تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - اکتالیسویں قسط۔

سب ہنسنے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ عراقی حکومت کے پاس جو کچھ تھا وہ اس نے جنگ میں لگا دیا، یہاں تک کہ متروک اسلحہ اور ساز و سامان بھی۔

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - چالیسویں قسط

شام 5 بجے پانچویں ڈویژن کے کمانڈر، بریگیڈیئر "صلاح قاضی" اس علاقے میں آئے اور انہوں نے حالات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے حالات کا جائزہ لینے کے بعد فوراً پیچھے ہٹنے کا حکم دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر اس طرح کا فیصلہ نہ لیا جاتا تو ہم سب کا کام تمام ہو جاتا۔

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - انتالیسویں قسط

ایک صبح ایک سپاہی نے جو اپنا سامان کندھے پر اٹھائے ہوئے تھا اپنا تعارف ایک پرائیویٹ سپاہی "ضیاء" کے نام سے کرایا۔ میں نے اس سے پوچھا: "تمہیں کس عنوان سے یہاں منتقل کیا گیا ہے؟"

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - اڑتیسویں قسط

قیدی زمین پر سوتے تھے اور ان کے نیچے کمبل نظر آ رہے تھے جن کا رنگ گندگی کی وجہ سے کمرے کے فرش کی طرح کالا ہو گیا تھا۔ جیسے ہی جیلر نے ہمارے لیے دروازہ کھولا تو پیشاب کی مکروہ بدبو نے ہمیں پریشان کردیا

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – ۳۷ ویں قسط

بظاہر وہ افسر اہواز آرمرڈ ڈویژن کا حصہ تھا۔ بیسویں بریگیڈ جو ایک ایرانی فوجی کو گرفتار کرنے کی تمنا کر رہی تھی اچانک اپنے چنگل میں ایک میجر کو دیکھ رہی تھی۔ اسی لیے گشتی یونٹ کے کمانڈر اور اس کے ساتھی سپاہیوں کی حوصلہ افزائی کی گئی

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - چھتیسویں قسط

ہماری پوزیشنز کے سامنے ایک بڑا گاؤں واقع تھا جس کا نام "کوہہ" تھا اور اس گاؤں کے چاروں طرف ایک گھنا جنگل تھا۔ ریجمنٹ کے لوگ متعدد جنگی-گشتی آپریشنز پر بھیجے جاتے تھے لیکن ان میں سے کوئی بھی "کوہہ" گاؤں تک نہیں پہنچتا تھا

موسم گرما کے واقعات

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - پینتیسویں قسط

سن 1981ء کا موسم گرما جیسے ہماری بریگیڈ کے ٹھکانے پر ایرانی فورسز کے آرام کرنے کا موسم تھا۔ جنگ کی اہم سرگرمیاں ایک دوسرے پر فائرنگ، جنگی-جاسوسی گشتی آپریشنز اور گھات لگانے کے عمل تک محدود تھیں۔ اس کے باوجود کہ ایرانی فورسز سست پڑ گئی تھیں اور تھکن محسوس کر رہی تھیں لیکن ہماری فورسز تمام دفاعی تدابیر اپنانے کے بعد مکمل طور پر الرٹ رہتی تھیں۔

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - چونتیسویں قسط

یہ بیوقوف ڈرپوک بھی یقین کر لیتا تھا۔ وہ اپنے بنکر کے کونے میں پناہ لے لیتا تھا اور پورے دن میں صرف واش روم جانے کے لیے چند مرتبہ باہر آتا تھا۔ اس طرح سے سپاہی اس سے انتقام لیتے تھے اور اس کی سرگرمیوں کو محدود کر دیتے تھے

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تینتیسویں قسط

لیفٹیننٹ "کنعان" میرے ساتھ کام کرنے کے دوران جنگ کے جاری رہنے کے حوالے سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتا تھا اور عراقی حکومت پر تنقید کرتا تھا، لیکن فوجی آپریشنز میں وہ سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ کام کرتا تھا

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – بتیسویں قسط

"ابوفوزی" نے کچھ فوجیوں کے ساتھ مل کر لاش کو گاؤں کے قریب دفنا دیا اور اس کی قبر پر ایک نشانی لگا دی۔ واپس لوٹتے وقت غم اور دکھ کے آثار فوجیوں کے چہروں پر بخوبی دیکھے جاسکتے تھے۔ اس سے پتہ چل رہا تھا کہ عراقیوں اور ایرانیوں کی دشمنی معمولی اور ناپائیدار ہے اور آج بھی دونوں فریقوں کے دل اسلام اور انسانیت کے لیے دھڑکتے ہیں
3
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔