" نے اپنی ہمیشہ کی مسکراہٹ کے ساتھ میرا استقبال کیا۔  اس بار سب کچھ بدل چکا تھا اور کرنل اسٹاف "جواد...

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – بیسویں قسط

مجھے یاد ہے اس دن ہمارے دو ہیلی کاپٹرز مشن پر روانہ ہوئے لیکن واپسی کے راستے میں ان دو بڑے M-22 ہیلی کاپٹرز میں سے ایک گر کر تباہ ہوگیا اور اس کا پائلٹ بھی جاں بحق ہوگیا۔

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – اُنیسویں قسط

آدھے گھنٹے بعد ہم نے جفیر گاؤں کے آسمان میں ایک فضائی تصادم دیکھا جس میں دو عراقی طیارے، ایک ایرانی لڑاکا طیارے کا پیچھا کر رہے تھے۔ وه ایرانی طیاره، عراقی طیاروں کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح؛ نواں حصہ

وہ کوٹ پہن رہا تھا اسکی رپورٹ مکمل ہو چکی تھی اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور تو میں قرآن لئے دروازے پر آن کھڑی ہوئی

پانی کے گرنے کی آواز پر میں چونکی وہ مڑا اور ہاتھ ہلا کر مجھے الوداع کیا رنج سے میرا گلا بند ہوا جاتا تھا میں گھر پلٹ آئی اور دروازہ بند کر لیا۔

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – اٹھارھویں قسط

کچھ ہی دیر بعد چند بھاگے ہوئے فوجی، مٹی سے اٹے ہوئے حلیے میں آئے جن میں اکثر "14 ویں مکینیکل بریگیڈ" کے فوجی تھے۔ اکثر افراد کے فرار ہونے، مسلسل گولہ باری اور زخمیوں کی بڑی تعداد نے ہمیں شدید خوف و ہراس میں مبتلا کردیا

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح؛ آٹھواں حصہ

میں تیسری بار پوچھ رہا ہوں کہ کیا دلہن مجھے نکاح کے لئے اپنا وکیل مقرر کرتی ہیں؟؟؟

بالآخر میں نے وہ ہاں کہہ دی جس کے سب خلاف تھے۔ اور یوں صلوات اور شور کی صدا گونجی ۔ دلہا کو سیج پر بلایا گیا تاکہ شادی کی انگوٹھی پہنانے کی رسم ادا کی جائے اور تصویریں اتار لی جائیں۔ میں شرم سے پانی پانی ہوئی جاتی تھی۔

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح؛ ساتواں حصہ

ایک آدمی دروازے پر ہے آپ سے کوئی کام ہے

معصومہ آگے گئی میں اس کے پیچھے میرے دل میں ہول اٹھ رہے تھےایک لمحہ کو بڑے بھائی کا غصیلہ چہرہ میری آنکھوں کے سامنے آگیا اور ایک کڑواہٹ سی میرے وجود میں اتر گئی، لیکن کوئی چارہ نہ تھا علی سے مجھے ہر حال میں ملنا تھا

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – سترہویں قسط

فوجی ڈاکٹرز امدادی مرکز سے باری باری بیسویں بریگیڈ کے "پ"بیس جارہے تھے تاکہ طبی امداد میں ان کا بھی کچھ حصہ ہو۔ وه رضاکارانہ طور پر نہیں جا رہے تھے۔

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – سولہویں قسط

ایک دن کرنل "محمد" ہم سے ملنے آئے اور انہوں نے مجھ سے چاہا کہ میں ان کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھاؤں، کیونکہ وه اکیلے تھے اور فوجی قواعد کے تحت وہ فوجیوں کے ساتھ کھانا نہیں کھا سکتے تھے
5
 

سردار سید رحیم صفوی صاحب کی ڈائری سے اقتباس

ہم جس پل سے بھی گزرے، اسے تباہ کردیا تا کہ واپسی کا کوئی رستہ باقی نہ بچے۔ یوں اس معرکے کے لئے وہی فرد آگے بڑھ سکتا تھا جو جان ہتھیلی پہ رکھ کر پیش قدمی کرنا جانتا ہو۔ البتہ ہمارے لیے اس وحشتناک منظر میں صرف اور صرف ایک ہی چیز سکون کا باعث تھی اور وہ تھی اہل بیت علیھم السلام سے توسل اور اللہ کی عنایت۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔