11 ویں امیر المومنین ڈویژن کے شہدا کے کمانڈر کی یاداشت

ہیلٹی 4

 جاسوسوں کی تلاش میں ناامیدی کے بعد، ہم اپنے بنیادی مشن کی جانب متوجہ ہوٸے ۔  وہ رات کا وقت تھا جب ہم کلک کےمسطح  میدان کی اونچاٸی پر پہنچے جہاں مالرو  سڑک دیکھاٸی دے رہی تھی

11 ویں امیر المومنین ڈویژن کے شہدا کے کمانڈر کی یاداشت

ہیلٹی -3

جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو وہ اتنے حیران ہوئے کہ گویا ان پر بجلی گرگٸی ہو۔ وہ سات کے سات ایکدم زمین پر گر پڑے ان پر ہم نے بندوقیں تان لیں۔

11 ویں امیر المومنین ڈویژن کے شہدا کے کمانڈر کی یاداشت

هیلٹی۔ 2

ایک بندہ خدا مومن  بھائی ، جو ہمیشہ وقت پر آتا تھا ، اس کے دو تھرماس ہواکرتے تھے. ایک شربت اور دوسرا پانی کا- غلطی سے پانی کے بجائے سر اور چہرے کو شربت سے دھولیا۔ کچھ لمحوں کے بعد، ہم نے محسوس کیا کہ  ہمارے بال ایک ساتھ پھنس کر خشک ہوگئے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر جوان  بہت ہنسے

11 ویں امیر المومنین ڈویژن کے شہدا کے کمانڈر کی یادشت

ہیلٹی -1

ہم ان کے آرام گاہ کے پاس گئے۔ وہاں ہم نے دیکھا کہ کچھ کپڑے خشک ہونے کے لئے رسی پر لٹکاٸیں ہوئے ہیں۔ ہم نے کپڑے جمع کیے، ان کی خندقوں کا ٹیلیفون کنکشن کاٹا، اور واپس آئے۔ یہ ابتدائی کام تھا، ہم شناساٸی کے معاملات سے زیادہ واقف نہیں تھے۔ ہمیں یہ احساس نہیں تھا کہ آپریشنل ایریا کو بعد کے مراحل میں ظاہر نہیں کرنا چاہئے

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، سترہواں حصہ

تمہارا یہ رزمیہ جوش و جذبہ۔۔۔ واقعاً خوش رہو

میں جانتی تھی کہ یہ ہندوستانی چینلز زیادہ تر عراقی فوج کی خبریں دے رہے ہین اور یہ تصاویر اور خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں، رات تک ان کی فکروں میں گم رہتی اور ایرانی شہداء کے خاک و خون آلود چہرے میری آنکھوں کے سامنے گھومتے رہتے۔ علی کے آتے ہی میں اس پر برس پڑتی

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، سولہواں حصہ

مریم یہ چوہے ہیں

ابھی اس کے منہ سے چوہے کا لفظ پوری طرح ادا بھی نہ ہوا تھا کہ ایک موٹا تازہ چوہا سونے کے کمرے سے ٹہلتا ہوا بیٹھک میں در آیا اور ادھر ادھر سیر کرنا شروع کردی۔ ہماری چیخیں نکل گئیں اوار جس کو جس طرف جگہ ملی بھاگ کھڑی ہوئی۔ چوہا بے چارا ہماری ادھم چوکڑی سے سہم گیا اور دوبارہ گدے کے نیچے جاکر چھپ گیا۔

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، پندرہواں حصہ

تم گھر نہیں آو گے تو ایسا ہی ہوگا

اب مجھے غصہ بھی آ رہا تھا اور ڈر بھی لگ رہا تھا رکشے میں سفر جاری رکھنا معقول نہ تھا کسی طرح رکشہ رکوایا اور اتر گئی اور ڈرائیور پر بھڑک پڑی کہ وہ کیوں غلط راستے پر لئے چلا جاتا ہےاور میری تکلیف کا باعث بنتا ہے

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات :تینتالیسویں قسط

میں نے کہا: " گھبراؤ نہیں! میں نان کمیشنڈ ڈاکٹر ہوں نہ کہ انٹیلی جنس افسر۔ میری صلاح یہ ہے کہ تم محاذ کی صورتحال کے متعلق کسی سے گفتگو نہ کرو، احتیاط کرو ورنہ تمہارا وہ انجام ہوگا جو بعثی خوب جانتے ہیں!"

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - بیالیسویں قسط

عام طور پر ہر انسان گھر، گاڑی اور خوشحال زندگی کا خواہشمند ہوتا ہے۔ عراق میں حکومت نے فوجی افسران کو کم ترین قیمت پر قسطوں کی صورت میں اسٹائلش گاڑیاں بیچنے کا فیصلہ کیا۔ یہ بات سچ ہے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے حکومت نے فوجیوں سے یہ وعدے کیے تھے اور 1981ء کی دوسری ششماہی میں آہستہ آہستہ حکومت نے اپنے وعدے پورےکردیے۔ فرنٹ لائنز پر تعینات فوجیوں سے لے کر مستقل گیریژن کے لوگوں تک سارے فوجیوں کو یہ عنایات نصیب ہوئیں۔

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - اکتالیسویں قسط۔

سب ہنسنے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ عراقی حکومت کے پاس جو کچھ تھا وہ اس نے جنگ میں لگا دیا، یہاں تک کہ متروک اسلحہ اور ساز و سامان بھی۔
2
 

سردار سید رحیم صفوی صاحب کی ڈائری سے اقتباس

ہم جس پل سے بھی گزرے، اسے تباہ کردیا تا کہ واپسی کا کوئی رستہ باقی نہ بچے۔ یوں اس معرکے کے لئے وہی فرد آگے بڑھ سکتا تھا جو جان ہتھیلی پہ رکھ کر پیش قدمی کرنا جانتا ہو۔ البتہ ہمارے لیے اس وحشتناک منظر میں صرف اور صرف ایک ہی چیز سکون کا باعث تھی اور وہ تھی اہل بیت علیھم السلام سے توسل اور اللہ کی عنایت۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔