پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 61
شیخ عزالدین کا کوئی انقلابی ماضی نہیں تھا اور وہ صرف مہاباد کے امام جمعہ تھے جو ایک طرح سے شاہ کے مقرر کردہ کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔ دوسری طرف ان کے بھائی سید جلال حسینی صاحب، ایک قابل اور غیرت مند عالم دین تھے جنہوں نے پہلوی حکومت کے خلاف واضح اور انقلابی موقف اختیار کر رکھا تھاپاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 60
ادارۂ ساواک جو گورنر آفس کے برابر میں واقع تھا، انہوں نے اپنا سامان سمیٹ کر جاچکے تھے اور جینڈرمیری نے بیس کے علاوہ اپنے کچھ اہلکاروں کو اس عمارت میں بھی تعینات کردیا تھا۔ شاہ کے ایجنٹوں کی گھبراہٹ ہماری حوصلے بلند کر رہی تھی۔پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 59
شاہ کے فرار ہونے سے چند دن قبل، حکومت کے کارندوں نے انقلاب کا ساتھ دینے میں عوام کا حوصلہ پست کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے کے لیے کچھ مسلح کاروائیاں بھی کی تھیں۔ جینڈرمیری اور پولیس اہلکار صرف اپنی عمارتوں اور تھانوں کی حفاظت کر رہے تھے اور انہیں شہر کے اندرونی علاقے اور گرد و نواح کی سڑکوں سے کوئی سروکار نہیں تھا۔پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 58
مفتی زادہ صاحب نے ایک خوبصورت اور پرجوش خط میں ان سے یوں خطاب کیا: ’’بھائیو! اس وقت توحید کا نعرہ، طاغوت اور طاغوتیوں کے دل دہلا رہا ہے، آپ لوگوں کو حسینی نسبت اور شہرت کے باعث زیبا ہے کہ یزید اور بت ساز اور تفرقہ ڈالنے والے یزیدیوں پر ٹوٹ پڑیں اور توحید پرستوں کی صف میں جان نثار کریں۔پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 57
پاوہ میں اس عظیم ریلی کو انجام دینے کے لیے فیصلہ لینے والی پانچ رکنی کمیٹی، دو مولاناؤں(حقیر اور ملا ناصر سبحانی)، پاوہ کے دو اساتذہ(کمال زردشتیان اور سید راغب احمدی صاحب) اور مسعود سابقی نامی ایک یونیورسٹی طالب علم پر مشتمل تھی۔ ریلی سے ایک دن پہلے، ہم نے فیصلہ کیا کہ ’حضرت عبداللہ‘ مسجد پر اکٹھا ہو کر ٹھیک صبح دس بجے ریلی شروع کی جائے اور مولوی چورنگی اور ’سابقی‘ مسجد پر اس کا اختتام کیا جائے۔پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 56
پورے ملک سے انقلابیوں کے پیغامات، ٹیلی گرامز اور حمایت نے پاوہ کی عوام کو جوش دلایا اور شاہ کی حکومت کے خلاف اسلامی تحریک کو جاری رکھنے میں ان کے اتحاد کا باعث بنے اور پاوہ کا نام مشہور ہوگیا۔پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 55
ہم نے ظہر کی نماز پڑھی۔ سب اپنے ساتھ کھانا لائے ہوئے تھے اور ایک کونے میں بیٹھ کر کھانے میں مشغول تھے کہ اچانک درہ نیشہ اور آس پاس کی پہاڑیوں سے دھواں اٹھنے لگا۔پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 54
مظاہرین، پیر محمد کے مقبرے پر آگئے جو مظاہرے کی جگہ سے قریب دو کلومیٹر نیچے واقع تھا۔ ہم نے دو قابل اعتماد لوگوں کو میرآباد کے راستے میں انتظار کر رہے میئر صمدی اور ان کی ٹیم کے پاس بھیجا تاکہ وہ مظاہرین کے مطالبات ان تک پہنچا سکیںپاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 53
ملا عبدالرحمٰن نے اپنی تقریر میں بہت واضح طور پر مرحوم سید قطب کی ایک کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے بہت سخت نکات بیان کیے اور اسلامی زندگی کی تجدید اور اسلامی معاشرے کے قیام پر زور دیا۔ ان کی انقلابی تقریر کو پذیرائی ملی۔پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 52
پاوہ کے چھوٹے سے شہر نے ان دو مقابلہ کرنے والوں کا مہمان کے طور پر استقبال کیا اور ہمدان سے تعلق رکھنے والے حجت الاسلام عندلیب زادہ ہمدانی اور شہر ابہر کے ایک تاجر جناب یحییٰ قزوینی کی موجودگی، پاوہ کے باسیوں کی بیداری اور آگہی کا باعث بنی2
...
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
محمد ہادی اردبیلی کی یادداشتوں سے ایک اقتباس
کچھ مومن اور انقلابی نوجوان تماشائیوں کے روپ میں امجدیہ اسٹیڈیم کے اندر پہنچ گئے۔ ہم بھی پولی ٹیکنک یونیورسٹی کے کچھ مذہبی طلبہ کے ساتھ وہاں گئے اور اسٹینڈز پر بیٹھ گئے۔ مقابلہ شروع ہوا اور اللہ کی مدد سے ایرانی ٹیم نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے صیہونی حکومت کی ٹیم کو دو-ایک سے شکست دے دی۔"1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
