11 ویں امیر المومنین ڈویژن کے شہید کمانڈر کی یاداشت

ہیلٹی - 9

اس علاقے میں ہمارے پائلٹوں کو ڈھونڈنے کے لیے چار عراقی ہیلی کاپٹروں نے اڑان بھرنے میں کچھ دیر نہیں کی تھی۔  ہم دو پتھروں کے نیچے چھپ گئے۔  وہ شناخت کرنے میں ناکام رہے اور واپس چلےگئے

 11 ویں امیر المومنین ڈویژن کے شہید کمانڈر کی یاداشت

ہیلٹی - 8

 ہنسی مزاق کے ساتھ ، ہیلی کاپٹر اُڑا اور اپنی لائن کے قریب ایک مخصوص علاقے میں چلا گیا۔  ہم اتر گئے۔  باقی راستہ ، رات کا کھانا کھانے اور نماز پڑھنے کے بعد ، پیدل شروع ہوا۔  پچھلے حساب کتاب کے مطابق اہم مقصد تک پہنچنے کے لیے آٹھ گھنٹے کی واک کرناتھی

 گیارہویں امیر المومنین ڈویژن کے کمانڈر کی یاداشت

 ہیلٹی - 7

شہداء کی منتقلی کے بعد جوانوں  نے میرے خونی کپڑے بدل دیے۔  ہر کوئی سوچ رہا تھا کہ میری عباسی کے ساتھ گہری دوستی کے باوجود میں ان کے جانے سے پریشان کیوں نہیں ہوا ، لیکن خدا جانتا ہے کہ میرے اندر آگ لگی ہوٸی تھی

 گیارہویں امیر المومنین ڈویژن کے کمانڈر کی یاداشت

 ہیلٹی- 6

 جب بٹالین نے چنگلولہ کے علاقے میں دفاعی مشن سنبھالا تو ہماری کمپنی نے اس لائن کے ایک مہلک علاقے  زمہ داری سمبھالی۔  جانی نقصان کو روکنے کے لیے ، ہم نے کمپنی کے ہیڈ کوارٹر میں مٹی کا ایک  پشتہ باندھا-  تاکہ ہ خندقوں کو ڈھانپ لےاوررات کو جب جوان  کچھ دیر کے لیے اکٹھے ہو ں تو گولی لگنے کے خطرے کو کم کریں

11 ویں امیر المومنین ڈویژن کے شہدا کے کمانڈر کی یاداشت

ہیلٹی- 5

 حاجی یادگار ،اس وقت انکے سروں پر قہر بن کر ٹوٹے جب وہ دسترخوان بچھاٸے ہوٸے تھے،نگہبان کے دیکھتے ہی ان پر ہینڈگرنیڈ سے حملہ کیا اور ان سب کو ہلاک کردیا۔  حاجی کے اس عمل سے گارڈز فرار ہونا شروع ہوگٸے، جنھیں پیچھے سے گولی مار دی گئی اور وہ بھی موقع پر ہی ہلاک ہوگٸے

11 ویں امیر المومنین ڈویژن کے شہدا کے کمانڈر کی یاداشت

ہیلٹی 4

 جاسوسوں کی تلاش میں ناامیدی کے بعد، ہم اپنے بنیادی مشن کی جانب متوجہ ہوٸے ۔  وہ رات کا وقت تھا جب ہم کلک کےمسطح  میدان کی اونچاٸی پر پہنچے جہاں مالرو  سڑک دیکھاٸی دے رہی تھی

11 ویں امیر المومنین ڈویژن کے شہدا کے کمانڈر کی یاداشت

ہیلٹی -3

جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو وہ اتنے حیران ہوئے کہ گویا ان پر بجلی گرگٸی ہو۔ وہ سات کے سات ایکدم زمین پر گر پڑے ان پر ہم نے بندوقیں تان لیں۔

11 ویں امیر المومنین ڈویژن کے شہدا کے کمانڈر کی یاداشت

هیلٹی۔ 2

ایک بندہ خدا مومن  بھائی ، جو ہمیشہ وقت پر آتا تھا ، اس کے دو تھرماس ہواکرتے تھے. ایک شربت اور دوسرا پانی کا- غلطی سے پانی کے بجائے سر اور چہرے کو شربت سے دھولیا۔ کچھ لمحوں کے بعد، ہم نے محسوس کیا کہ  ہمارے بال ایک ساتھ پھنس کر خشک ہوگئے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر جوان  بہت ہنسے

11 ویں امیر المومنین ڈویژن کے شہدا کے کمانڈر کی یادشت

ہیلٹی -1

ہم ان کے آرام گاہ کے پاس گئے۔ وہاں ہم نے دیکھا کہ کچھ کپڑے خشک ہونے کے لئے رسی پر لٹکاٸیں ہوئے ہیں۔ ہم نے کپڑے جمع کیے، ان کی خندقوں کا ٹیلیفون کنکشن کاٹا، اور واپس آئے۔ یہ ابتدائی کام تھا، ہم شناساٸی کے معاملات سے زیادہ واقف نہیں تھے۔ ہمیں یہ احساس نہیں تھا کہ آپریشنل ایریا کو بعد کے مراحل میں ظاہر نہیں کرنا چاہئے

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، سترہواں حصہ

تمہارا یہ رزمیہ جوش و جذبہ۔۔۔ واقعاً خوش رہو

میں جانتی تھی کہ یہ ہندوستانی چینلز زیادہ تر عراقی فوج کی خبریں دے رہے ہین اور یہ تصاویر اور خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں، رات تک ان کی فکروں میں گم رہتی اور ایرانی شہداء کے خاک و خون آلود چہرے میری آنکھوں کے سامنے گھومتے رہتے۔ علی کے آتے ہی میں اس پر برس پڑتی
2
...
 

سب سے زیادہ دیکھے جانے والے

ایران میں ایک جاپانی ماں کی داستان

اسے ابھی گئے ہفتہ بھی نہیں ہوا تھا کہ بسیجیوں کی جانب سے ایک خط مجھے موصول ہوا۔ لفافے پر محمد کے دستخط دیکھ کر دل کو سکون ملا۔ خط کھولا تو اس میں لکھا تھا: " پہلے میں مغربی جنگی محاذوں پر، جو پہاڑی علاقوں میں ہیں، مصروف تھا۔ لیکن اب جنوبی علاقے کی طرف آگیا ہوں
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔