یادوں بھری رات کا ۲۹۵ واں پروگرام

کربلائے ۳ آپریشن میں امام حسین (ع) ڈویژن کی جنگ کے واقعات

ہم نے دیکھے کہ وہاں پر چار کشتیاں ہیں اور دشمن اُن کشتیوں پر حملہ کر رہا ہے؛ جناب موسوی کی کشتی، جناب علی فدَوی کی کشتی، جناب اکبر رضائی کی کشتی کہ یہ لوگ میرین یونٹ سے تھے اور اب ہماری کشتی کا بھی ان میں اضافہ ہوگیا تھا

رہبر انقلاب کی موجودگی میں یادوں بھری رات کے چوتھے خصوصی پروگرام کا انعقاد

نادرست روایات کی روک تھام کیلئے دفاع مقدس کے واقعات کو اُجاگر کرنا ضروری ہے

دفاع مقدس کو بیان کرتے وقت یہ بات سامنے رہنی چاہیے کہ ایرانی عوام نے شکست کوکبھی تسلیم نہیں کیا۔ جنگ یقیناً ایک تلخ حقیقت ہے لیکن قرآن کریم نے جنگ کو ہی سامنے رکھ کر عظمت و بزرگی کا یہ پیغام دیا ہے: ویستبشرون بالذین لم یلحقوا بهم من خلفهم الّا خوف علیهم ولا هم یحزنون

یادوں بھری رات کا ۲۹۴ واں پروگرام

مدافعین حرم اور رہائی پانے والوں کی یادیں

ایرانی زبانی تاریخ کی سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۴ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۳ اگست ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس تقریب میں حجت الاسلام و المسلمین علی شیرازی، مجتبیٰ جعفری اور محسن فلاح نے اپنے مدافعین حرم ہونے اور اپنی اسیری کے دوران کے واقعات کو بیان کیا۔

یادوں بھری رات کا ۲۹۳ واں پروگرام

شہدائے جنگ کی شوخیاں اور راز

دفاع مقدس کے سلسلے میں یادوں بھری رات کا 2۹۳ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام،۲۶ جولائی ۲۰۱۸ء کو آرٹ گیلری کے سورہ آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔

یادوں بھری رات کا ۲۹۲ واں پروگرام

ڈاکٹر چمران اور لال رومالوں کے واقعات کا بیان

ایران کی زبانی تاریخ کی سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۲ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۸ جون ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس تقریب میں عبد اللہ نوری پور، مریم کاظم زادہ اور مہدی زمردیان نے عراق کی ایران پر مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ کے دوران اپنے اپنے واقعات کو بیان کیا۔

"نظریہ تاریخی شفاہی" نامی کتاب کی اشاعت

کتاب "زبانی تاریخ کی تھیوری" لین آبرامز نے تحریر کی ، جس کا ترجمہ علی فتح علی آشتیانی نے کیا۔ اور پھر ۲۰۱۸ میں ادارہ ادبیات برائے انقلاب اسلامی اورانتشارات سورہ مہر نے اس کی نوک پلک سنوار کر بازار کی زینب قرار دیا۔

یادوں بھری رات کا ۲۹۱ واں پروگرام

دو آپریشنز کی یادیں

دفاع مقدس کے سلسلے میں یادوں بھری رات کا 2۹۱ واں پروگرام، ثقافتی تحقیق، مطالعات اور پائیدار ادب کے مرکز اور ادبی و مزاحمتی فن کے مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام،۲۴ مئی ۲۰۱8ء کو آرٹ گیلری کے سورہ آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ اگلا پروگرام ۲۸ جون کو ہوگا۔

یادوں بھری رات کا ۲۹۰ واں پروگرام

یادیں استقامت کی

دفاع مقدس کے سلسلے میں یادوں بھری رات کا 2۹۰ واں پروگرام، ثقافتی تحقیق، مطالعات اور پائیدار ادب کے مرکز اور ادبی و مزاحمتی فن کے مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام،۲۶ اپریل ۲۰۱8ء کو آرٹ گیلری کے سورہ آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ اگلا پروگرام ۲۴ مئی کو ہوگا۔

۲۸۷ ویں یادوں بھری رات میں راویوں کے ساتھ

اسارت اور مفید اسکول کے شہداء کا ذکر

پروگرام کے آغاز میں، شہید علی خوش لفظ کی رہبر معظم انقلاب سے ملاقات پر مشتمل ایک چھوٹی سے ویڈیو دکھائی گئی اُس کے بعد اکبر عینی جو پروگرام میں میزبانی کے فرائض انجام دے رہے تھے، انھوں نے اس شہید کے بارے میں ایک چھوٹا ساواقعہ بیان کیا

یادوں بھری رات کا 289 واں پروگرام

اسکول اور محاذ کے تین ساتھی

خاردار تاروں کا پہلا سلسلہ کٹ گیا اور ستون تھوڑا سا آگے کی طرف بڑھا۔ دوسرے سلسلے کو بھی اسی طریقے سے کاٹ دیا گیا اور ستون پھر ایک قدم آگے بڑھا۔ تیسرا سلسلہ کٹا اور ستون پھر آگے بڑھا۔ ابھی سید جلال کی قینچی نے خاردار تاروں کے چوتھے سلسلے کو کاٹا نہیں تھا کہ اچانک اسٹین گنوں سے اُبلتی گولیوں نے ستون کا قلمع قمع کردیا۔
...
7
 

سردار سید رحیم صفوی صاحب کی ڈائری سے اقتباس

ہم جس پل سے بھی گزرے، اسے تباہ کردیا تا کہ واپسی کا کوئی رستہ باقی نہ بچے۔ یوں اس معرکے کے لئے وہی فرد آگے بڑھ سکتا تھا جو جان ہتھیلی پہ رکھ کر پیش قدمی کرنا جانتا ہو۔ البتہ ہمارے لیے اس وحشتناک منظر میں صرف اور صرف ایک ہی چیز سکون کا باعث تھی اور وہ تھی اہل بیت علیھم السلام سے توسل اور اللہ کی عنایت۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔